بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جمادى الاخرى 1441ھ- 24 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے استعمال پر ملنے والے کیش بیک وغیرہ کے استعمال کا حکم


سوال

ایزی پیسہ سے جو رقم کیش بیک کی صورت میں ملتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ ‘‘ ایک ایسی سہولت ہے جس میں آپ اپنی جمع کردہ رقوم  سے کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً: بلوں کی ادائیگی، یا رقوم کا تبادلہ، موبائل وغیرہ میں بیلنس کا استعمال وغیرہ ۔ نیز تحقیق کرنے پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی پشت پر  بھی ایک قسم کا بینک ہی ہے  جس میں عام طور پر چھوٹے سرمایہ داروں کی رقوم سود پر رکھی جاتی ہیں اور اس میں سے چھوٹے کاروباروں کے لیے سود پر قرض بھی دیا جاتا ہے۔

اس کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم قرض ہے ، اور  چوں کہ قرض دے کر اس سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے ؛ اس لیے اس قرض کے بدلے کمپنی کی طرف سے دی جانے والی سہولیات وصول کرنا اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، لہذا   کمپنی  اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر  یومیہ فری منٹس ، میسیجز  یا انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہو یا ٹرانزیکشن (یعنی ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی یا خریداری کر کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے ذریعہ پیسوں کی ادائیگی) کرنے پر  یا ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے اپنے یا کسی دوسرے کے نمبر پر  ایزی لوڈ کروانے پر ڈسکاؤنٹ یا کیش بیک (مثلاً ۲۰۰ روپے) دیتی ہو تو  ان کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اس لیے کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے مذکورہ بالا ادائیگیاں کرنے کے لیے پہلے اس اکاؤنٹ میں رقم  ڈلوانی پڑے گی اور  اس اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت  قرض ہے، اور  قرض دینا  فی نفسہ تو جائز ہے، لیکن قرض کی وجہ سے حاصل ہونے والا نفع حدیث کی رو سے شرعاً سود کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔  (مصنف بن أبی شیبہ، رقم:۲۰۶۹۰ )

 نیز   چوں کہ اس صورت  میں  مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے ؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا  بھی جائز نہیں ہوگا۔

اگر کوئی ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘  کھلواچکاہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ جلد از جلد مذکورہ اکاؤنٹ ختم کروائے اور صرف اپنی جمع کردہ رقم واپس لے سکتاہے، یا صرف جمع کردہ رقم کے برابر استفادہ کرسکتاہے، اس رقم پر ملنے والے اضافی فوائد حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہوں گے۔ 

اور اگر  کوئی کمپنی ایزی پیسہ اکاؤنٹ  کھلوانے کو اس ناجائز معاملہ کے ساتھ مشروط  نہ کرے، یعنی مخصوص رقم  رکھوانے کی شرط کے بغیر ہی کھولا جائے،  یا کمپنی نے از خود کھول دیا ہو تو  پھر رقم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی اور دیگر اس طرح کے جائز کاموں کےلیے  اس اکاؤنٹ کا استعمال جائز ہوگا، اب اس صورت میں اس اکاؤنٹ کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی رعایت یا کیش بیک ملتا ہے تو اس  کے حکم میں یہ تفصیل ہوگی کہ اگر وہ کیش بیک اور رعایت اس جگہ سے مل رہی ہو جہاں سے خریداری وغیرہ کی گئی ہو   تو یہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا، اور اس کا استعمال جائز ہوگا، اور اگر یہ رعایت ایزی پیسہ کمپنی یا اس کی پشت پر موجود بینک کی طرف سے مل رہی ہے تو پھر اس رعایت کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اس بارے میں معلومات کرلی جائیں، اور جب تک معلومات نہ ہوں ان کیش بیک اور سہولیات کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔

اور اگر کوئی کمپنی ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانے کو مخصوص رقم جمع کرانے سے بھی مشروط نہ کرے، اور رقم جمع کرنے پر اضافی رقم یا سہولیات وغیرہ بھی نہ دے، بلکہ رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی یا لوڈ کرنے کی حد تک سہولیات ہوں تو ایسا اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے استفادہ کرنا جائز ہوگا۔ 

"فتاوی شامی" میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن". (5/166، مطلب کل قرض جر نفعًا، ط: سعید)

"اعلاء السنن"میں ہے: 

" قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة  أو هدیة فأسلف علی ذلک، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا". (14/513، باب کل قرض جر  منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارة القرآن)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200542

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے