بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ایصالِ ثواب کا ثبوت


سوال

ایصالِ ثواب کی قرآن یا حدیث سے دلیل دیں!

جواب

اعمال کا ایصالِ ثواب کئی صحیح احادیث سے ثابت ہے:

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے لیے کیا  صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی،  انہوں نے ایک کنواں کھدوایا، اور فرمایا کہ یہ سعد کی والدہ کے لیے ہے۔

مشكاة المصابيح (1/ 597):

"وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال: «الماء» . فحفر بئراً وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي".

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی علیہ السلام سے پوچھا : میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے اپنے پیچھے مال چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی۔ اگر میں ان کی جانب سے صدقہ خیرات کردوں، کیا ان کے گناہوں کے لیے معافی کا ذریعہ ہوجائے گا؟ فرمایا: ہاں! تمہارے صدقات سے ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔

صحيح مسلم (3/ 1254):

"عن أبي هريرة، أن رجلاً قال للنبي صلى الله عليه وسلم: إن أبي مات وترك مالاً، ولم يوص، فهل يكفر عنه أن أتصدق عنه؟ قال: «نعم»".

حضرت ابواُسید مالک بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے پاس موجود تھے کہ اتنے میں بنو سلمہ کا ایک شخص آیا اور اُس نے نبی کریمﷺسےدریافت کیا:یا رسول اللہ! میرے والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی کوئی صورت ہے، جس کو میں اختیار کروں؟ فرمایا: ہاں! ان کے لیے دُعا و اِستغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت کو نافذ کرنا، ان کے متعلقین سے صلہ رحمی کرنا، اور ان کے دوستوں سے عزّت کے ساتھ پیش آنا۔

سنن أبي داود (4/ 336):

"عن أسيد بن علي بن عبيد، مولى بني ساعدة عن أبيه، عن أبي أسيد مالك بن ربيعة الساعدي، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذ جاء ه رجل من بني سلمة، فقال: يا رسول الله، هل بقي من بر أبوي شيء أبرهما به بعد موتهما؟ قال: «نعم الصلاة عليهما، والاستغفار لهما، وإنفاذ عهدهما من بعدهما، وصلة الرحم التي لاتوصل إلا بهما، وإكرام صديقهما»".

اس طرح کی اور بھی بہت سی روایات ثابت ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایصالِ ثواب بر حق ہے۔ اور ایصالِ ثواب جس طرح وفات پانے والے افراد کے لیے ہوتاہے، اسی طرح زندوں کے لیے بھی ثابت ہے، رسول اللہ ﷺ نے جانور قربان کرتے ہوئے امتِ محمدیہ کے ان افراد کی طرف سے بھی نیت فرمائی جنہوں نے قربانی نہیں کی۔  حنش کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قربانی کرتے ہوئے دیکھا، تو میں نے عرض کیا کہ یہ کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ میری طرف سے قربانی کیا کروں، چناں چہ میں آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کر رہاہوں۔ 

نیز میت کے حق میں دعا اور استغفار مستقل نیک عمل ہے، اور اس کا فائدہ میت کو پہنچنا قرآنِ مجید سے بھی ثابت ہے، چناں چہ سورہ حشر  کی آیت نمبر 10 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 

{وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ} فقط واللہ اعلم

اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

کیا ایصالِ ثواب جائز ہے؟

ایصالِ ثواب کا ثبوت


فتوی نمبر : 144105200729

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے