بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شک سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی


سوال

کیا محض شک ہونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے ، جب کہ اس طرح کا کوئی واقعہ بھی نہ ہوا ہو؟

جواب

محض شک کی بنا پر حرمتِ مصاہرت یا حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی،جب تک کہ شہادت یا اقرار موجود نہ ہو۔ نیز حرمتِ مصاہرت کے لیے فقہ میں کئی شرائط ہیں جن کے پائے جانے کی صورت میں ہی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے۔اس لیے محض شک کو حرمت کے لیے بنیاد نہیں بنایاجاسکتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 212):

"وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے