بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے نامحرم کے ساتھ سفر حج کرنے کا حکم


سوال

کسی نا محرم کے ساتھ حج کرنا کیساہے؟ 

جواب

عورت پر حج فرض ہونے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ محرم کا  ساتھ ہونا  بھی شرط ہے، اس شرط کےنہ پائے جانے کی صورت میں عورت پر حج فرض نہیں، اگر محرم موجود ہو تو اس کے ساتھ سفر کرے، ورنہ  نامحرم کے ساتھ  حج کے سفر پر جانا جائز نہیں۔ 

بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:  کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت  بغیر محرم کے سفر کرے۔  تو حاضرین میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا: اے اللہ کے رسول!  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لايخلونّ رجل بامرأة، ولاتسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك»". (صحيح البخاري (4/ 59)

"(وَأَمَّا) الَّذِي يَخُصُّ النِّسَاءَ فَشَرْطَانِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يَكُونَ مَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ مَحْرَمٌ لَهَا فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ أَحَدُهُمَا لَايَجِبُ عَلَيْهَا الْحَجُّ". [بدائع الصنائع : ٣/ ١٢٣] فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144103200540

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے