بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

بینات

 
 

پاکستان کا اسلامی تشخُّص چند تاریخی، سیاسی اور فقہی تنقیحات

پاکستان کا اسلامی تشخُّص

 

چند تاریخی، سیاسی اور فقہی تنقیحات
 

پاکستان کی نظریاتی اساس اور ریاستی تشکیل ۔۔۔ چند اُمور

پاکستان اسلامی ملک ہے، اسلام کے نام پر حاصل ہوا ہے، اس کا آئین بھی اسلامی اساس پر مبنی ہے، دو قومی نظر یہ اس ملک کی روح ہے، اس بنا پر پاکستان کے بعض نظریا تی بہی خواہ یہ کہتے ہیں کہ اس خطے میں خالص اسلامی اقدار ہی فروغ پا سکتی ہیں، یہاں اسلام اور اہلِ اسلام کے علاوہ کسی اور نظریہ یا صاحبِ نظر یہ کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے اور پاکستان کے مبینہ نظریاتی تشخص کے تنا ظر میں درست ما نی بھی جا سکتی ہے ۔
 مگر پاکستان کی ریاستی تشکیل کے بعد پاکستان کے مبینہ نظریاتی تشخص کے علا وہ کچھ اور اُمور بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں پاکستان کی نظریاتی، آئینی اور جغرافیائی حیثیت کے بیان کے ضمن میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اور وہ اُمور درج ذیل ہیں : 
۱:- پاکستان بلا شبہ اسلامی ملک ہے، یہاں قرآن وسنت کو آئینی طور پر بالا دستی حاصل ہے، مگر ساتھ ساتھ یہ جمہوری ملک بھی ہے، ہر جمہوری ملک میں جملہ رعایا کو مساویانہ حقوق حاصل ہو تے ہیں، ایسے ملک میں کسی بھی قسم کے علاقائی، لسانی، نسلی ا ورمذہبی امتیاز وبرتری کا حق نہیں جتلایاجاسکتا۔ دنیا میں جو بھی مسلم یا غیر مسلم ممالک اس جمہوری نظام کے زیرِ اثر‘ مملکتی امور چلا رہے ہیں، وہ اس جمہوری اصول کے پابند ہیں۔
۲:-پاکستان کا آئین بلا تردد اسلامی اساس پر قائم ہے، مگر اسی آئین میں اس ملک کے غیرمسلم شہریوں کو اپنے مذہبی معاملات میں ہر قسم کا آئینی حق و تحفظ حاصل ہے ۔ البتہ یہاں پر یہ بحث ہوسکتی ہے کہ یہاں کے غیر مسلم شہریوں کے مذہبی معاملات کے تحفظ پر مبنی شقوں میں شرعی حدود کا کتنا لحاظ رکھا گیا ہے؟ اور کہاں پر شرعی سُقم‘ قابلِ اصلاح ہے؟
۳:-دو قومی نظریہ یقیناً پاکستان کے وجود کے لیے روح کا درجہ رکھتاہے، پاکستان کی بنیاد اسی نظریے پر کھڑ ی کی گئی تھی، اس نظریے کی رو سے پاکستان صرف مسلم قوم کا ملک ہوسکتا ہے۔ یہ خطہ کسی اور قوم کا مُلک ومِلک ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بات اسلام کے جذباتی پہلو اور سیا سی تاریخی پس منظر کے اعتبار سے بالکل بجا ہے، کیوں کہ ماضی میں ہمارے سامنے دو قومی نظریے کی سیاسی و شرعی جو تشریح کی گئی تھی، اس کے تنا ظر میں ہماری یہ فکر درست ہے۔ جو نظریاتی پاکستانی اس فکر کے تحت پاکستان کے اسلامی، نظریاتی تشخص کی بابت سخت ردعمل دے رہے ہیں، وہ اپنی جگہ درست ہیں، انہیں غلط قرار دینا آسان نہیں ہے، ورنہ ہمیں دو قومی نظریے کی مبینہ ان سیاسی وشرعی تشریحات سے واضح طور پر دستبردار ہونا پڑے گا، جو اس ملک میں اپنے علاوہ کسی اور کو جگہ دینے میں رکاوٹ ہیں ۔

جغرافیۂ عالم پر پاکستان کا ریاستی تشخُّص اور چند حقائق

مگر دوسری طرف وطنِ عزیز کی ریاستی تشکیل کے با ضابطہ ا علان اور جغرافیۂ عالم پر ریاستی تشخص کے قیام کے بعد کے مزید چند حقائق بھی ہیں، جو ہما ری مذکور ہ فکر میں تتمہ،ترمیم یا توسیع کے متقاضی ہیں، وہ حقائق یہ ہیں:
الف:۔۔۔۔ دو قومی نظر یہ جس طرح ہمارے سامنے ہے، اسی طرح بانیانِ پاکستان کے سامنے قیامِ پاکستان سے پہلے بھی موجود تھا اور اس کے بعد بھی ان سے اوجھل نہیں تھا، بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد بانیِ پاکستان، حضرت قائد اعظم مرحوم نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ اس ملک میں تمام غیر مسلموں کو وہی انسانی ومذہبی حقوق حاصل ہوں گے جو یہاں کے مسلمانوں کو حاصل ہوں گے۔(1)
 قائد کے اس فرمان کے مطابق پاکستان کے مسلم و غیر مسلم شہری، انسانی ومذہبی حقوق میں مساویانہ حقوق رکھتے ہیں، یہی نظریۂ پاکستان ہے، ہاں! پاکستان میں قرآن وسنت کی آئینی بالا دستی کے تناظر میں اس مساویانہ حق کی تشریح کی گنجائش باقی ہے۔
ب :۔۔۔۔ماضی یا حال میں دو قومی نظریہ کا یہ مطلب لینا کہ مسلم اور غیر مسلم اقوام کے درمیان کسی قسم کا سیاسی، سماجی، وطنی اورپر امن بقاء باہمی کا کوئی اشتراکِ عمل درست نہیں، بلکہ ہر ایک کے لیے ایسی جداگانہ شناخت ضروری ہے جس سے وہ دوسرے سے الگ تھلگ رہے، یہ بات جذبات کی حد تک یا پھر ہندوانہ چھوت چھات کی بنیاد پر تو درست ہوسکتی ہے، مگر انسانی رشتوں اور اسلامی روایات کی رو سے بالکل غلط ہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسلم و غیر مسلم کے درمیان سیاسی، سماجی اور وطنی بنیادوں پر ایسا اشتراکِ عمل بہرحال پایا جاتا ہے، وہ سب قومی وحدت اور وطنی قومیت کے ایک ہی مالا میں پروئے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ہر ملک کے تمام شہری اپنی قومی شناخت میں نسل، رنگ اور مذہب کے امتیاز سے بالا تر رہتے ہوئے ایک ہی قوم کہلاتے ہیں ۔ پاکستان کے بڑے مذہبی پیشوا ہوں یا عام غیرمسلم خاکروب‘ دونوں قومی شناخت اور جمہوری وزن میں یکساں ہیں ۔اس بنا پر پاکستان کے کسی بھی مسلم یا غیر مسلم شہری کے بارے میں اب پاکستانی قومیت اور جمہوری وزن کی نفی یا تفریق نہیں کی جا سکتی۔
ج:۔۔۔۔ پاکستان بلا شبہ جغرافیۂ عالم کے نقشے میں شامل ہے، بین الاقوامی قوانین کا اطلاق پاکستان پر بھی ہوتا ہے، کیوں کہ بین الاقوامی رشتہ کی بنیاد پر پاکستان کا قومی وجود اقوامِ عالم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس رشتہ کو اقوامِ عالم بھی تسلیم کرتی ہیں اور ہم بھی بحیثیت پاکستانی قوم اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسی تعلق اور رشتے کے اظہار کے لیے ہر ملک کی قومی وحدت سے آگے چل کر اقوامِ متحدہ کا پلیٹ فارم بھی تشکیل پاچکا ہے اور اقوامِ متحدہ سے منسلک تمام ممالک، اس کے چارٹر کے مطابق نظمِ مملکت چلانے کے پابند ہیں۔ اقوام متحدہ کے وہ ارکان ممالک جنہوں نے اس چارٹر پر دستخط کیے ہیں، وہ اپنے معاہدے کی رو سے یہ حق نہیں رکھتے کہ اپنے معاہدے کی طے شدہ شقوں میں سے کسی شق کی خلاف ورزی کریں، ورنہ اقوامِ متحدہ ایسے ممالک کے خلاف ایکشن لے سکتی ہے، بلکہ اگر آپ کمزور مسلمان ملک ہیں تو آپ کے خلاف صرف ادنیٰ بہانہ ہی کارروائی کا جوازفراہم کرسکتاہے، پس اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتاہے کہ ہم پاکستانی قوم ہونے کے ناطے اقوامِ عالم کا حصہ ہیں۔ قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ میں قومی شناخت اور بین الاقوامی رشتے میں پاکستانی قوم ڈیکلیر ہونے کے بعد ہم ’’وطن‘‘ کو قومی شناخت کی بنیاد تسلیم کرچکے ہیں، اس لیے اب جو شیلے یا شرمیلے انداز کے ساتھ ماضی کی ان ابحاث میں اُلجھنے کا کوئی جواز نہیں بچتا کہ ہماری قومی شناخت اسلام ہے یا وطن؟ یہ ابہام اب کسی بھی سیاسی شعور پر مخفی نہیں رہا، اس لیے کسی بھی وطن کے تمام شہری مذہب و نسل کے امتیاز کے بغیر ایک قوم شمار ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کے افراد کے درمیان شہری و انسانی حقوق میں تفریق کرنا قومی بلکہ بین الاقوامی جرم تصور ہوگا ۔

اقوامِ عالم کا باہمی تعلق اور مذہبی شناخت کا لازمی امتیاز

بایں ہمہ ان تمام حقائق و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے ایک بڑی حقیقت بھی پیش نظررہنی چاہیے کہ تمام اقوامِ عالم اپنے ریاستی نظم اور بین الاقوامی رشتہ میں بعض مشترکات و مسلمات پر کاربند ہونے کے باوجود جداگانہ مذہبی شناخت کی حامل بھی ہیں اور کوئی بھی قوم کسی اور کی خاطر اپنی مذہبی شناخت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتی، بلکہ ہر قیمت پر اپنی مذہبی شناخت کو اونچا رکھنے کی کوشش کر تی ہے اور انسان کی اپنے مذہب کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی ہوتی ہے، مگر تمام مذہب پرستوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی اپنے مذہب کے ساتھ وابستگی فطری جذباتیت سے بڑھ کر روحانی کشش کی بنیاد پر بھی ہے، اس لیے مسلمان اپنے مذہب کے بارے میں دیگر اہلِ مذاہب کی بنسبت زیادہ جذباتی ہوتا ہے، جس کی ایک سماوی علت بھی ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کے لیے جو جو آسمانی دین بھیجے ان میں سے آخری آسمانی دین‘ دینِ اسلام ہے اور یہ سابقہ تمام آسمانی ادیان کا جامع بھی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان بھی ہے کہ اب پیغامِ ہدایت کے طور پر اسلام ہی اپنایا جائے گا: ’’إِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْإِسْلَامُ‘‘ 2 اسی وجہ سے اہلِ اسلام نے اپنے اس دین کو اسی طرح ترو تازہ رکھا ہوا ہے، جس طرح کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر اُترا تھا، یہ امتیاز کسی اور دین و دھرم کو حاصل ہے، نہ کوئی دعویٰ کرسکتاہے ۔

اسلامی فتوحات میں غیرمسلموں کے ساتھ رویہ

دینِ اسلام کی اسی عظمت اور فوقیت کے پیش نظر اسلامی احکام اور اقدار کے حوالے سے خصوصی احکام اور ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان احکام کا دائرہ ذاتی، سماجی، قومی او ر بین الاقوامی زندگی تک وسیع ہے۔ مسلمان کی بین الاقوامی زندگی کا پہلا مدون لائحہ عمل امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی’’ کتاب السیر ‘‘ہے، جس کے مطالعے کے بعد اہلِ کتاب کے ایک عالم کے مسلمان ہونے اور کتاب سے متعلق یہ تاثرات زبان زد عام ہیں کہ: ’’ہٰذا کتاب محمدکم الأصغر فکیف کتاب محمدکم الأکبر‘‘ (یہ تمہارے چھوٹے محمد کی کتاب ہے، تمہارے بڑے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی کتاب (قرآن کریم) کیسی ہوگی؟!)3
اس کتاب میں مسلم قوم کے دیگر اقوام کے ساتھ تعامل، رویے اوررہن سہن کے تقریباً تمام احکام کلیات یا جزئیات کی صورت میں موجود ہیں۔ ان احکام میں سے ایک بے مثال اور روشن حکم یہ بھی ہے کہ مسلم قوم جب فاتح یا حاکم قوم کے طورپر سامنے آئے تو اس کا دیگر اہلِ مذاہب کے ساتھ رویہ اور برتاؤ کیسا ہونا چاہیے؟ اس روشن حکم سے متعلق قرآن و سنت کی نصوص اور تفریعات امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب فرمائی ہیں، بعد کے فقہاء کرامؒ نے تقریباً اسی سے استفادہ کیا ہے۔
ان احکام کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان فاتح یا حاکم قوم کا واسطہ تین طرح کی غیر مسلم اقوام سے پڑ سکتا ہے: پہلی قسم حربی کفار ہیں۔ دوسری قسم معاہد کفار ہیں ( جن کے ساتھ آپ کے سفارتی تعلقات ہوں )۔ اور تیسری قسم اہلِ ذمہ ہیں۔ اہلِ ذمہ سے مراد مسلم ملک کے وہ غیر مسلم شہری ہیں، جن کے جان، مال، عزت، آبرو اور مذہبی آزادی کی دیکھ بھال ایک قانونی و انتظامی معاہدے کے تحت مسلمان حکومت کے ذمہ عائد ہوچکی ہو۔4
رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں معاہدے اور ذمہ والوں سے متعلق حفاظت و رعایت کی جس قدر ہدایات موجود ہیں، دنیا کے کسی اور مذہب یا چارٹر میں اس کی ادنیٰ مثال بھی نہیں ملتی، اس کی تائید کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ ارشاد بھی کافی ہے کہ جس مسلمان نے کسی ذمی کے ساتھ ظلم و ناانصافی کی، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اس ذمی کے حق کے لیے ایسے مسلمان کے خلاف میں بطور وکیل کے کیس لڑوں گا ۔ (الحدیث ) 5
اس مضمون کی روایات سے بخوبی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دینِ اسلام اور اسلامی اقتدار غیر مسلم اقوام کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور اپنے زیرِ اقتدار غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کتنا ضروری سمجھتا ہے۔ دینِ اسلام محض مذہبی اختلاف کی بنا پر غیر مذہب والوں سے عنادی، انتقامی یا امتیازی رویوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، بلکہ غیر مذہب والوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی کھلی اجازت دیتا ہے۔ اُن کی جان، مال، عزت و آبرو کو مسلمانوں کی جان و مال کی مانند قرار دیتا ہے، اُن کی استطاعت سے بڑھ کر کسی قسم کا بوجھ ڈالنے سے روکتا ہے، غیر مسلم رعایا کے ان حقوق کے تحفظ میں رخنہ اندازی کو شرعی و قانونی جرم قرار دیتا ہے۔

اسلامی ریاست کے غیرمسلم رعایا سے دو مطالبے

ان تمام تر حقوق کے تحفظ اور دیگر مراعات کے عوض اسلامی ریاست اپنی غیر مسلم رعایا سے صرف دو چیزوں کا مطالبہ کرتی ہے: 
ایک یہ کہ غیرمسلم رعایا اپنے عقدِ ذمہ یعنی اسلامی ریاست کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کے مطابق ریاست کے ساتھ وفاداری اور تسلیم کردہ حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ 
دوسرا یہ کہ ریاست کی طرف سے حاصل شدہ مذہبی آزادی میں ایسے اقدامات سے گریزاں رہے جو مسلمانوں کے جذبات پر اثر انداز ہوں یا کوئی ایسی اشتعالی کیفیت پیدا ہو، جس سے امن و امان کا باہمی عقد اور سماجی روابط متاثر ہوں، مثلاً مسلمانوں کے سامنے اپنی شان و شوکت کا کھلم کھلا مظاہرہ نہ کریں، مثلاً رعایا کا تعلق مسیحی برادری سے ہو تو وہ اپنا صلیبی نشان نمایاں نہ کریں، اسلامی عمل داری میں اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں۔ 6 مذہب کی تبلیغ اور فروغ کے ضمن میں یہ بھی آتاہے کہ آپ پرانی عبادت گاہوں تک محدود رہنے کے بجائے اسلامی ریاست میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا شروع کردیں۔ ہاں! پرانی عبادت گاہوں کو تحفظ دینا اسلامی حکومت کا فرض اور اُن کی حسبِ ضرورت اصلاح و ترمیم غیر مسلم رعایا کا مذہبی حق ہے ۔7
چنانچہ اسلامی ریاست کی غیر مسلم رعایا کو بہتیرے مذہبی و معاشرتی حقوق دینے کے بعد ان دو امور کا پابند بنانا مذہبی تنگ نظری کی بجائے دور اندیشانہ انتظامی مصلحت کی بنا پر ہے، اس مصلحت آفرینی میں مسلمانوں سے زیادہ چونکہ غیر مسلموں کا فائدہ، تحفظ اور خیال مقصود ہے، اس لیے حکومتِ وقت ان دو مطالبات کے بارے میں انتظامی اثر و رسوخ بجالانے کی نہ صرف یہ کہ مجاز ہے، بلکہ شرعاً پابند بھی ہے، چنانچہ تمام فقہی مذاہب کے ہاں اہلِ ذمہ کے حقوق کے ضمن میں اس شرعی پابندی کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔

پاکستان اور اقلیتی عبادت گاہوں کا قضیہ

اہلِ ذمہ کی عبادت گاہوں سے متعلق فقہی احکام، اسلامی تاریخ کے آغاز سے تاحال واضح انداز میں مذکور چلے آرہے ہیں، تقریباً تمام اسلامی ادوار کے مسلم اور غیر مسلم شہری بلاتشویش ان احکام کے مطابق امن و اطمینان سے رہتے چلے آرہے ہیں، مگر بدقسمتی سے پاکستانی تاریخ کے موجودہ دور میں پاکستان کی غیرمسلم اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے حوالے سے اچانک کچھ غیر معتدل رویے ایسے سامنے آئے، جنہوں نے نہ صرف یہ کہ اقلیتی عبادت گاہوں کے حوالے سے باہمی اطمینان و اتحاد کو گزند پہنچائی، بلکہ اقلیتی عبادت گاہوں سے متعلق متوارث اطمینان بخش شرعی احکام کو بھی متنازع بنانے کا موقع فراہم کردیا، حالانکہ اقلیتی عبادت گاہوں سے متعلق یہ شرعی احکام تو چودہ صدیوں سے مدون اور معمول بہا چلے آرہے ہیں، مگر اب کہیں پر یہ بحث ہورہی ہے کہ اسلام غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا روادار ہے، کہیں یہ موضوع اُٹھایا جارہا ہے کہ پاکستان میں غیرمسلم اقلیتوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں، کہیں یہ مکالمے شروع ہیں کہ پاکستان صلح سے حاصل ہوا ہے یا جنگ سے؟ اور کہیں یہ طعنہ زنی عام ہے کہ جب کافر ممالک میں نئی مسجد بن سکتی ہے تو پاکستان یا دیگر اسلامی ممالک میں نئی اقلیتی عبادت گاہیں کیوں نہیں بن سکتیں؟
یہ سوالات آج کی پیداوار ہیں اور اپنا مخصوص یا مذموم پس منظر رکھتے ہیں، ان سوالوں کے مضمرات جس قسم کے ایجنڈ ے کی تکمیل یا ماحول سازی کا پیش خیمہ ہیں، یہ ابحاث مستقل موضوع کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان سے ملک و ملت کے بہی خواہ بخوبی واقف ہیں اور بعض احباب ملی غیرت اور ایمانی جرأت کے ساتھ اس کا اظہار بھی کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر اور استقامت عطا فرمائے، آمین 

اقلیتی عبادت گاہوں سے متعلق فقہی خلط وابہام کی وضاحت

ایک فقہی طالب علم ہونے کے ناطے غیر مسلم رعایا کی عبادت گاہوں بالخصوص نئی عبادت گاہوں کے حوالے سے نئے پیدا شدہ فقہی ابہام اور خلطِ مبحث کی کچھ وضاحت پر اکتفاء کرتا ہوں: 
فقہاء کرام نے اسلامی ملک میں نئی اقلیتی عبادت گاہوں کے قیام کا تجزیہ کرتے ہوئے اسلامی ریاست اور اس کی عمل داری کی تین نوعیتیں بیان فرمائی ہیں اور تینوں اقسام میں احکام کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہے۔
ایک قسم اُن شہروں کی ہے جو مسلمانوں نے ہی آباد کیے ہوں، ایسے شہروں میں غیر مسلموں کا کوئی ایسا حق پہلے سے موجود یا محفوظ نہیں ہے، جس کا تحفظ مسلم قوم یا مسلم حاکم کے ذمہ واجب ہو، وہاں غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہیں بنانا اسلامی وحدت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے فریضے کی تکمیل میں تشویش کا باعث ہے، اس لیے ایسے شہروں میں غیر مسلم رعایا کو نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت دینا شرعی و انتظامی لحاظ سے درست نہیں ہے، کیوں کہ یہ اقدام اسلامی پرچم تلے غیر اسلامی مذہب کے اجراء و افتتاح کے مترادف ہے۔
دوسری قسم کے وہ خطے ہیں جو اسلامی افواج نے کفار کے ساتھ باقاعدہ جنگ کے بعد حاصل کیے ہوں، ایسے شہروں میں فاتح اور مفتوح قوموں میں سیاسی و مذہبی رقابت چونکہ منظم عمل داری کی متقاضی ہوتی ہے، اس لیے یہاں غیر مسلم رعایا کو ہر قسم کے مذہبی وسماجی حقوق دینا ان کے ساتھ نرم خوئی سے پیش آنا جہاں اسلامی حکم ہے تو وہاں اسلامی حکومت کی مضبوط انتظامی گرفت بھی شرعی و انتظامی مجبوری ہے، اس لیے یہاں غیر مسلم عبادت گاہوں کے حوالے سے درمیانی صورت اپنائی جائے گی، یعنی پرانی عبادت گاہوں کو ہر قسم کا تحفظ حاصل ہوگا، ان کی اصلاح و مرمت کی انہیں مکمل اجازت حاصل رہے گی، البتہ ایسے خطے میں نئی عبادت گاہ کی تعمیر شرعاً و انتظاماً ممنوع رہے گی، ہاں! اگر ایسے مقامات میں غیرمسلم آبادی کی اکثریت قائم ہوجائے تو اسلامی حکومت حالات کے مطابق نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت بھی دے سکتی ہے۔
تیسری قسم اسلامی ریاست کے ان خطوں کی ہے جو خطے پہلے سے غیرمسلم آبادی پر مشتمل تھے اور اسلامی افواج کے جنگی اقدامات کے بجائے باہمی مصالحت سے اسلامی ریاست کی عمل داری میں شامل ہوئے ہوں تو ایسے خطوں کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے صلح کی شرائط اور تفصیلات کو سامنے رکھا جائے گا: 
۱:۔۔۔۔ اگر صلح کی شرائط میں نئی عبادت گاہوں کے حوالے سے کوئی وضاحت موجود ہو تو اس کے مطابق عمل کیا جائے گا، کیوں کہ مسلمان حاکم اور رعایا اپنے معاہدوں اور شرائط کے شرعاً و اخلاقاً پابند ہیں، اس کی خلاف ورزی کو جرم تصور کیا جائے گا۔8
۲:۔۔۔۔ اگر صلح نامہ میں ایسے معاہدے اور شرائط مذکور نہ ہوں تو پھر معاملہ ان شرائط کے تناظر میں حل کیا جائے گا جو شرائط حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فتوحات کے زمانے سے طے شدہ اور معمول بہا چلی آرہی ہیں، یعنی پرانی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اصلاح ومرمت کی ضرورت ہو تو کھلے دل سے اجازت دی جائے، البتہ نئی عبادت گاہ کی تعمیر اور توسیع سے اجتناب کروایا جائے گا۔
۳:۔۔۔۔ اگر صلح اس بنیاد پر ہوئی ہوکہ مفتوحہ علاقے کی زمینیں حسبِ سابق غیر مسلم آبادی کے پاس رہیں گی اور وہ اسلامی حکومت کو طے شدہ مالیہ اور لگان ادا کریں گے، اس صورت میں زمین بھی ان کی اور آبادی بھی ان کی ہے، اس لیے انہیں ایسے علاقوں میں نئی عبادت گاہیں بنانے کا حق حاصل رہے گا۔
۴:۔۔۔۔ اگر صلح اس امر پر ہوئی کہ مفتوحہ علاقے کی زمینیں مسلمانوں کی ہوں گی اور غیرمسلم ان کے کارندے اور مزارع کے طور پر مفتوحہ زمینوں پر برقرار رہیں گے، تو ایسے علاقوں میں پرانی عبادت گاہوں کا تحفظ اسلامی حکومت کا فرض ہے اور حسبِ ضرورت ان کی اصلاح ومرمت غیر مسلم آبادی کا حق ہے، لیکن مسلمانوں کی ملکیت میں نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عبادت گاہ کی تعمیر بھی عبادت ہے

ان تفصیلات کے ضمن میں اس امر کی وضاحت بھی پیش نظر رہے کہ اسلامی ریاست کی غیر مسلم آبادی کو اپنے مذہبی معاملات میں جو جو مراعات حاصل ہیں، وہ اسلامی رواداری، جذبۂ خیر سگالی اور بنیادی انسانی حقوق کی بنیاد پر دی گئی ہیں۔ ان مراعات کو اسلام اور غیر اسلام کے خلط ملط تک پہنچانا یا مذہبی معاملات میں اشتراکِ عمل پر منتج کرنا شرعاً و اخلاقاً ممنوع رہے گا، چنانچہ مسلم ہو یا غیرمسلم وہ اپنی عبادت گا ہ کی کسی بھی قسم کی خدمت کو اپنی عبادت کا حصہ سمجھتا ہے اور اس پر خرچ‘ نظریۂ تعبّد کے تحت کرتا ہے، اس لیے غیرمسلموں کے لیے اُن کے مذہب میں ایسی کوئی پابندی ہو یا نہ ہو‘ مسلمانوں کے ہاں اس بات کی پابندی ہے کہ وہ غیر مسلموں کے تعبُّدی اُمور میں ہرگز شرکت نہ کریں، ورنہ کفر اختیار کرنے یا کفر پر رضامند ہونے کا مفسدہ لازم آئے گا، جس سے آپ کا ایمان و عقیدہ متاثر ہوگا، اسی وجہ سے فقہاء کرام ؒنے غیر مسلم عبادت گاہوں کے حوالے سے جہاں اسلام کے فراخ دلانہ احکام کو تمام جزئیات کے ساتھ بیان فرمایا ہے، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ غیر مسلم اپنی عبادت گاہوں کی ا صلاح و مرمت اور تعمیر وغیرہ خود کریں گے، ان کے اس عملِ عبادت میں کوئی مسلمان فرد یا حاکم شریک نہیں ہو گا، نیز سرکاری خزانہ سے بھی یہ ضرورت اور معاونت بجا نہیں لائی جاسکتی، ہاں! اگر اس کے علاوہ غیر مسلم رعایا کی کوئی بھی ضرورت ہو تو اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بیت المال کی مختص مدات سے بھر پور تعاون کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہے۔ اس سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلامی ریاست کے سرکاری خزانے سے غیر مسلموں کی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی ممانعت و حرمت کسی امتیازی سلوک اور تنگ نظری کی بنیاد پر نہیں، بلکہ نظریۂ عبادت میں حدِ امتیاز رکھنے کے لیے یہ ممانعت ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی مسلمان فرد یا حاکم سے یہ کہنا کہ آپ کے لیے بت پرستوں کے بت کی پرستش میں شریک ہونا جس طرح حرام ہے، اسی طرح ان کی عبادت گاہ کی تعمیر وترمیم میں مالی و عملی شرکت بھی حرام ہے۔9

قیامِ پاکستان کا اصل پس منظراور چند ضروری وضاحتیں

درج بالا حقائق و و اقعات کے ساتھ ساتھ ایک اور امر کی و ضاحت بھی مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ ہمارا وطنِ عزیز جس کا مطلب ’’لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ بتایا جاتا رہا ہے، جسے ’’ہم مملکتِ خداداد‘‘ کہتے ہیں، ہرسال اگست کو جس کا یومِ آزادی منایا جاتا ہے، یہ ملک کیسے حاصل ہوا؟ اس کے بارے میں دو متضاد نظرئیے پائے جاتے ہیں، ایک نظریہ مغر ب زدہ انگریزی کا سہ لیس لبرلز کا ہے، جو اس مملکتِ خداداد کو اپنے آقا ’’انگریز بہادر کی عطائے بے لگان‘‘ کہتے ہیں اور خود کو اپنے آقا کا ممنونِ احسان مانتے اور بتاتے ہیں، اسی بنیاد پر وطنِ عزیز کے نظمِ مملکت کو مغربی خطوط پر استوار رکھنے کے درپے رہتے ہیں اور پاک سرزمین کو مغرب کے ناپاک مفادات کی روایتی آماجگاہ ثابت کرنے کے لیے ہمہ وقت اور ہمہ تن کوشاں رہتے ہیں۔
حصولِ پاکستان سے متعلق دوسرا نظریہ مشرقی خدا پرست، مذہب پسندوں کا ہے، جن کے مطابق پورا ہندوستان بشمول حالیہ پاکستان اُن کا تھا۔ مغربی چالبازوں نے اُسے ناجائز طور پر قبضہ کیا تھا اور اس ناجائز قبضہ سے خلاصی کے لیے تقریباً دو صدیوں (۱۷۵۴ء تا ۱۹۴۷ء) پر مشتمل جدوجہدِ آزادی کا مذہبی و سیاسی فریضہ انجام دیا گیا، جس کے نتیجہ میں قابض انگریز ہماری دھرتی سے بھاگنے پر مجبور ہوا اور اس دھرتی سے اپنا ناپاک قبضہ ختم کرنا پڑا، پھر انگریز کے خلاف نبرد آزمائی چونکہ اس مذہب پسند خدا پرست قوم کی رہی تھی جن سے انگریز نے حکومت چھینی تھی، اس لیے انگریز نے جاتے جاتے مسلم قوم کو ایک آزمائش میں ڈال دیا کہ مسلم قوم حسبِ سابق دیگر ہندوستانیوں کے ساتھ مل جُل کر رہیں یا ہندوستان کو ایسا تقسیم کیا جائے کہ مسلمان الگ اور دیگر غیرمسلم الگ ہوجائیں، ہندوستان کی تقسیم کا یہ فارمولا سب سے زیادہ مسلمانوں کی حق تلفی پر مبنی تھا، کیونکہ: 
الف:۔۔۔۔ مسلمانوں کا مغصوبہ اقتدار کسی ایک خطہ پر نہیں، بلکہ پورے ہندوستان پر تھا، مگر اُنہیں ایک محدود حصہ پر قناعت کے لیے مجبور یا رضامند کیا جا رہا تھا، جو تحریکِ آزادی کے وابستگان کے لیے گھاٹے کا سودا بلکہ مکمل ہندوستان کی جدو جہدِ آزادی کی سزا تھی۔
ب:۔۔۔۔ مسلمان کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھے، بلکہ پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے، اس فارمولے کے تحت پورے مسلمانانِ ہند نہ تو یکجا ہوسکتے تھے، نہ ہی سارے ہندی مسلمانوں کو اس آزادی کا کوئی فائد ہ نصیب ہورہا تھا، بلکہ اُلٹا وہ انگریز کے بجائے دیگر غیر مسلم محکو م ہندؤوں کے محکوم بننے پر مجبور ہونے جا رہے تھے، جسے آپ چاہیں تو تحریکِ آزادی کی سزا کہیں یا آزادی کہیں!
ج:۔۔۔۔ تقسیم کے فارمولے میں مسلمانوں کے ساتھ دو امتیازی سلوک کیے گئے: ایک یہ کہ مسلم اکثریتی آ بادی والے خطے مسلمانوں کو پوری طرح نہیں مل سکے اور دوسرا یہ کہ جو خطے پہلے سے مسلمانوں کے زیرِ قبضہ تھے، مسلمانوں کو صرف وہی ملے، کوئی ایک انچ زمین ایسی نہیں ملی جسے مسلمان اپنی مفتوحہ زمین کہہ سکتے۔
ان زمینی حقائق کی بنیاد پر ہندی اسلامی قیادت کا وہ دور اندیش طبقہ جو تحریکِ آزادی سے عملاً وابستہ بھی تھا، ان کی رائے یہ تھی کہ مسلمانانِ ہند تقسیمِ ہند کے فارمولے کے بجائے پورے ہندوستان کی قبضہ خلاصی کو آزادی کہیں، اس سے کم پر کسی صورت میں رضامند نہ ہوں ۔
لیکن دوسری طرف اسلامی قیادت کا ایک حصہ اس رائے کا حامل بن گیا کہ ہم کل مخلوط ہند کے بجائے ایک مخصوص حصے پر اکتفا کرلیں اور اسے خالص اسلامی اَحکام و اَقدار کے لیے تجربہ گاہ و آماجگاہ بنالیں تو اس میں ہمار امذہبی و نظریاتی لحاظ سے زیادہ فائدہ ہے ۔
سیاسی لحاظ سے اسلامی قیادت کی پہلی رائے بڑی وزنی، وقیع اور حقیقت پسندانہ ہے، جبکہ نظریاتی لحاظ سے دوسری رائے خوب جاذب اور دلکش تھی، یہ دونوں آراء انتہائی اخلاص اور خیر خواہی پر مبنی تھیں، اس لیے آدھے مسلمان ایک رائے کے ساتھ اور آدھے دوسری رائے کے ساتھ ہوگئے، اور دوسری رائے کے نتیجے میں مملکتِ خداداد وجود میں آئی، مگر یاد رہے کہ یہ سچ کسی طور پر چھپایا اور دبایا نہیں جا سکتا کہ وطنِ عزیز کا یہ وجود محض حادثاتی اور اتفاقی نہیں تھا، بلکہ یہ دو صدیوں پر مشتمل جدوجہدِ آزادی کا ایک جزوی ثمر تھا، پھر اس ثمر کے حصول کے لیے لاکھوں مسلمان مرد، عورت، بوڑھے، بچے اور جوان آگ اور خون کی نذر ہوئے یا آگ اور خون کی ندیاں عبور کرکے آئے ہیں۔ یہ پاکستان تحریکِ آزادی کے عظیم مذہبی محرّک شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سے لے کر کنوؤں اور دریاؤں میں چھلانگ لگانے والی ہماری پاکباز ماؤں، بہنوں کے خون اور جانوں کا صلہ ہے۔ پاکستان کے عوام و خواص آج تک یہی سمجھتے اور مانتے چلے آرہے ہیں، جسے آج کا لبرل طبقہ محض انگریزی عطا قرار دیتا ہے اور اس کے حصول کو صلح وآشتی کا ثمر قرار دیتا ہے، اور ہماری تاریخ اور ماضی کو یکسر جھٹلائے آرہا ہے۔
بد قسمتی سے ایک طرف اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ بانیانِ پاکستان سیکولر تھے اور وہ پاکستان کی ریاستی تشکیل اسلام کے بجائے سیکو لرزم کی بنیادوں پر رکھنا چاہتے تھے، انہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے کبھی مذہب کارڈ استعمال ہی نہیں کیا، اب ہم ششدر ہیں کہ بانیانِ پاکستان کے بارے میں بدگمانی کریں یا ان لبرلز کو جھٹلائیں۔ تاریخ اور عوامی شہادتیں بانیانِ پاکستان کی مذہب پسندی کی گواہ ہیں اور پاکستان کا موجودہ نظام لبرلز کے بیان کی تصدیق کرتا ہے اور آئے دن اسلام مخالف اور نظریۂ پاکستان کے متصادم اقدامات سے ہماری اُلجھن اور تشویش روز افزوں ہوتی جارہی ہے ۔

نظریاتی پاکستان کے ساتھ ستم بالائے ستم

مگر پاکستان کے اسلامی نظریہ اور تشخص کے متلاشیوں کے ساتھ ستم بالائے ستم کی ایک اور رِیت و روایت سامنے آرہی ہے جو پہلی تشویش کے مقابلے میں زیادہ پریشان کن ہے، جس کا باعث بعض اہلِ علم کی وہ علمی تنقیحات ہیں جو اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے سامنے اور سننے میں آرہی ہے، ان اہلِ علم نے اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر کے حوالے سے ایک واضح فقہی بحث کو تنازع اور تشویش سے دوچار کردیا۔ ان حضرات کا فرمانا یہ ہے کہ فقہی لحاظ سے جو علاقے بغیر جنگ کے صلح کی بنیاد پر حاصل ہوئے ہوں، وہاں غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہ تعمیر ہوسکتی ہے اور پاکستان بھی جنگ کے بجائے چونکہ صلح کے ذریعے حاصل ہو ا ہے، اس لیے اسلام آباد یا پاکستان میں نئے مندر کی تعمیر میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
درج بالا فقہی حکم جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی حقائق و واقعات کی روشنی میں قطعی درست نہیں ہے!
۱:۔۔۔۔ ایک تو اس لیے کہ پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ محض کسی سیاسی سمجھوتے یا صلح کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، اس کے لیے آزادیِ ہند کی دو سو سالہ تاریخ کو مسخ قرار دینا پڑ ے گا جو کہ صفحۂ ہستی پر ثبت ہوچکی ہے، اس کا مٹانا آسان نہیں، بلکہ خیانتِ کبریٰ ہے ۔
۲:۔۔۔۔ اس ارشادکے مطابق مملکتِ خداداد ہمارے محسنین کی محنتوں کے صلے کے بجائے محض انگریزی عطا ٹھہرتی ہے، اس انگریزی عطا کا اعتراف ہمارے ہندوستان پر انگریزی قبضے کو نہ صرف یہ کہ تسلیم کرنا ہے، بلکہ اس کے درست اور جائز ہونے کی سند بھی بن رہا ہے اور برٹش سرکار کا آج تک یہی دعویٰ ہے۔
۳:۔۔۔۔وطنِ عزیز کو انگریزی عطا ماننے میں ان لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی نفی ہے جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لیے تقسیم سے قبل اور پھر تقسیم کی لکیر عبور کرنے کے لیے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کے نذرانے پیش کیے تھے اور اس راہ میں جن ماؤں، بہنوں،بچوں اور جوانوں نے جانیں دیں، اُن کے خون سے غداری بھی ہے۔
۴:۔۔۔۔ پاکستان بالخصوص دار الحکومت اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر کے جواز کے لیے صلح کے ذریعے حاصل ہونے والے شہر سے متعلق جس فقہی جزئیہ کا سہارا لیا گیا ہے، اس جزئیے کی فقہی تخریج اور خارجی تطبیق میں زبردست علمی تسامح پایا جاتاہے :
الف :۔۔۔۔ خارجی تطبیق میں تسامح تو ظاہر ہے کہ پاکستان صلح کی بنیاد پر نہیں، بلکہ طویل جنگی جدوجہد بھی اس میں شامل ہے ۔
ب :۔۔۔۔ اسلام آباد تو ایسا شہر ہے کہ اس کی قدیم آبادی مسلمانوں کی چلی آ رہی ہے، بلکہ اسلام آباد کی بلدیاتی حیثیت کا تعین قیام پاکستان کے تقریباً ایک ڈیڑھ عشرے کے بعدعمل میں آیا ہے جو خالصۃً مسلمانوں کا آباد کردہ شہر ہے، ایسے شہر کے بارے میں تمام فقہاء مذہب کا اتفاق ہے کہ وہاں غیر مسلم اقلیت کی کوئی عبادت گاہ تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات ہر مذہب کی ہر فقہی کتاب میں درج ہے، اسلام آباد کے بارے میں ازراہِ صلح حاصل ہونے یا نہ ہونے کی فقہی بحث تو سرے سے تعلق ہی نہیں رکھتی ۔
ج :۔۔۔۔ صلح والے جزئیہ میں صلح کی صورتیں بالکل واضح انداز میں درج ہیں، جن کی تحلیل و تلخیص اوپر ذکر کر آئے ہیں۔ پاکستان یا اسلام آباد سے متعلق فقہاء کرام کی بیان کردہ ان صورتوں میں سے کوئی صورت منطبق نہیں ہورہی، کیونکہ پاکستان پہلے سے مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ تھا، یہاں کے مالک ہندو نہیں تھے جن سے یہ زمینیں خالی کرائی ہوں یا ان زمینوں پر ان کا مالکانہ حق ازراہِ صلح برقرار رکھا ہو، بالخصوص اسلام آباد میں تو اولاً آبادی ہی نہیں تھی، قدیم آبادی کے جو شواہد ہیں وہ مسلمانوں کی آبادی کے شواہد ہیں، ایسے خطے کا فقہی حکم صلح والے جزئیے سے بیان کرنا اہلِ علم جانتے ہیں کہ بالکل بے جا ہے۔
د:۔۔۔۔ ا گر آپ تمام حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے پاکستان کے حصول کو کسی سمجھوتے اور خفیہ صلح کا نتیجہ قرار دینے پر مصر ہوں تو پھر یہاں دو اُمور کا واضح کرنا بھی ضروری ہوگا:
 ایک یہ کہ اس صلح کے فریق کون کون تھے؟ انگریزی قبضہ کو درست قرار دینے والے احباب کے مطابق اس صلح کے فریق انگریز ہوں گے، ہندو بے چارے تو پھر بھی فریق نہیں ہوں گے،انہیں اس صلح کا فائد ہ اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر کی صورت میں پھر بھی نہیں ہو سکتا، ہاں! اس کا فائدہ انگریزوں کو ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے بھی فاتح اور مفتوح یا حاکم اور محکوم کا تعین کرنا پڑے گا، اس کے لیے آپ کو پھر اسی تاریخ کا سہارا لینا پڑے گا جسے آپ دفن کرنے کے درپے ہیں۔
دوسرا یہ کہ صلحاً حاصل ہونے والے جزئیے کے حکم کے مطابق انگریز حاکم نے مسلمان محکوموں کو ان کی زمینوں پر صلح کی بنیاد پر برقرار رکھا ہے، لہٰذا اس انگریزی عطاء (پاکستان) میں اگر مسلمان نئی مسجدیں بنانا چاہیں تو انگریز حاکم معاہدۂ صلح کی وجہ سے اس انگریزی عطاء (پاکستان) میں نئے محکوم مسلمانوں کو نئی مسجد بنانے کی اجازت کا پابند ہے، انگریز سرکار ہماری نئی مسجدوں کی تعمیر میں رخنہ نہیں ڈال سکتی۔ جو اہلِ علم پاکستان کے حصول کو انگریز کے ساتھ صلح و مفاہمت کے ثمرات سمجھتے ہیں، وہ پاکستان میں مسجدوں کی تعمیر کے جواز کے لیے اگر صلح والے جزئیے کا سہارا لینا چاہیں تویہ تو بجا ہے، مگر یہ قطعاً درست نہیں کہ وہ مسلمان فاتح اور غیر مسلم مفتوح کے درمیان صلح والے جزئیے سے یہ استدلال کریں کہ اسلام آبادمیں مندر بنانا یا پاکستان میں نیا مندر بنانا اس لیے جائز ہے کہ پاکستان صلح کی بنیاد پر حاصل ہوا ہے۔ یہ فقہ اسلامی میں نادر ہی نہیں، ناروا ترمیم ہے۔
مگر ہمارے ایسے اہلِ علم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریخ اپنے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیتی، اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے، علی وردی خان، نواب سراج الدولہ، فتح محمد علی خان سلطان ٹیپو، شاہ عبدالعزیزؒ سے لے کر بالا کوٹ اور شاملی کے معرکوں تک اور وہاں سے استخلاصِ وطن اور ریشمی رومال کی تحریک تک انگریز کے باغی مسلمانوں کی ایک تاریخ ہے اور دوسری طرف لبادۂ مذہب میں لپٹے ہوئے کچھ کردار بھی تھے جو نہ صرف یہ کہ میدانِ عمل سے لاتعلق تھے، بلکہ اپنی دھرتی پر انگریز کے قبضہ کے استحکام کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوئے۔ کسی نے انگریزی اقتدار کو ظلِ الہی قرار دیا تو کسی نے فقہی استعلاء کا مصداق قرار دیا، جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر انگریز کا قبضہ و غصب بھی شرعاً تسلیم کیا گیا اور مسلمانوں کی مغصوبہ زمینوں کو انگریز کے وفاداروں کے درمیان بطور جاگیر تقسیم کرنا بھی تصرفِ شرعی قرار پایا اور احوالِ زمانہ کی نظراندازی کے فتوے جاگیرداری نظام کے رواج واستحکام کی بنیاد جا ٹھہرے۔ 
پس جو اہلِ علم تحریکِ آزادیِ ہند میں اپنے معدوم کردار کو تاریخ میں جگہ دینے کے لیے قیامِ پاکستان کو انگریزوں کے ساتھ محض صلح یا سمجھوتے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ان کا یہ نقطۂ نظر انگریز کے باغی مسلمانوں سے مل رہا ہے یا انگریز کے حامی مسلمانوں کے نامناسب کردار کا تسلسل ثابت ہورہا ہے اور انگریز کے تمام تر غاصبانہ اقدامات کو سند جواز عطا کر رہا ہے؟!

فإلی اللّٰہ المشتکٰی ودرّ من أدری

حوالہ جات

1:- Jinnah Speeches and State ments , march 22 ,1948 ,Page:153 , (Oxford Press 1997)
2:- آل عمران:۱۹
3:-حاشیۃ الطحطاوي علٰی مراقي الفلاح، خطبۃ الکتاب، ص: ۱۵، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۹۹۷ء-۱۴۱۸ھ۔ بلوغ الأماني في سیرۃ الإمام محمد بن الحسن الشیبانيؒ،کتب محمد بن الحسن ومصنفاتہ، ص:۶۲، ط:المکتبۃ الأزھریۃ للتراث، مصر، ۱۹۹۸-۱۴۱۸ھ
4:-جواہرالفقہ، جلد دوم، ص:۲۹۱، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی
5:-کنز العمال في سنن الأقوال والأفعال - (۴ /۳۶۲، ط: مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء
6:- بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، کتاب السیر، فصل في بیان ما یتعرض من الأسباب المحرمۃ للقتال، (۱۵/۳۳۸)
7:- الدرالمختار مع شرحہٖ رد المحتار، کتاب الجہاد، باب المستامن، مطلب في أحکام الکنائس والبیع، ج:۴، ص:۲۰۲-۲۰۴، ط: سعید- أحکام أہل الذمۃ : ۳ /۱۹۳،۱۹۴، ط: رمادی للنشر، الدمام
8:- مسألۃ في الکنائس لابن تیمیۃ، تکذیب دعوی وجود الکنائس بالقاہرۃ منذ عہد الخلفاء الراشدینؓ، ص:۱۰۲- ۱۰۴، ط: مکتبۃ العبیکان ۔ فتح القدیر لکمال بن الہمام (۶/ ۵۸)، طبع: دارالفکر بیروت۔ البحر الرائق، فصل في الجزیۃ، (۵/۱۲۲، ) دارالمعرفۃ، بیروت
9:- أحکام القرآن للجصاصؒ، المائدۃ: آیۃ:۲،۳ /۲۹۶، ط: دار إحیاء التراث العربي- تفسیر ابن کثیر، المائدۃ، رقم الآیۃ:۲، الناشر: دار طیبۃ للنشر والتوزیع،۱۴۲۰ھ -۱۹۹۹ م ۔ سنن ابن ماجۃ، بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً أَوْ سَیِّئَۃً:۱/۷۵، ط: دار إحیاء الکتب العربیۃ ۔ فتاوی شامي، فصل في الجزیۃ، مطلب في أحکام الکنائس والبیع: ۴/۲۰۵، ط:سعید)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے