بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

سجده ميں پاؤں كيسے ركهيں؟ مرد وعورت كے طريقے ميں كيا فرق ہے؟


سوال

نماز میں سجدہ کی حالت میں پاؤں کس طرح رکھنے چاہییں، مرد اور عورت کے لیے اس حالت میں مختلف حکم ہے؟

جواب

نماز کے مختلف اَرکان کی ادائیگی کے اعتبار سے مرد اور عورت کی نماز کا طریقہ مختلف ہے، جن میں سے ایک سجدہ بھی ہے، چناں چہ مرد کے لیے سجدہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ:

۱- اعضاء  آپس میں ملے ہوئے نہ ہوں، بلکہ جداجدا ہوں، ہاتھ  بغلوں سے اور رانیں پیٹ سے الگ ہو ں۔
۲- سرین کاحصہ اوپرکی طرف ہو۔
۳-ہاتھ زمین پر نہ بچھائے؛ بل کہ اٹھائے  رکھے۔
۴- پیروں کے پنجے  کھڑے  کرکے  ان کی انگلیاں قبلہ کی طرف کردے۔
اورعورت ان تمام امورمیں مرد سے مختلف ہے؛ چناں چہ اس کو چاہیے کہ وہ سجدہ اس طرح کرے کہ :
۱-اس کے تمام اعضا ملے ہوئے ہوں، ہاتھ بغلوں سے، رانیں پیٹ سے ملی ہوئی ہوں۔
اس کی وجہ علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے درمختارمیں یہ لکھی ہے کہ اس میں عورت کے لیے زیادہ پردہ ہے، اور بعض روایات میں بھی یہ وجہ بیان کی گئی ہے۔
۲-سرین کو اوپرکی طرف نہ اٹھائے؛ بل کہ اپنے جسم کوحتی الامکان زمین سے ملاکر پست رکھے ۔

۳-اپنے ہاتھوں کوزمین پر بچھاکر رکھے، مردکی طرح اٹھاکرنہ رکھے ۔
۴-اپنے دونوں پیرایک طرف(دا ہنی طرف کو) نکال دے اوراپنے پیروں کوکھڑا نہ کرے۔

 ایک حدیث میں آتا ہے کہ دو عورتیں نماز پڑھ رہی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ بعض اعضاء کو بعض سے ملا کر اور چپکا کر سجدہ کیا کریں یعنی مردوں کی طرح کشادگی کے ساتھ سجدہ نہ کریں، بلکہ سجدہ کی حالت میں اپنی کہنیوں کو زمین سے لگائیں، بازوؤں کو سینے سے اور پیٹ کو زانو پر رکھ لیا کریں۔ اس حدیث کو امام ابو داؤد نے اپنی مراسیل میں ذکر فرمایا ہے:

"عن يزيد بن أبي حبيب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مرّ على امرأتين تصليان فقال: «إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل»". (مراسیل أبو داؤد، باب جامع الصلاة (117) ط:مؤسسة الرسالة - بيروت)

نیز مصنف ابن ابی شیبہ میں مرد و عورت کی نماز کے فرق کو واضح انداز میں ذکر کیا گیا ہے چناں چہ امام ابراہیم کا قول نقل کیا گیا ہے:

"عن إبراهيم، قال: «إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها، ولاترفع عجيزتها، ولاتجافي كما يجافي الرجل»". (مصنف ابن أبي شیبة، باب المرأة کیف تکون في سجودها (1/242) ط: مكتبة الرشد - الرياض)

 ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ؟ فَقَالَ: «تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِرُ»‘‘. (مصنّف ابن أبي شیبة:2778 )
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِرُ “ خوب اچھی طرح اکٹھے ہوکر اور سمٹ کر نما زپڑھے۔
’’عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: تَجْتَمِعُ الْمَرْأَةُ إِذَا رَكَعَتْ تَرْفَعُ يَدَيْهَا إِلَى بَطْنِهَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ، فَإِذَا سَجَدَتْ فَلْتَضُمَّ يَدَيْهَا إِلَيْهَا، وَتَضُمَّ بَطْنَهَا وَصَدْرَهَا إِلَى فَخِذَيْهَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ‘‘. (عبد الرزاق:5069 )
ترجمہ:حضرت ابن جریج حضرت عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اِرشاد فرمایا: عورت رکوع کرتے ہوئے سمٹ کر رکوع کرے گی؛ چناں چہ اپنے ہاتھوں کواُٹھاکر اپنے پیٹ کے ساتھ ملالے گی، اور جتنا ہوسکے سمٹ کررکوع کرے گی، پھر جب سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے (جسم کے)ساتھ ملالے گی، اور اپنے پیٹ اور سینہ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملالے گی اور اور جتنا ہوسکے سمٹ کر سجدہ کرے گی۔

 عورت کی پوری نماز میں شروع سے آخر تک اِس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ وہ نماز میں زیادہ سے زیادہ سمٹ کر ارکان کی ادائیگی کرے،  جس طریقے میں زیادہ ستر ہو، چناں چہ حدیثِ مذکور میں بار بار ”وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ“ کے الفاظ اِسی ضابطہ کو بیان کررہے ہیں۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 504):

’’(والمرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (وتلصق بطنها بفخذيها)؛ لأنه أستر، وحررنا في الخزائن: أنها تخالف الرجل في خمسة وعشرين.

 (قوله: فلاتبدي عضديها) كتب في هامش الخزائن أن هذا رد على الحلبي، حيث جعل الثاني تفسيراً للانخفاض مع أن الأصل في العطف المغايرة تنبه اهـ (قوله:  وحررنا  في  الخزائن إلخ) وذلك حيث قال: تنبيه ذكر الزيلعي: أنها تخالف الرجل في عشر، وقد زدت أكثر من ضعفها: ترفع يديها حذاء منكبيها، ولاتخرج يديها من كميها، وتضع الكف على الكف تحت ثديها، وتنحني في الركوع قليلاً، ولاتعقد ولاتفرج فيه أصابعها بل تضمها وتضع يديها على ركبتيها، ولاتحني ركبتيها، وتنضم في ركوعها وسجودها، وتفترش ذراعيها، وتتورك في التشهد وتضع فيه يديها تبلغ رءوس أصابعها ركبتيها، وتضم فيه أصابعها، وإذا نابها شيء في صلاتها تصفق ولاتسبح، ولاتؤم الرجل، وتكره جماعتهن، ويقف الإمام وسطهن، ويكره حضورها الجماعة.

وتؤخر مع الرجال، ولا جمعة عليها، لكن تنعقد بها، ولا عيد، ولا تكبير تشريق، ولايستحب أن تسفر بالفجر، ولاتجهر في الجهرية، بل لو قيل بالفساد بجهرها لأمكن بناء على أن صوتها عورة. وأفاده الحدادي أن الأمة كالحرة إلا في الرفع عند الإحرام فإنها كالرجل. اهـ.

أقول: وقوله ولاتحني ركبتيها صوابه وتحني بدون لا كما قدمناه عن المعراج عند قول الشارح في الركوع ويسن أن يلصق كعبيه، وقوله تبلغ رءوس أصابعها ركبتيها مبني على القول بأن الرجل يضع يديه في التشهد على ركبتيه. والصحيح أنهما سواء كما سنذكره، وقوله لكن تنعقد بها، صوابه لكن تصح منها إذ لاعبرة بالنساء والصبيان في جماعة الجمعة والشرط فيهم ثلاثة رجال، وقدمنا أيضاً عن المعراج عن شرح الوجيز أن الخنثى كالمرأة.

وحاصل ما ذكره أن المخالفة في ست وعشرين. وذكر في البحر أنها لاتنصب أصابع القدمين كما ذكره  في المجتبى، ثم هذا كله فيما يرجع إلى الصلاة، وإلا فالمرأة تخالف الرجل في مسائل كثيرة مذكورة في إحكامات الأشباه فراجعها‘‘. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200989

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے