بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ (GP Fund) پر ادارے کی طرف سے ملنے والے منافع کا حکم


سوال

 جی پی فنڈ کے بارے میں فتوٰی پڑھا، لیکن میری اُلجھن حل نہیں ہُوئی ۔ براہ کرم رہنمائی کریں کہ جی پی فنڈ پر مُنافع لینا جائز ہے کہ نہیں؟ جی پی فنڈ کی  ماہانہ کاٹی گئی رقم کسی ادارے کے پاس بینک میں پڑی ہوتی  ہے کیوں کہ  کیونکہ ہم جب چاہیں درخواست دے کر اپنے جی پی فنڈ کا 80 فیصد حصہ وصول کر سکتے ہیں جو کہ ہم سے دوبارہ ماہانہ اقساط میں کٹوتی ہوجاتا ہے (یعنی قرض لینے کی صورت میں ایک اصل جی پی فنڈ کی ماہانہ کٹوتی ہوتی ہے اور دوسری جو جی پی فنڈ وصول کیا ہو اُس کی الگ ماہانہ کٹوتی ہوتی ہے)۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ جی پی فنڈ جو کہ ادارہ کے پاس پڑا ہوتا ہے اور ادارہ مُلازم کو اس پر سالانہ منافع دیتا ہے منافع کی فیصدی گورنمنٹ طے کرتی ہے ، کیا یہ منافع لینا جائز ہے؟

جواب

سرکاری و نجی اداروں کی طرف سے ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور اس فنڈ میں شمولیت کے لیے  ملازمین اپنی تنخواہ میں سے کچھ فیصد کٹوتی کرواتے ہیں جو کہ ہر ماہ اس فنڈ میں جمع کرلی جاتی ہے اور ریٹائرمنٹ کے وقت کمپنی جمع شدہ رقم اضافہ کے ساتھ ملازم کو دے دیتی ہے، اس کی چند صورتیں ہیں، ذیل میں وہ صورتیں، ان میں ملنے والے اضافے کا حکم بیان کیا جاتاہے:

پراویڈنٹ فنڈ کی رائج صورتیں:

1۔ بعض کمپنیز اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتی ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں دیتیں، جس کی وجہ سے ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔

2۔ بعض کمپنیز کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا ، بلکہ کمپنی اپنے ملازمین کو اختیار دیتی ہے کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور کمپنی ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کرتی رہتی ہے۔

3۔ بعض کمپنیز ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اختیار دیتی ہیں کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔

مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:

1۔ پہلی صورت( جبری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ یہ فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے ۔ احتیاطاً یہ اضافہ نہ لیا جائے تو بہترہے۔

2۔ دوسری  قسم (اختیاری کٹوتی)  کا حکم یہ ہے کہ ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے اتنی ہی جمع شدہ رقم وہ لے سکتے ہیں، زائد رقم لینا شرعاًجائز نہیں ہوتا ۔

3۔ تیسری صورت( جبری واختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ جتنی کٹوتی جبراً ہوئی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہوتا ہے اور جتنی رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم لینا جائز نہیں ہوتا .

اگر اس تفصیل میں سے کوئی بات سمجھ نہ آئی ہو تو اس کی نشان دہی کر کے دوبارہ پوچھ لیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200552

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے