بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فرض نمازوں کی رکعات کا ثبوت کہاں سے ہے؟


سوال

نماز  کی رکعات کا ثبوت قرآن سے ہے یا حدیث سے؟

جواب

واضح رہے کہ دین کے اَحکام جس طرح قرآنِ مجید سے ثابت ہوتے ہیں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ طیبہ سے بھی ثابت ہوتے ہیں، جیسے قرآنِ کریم سے کسی حکم کی فرضیت، وجوب یا استحباب ثابت ہوتاہے، اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں سے بعض سے فرضیت، بعض سے وجوب اور بعض سے سنیت بعض سے استحباب ثابت ہوتاہے، متواتر احادیثِ مبارکہ یا دین کی وہ ضروریات جو تواتر سے ثابت ہیں ان سے ثابت شدہ حکم فرضیت کا درجہ رکھتاہے۔  نبی کریم ﷺ کا منصب دینی اَحکام کا بیان اور تعیین و توضیح بھی ہے۔ اور قرآنِ مجید میں جابجا ہمیں آپ ﷺ کے دیے ہوئے ہر حکم کی اتباع کا حکم ہے، قرآنِ کریم کی دسیوں آیات اس پر دلالت کرتی ہیں، لہٰذا رسول اللہ ﷺ جب کوئی حکم ارشاد فرمائیں یا قرآنِ مجید کے بیان کردہ کسی حکم کی قولی یا عملی شرح فرمائیں تو از روئے قرآنِ کریم وہ بھی قرآنِ کریم کا ہی حکم ہوتاہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر، اور بغرضِ حسن بھنوؤں کو باریک کرنے والی اور دانتوں کے درمیان فاصلہ کرنے والی عورتوں پر جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کرتی ہیں۔ (یہ سن کر) ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ فلاں فلاں (طرح کی) عورتوں پر لعنت بھیجتے ہیں! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان عورتوں پر کیوں لعنت نہ بھیجوں جن پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت بھیجی اور جن پر قرآن مجید میں بھی لعنت ہے! اس عورت نے کہا کہ میں نے تو دونوں گتوں کے درمیان (یعنی مکمل مصحف) پڑھا ہے، میں نے تو اس میں کہیں ایسی بات نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو قرآنِ مجید پڑھتی تو اس ضرور پالیتی، کیا تو نے قرآنِ کریم کی یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا}(ترجمہ: جو کچھ تمہیں رسول دیں اسے اختیار کرو، اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ)؟  اس عورت نے کہا: کیوں نہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انتہی۔ (رسول اللہ ﷺ کے ارشاد میں مذکورہ عورتوں پر لعنت موجود ہے)

مشكاة المصابيح (2/ 1262): [13] (صَحِيح):

"وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وجدت فِيهِ مَا تقُول قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأت: (مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا) ؟ قَالَت: بلَى قَالَ: فإِنه قد نهى عَنهُ".

اس تمہید کے بعد جواب ملاحظہ ہو، اللہ رب العزت نے قرآنِ میں مجید میں "اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ" نازل فرما کر اہلِ اسلام کو نماز ادا کرنے کا حکم فرمایا، اور ’’والشفع والوتر‘‘کے ذریعے اشارہ کردیا کہ احکم الحاکمین کو تعدادِ رکعات جفت اور طاق مطلوب ہیں، اور اس اجمالی حکم کی تفسیر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل اور قول سے فرمائی ہے، چناں چہ آپ ﷺ سے پانچوں نمازوں کی رکعات کی تعداد سفر وحضر کے اعتبار سے متعینہ طور پر ثابت ہے اور ہم تک تواتر سے پہنچی ہے، لہٰذا پنج وقتہ نمازوں کی فرضیت کی طرح ان کی فرض نمازوں کی رکعات کی فرضیت بھی قطعی ویقینی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(فَصْلٌ) : وَأَمَّا عَدَدُ رَكَعَاتِ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ فَالْمُصَلِّي لَايَخْلُو إمَّا أَنْ يَكُونَ مُقِيمًا وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ مُسَافِرًا فَإِنْ كَانَ مُقِيمًا فَعَدَدُ رَكَعَاتِهَا سَبْعَةَ عَشَرَ: رَكْعَتَانِ، وَأَرْبَعٌ، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثٌ، وَأَرْبَعٌ، عَرَفْنَا ذَلِكَ بِفِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلُهُ: «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ، وَهَذَا لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَدَدُ رَكَعَاتِ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ فَكَانَتْ نُصُوصُ الْكِتَابِ الْعَزِيزِ مُجْمَلَةً فِي حَقِّ الْمِقْدَارِ. ثُمَّ زَالَ الْإِجْمَالُ بِبَيَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا وَفِعْلًا كَمَا فِي نُصُوصِ الزَّكَاةِ وَالْعُشْرِ وَالْحَجِّ وَغَيْرِ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ مُسَافِرًا فَعَدَدُ رَكَعَاتِهَا فِي حَقِّهِ إحْدَى عَشْرَةَ عِنْدَنَا: رَكْعَتَانِ، وَرَكْعَتَانِ، وَرَكْعَتَانِ، وَثَلَاثُ وَرَكْعَتَانِ،..." الخ (كتاب الصلاة، فَصْلٌ عَدَدُ رَكَعَاتِ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ، ١/ ٩١، سعيد)

خلاصہ یہ کہ رکعات کی تعداد اجمالی طور پر قرآنِ مجید میں مذکور ہے جب کہ اس کی مکمل اور واضح تشریح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً و قولاً فرمائی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200413

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے