بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

تہہ چھوڑنے والے رنگ (کلر) بالوں پر لگانے کا حکم


سوال

بازاروں میں دست یاب کلر کون سے جائز ہیں  سیاہ کے علاؤہ؟ ایک مولانا صاحب بتا رہے تھے یہ کلر جائز نہیں؛ اس لیے کہ ان سے بالوں پر تہہ جم جاتی ہے، غسل وضو  نہیں ہوتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کون سے کلر استعمال کیے جائیں جن سے تہہ نہ جمے، بلکہ رنگ چھوڑیں دکان دار کو بھی علم نہیں ہوتا؟

جواب

خالص سیاہ رنگ (کلر) کے علاوہ ہر طرح کا رنگ بالوں پر لگانا جائز ہے بشرطیکہ بالوں کو دھونے کے بعد اس رنگ کی ایسی تہہ بالوں پر جم کر باقی نہ رہ جائے جو بالوں تک پانی پہنچنے سے مانع ہو، کیونکہ رنگ کی تہہ جم جانے کی صورت میں تہہ ہٹنے سے پہلے کیا جانے والا وضو اور غسل معتبر نہیں ہوگا، لہٰذا کسی بھی قسم کا رنگ بالوں پر لگانے سے پہلے تھوڑا سا ہاتھ  وغیرہ پر لگاکر چیک کرلینا چاہیے کہ یہ رنگ تہہ چھوڑنے والا ہے یا نہیں؟ اگر تہہ والا ہو تو وہ استعمال نہ کریں اور تہہ والا نہ ہو تو اس سے بالوں کو رنگ سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے