بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جہاد سے متعلق چند سوالات


سوال

بندہ کو جہاد سے متعلق چند سوالات ہیں:

 ۱) آج کل مسلمانوں کے دینی حالات بھی نازک ہیں اور دنیاوی اعتبار سے بھی مظلوم ہیں، ایسی صورت میں اگر ظالموں سے لڑا جائے تو کیا ہمیں صحابہ جیسا ہی اجر ملے گا؟ کیوں کہ صحابہ پر اُن کی دین داری کی وجہ سے ظلم ہوتا تھا اور ہم پر ہماری بے دینی کی وجہ سے ہوتا ہے؟

۲) اقدامی جہاد میں پہلے اسلام کی دعوت دی جاتی ہے، پھر جزیہ کا مطالبہ ہوتا ہے، پھر قتال ہوتا ہے۔ قرونِ اولٰی کے فقہاء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دور میں دعوت تقریبًاً ہر جگہ پہنچ گئی تھی، اس لیے  انہوں نے فرمایا کہ: اب دعوت کی ضرورت نہیں، بلکہ سیدھا قتال بھی کر سکتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ کیا ہمیں اپنے دور کو خیر القرون پر قیاس کرنا درست ہے؟

۳) قتال دراصل عذابِِ الہی کا مظہر ہے اور عذاب بغیر اتمامِ حجت کے نہیں آتا، چنانچہ فقہاء کرام کی عبارات میں کچھ ایسی تفصیل ہے کہ اگر کسی علاقے میں دعوت نہ پہنچی ہو تو دعوت واجب ہے اور اگر پہنچ چکی ہو تو مستحب۔ کیا ان عبارات میں محض دعوت مراد ہے یا اتمامِ حجت مراد ہے؟

۴) قتال سے مقصود اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ: اس کا مطلب ہے کہ لوگ اسلام قبول کر کے ہدایت پا لیں، اور بعض کہتے ہیں کہ: اس سے مراد اسلامی نظامِ خلافت کا نفاذ ہے۔ درست بات کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا

جواب

جواب سے قبل   مختصراً مشروعیتِ جہاد کے فلسفہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے:

شاہ ولی اللہ  رحمہ اللہ نے "حجۃ اللہ البالغہ" میں  مشروعیت جہاد کی جو مصلحتیں بیان فرمائیں ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ: جہاد کی مشروعیت اس وجہ سے ہے تاکہ روئے زمین پر فتنہ وفساد نہ رہے، امن عام ہوجائے، اللہ کا کلمہ بلند ہو، اور کفر کا کلمہ ذلیل ورسوا ہو، نیز جہاد    اسلام کو پھیلانے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشروع کیا گیا  ہے جو حق کی دعوت کے راستہ میں داعیوں اور مبلغین کے آڑے آتی  ہیں، اسی طرح ان لوگوں کا ہاتھہ پکڑنے کے لیے  جہاد مشروع کیا ہے جن کا نفس ان داعیان کو تکلیف دینے اور ان پر ظلم کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ (تلخیص از رحمۃ اللہ الواسعۃ، ج:۵، ص: ۳۷۴)   ۱) 

ا ب اس حکمت کو مد نظر رکھ کر اور اعلاء  کلمۃ اللہ کی نیت  سے جو بھی جہاد کرے گا  وہ  فضیلت واجر کا مستحق ہوگا۔یہ کہنا کہ: صحابہ پر ظلم ان کی دین داری کی وجہ سے ہوا تھا اور ہم پر ہماری بے دینی کی وجہ سے ،اس سلسلے میں سورۃ البروج  کی یہ آیت غوروفکر کے لیے مدنظر رکھنی چاہیے جس میں ارشاد باری تعالی ہے: ومانقموا منھم الا ان یومنوا باللہ العزیز الحمید (  البروج : ۸) کہ مسلمانوں کا قصور اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ کفر کی ظلمت چھوڑ کر اللہ کی ذات پر ایمان لے آئے۔

  ۲)  جہاد کی دو قسمیں ہیں: اقدامی اور دفاعی۔کفارکو اقدامی جہاد میں دعوت دینا شرط ہے اور اس دور میں پوری دنیا میں  جہاں بھی جہاد ہورہا ہے وہ دفاعی ہے اقدامی نہیں، نیز اقدامی جہاد میں بھی ایمان کی دعوت دینا اس وقت شرط ہے جب کہ کفار کو کسی بھی طرح سے اسلام کا علم نہ ہو،مگر اس دور میں اسلام اتنا عام ہے کہ کفار کو اسلام کے بارے میں خوب علم ہے، بلکہ معلومات کی حد تک تو بعض کفار کو مسلمانوں سے بھی زیادہ علم ہے ۔  اس ضمن میں فقہاء کا قول  فیصل یہ  ہے کہ: لَا یَجُوْزُ اَنْ یُّقَاتِلَ مَنْ لَّمْ تَبْلُغِ الدَّعْوَۃُ فِیْ اِبْتِدَاءِ الْاِسْلَامِ اَمَّا فِیْ زَمَانِنَا فَلَا حَاجَۃَ اِلٰی الدَّعْوَۃِلِاَنَّ الْاِسْلَامَ قَدْ فَاضَ وَاشْتَھَرَ فَمَا مِنْ زَمَانٍ اَوْ مَکَانٍ اِلَّا وَقَدْ بَلَغَہُ بَعْثُ النَّبِیِّ ﷺ وَدُعَائُہٗ اِلٰی الْاِسْلَامِ فَیَکُوْنُ الْاِمَامُ مُخَیَّرًابَیْنَ الْبَعْثِ اِلَیْھِمْ وَتَرْکِہٖ وَلَاَنْ یُّقَاتِلَھُمْ جَھْرًااَوْخُفْیَۃً۔(الجوہرۃ النیرۃ)

ابتدا ءً ِاسلام میں بغیر دعوت دیے کفار کے ساتھ قتال جائز نہیں تھا، مگر ہمارے زمانہ میں کفار کو اسلام کی دعوت کی کوئی ضرورت نہیں ؛ کیو ں  کہ اب ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پر اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو ۔

۳) مختلف  روایات (جن کی تفصیل کا موقع نہیں، کتب سیر میں ملاحظہ فرمالیں) سے ثابت ہوتا ہےکہ قتال سے قبل کفار کو  دعوت بھی صرف اجمالی دی جاتی تھی نہ کہ تفصیلی۔ اور وہ بھی منت سماجت کے ساتھ نہیں، بلکہ سینہ تا ن کر اور مجاہد انہ لب و لہجہ میں تلوار لٹکا کر ،مسلح ہو کر۔ اور یہی دعوت اتمامِ حجت ہے جس کا انکار موجبِ عذابِ الہی ہے۔

۴)  جہاد کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے اوراس کے ثمرے ونتیجے کے طور پر اللہ پاک زمین کی خلافت بھی نصیب فرمادیتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143806200028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں