بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

مملکتِ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا شکر کس طرح بجا لایا جائے؟!


مملکتِ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا شکر کس طرح بجا لایا جائے؟!

 


قدیم ترین آسمانی قانونِ الٰہی ہے کہ نعمت کے شکر ادا کرنے سے جہاں حقِ نعمت ادا ہوتا ہے، وہاں نعمت میں ترقی بھی ہوتی ہے، قرآن حکیم کا ارشاد ہے: ’’لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ۔‘‘ (ابراہیم:۷) اگر شکرِ نعمت ادا کرو گے تو اور زیادہ دیں گے۔ ملکِ خداداد پاکستان بلاشبہ عطیۂ الٰہی تھا، اس شکرِ نعمت کا طریقہ یہی تھا کہ صالح حکومت ہوتی، صالح قیادت کی سرپرستی میں قانونِ عدل کا پرچم لہراتا۔ شراب نوشی، فحاشی، بے غیرتی، ڈاکہ، چوری، قتل و قتال پر شرعی سزائیں نافذ ہوتیں۔ ہر طرح جان و مال و آبرو کی حفاظت ہوتی، خداترسی کی زندگی ہوتی۔ مسجدیں آباد ہوتیں، ایک بہترین معاشرہ وجود میں آتا، حق تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتیں۔آسمان کے فرشتے دعائیں کرتے، زمینی مخلوق تعریفیں کرتی، ہر شخص اپنی جگہ مطمئن وقانع ہوتا۔ پو لیس رعایا کی جان ومال کی حفاظت میں کوتا ہی نہ کرتی، فوج مملکت کے حدود کی حفاظت کو اپنا فخر سمجھتی۔ سرکاری اداروں میں خدمت انجام دینے والے اصحاب پور اپورا فرضِ منصبی ادا کرتے۔ نہ حرام خوری ہوتی، نہ رشوت ستانی ہوتی، نہ خیانت ہوتی۔ الغرض ایک پاکیزہ اور صالح ترین معاشرہ جنم لیتا اور یہ دنیا بھی باشندوں کے لیے جنت بنتی۔

بہشت آنجا کہ آزارے نباشد

کسے را با کسے کارے نباشد

خدا بھی راضی، مخلوقِ خدا بھی راضی، روح بھی خوش، پیٹ بھی پر سکون۔
 یہ ایک سر سری جائزہ ہے کہ نقشہ پاکستان کا کیسے ہونا چاہیے تھا! پھر بھی اگر یہ محسوس ہوتا کہ اتنی بڑی نعمت کا حقِ شکر ادا نہیں ہوا تو تقصیر کا احساس ہو تا اورا س تقصیر کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے، بقول شیخ سعدیؒ:

بندہ ہماں بہ کہ زتقصیر خویش

عذر بدرگاہِ خدا آورد 
ورنہ سزا وار خداوندیش

کس نتواند کہ بجا آورد 

لیکن جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہورہا ہے، اس کا نقشہ سامنے ہے، عیاں راچہ بیاں؟!

خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید

 پاکستان کی حفاظت کے لیے لطیفۂ غیبیہ اور قوم کی ناشکری

۶۵ء ستمبر میں ایک بڑے اور حیرت انگیز لطیفۂ غیبیہ کا ظہور ہوا کہ پاکستان کی ظاہری ترقی و قوت کو اعداء اسلام دیکھ نہ سکے اور آنکھیں خیرہ ہونے لگیں۔ بین الا قوامی قانونِ جنگ سے بے نیاز ہوکر ہندوستان کی ہندو حکومت نے پاکستان پر بلا اعلانِ جنگ حملہ کردیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے کیسی حفاظت فرمائی اور دشمنِ اسلام اپنے ناپاک ارادے میں کیسے ناکام ہوا اور حق تعالیٰ نے کیسے غیبی حصار کے ذریعہ ملک کو بچا یا؟! دنیا پر پاکستان کا رعب بیٹھ گیا، ایک ہی رات میں قوم باخد ا بن گئی، ولیِ کامل بن گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نجات عطا فرمائی، غیب کے فرشتوں نے حفاظت کی۔ اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کی ضرورت تھی، ایک غیبی تنبیہ تھی کہ سنبھل جائیں۔ لیکن ہوا کیا کہ سرکاری احکامات جاری ہو گئے کہ اس فتحِ عظیم کو جہاد نہ کہا جائے۔ بجائے صدقات و نماز سے شکرانہ اَدا کرنے کے رَقص وسرود کی محفلیں قائم کی گئیں، ورائٹی شو کے روح فرسا مناظر دکھائے گئے، اس طرح شکریہ ادا کیا گیا، إنا للّٰہ۔ بجائے طاعت وعبادت کے معصیت، فسق وفجور اور بے حیائی کا مظاہرہ کیا گیا۔ آخرعزیز منتقم نے سزادی اور روس وامر یکہ جیسی شدید العداوۃ طاقتوں کو پاکستان کے خلاف متحد ومتفق کر کے ہندو ستان سے حملہ کرواکر آد ھے سے زیادہ ملک کو ہم سے کاٹ دیا اور دنیا کے نقشے پر جو سب سے بڑی اسلامی مملکت تھی، وہ چھوٹی حکومت میں تبدیل ہو گئی۔ کاش! اس تنبیہ سے عبرت حاصل کرتے، لیکن ہوا کیا؟ وہ جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ اس پانچ سالہ حکومت میں کیا ہوا اور اس سے پہلے پچیس سالہ دورِ حکومت میں کیا ہوا ؟ سب آپ کے سامنے ہے۔
 اب کچھ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید حق تعالیٰ اس قوم سے ناراض ہے اور اس کے غضب کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں اور شد ید خطرہ ہو گیا کہ اس کا حشر بھی ان بر باد شدہ ملکوں جیسا نہ ہو جائے، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔ انتخابات کی ہنگامہ آرائی شروع ہوئی، خداخدا کر کے وہ ہنگامہ ختم ہوا، لیکن اس ہنگامہ آرائی نے ایک ایسی خطر ناک ہنگامہ آرائی کا بیج ڈال دیا کہ نہ معلوم اس کی عاقبت کیا ہوگی؟ اس ابتداء کی خبر کیا ہو گی؟ اعداء اسلام پاکستان پر نظر جمائے ہوئے ہیں، وہ یہاں کٹھ پتلی حکومت کے خواہشمند ہیں، اگر با لفر ض کوئی صالح دینی قیادت اُبھر تی نظر آتی ہے تو اُنہیں اس کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ ۔۔۔۔ ’’تمام کفر ایک ملت ہے‘‘ کے مصداق آپس کے اختلافات کو ختم کرکے اس کے خلاف سب اعداء اسلام متفق ہوجاتے ہیں اور جوبھی غیر دینی قیادت ہو اس کو لبیک کہتے ہیں۔

 دردناک صورت حال اور اس کا علاج

بہرحال موجودہ صورت حال ایک طرف انتہائی دردناک ہے اور شد ید خطرہ ہے کہ ملک میں بد امنی اور بے اطمینانی کا دورہ شروع ہو کر خون ریزی شروع نہ ہو جائے اور وہ دردناک دور شروع نہ ہوجائے جس کے تصور سے بھی رو نگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف اصلاح اتنہائی مایوس کن ہے، اس لیے کہ گزشتہ تیس سالہ تجر بات نے اصلاح کی صورت سے مایوس بنادیا ہے، موجود ہ صورت کا علاج ہماری نگاہ میں حسبِ ذیل ہے:
الف:… تمام اُمتِ اسلامیہ پاکستان کے باشندے یومِ توبہ وانا بت منائیں، انفرادی واجتماعی طور پر یومِ توبہ مقرر کرکے ’’صلوۃ الحاجۃ‘‘ پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں مانگیں کہ: ’’اے اللہ! ہم گناہ گار اور بدکار ہیں اور ہم اپنے گناہوں اور تقصیرات سے توبہ کرتے ہیں، ہمیں معاف فرما اور اس غضب آلود زندگی سے نجات عطا فرماکر رحمت انگیز حیاتِ طیبہ نصیب فرما اور اس ملک وقوم پر رحم فرما کر صالح قیادت ہمیں نصیب فرما اور جو بزرگوں کو ہم نے گالیاں دی ہیں اور اُن کی تو ہین کی ہے اور تیرے اولیاء وصالحین واتقیا ء اُمت کی تو ہین وتحقیر کی ہے، ہمیں معاف فرما اور آج بھی جن کی پاکیزہ روحوں کو ایذاء دیتے ہیں اے اللہ! ہمیں معاف فرما اور اے اللہ! پورے تیس سال پاکستان کے بیت گئے ،اس دوران ہم نے جو بد اعمالیاں کی ہیں اور تیرے غضب کو دعوت دینے والی جو زندگی اختیار کی ہے، ہمیں معاف فرما اور اصلاح وتقویٰ کی زندگی عطا فرما اور ہمیں اپنی رحمتِ کا ملہ کا مستحق بنا۔ الغرض ایک بات تو یہ ہے کہ اس طرح انفرادی واجتماعی توبہ کرکے سابقہ زندگی پر ندامت کے ساتھ آئندہ صالح زندگی کا عزم کیا جائے۔
ب: … اُمتِ اسلامیہ پاکستان کے خواص وعوام دعوت واصلاح کی طرف توجہ کریں اور اُمت کی اصلاح کی علمی وعملی تدابیر اختیار کریں اور آج کل تبلیغی جماعت کے طرز پر عموم کے ساتھ اس کی اصلاح کی تدبیروں میں لگ جائیں اور دینی فضا پید اکر نے کی محنت کریں اور ہر شخص اپنی صلاحیت و فرصت کے مطابق ہمت و توجہ کرے۔
اور محسوس بھی ہوا کہ جب تک اس معاشرے کی اصلاح نہ ہو انتخابات کا صحیح نتیجہ ہوگا، نہ پارلیمانی نظام سے فائدہ ہوگا، نہ اکثریت واقلیت کی بحثوں سے نتیجہ بر آمد ہوگا، نہ پارٹیوں کی حکومت سے فائدہ پہنچے گا۔ اگر قوم کی اصلاح ہوجائے تو پھر ان میں جو نمائندہ حکومت قائم ہوگی وہی درحقیقت قوم کے امراض کا صحیح علاج کرے گی، پھر جو کام انتہائی جد وجہد سے نہ ہو سکے گا، وہ اشاروں میں ہوگا۔ بلاشبہ اس کا م کے لیے کچھ عرصہ در کار ہوگا اور وقت لگے گا، لیکن یہ مطلب بھی نہیں کہ بقیہ سیاسی تدابیر یک قلم ترک کردیں اور غیر صالح قیادت کو آزاد اور بلامحاسبہ چھوڑ دیں۔ اگر ایسا ہو گا تو حکومت کی پوری طاقت ومشینری سے الحاد و دہریت کی قوتیں اتنی اُبھر آئیں گی کہ اس سیلاب کو بند لگانا آسان نہ ہوگا، بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ اصلاح کے دونوں طریقوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ جس طرح ظاہری سیاسی تدابیر بروئے کار لائی جاتی ہیں، اس سے زیادہ معاشرے کی اصلاح ازروئے دعوت وتبلیغ کی بھی ضرورت ہوگی اور جو صالح افراد پا رلیمنٹ میں پہنچیں، ان کا فریضہ صرف پار لیمانی تقاضوں کو پورا کرنا نہ ہوگا، بلکہ اس کے ساتھ دوسرے فریضے کی طرف بھی پوری تو جہ دینی ہوگی۔ بہرحال اصلاح کی تکمیل تک اس عبوری دور میں دونوں طریقہ ہائے علاج سے کام لینا ہوگا۔
اس وقت جو سب سے بڑی فروگزاشت ہوئی، وہ یہ کہ صرف سیاسی تدبیروں کو واحد علاج سمجھاگیا یا عملاً ایسا ہی ہوا۔ اگر ابتداء ً طریقۂ کار یہ ہوتا کہ ظا ہر ی وباطنی دونوں طریقے بروئے کار لائے جاتے تو یہ روزِ بد ہمیں نہ دیکھنا پڑتا اور آج ہم قابلِ رشک مقام پر پہنچتے۔ اسی طرح اربابِ دنیا اور اصحابِ کارخانہ جات اور مالکانِ انڈسٹریز اگر صرف اپنی دنیا پر قانع نہ ہوتے اور اسی نعمت کو پاکستان کی قیمت نہ سمجھتے، بلکہ اپنی اور دوسروں کی اصلاح ودعوت کی طرف توجہ کرتے تو آج جو خطرات اُن کو پیش آئے اور آرہے ہیں اور وہ نعمت بھی چھینی گئی یا چھننے والی ہے، یہ برا انجام اُن کو نہ دیکھنا پڑ تا۔ تاہم توبہ ورجوع کا اب بھی وقت باقی ہے، بلکہ شاید اب امتحان کا وقت آگیا ہے کہ کیا یہ قوم اپنی مومنانہ شان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے؟ یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم عذاب کے بادل چھا جانے کے بعد اخلاص سے تو بہ کر نے سے نجات پاسکتی ہے تو مایوسی کا مقام نہیں۔ بلاشبہ بڑی غفلت ہوئی اور ہورہی ہے، لیکن اب بھی من حیث القوم توبہ وانابت سے رحمتِ الٰہی کے دروازے کھل سکتے ہیں، چند افراد کی آہ وبکا سے نجات کی توقع سراب سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ کیا حدیثِ نبوی میں یہ تصریحات موجود نہیں کہ بدی کی طاقتیں جب زیادہ ہوجائیں تو صالحین کے ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوسکتا ہے اور قوم تباہ ہوسکتی ہے۔(۱)
اور خود قرآن کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ شَدِ یْدُ الْعِقَابِ۔‘‘ (الانفال:۲۵)
’’ اور تم ایسے وبال سے ڈرو کہ جو خاص ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزادینے والے ہیں۔‘‘
حق تعالیٰ پاکستان اور پاکستان والوں کی حفاظت فرمائے اور اُمت کو صالح قیادت نصیب فرمائے اور اُمت کو صالح بننے کی تو فیق مر حمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین!

 وصلی اللّٰہ علٰی خیر البریۃ سیدنا محمد رحمۃ للعالمین وعلٰی أصحابہ وأمتہ المرحومین

حاشیہ:(۱)    ’’عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْھَا فَزِعًا یَقُوْلُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ مِثْلَ ھٰذِہٖ وَحَلَقَ بِإصْبَعَیْہِ الْإِبْھَامِ وَالَّتِيْ یَلِیْھَا، فَقَالَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ نَھْلِکُ وَ فِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ: نَعَمْ! إِذَا کَثُرَ الْخَبُثُ۔‘‘ (صحیح البخاری، ج:۱، ص:۴۷۲، ط: قدیمی)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے