بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

جس کمرے میں ٹی وی رکھا ہو اس میں نماز پڑھنا


سوال

جس کمرے میں ٹی، وی موجود ہو اس کمرے میں نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟  کیا نماز پڑھنے والے کی نماز ہو جائے گی?

جواب

ٹی وی رکھنا اور دیکھنا ناجائز ہے، اگر کمرے میں  ٹی وی چل رہا ہے تو اس  کمرے میں نماز مکروہ ہوگی، اور اگر  ٹی وی  بند ہو تو اس کمرے میں نماز ادا ہو جائے گی، تاہم اگر یہ کمرہ اسی لہو لعب  اور گناہ کے کام لے لیے مخصوص ہو تو اس میں بھی نماز پڑھنا کراہت سے خالی نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 107):
"ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير، وفي البساط روايتان، والصحيح أنه لايكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير، وهذا إذا كانت الصورة كبيرةً تبدو للناظر من غير تكلف، كذا في فتاوى قاضي خان. ولو كانت صغيرةً بحيث لاتبدو للناظر إلا بتأمل لايكره، وإن قطع الرأس فلا بأس به".

الفقه الإسلامي وأدلته (2/ 155):
"قال النووي في المجموع: وتكره الصلاة في مأوى الشياطين كالخمارة وموضع المكس ونحو ذلك من المعاصي الفاحشة". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے