بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

’’عنین‘‘ (نامرد) کی بیوی اپنے شوہر سے کیسے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے؟


سوال

میری بیٹی کے نکاح کو پانچ سال ہو چکے ہیں میری بیٹی نے بتایا اس کا شوہر نامرد  ہے،  ہم نے لڑکے سے بھی معلوم کروایا اس نے بھی اقرار کر لیا،  ہم نے لڑکے کا بہت علاج بھی کروایا، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے،  اب ہم نے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے،  پر لڑکے والے طلاق نہیں دے رہے، اب اس مسلۂ میں ہم کیا کر سکتے ہیں?

جواب

اگر آپ کی بیٹی کا شوہر نامرد ہے اور  ازدواجی حقوق ادا کرنے سے بالکل قاصر ہے تو ایسے شخص کو فقہی اصطلاح میں ’’عنین‘‘ کہا جاتاہے، عنین کی بیوی کو عدالت کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے بشرطیکہ نکاح سے پہلے اسے اپنے شوہر کے عنین ہونے کا علم نہ ہو، اور  نکاح کے بعد شوہر  کے بارے میں معلوم ہونے پر اس نے اس شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامندی کا اظہار بھی نہ کیا ہو۔ ’’عنین‘‘ سے آزادی حاصل کرنے کا تفصیلی طریقہ یہ ہے:

 ’’عنین‘‘ (نامرد) شخص کی بیوی کوچاہیے کہ وہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں دعوی دائر کرے کہ اس کا شوہر ہم بستری کے قابل نہیں ہے اوراب تک ایک مرتبہ بھی حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرسکاہے،  لڑکی کے دعوے  کے بعد جج اس کے شوہر کوطلب کرکے تحقیق کرے گا، اگرثابت ہوجائے کہ اب تک ایک مرتبہ بھی حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرسکا ہے تو جج مذکورہ لڑکی کے شوہرکو ایک سال کی مہلت دے گا  کہ مزید علاج وغیرہ کرکے بیوی کا حق ادا کرے،  ایک سال بعد بھی اگروہ ہم بستری پرقادر نہ ہو تو جج مذکورہ لڑکی سے ایک مرتبہ پھرپوچھے گا کہ وہ اسی شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یاجدائی چاہتی ہے؟ اگرلڑکی جدائی کا مطالبہ کرے توجج دونوں کے درمیان تفریق کردے گا،  اس کے بعد لڑکی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ 

"عن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه قال: یؤجل العنین سنةً، فإن وصل إلیها، وإلا فرّق بینهما ولها الصداق". (المعجم الکبیر للطبراني ۹؍۳۴۳ رقم: ۹۷۰۶)
"وإذا وجدت المرأة زوجها عنینًا فلها الخیار، إن شاء ت أقامت معه کذٰلک، وإن شاء ت خاصمته عند القاضي وطلبت الفرقة". ( المحیط البرهاني ، کتاب النکاح / الفصل الثالث والعشرون : العنین ۴ ؍ ۲۳۸ المجلس العلمي )

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 494):
"(هو) لغةً: من لايقدر على الجماع، فعيل بمعنى مفعول، جمعه عنن. وشرعًا: (من لايقدر على جماع فرج زوجته) يعني لمانع منه ككبر سن، أو سحر، إذ الرتقاء لا خيار لها للمانع منها خانية. (إذا وجدت) المرأة (زوجها مجبوبا) ، أو مقطوع الذكر فقط أو صغيره جدا كالزر، ولو قصيرا لا يمكنه إدخاله داخل الفرج فليس لها الفرقة بحر، وفيه نظر.وفيه: المجبوب كالعنين إلا في مسألتين؛ التأجيل، ومجيء الولد (فرق) الحاكم بطلبها لو حرة بالغة غير رتقاء وقرناء وغير عالمة بحاله قبل النكاح وغير راضية به بعده (بينهما في الحال) ولو المجبوب صغيرا لعدم فائدة التأجيل.

(قوله: وغير عالمة بحاله إلخ) أما لو كانت عالمة فلا خيار لها على المذهب كما يأتي، وكذا لو رضيت به بعد النكاح". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں