بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال جانور کا چمڑا پکا کر کھانے کا حکم

سوال

حلال جانور کا چمڑا پکا کر کھا نا کیسا ہے؟

جواب

حلال جانور جس کا گوشت کھانا جائز ہے، اس کا چمڑا کھانا بھی جائز ہے۔

الفتاوٰی البزازیة علی الفتاویٰ الهندیة، کتاب الاضحیة، (۶ ؍ ۲۹۴ ) رشیدیة:

’’وذکر بکر رحمه الله تعالیٰ أن الجلد کاللحم.‘‘

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 749):

’’(كره تحريماً)، وقيل: تنزيهاً، والأول أوجه، (من الشاة سبع: الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر)؛ للأثر الوارد في كراهة ذلك‘‘.

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’جس جانور کا گوشت کھانا جائز ہے اس کا چمڑا بھی گوشت کے ساتھ کھا لیا جائے تو مضائقہ نہیں، درست ہے‘‘۔ (کتاب الاضحیہ، باب الذبائح، ج:۱۷ ؍ ۲۹۱، ۲۹۲ ط:مکتبۃ الفاروق ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200232
تاریخ24-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں