بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

قرآن کے اللہ کا کلام ہونے پر ایک اشکال کا جواب


سوال

کیاقرآن  اللہ کا کلام ہے؟ اگر اللہ کا کلام ہے تو پھر اللہ کی زبان بھی ہوگی؟ عقلی نقلی دلائل سے جواب درکار ہے؟


جواب

اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا وجود بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا وجود بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات لا محدود ہے اس لئے جسم سے پاک ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا انسان یا کسی دوسری مخلوق کی طرح نہ تو جسم ہے اور نہ ہی جسمانی اعضاء ہیں، لہٰذا  انسان اور دیگر مخلوقات تو دیکھنے ، سننے اور بولنے کے لئے آنکھوں، کانوں اور زبان کے محتاج ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ دیکھتے ہیں لیکن دیکھنے کے لئے آنکھوں کے محتاج نہیں، اور اللہ تعالیٰ سنتے بھی ہیں لیکن سننے کے لئے کانوں کے محتاج نہیں، اس لئے کہ آنکھوں اور کانوں کو تو خود اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا اور آنکھوں میں دیکھنے اور کانوں میں سننے کی صفت و صلاحیت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی پیدا ہوئی ہے،  تو اللہ تعالیٰ کی ذات کسی مخلوق کی محتاج کیسے ہو سکتی ہے؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تو ویسے ہی مطلقا کسی  بھی قسم کی احتیاج سے پاک ہیں،  ٹھیک اسی طرح  اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کلام کرنا بھی ہے، قرآن پاک میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کلام کی نسبت کی گئی ہے ’’{حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ} [التوبة: 6] ‘‘لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کلام کرنے کے لئے زبان کی محتاج نہیں ہے، کیونکہ زبان کو تو خود اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور زبان میں قوت گویائی بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے رکھی ہے، ورنہ زبان تو جسم کے دیگر اعضاء کی مانند محض گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اس کی کیا طاقت بولنے کی،  جبکہ نصوص سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیگر انسانی اعضاء کو بھی قوت گویائی عطاء کریں گے، چنانچہ انسان کے ہاتھ، پیر وغیرہ انسان کے کئے گئے اعمال کی گواہی دیں گے، جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کے اس  ارشاد سے معلوم ہوتا ہے:

{الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [يس: 65]

خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا دیکھنا، سننا اور کلام کرنا حق ہے لیکن یہ دیکھنا سننا اور کلام مخلوق کی طرح اعضاء کی احتیاج کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ کما یلیق بشأنہ (جیسا اللہ کی شان کے لائق ہو)  ہوتا ہے۔

لہٰذا یہ بات درست ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کی زبان بھی ہے، یہی اہلسنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ ہے، البتہ اتنی بات سمجھ لینی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام سے مراد کلام لفظی نہیں جو حروف و الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے، بلکہ کلام نفسی مراد ہے جو کہ حروف و الفاظ کا محتاج نہیں، چنانچہ ہمارے سامنے جو مصحف موجود ہیں یعنی دو گتوں کے درمیان کاغذ پر لکھے ہوئے حروف اور الفاظ  اور اسی طرح ہم جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں جو عربی زبان کے حروف و الفاظ اور ان کے مخارج پر مشتمل ہوتی ہے  ان سب چیزوں پر کلام اللہ کا اطلاق مجازا ہوتا ہے، ورنہ حقیقۃ یہ چیزیں تو خود مخلوق ہیں نہ کہ اللہ کی صفت، لہٰذا یہ چیزیں  کلام نفسی تو نہیں ہیں جو کہ باری تعالیٰ کی صفت ہے، لیکن یہ اشیاء کلام لفظی ہونے کی وجہ سے باری تعالیٰ کی صفت کلام نفسی پر دلالت کرتی ہیں اس لئے ان کو بھی مجازا کلام اللہ کہہ دیا جاتا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلامیہ تو کسی لغت(زبان ) یعنی عربی، اردو ، یا فارسی وغیرہ کی بھی محتاج نہیں، اس لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زبان عربی ہے، کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تمام صفات بھی قدیم ہیں، جبکہ لغات (زبانیں) عربی، اردو ،فارسی وغیرہ سب حادث اور مخلوق ہیں، چنانچہ عربی زبان میں جو قرآن ہم لکھا ہوا دیکھتے ہیں یا عربی زبان میں پڑھتے اور سنتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ( کلام نفسی) نہیں ہے، بلکہ یہ کلام لفظی ہے جو کہ باری تعالیٰ کے کلام نفسی پر دلالت کرتا ہے، اس ساری تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قرآن کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی لغت (زبان) مثلا عربی، اردو، فارسی وغیرہ ہو۔

نوٹ: کلام لفظی اور کلام نفسی کی تفصیلی وضاحت اور فرق سمجھنے کے لئے جامعہ کا رسالہ ماہنامہ بینات کا جمادی الاولیٰ ۱۴۲۸ بمطابق جون ۲۰۰۷ کے شمارہ میں مضمون ’’قرآن کریم کی حقیقت اور مسئلہ کلام الٰہی ‘‘ دیکھئے۔

شرح الطحاوية ت الأرناؤوط (1/ 57)

قوله: (ولاشيء مثله) .

ش: اتفق أهل السنة على أن الله ليس كمثله شيء، لا في ذاته، ولا في صفاته، ولا في أفعاله. ولكن لفظ التشبيه قد صار في كلام الناس لفظا مجملا يراد به المعنى الصحيح، وهو ما نفاه القرآن ودل عليه العقل، من أن خصائص الرب تعالى لا يوصف بها شيء من المخلوقات، ولا يماثله شيء من المخلوقات في شيء من صفاته: {ليس كمثله شيء} [الشورى: 11] (الشورى: 11) ، رد على الممثلة المشبهة {وهو السميع البصير} [الشورى: 11] ، رد على النفاة المعطلة، فمن جعل صفات الخالق مثل صفات المخلوق، فهو المشبه المبطل المذموم، ومن جعل صفات المخلوق مثل صفات الخالق، فهو نظير النصارى في كفرهم.

ويراد به أنه لا يثبت لله شيء من الصفات، فلا يقال: له قدرة، ولا علم، ولا حياة، لأن العبد موصوف بهذه الصفات! ولازم هذا القول أنه لا يقال له: حي، عليم، قدير، لأن العبد يسمى بهذه الأسماء، وكذلك كلامه وسمعه وبصره وإرادته وغير ذلك. وهم يوافقون أهل السنة على أنه موجود، عليم قدير، حي. والمخلوق يقال له: موجود حي عليم قدير، ولا يقال: هذا تشبيه يجب نفيه، وهذا مما دل عليه الكتاب والسنة وصريح العقل، ولا يخالف فيه  عاقل، فإن الله سمى نفسه بأسماء، وسمى بعض عباده بها، وكذلك سمى صفاته بأسماء، وسمى ببعضها صفات خلقه، وليس المسمى كالمسمي فسمى نفسه: حيا، عليما، قديرا، رؤوفا، رحيما، عزيزا، حكيما، سميعا، بصيرا، ملكا، مؤمنا، جبارا، متكبرا. وقد سمى بعض عباده بهذه الأسماء فقال: {يخرج الحي من الميت} [الأنعام: 95] (الأنعام: 95، والروم: 19) . {وبشروه بغلام عليم} [الذاريات: 28] (الذاريات: 28) . {فبشرناه بغلام حليم} [الصافات: 101] (الصافات: 101) {بالمؤمنين رءوف رحيم} [التوبة: 128] (التوبة: 128) . {فجعلناه سميعا بصيرا} [الإنسان: 2] (الدهر: 2) . {قالت امرأة العزيز} [يوسف: 51] (يوسف: 51) . {وكان وراءهم ملك} [الكهف: 79] (الكهف: 79) . {أفمن كان مؤمنا} [السجدة: 18] (السجدة: 18) . {كذلك يطبع الله على كل قلب متكبر جبار} [غافر: 35] (المؤمن: 35) . ومعلوم أنه لا يماثل الحي الحي، ولا العليم العليم، ولا العزيز العزيز، وكذلك سائر الأسماء.

شرح الطحاوية ت الأرناؤوط (1/ 172)

قوله: و (وإن القرآن كلام الله، منه بدا بلا كيفية قولا، وأنزله على رسوله وحيا، وصدقه المؤمنون على ذلك حقا، وأيقنوا أنه كلام الله تعالى بالحقيقة، ليس بمخلوق ككلام البرية. فمن سمعه فزعم أنه كلام البشر فقد كفر، وقد ذمه الله وعابه وأوعده بسقر حيث قال تعالى: {سأصليه سقر} [المدثر: 26] (المدثر: 26) - فلما أوعد الله بسقر لمن قال: {إن هذا إلا قول البشر} [المدثر: 25] (المدثر: 25) علمنا وأيقنا أنه قول خالق البشر، ولا يشبه قول البشر) .

ش: هذه قاعدة شريفة، وأصل كبير من أصول الدين، ضل فيه طوائف كثيرة من الناس. وهذا الذي حكاه الطحاوي رحمه الله هو الحق الذي دلت عليه الأدلة من الكتاب والسنة لمن تدبرهما، وشهدت به الفطرة السليمة التي لم تغير بالشبهات والشكوك والآراء الباطلة.۔۔۔۔ وقوله: كلام الله منه بدا بلا كيفية قولا: - رد على المعتزلة وغيرهم. فإن المعتزلة تزعم أن القرآن لم يبد منه، كما تقدم حكاية قولهم، قالوا: وإضافته إليه إضافة تشريف، كبيت الله، وناقة الله، يحرفون الكلم عن مواضعه! وقولهم باطل فإن المضاف إلى الله تعالى معان وأعيان، فإضافة الأعيان إلى الله للتشريف، وهي مخلوقة له، كبيت الله، وناقة الله، بخلاف إضافة المعاني، كعلم الله، وقدرته، وعزته، وجلاله، وكبريائه، وكلامه، وحياته، وعلوه، وقهره - فإن هذا كله من صفاته، لا يمكن أن يكون شيء من ذلك مخلوقا.

 [مذهب أهل السنة والجماعة في صفة الكلام]

والوصف بالتكلم من أوصاف الكمال، وضده من أوصاف النقص. قال تعالى: {واتخذ قوم موسى من بعده من حليهم عجلا جسدا له خوار ألم يروا أنه لا يكلمهم ولا يهديهم سبيلا} [الأعراف: 148] (الأعراف: 148) . فكان عباد العجل - مع كفرهم - أعرف بالله من المعتزلة، فإنهم لم يقولوا لموسى: وربك لا يتكلم أيضا. وقال تعالى عن العجل أيضا: {أفلا يرون ألا يرجع إليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعا} [طه: 89] (طه: 89) . فعلم أن نفي رجوع القول ونفي التكلم نقص يستدل به على عدم ألوهية العجل.

وغاية شبهتهم أنهم يقولون: يلزم منه التشبيه والتجسيم؟ فيقال لهم: إذا قلنا أنه تعالى يتكلم كما يليق بجلاله انتفت شبهتهم. ألا ترى أنه تعالى قال: {اليوم نختم على أفواههم وتكلمنا أيديهم وتشهد أرجلهم} [يس: 65] (يس: 65) . فنحن نؤمن أنها تتكلم، ولا نعلم كيف تتكلم. وكذا قوله تعالى: {وقالوا لجلودهم لم شهدتم علينا قالوا أنطقنا الله الذي أنطق كل شيء} [فصلت: 21] (فصلت: 21) . وكذلك تسبيح الحصا والطعام، وسلام الحجر، كل ذلك بلا فم يخرج منه الصوت الصاعد من الرئة، المعتمد على مقاطع الحروف. وإلى هذا أشار الشيخ رحمه الله بقوله: منه بدا بلا كيفية قولا، أي: ظهر منه ولا ندري كيفية تكلمه به. وأكد هذا المعنى بقوله قولا، أتى بالمصدر المعرف للحقيقة، كما أكد الله تعالى التكليم بالمصدر المثبت النافي للمجاز في قوله: {وكلم الله موسى تكليما} [النساء: 164] (النساء: 164) . فماذا بعد الحق إلا الضلال؟ !فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں