بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی نیت کا طریقہ


سوال

پہلے یہ دعا پڑی جاتی تھی سحر میں ”نویت أن أصوم غداً لله تعالی من صوم رمضان“  یا ’’نویت أن أصوم غداً لله تعالی من فرض رمضان“  دونوں میں کون سی دعا درست ہے؟ یا دونوں صحیح ہیں؟

جواب

رمضان کا روزہ صحیح ہونے کے لیے نیت کرنا ضروری ہے اور نیت دل کے ارادے کا نام ہے، اور اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ ”آج میرا روزہ ہے“ یا رات کو یہ ارادہ کرلے کہ کل میرا روزہ ہے، نیت کے الفاظ زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ زبان سے نیت کا اظہار کرنا بہتر ہے، اور سحری کے لیے اٹھنا اور سحری کھانا نیت کے قائم مقام ہے اگرچہ زبان سے کچھ نہ کہا ہو۔

نیز رات میں یا صبح صادق سے پہلے زبان سے نیت کی ادائیگی کے لیے سوال میں ذکر کردہ الفاظ ”نویت أن أصوم غداً لله تعالی من صوم رمضان“  یا ’’نویت أن أصوم غداً لله تعالی من فرض رمضان“ بھی کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201139

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے