بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1441ھ- 05 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

فیس بک (Facebook) کے استعمال کا حکم


سوال

فیس بک کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟

جواب

فیس بک کے استعمال میں اکثر وبیشتر   جان دار اور نامحرم کی تصاویر بھی سامنے آجاتی ہیں، اور  اس میں مشغولیت سے عام طور پر  قیمتی اوقات کا ضیاع بھی ہوتا ہے،  مزیدیہ کہ فیس بک  ہرکس وناکس کواظہارِخیال کی آزادی کا پلیٹ فارم فراہم کرتاہے، جس میں باطل عقائد ونظریات والےلوگ کم زوراہلِ ایمان کے ایمان پرڈاکا  ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منظم کام بھی کررہے ہیں؛ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ایسےتالاب میں کودنےسے اجتناب کیا جائے جہاں خود کےڈوبنےکاخدشہ ہو۔ ہاں اگرکوئی شخص اپنے ایمان اورعقائدمیں اس قدر مضبوط ہو کہ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے دوسروں کےلیےہدایت وراہ نمائی کا ذریعہ بن سکتاہو یا اسلام اورمسلمانوں کا مناسب  دفاع کرسکتا ہو توحدودِ شرع میں رہتے ہوئے  فیس بک یااس جیسا کوئی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔

 خلاصہ یہ ہے کہ  بلاضرورت اس کا استعمال نہ کیا جائے، اگر ضرورت ہو یا دینی اشاعت وغیرہ کے لیے یہ پروگرام استعمال کرنا ناگزیر ہوتو  شرعی حدود میں رہ کر جان دار کی تصاویر شئیر کیے بغیر اس کے استعمال کی اجازت ہے،  لیکن حتی الامکان جان دار کی تصاویر دیکھنے سے  بھی  احتیاط کی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200574

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں