بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

اُمتِ مسلمہ کی خصوصیت  اعتدال اور میانہ روی 

اُمتِ مسلمہ کی خصوصیت 

اعتدال اور میانہ روی 

 

قرآن کریم میں ہے:
’’وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا‘‘  (سورۃ البقرہ: ۱۴۳)
ترجمہ: ’’اور ( مسلمانو !) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے، تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو ، اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
یہ سورۂ بقرہ کی آیت ہے جس میں اللہ ربّ العزت اُمتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کے حوالے سے ایک خاص بات بیان فرماتے ہیں۔قرآن کریم کے مذکورہ مضمون کے سیاق وسباق میں امتِ مسلمہ کے حوالے سے باتیں ذکر ہوئی ہیں: ۱- امت کے افراد یعنی امت مسلمہ۔ ۲- امت کا مرکز یعنی بیت اللہ۔ ۳- امت کے نبی یعنی نبی کریم محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔

اُمتِ مسلمہ کی خصوصیت

اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں کہ: ’’وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا‘‘ اور ’’( مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے۔‘‘
اللہ ربّ العزت اس آیتِ کریمہ میں اُمتِ محمدیہ کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے ایک خاص اصطلاح ذکر فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہیں ’’امتِ وسط‘‘ بنایا ہے۔ عربی میں ’’وسط‘‘ درمیانہ پن، اعتدال، میانہ روی اور بیچ کے راستے کو کہتے ہیں۔
اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ جو چیز درمیان میں ہوتی ہے، وہ زیادہ اچھی لگتی ہے اور زیادہ آویزاں ہوتی ہے۔ اور اسی طرح کسی مجلس میں اسٹیج جب بنتا ہے تو بالکل بیچ میں بنتا ہے اور صدرِ مجلس کی کرسی بالکل اسٹیج کے بیچ میں لگائی جاتی ہے، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ اس مجلس میں سب سے معزز ہیں، تو اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں کہ تمہاری بھی خصوصیت ایسی ہی ہے کہ تم افراط وتفریط کا شکار نہیں ہو، نہ تم حد سے آگے بڑھنے والے ہو اور نہ حد سے گزرنے والے ہو، اس لیے کہ ہم نے تمہیں ایک معتدل اور درمیانی امت بنایا جو اعتدال پر اور انصاف پر قائم رہنے والی ہے، تاکہ روزِ محشر تم لوگوں پر گواہ بن سکو اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  تم پر گواہ بن سکیں، لہٰذا تمہاری سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ تم امتِ معتدل اور امتِ وسط ہو اور درمیانے پن کے ساتھ رہنا جانتے ہو اور تمہیں اعتدال اور انصاف کرنا آتا ہے۔ 

روزِ محشر اُمتِ مسلمہ کی خصوصیت

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا میں آنے سے پہلے ماضی میں بہت سی اُمتیں رہی ہیں، لیکن اللہ ربّ العزت نے کسی اُمت اور کسی قوم کو یہ اعزاز نہیں بخشا جو اُمتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کو بخشا ہے۔ اس بات کا اندازاہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ روزِ محشر جب تمام لوگ جمع ہوں گے تو کل ایک سو بیس صفیں قائم ہوں گی، جن میں سے ۸۰ صفیں اُمتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کی ہوں گی اور بقیہ چالیس صفیں دیگر اُمتوں کی ہوں گی۔

پچھلی امتوں میں افراط وتفریط اور اُمتِ محمدیہ کی فضیلت

پچھلی جتنی اُمتیں گزری ہیں ان میں یہی خرابی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ بات کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے یا بہت ہی زیادہ معمولی بنا دیتے تو اُمتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کی یہی خصوصیت بتائی کہ یہ باتوں کے اعتدال کو جانتی ہے اور دین و شریعت کے مزاج کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا اس اُمت کو آتا ہے، اسی وجہ سے اس امت کو آخری اور سب سے زیادہ فضیلت والی اُمت قرار دیا جارہا ہے۔
فضیلت و انعام کا یہ سلسلہ اللہ ربّ العزت نے بنی اسرائیل کو بھی عطا فرمایا، لیکن انہوں نے افراط و تفریط سے کام لیا اور بالآخر بہت سی خرافات میں مبتلا ہوگئے، یہاں تک کہ سیدنا عزیر  علیہ السلام  کو خدا کا بیٹا قرار دے کر توحید تک کا انکار کردیا اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کو نعوذباللہ! اللہ کا بیٹا مان لیا تو ایک طرف یہ غلطی کر رہے ہیں کہ نبیوں کو خدا کا مقام دے رہے ہیں اور دوسری طرف معجزات کا انکار کر رہے ہیں، گویا ان میں درمیانہ پن نہیں رہا کہ ایک طرف اتنا اونچا مقام دے رہے ہیں کہ بات کو آسمان تک پہنچاتے ہیں اور دوسری طرف نبی ان کے سامنے معجزات دکھاتے ہیں تو وہ انکار کر لیتے ہیں۔
 یہی بات اگر صحابہؓ میں دیکھی جائے تو ان کا مزاج اعتدال سے بھرپور نظر آتا ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک اشارے پر ہر صحابیؓ اپنی جان و مال قربان کرنے کو تیار ہے، لیکن کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو نعوذباللہ! خدا کا درجہ دوں گا، بلکہ کہتا یہی ہے کہ: ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کو اعتدال کی تربیت دینا

’’عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ يَقُولُ: جَاءَ ثَلَاثَۃُ رَہْطٍ إِلٰی بُيُوتِ اَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أخْبِرُوْا کَاَنَّہُمْ تَقَالُّوْہَا فَقَالُوْا وَأيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأخَّرَ، قَالَ أحَدُہُمْ: أمَّا أنَا فَإِنِّيْ اُصَلِّيْ اللَّيْلَ أبَدًا وَقَالَ آخَرُ: أنَا أصُوْمُ الدَّہْرَ وَلَا أفْطِرُ وَقَالَ آخَرُ أنَا أعْتَزِلُ النِّسَاءَ، فَلَا أتَزَوَّجُ أبَدًا فَجَاءَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ إِلَيْہِمْ فَقَالَ: أنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا أمَا وَاللہِ إِنِّيْ لَأخْشَاکُمْ لِلہِ وَأتْقَاکُمْ لَہٗ لَکِنِّيْ أصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَأصَلِّيْ وَأرْقُدُ وَأتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ۔‘‘(مشکوٰۃ،ص:۱۴۵)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں: تین اشخاص نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عبادت کے متعلق پوچھنے کے لیے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواجِ مطہراتؓ کے پاس آئے، جب انہیں اس کے متعلق بتایا گیا، تو گویا انہوں نے اسے کم محسوس کیا، چنانچہ انہوں نے کہا: ہماری نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کیا نسبت؟ اللہ نے تو ان کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف فرما دی ہیں، ان میں سے ایک نے کہا: میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا : میں دن کے وقت ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا اور تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے اجتناب کروں گا اور میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے پاس آئے اور پوچھا: تم وہ لوگ ہو جنہوں نے اس طرح، اس طرح کہا ہے، اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، رات کو نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جو شخص میری سنت سے اِعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘
بہت ہی خوب صورت اور تسلی بخش انداز میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہؓ کے توسط سے اُمت کو اعتدال کا پیغام دیا اور اپنی مثال دے کر بیان فرمایا، تاکہ اس پر عمل کرنا، مشاہدہ کرنا، سیکھنا آسان ہوجائے اور ایک حتمی نکتہ یوں بیان فرمایا کہ: یہی میرا طریقہ ہے، یہی شریعت ہے اور اسی معتدل انداز میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، باقی جو یہود و نصاریٰ کی طرح افراط وتفریط کا شکار ہوگا، اس کا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اس امت کی پہچان ہی اعتدال ہے۔

شریعت کا منہج و مزاج

شریعت یہ نہیں بتاتی کہ زندگی میں بیک وقت دین رہے گا یا دنیا رہے گی، یہ نہیں کہ اگر میں عبادت میں مگن رہا تو کسی سے تعلق نہیں رکھوں گا، نہ یہ کہ میں مکمل بازار سے چمٹ جاؤں یا پھر مسجد سے، بلکہ شریعت بتاتی ہے کہ تم نے دین و دنیا کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہے۔ تم نے تجارت بھی کرنی ہے اور عبادت کے فرائض بھی انجام دینے ہیں، تم نے اللہ کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں اور اللہ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ تم اللہ کے حقوق ادا کرنے میں بندوں کے حقوق سے غافل ہوجاؤ، اور نہ ایسا کہ بندوں کی خدمت میں ایسے لگے رہو کہ خدا کی بندگی ہی بھول جاؤ۔
البتہ شریعت فرق سمجھا دیتی ہے کہ تم مال کے لیے محنت ضرور کرو، لیکن اسے اپنی ضرورت سمجھو، اپنا مقصد مت سمجھو، ورنہ تم ’’حبِ مال‘‘ کی بیماری کا شکار ہوجاؤگے۔ اسی طرح دنیاداری کرو، لیکن دنیا کے لیے اتنی ہی کوشش کرو جتنا تمہیں یہاں رہنا ہے، اور آخرت کے لیے اتنی کوشش کرو جتنا تمہیں وہاں رہنا ہے۔ اگر تم دنیا کی مختصر سی زندگی کے لیے آخرت والی محنت کرنا شروع کروگے تو تم ’’حبِ دنیا‘‘ کی بیماری میں مبتلا ہوجاؤ گے، جسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تمام خرابیوں کی جڑ والی بیماری قرار دیتے ہیں۔

عقائد میں اعتدال کی تعلیم

ایک مسلمان کچھ اہم باتوں پر ایمان لے آتا ہے، لیکن اسے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ عقائد میں تمام عقائد ایک برابر نہیں، بلکہ ان میں ایک ترتیب قائم ہے، مثلاً توحید کو عقائد میں سب سے پہلا درجہ حاصل ہے اور رسالت کو دوسرا۔اب اگر کوئی عقیدۂ رسالت پر اتنا زور دے کہ اسے توحید سے بھی زیادہ اہم ثابت کرے تو یہ اعتدال کی پٹڑی سے ہٹ جانے والی بات ہے۔
اسی طرح عقائد میں اعتدال نہ ہونے کی ایک بڑی شکل یہ ہے کہ عقیدۂ توحید کو اس درجہ شدت سے بیان کیا جائے کہ امت کے ہر دوسرے فرد کو مشرک سمجھنے لگے۔ توحید پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہرگز درست نہیں کہ اولیاء اللہ کی گستاخی کی جائے، ان کی کرامات کا انکار کیا جائے اور توحید کو سمجھانے کے بہانے اہل اللہ پر معاذاللہ! مزاحیہ جملے کسے جائیں۔ یہ توحید کے بیان کرنے کا طریقہ ہے، نہ ہی دعوتی حکمت عملی کے موافق ہے۔
بے شک توحید دین کا مرکزی ستون ہے اور شرک سب سے گناہِ عظیم، بلکہ ظلمِ عظیم ہے، لیکن اس کی آڑ میں اسی توحید کے داعی صوفیاء اور اولیاء کی کردار کشی کرتے ہوئے سستے بازاری جملوں کا استعمال ان بزرگوں کے بالکل بھی شایانِ شان نہیں۔ یہ سب کے سب توحید کے حوالے سے اعتدال سے ہٹ جانے والے رویے ہیں۔ 
اسی طرح انبیاء کرام  علیہم السلام  اور بزرگانِ دین کے ساتھ عقیدت و محبت کا تعلق پیدا ہوجانا ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کے بغیر دین کے بہت سے پہلو ادھورے رہ جاتے ہیں، لیکن اپنے سوا ہر ایک کو گستاخ قرار دینا اور محبت و عقیدت کو اپنا ٹھیکہ سمجھ لینا غلط بات ہے۔ اسی طرح عقیدت کی آڑ میں اولیاء کو صحابہؓ سے بلند مرتبہ دینا یا انبیاء علیہم السلام  کو خدا کا مرتبہ دینا اور پھر عقیدت کی اوڑھنی اوڑھ کر شرک و بدعت کے دھندوں میں لگ جانا، اسلاف کے مدفن بیچ کھانا اور یہ سب عاشقِ رسول کا لیبل لگاکر کرنا، جس پر اضافہ یہ کہ اس عقیدت کے سہارے خود کو توحید، نماز، روزہ اور حج جیسی عبادات سے بری سمجھنا، یہ سوچ کر کہ یہی عقیدت میری نجات کے لیے کافی ہے، یہ جہالت کی انتہا ہے، جو کہ اُمتِ مسلمہ کی اعتدال والی خصوصیت کے یکسر خلاف ہے۔
اس میں اعتدال کا طریقہ یہ ہے کہ توحید پر ایمان رکھے، لیکن بزرگانِ دین کے مقام کو بھی سمجھے، رسالت پر ایمان رکھے، لیکن عقیدت و محبت کا درست استعمال بھی سیکھے۔

تحریکات میں اعتدال کی ضرورت 

اعتدال کا جنازہ نکالنے میں مختلف دینی تحریکات کے ناسمجھ کارکن بھی پیش پیش رہتے ہیں اور ہر ایک کی یہ چاہت ہوتی ہے کہ دین کا کام اسی طرز پر کرنے کی ضرورت ہے جس طرز پر ہماری تحریک کارفرما ہے، حالانکہ یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دین کے مختلف شعبہ جات ہیں اور تمام شعبہ جات کو ایک ساتھ کرنے کی خصوصیت صرف رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو حاصل تھی جو تلاوتِ کتاب، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیۂ نفس کی صورت میں قرآن آپ کے اوصاف و مناصب کے ضمن میں بیان کرتا ہے۔ 
باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا سے جاتے ہی اُمت کے پہلے طبقے یعنی صحابہؓ کی جماعت میں ہی یہ سارے کام خوب صورت انداز میں تقسیم ہوچکے تھے۔ ٹھیک یہی ترتیب امت کے موجودہ طبقے میں پائی جاتی ہے جو کہ سیاست، تعلیم و تعلُّم، سلوک و تصوف، دعوت و تبلیغ، تحقیق، تصنیف و تالیف، جہاد و اعلائے کلمۃ اللہ وغیرہ کی صورت میں اُمت کررہی ہے، ان میں سے کسی ایک کام کو ناگزیر سمجھنا اور باقی سب کو بےکار یا کم اہمیت کا حامل سمجھنا یا پھر ہر ایک سے اپنی تحریک کے نظم کا تقاضا کرنا یہ سب کے سب بے اعتدالی کے رویے ہیں اور ان سب کو اعتدال پر لانے کی یہی ایک صورت ہے کہ اُمت کے کسی ایک شعبے پر لگ کر محنت کی جائے اور بقیہ شعبوں کو اپنا حریف اور مخالف سمجھنے کی بجائے ان کا رفیق بنا جائے۔ ضروری نہیں کہ رفیق بن کر اپنے آپ کو گھماتا پھرے، کبھی ایک کے ساتھ تو کبھی کسی اور کے ساتھ ، البتہ کسی ایک شعبے میں یکسوئی کے ساتھ جڑجائے اور بقیہ شعبہ جات کی مخالفت نہ کرے۔ 

دین و دنیا میں اعتدال کی تعلیم 

حدیث مبارکہ ہے:
’’وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍوؓ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَاسْتَاْذَنَہٗ فِي الْجِہَادِ فَقَالَ: أحَيٌّ وَالِدَاکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيْہِمَا فَجَاہِدْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ. وَفِيْ رِوَايَۃٍ: فَارْجِعْ إِلٰی وَالِدَيْکَ، فَأحْسِنْ صُحْبَتَہُمَا۔‘‘  (مشکوٰۃ:۳۸۱۷)
’’حضرت عبداللہ بن عمرو  رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ان دونوں (کی خدمت) میں مجاہدہ (انتہائی کوشش) کر۔ ایک دوسری روایت میں ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’اپنے والدین کے پاس چلاجا اور اُن سے اچھی طرح سلوک کر۔‘‘
معلوم ہوا کہ جہاد تو بہت ہی عظیم عمل ہے، لیکن اس صحابیؓ کے لیے اس وقت اس کے والدین کی خدمت کرنا زیادہ عظیم عمل تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کو والدین کے ہاں جاکر اُن کی خدمت میں لگے رہنے کا حکم دیا اور آپ k نے اپنے اس فیصلے سے گویا شریعت کا یہ مزاج سمجھایا کہ تمہارے لیے اس موقع پر دین پر عمل کرنے کی بہتر صورت کون سی ہے۔

خالق اور مخلوق کے حقوق کی ادائیگی میں اعتدال

علماء یہ مسئلہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ایک ایسا شخص ہے کہ جس کا گھر مسجد حرام کے بالکل قریب ہے، اتنا کہ وہ گھر سے نکلے اور مسجد حرام میں پہنچ جائے، لیکن اس کے گھر میں اس کی والدہ بیمار ہیں اور انہیں تیمارداری کی ضرورت ہے اور وہ مریضہ ایسی صورت حال کا شکار ہے کہ اگر کوئی اسے چھوڑ کر چلا جائے تو اس کی حالت مزید بگڑسکتی ہے، ضرورت ہے کہ اس کے پاس کوئی نہ کوئی رہے اور جب اسی دوران عشاء کی نماز کا وقت ہوتا ہے تو اس کا اکلوتا بیٹا یہ کہے کہ میں جاؤں اور مسجد حرام میں نماز پڑھوں، تاکہ مجھے ایک لاکھ نمازیں پڑھنے کا ثواب ملے تو شریعت اس کے متعلق رہنمائی کرتی ہے کہ تم ایک لاکھ نمازیں پڑھنے کا ثواب حاصل مت کرو، بلکہ فی الحال تم گھر میں ہی نماز پڑھو اور اپنی ماں کا خیال رکھو،اس موقع پر تمہارے لیے یہ زیادہ بہتر ہے۔
شریعت کی تعلیمات ایسی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کے درمیان درمیانی راہ دکھلاتی ہیں کہ دنیا کے ایسے بھی نہ بنو کہ دین کو بالکل اپنی زندگی سے ہی نکال دو اور ایسے بھی نہ بنو کہ دنیا ہی کو اپنے دل میں بسا بیٹھو، کیونکہ تمہاری سب سے بڑی خصوصیت ہی یہ ہے کہ تم امتِ معتدل اور امتِ وسط ہو اور درمیانے پن کے ساتھ رہنا جانتے ہو اور تمہیں اعتدال اور انصاف کرنا آتا ہے۔

انصاف اور اعتدال

ایک موقع پر کسی قبیلے کے جنگ و جدل کا معاملہ پیش آیا، آپ k نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:
’’انْصُرْ أخَاکَ ظَالِـمًا أوْ مَظْلُومًا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللہِ! نَصَرْتُہٗ مَظْلُومًا، فَکَيْفَ اَنْصُرُہٗ ظَالِـمًا ؟ قَالَ: تَکُفُّہٗ عَنِ الظُّلْمِ ، فَذَاکَ نَصْرُکَ إِيَّاہُ۔‘‘   (جامع ترمذی:۲۲۵۵)
’’اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم‘‘ صحابہؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی، لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں کہ: اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔ اب صحابہؓ تو سوال کرنے والے تھے، انہوں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ آتا ہے کہ اسے ظلم سے بچانا، لیکن ظالم کی مدد کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ k نے فرمایا کہ: ظالم کی مدد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکنا، یہی اس کی مدد ہے، تاکہ اسے مزید ظلم کرنے سے روک لیا جائے، یعنی اگر تمہارا مسلمان بھائی ظلم کر رہا ہے تو تمہیں اس کا بھی ساتھ دینا ہے اور ظلم سے روکنا ہے اور اگر تمہارا بھائی ظلم کا شکار ہے اور مظلوم ہے تو اس کی بھی تمہیں مدد کرنی ہے اور اسے ظلم سے بچانا ہے، شریعت نے دونوں کے متعلق احکامات سمجھا دیے کہ تم نے یہاں کون سا رویہ اپنانا ہے اور وہاں کیا رویہ اپنانا ہے۔

مال کمانے کے متعلق اعتدال

اگر کوئی کہے کہ میں کماتا ہی نہیں، کیونکہ کمانا دنیاداری ہے اور میں دیندار بننا چاہتا ہوں، فرمایا کہ: یہ غلط رویہ ہے، کیونکہ حلال کمائی بھی دینی فرائض میں شامل ہے، کتنی ہی ایسی عبادات ہیں جو مال خرچ کرکے ادا کی جاتی ہیں، جیسے زکوٰۃ، صدقہ، فطرہ، قربانی، حج، صلہ رحمی وغیرہ۔ اسی طرح اگر کوئی مال کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لے اور اس پر کمانے جمع کرنے کی دھن سوار ہوجائے تو شریعت رہنمائی کرتی ہے کہ یہ بھی غلط طریقہ ہے، کیونکہ مال کو اللہ نے انسان کی خدمت و ضرورت کے لیے پیدا کیا ہے، اپنے آپ کو اس پر کھپانے کے لیے پیدا نہیں کیا، لہٰذا تم مال کماؤ، مگر اپنے مقصد کے لیے نہیں، بلکہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے، جب تمہاری ضرورت پوری ہو جائے تو تم مزید مال کو اپنا مقصد مت بناؤ۔

مال خرچ کرنے کے متعلق اعتدال

اسی طرح جب مال خرچ کرنے کی باری آتی ہے تو کوئی اپنے مال کو بے تحاشا خرچ کرتا ہے تو شریعت منع کرتی ہے کہ تم فضول خرچی اور اسراف سے بچو اور اگر کوئی اپنے مال کو خرچ ہی نہیں کرتا تو شریعت یہ کہتی ہے کہ تم کنجوسی سے بھی بچو، جیسے اللہ ربّ العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’وَ الَّذِیْنَ  اِذَآ  اَنْفَقُوْا لَمْ  یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ کَانَ  بَیْنَ  ذٰلِکَ  قَوَامًا‘‘     (الفرقان: ۶۷)
’’اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں ، نہ تنگی کرتے ہیں ، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط و تفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے۔‘‘ 
یعنی اللہ کریم ہمیں یہ بتلا رہے ہیں کہ رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو اعتدال اور میانہ روی پر قائم ہیں اور خرچ کرنے میں اعتدال پر قائم و دائم ہیں، اِفراط اور تفریط سے بچے ہوئے ہیں، کیونکہ جب فضول خرچی کرے گا تو پھر گناہ اور عیاشی میں مبتلا ہوجائے گا اور بہت سی غیر ضروری چیزوں کو ضروری سمجھ کر خریدنے کا بوجھ اُٹھائے گا اور اگر کنجوسی کرے گا تو زکوٰۃ، قربانی، حج، صدقہ خیرات،صلہ رحمی،اہل و عیال کے حقوق وغیرہ کیسے ادا کرے گا؟ اسی لیے شریعت نے اعتدال کی راہ دکھلائی کہ تمہیں اِنفاق بھی کرنا ہے اور اِسراف سے بھی بچنا ہے۔

نوافل اور فرائض کے درمیان اعتدال

فرائض وہ ہیں جو کسی حال میں معاف نہیں، جبکہ نوافل کہتے ہی اس عبادت کو ہیں جو لازم نہیں، بلکہ اضافی اجروثواب کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اس حوالے سے بھی بہت افراط تفریط پائی جاتی ہے کہ ہم نوافل کو تو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ جتنا فرائض کو نہیں دیتے، جیسے فضیلت والی راتیں آجاتی ہیں تو ان میں ساری رات عبادت کی جاتی ہے، لیکن جب فجر کی فرض نماز ادا کرنے کا وقت آجاتا ہے تو یہی نفلی عبادت کرنے والے سب سو جاتے ہیں، اس صورت میں نفلی عبادت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جس سے متعلق کوئی بازپرس نہیں ہوگی، لیکن فرض کو چھوڑا جارہا ہے، حالانکہ پہلا سوال ہی قیامت کے دن فرض نماز سے متعلق ہوگا۔
اسی طرح قربانی کے موقع پر ہم میں سے جو قربانی کرنے کا اردہ کرتے ہیں وہ یکم ذی الحجہ سے قربانی تک اپنے ناخن اور جسم کے اضافی بالوں کو صاف نہیں کرتے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مستحب عمل ہے جس کا مطلب جو یہ عمل کرے گا اسے ثواب ملے گا اور جو نہیں کرے گا اسے کوئی گناہ نہیں ملے گا، لیکن حیرت ہے کہ ایک شخص دس دن تک یہ نفلی کام کرتا رہتا ہے، ایک ایسا کام جو ثواب کا کام ہے، اگر نہیں کرے گا تو اسے گناہ بھی نہیں ملے گا، لیکن جیسے ہی وہ قربانی کرتا ہے تو اپنی داڑھی کے بال بھی صاف کردیتا ہے، حالانکہ وہ یہ بات جانتا ہے کہ اگر میں ان دس دنوں میں وہ بال کاٹ لیتا تو مجھے کوئی گناہ نہ ملتا، لیکن داڑھی کاٹنا گناہِ کبیرہ ہے، مکروہِ تحریمی ہے۔ ایک طرف نفلی عبادت کی فکر ہے اور دوسری طرف حرام کی بھی فکر نہیں تو یہ افراط وتفریط والی بات ہے، حد سے بڑھ جانا اور نوافل کو اتنی اہمیت دینا جو فرائض کو بھی نہیں دی جارہی اور مستحب کو جیسے تیسے کرنا، لیکن حرام کے معاملے میں کوئی فکر نہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا مزاج نہیں سمجھا گیا اور دین کی جو حکمت والی درمیانی تعلیم ہے، اس کو نہیں سمجھا گیا۔

قبور سے متعلق اعتدال 

قبروں سے متعلق ہم اِفراط و تفریط کی دو انتہاؤں پر کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ شریعت یہاں بھی اعتدال ہی سکھاتی ہے، مثلاً: میت کو غسل دیتے وقت اعضاء کا خیال رکھو، زیادہ ٹھنڈا اور زیادہ گرم پانی کے بجائے نیم گرم پانی کا استعمال کرو، تدفین کے وقت اعزاز سے رکھو، جنازہ پڑھو، کندھا دو اور جب دفن کرلو تو قبر پر قدم مت رکھو، قبر کو اپنی نشست گاہ مت بناؤ، قبر کو مسمار مت کرو، یہ سب تمہارے اس مرحوم کے لیے احترام کی ایک معتدل شکل ہے۔ 
اسی طرح شریعت یہ بھی بتلاتی ہے کہ جو حد سے بڑھ جانے والے کام ہیں وہ بھی نہ کرو، قبر کی پختہ تعمیر مت کرو، مزار مت بناؤ، چراغ مت جلاؤ، قبر کا طواف نہ کرو، نہ ہی اسے سجدہ گاہ بناؤ، نہ صاحبِ قبر سے دعا مانگو، وغیرہ، گویا دونوں چیزیں ساتھ ساتھ سمجھا دیں کہ تم حد سے بڑھنے کی کوشش بھی مت کرو اور حد سے گرنے کی کوشش بھی مت کرو۔

شادی بیاہ کے موقع پر اعتدال

ہماری شادی بیاہ کی جو رسومات ہیں عام طور پر ان کے متعلق علماء یہ فرماتے ہیں کہ شادی شریعت کے مطابق کرو تو ہمارے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ شریعت کے مطابق شادی شاید سوگ منانے جیسا عمل ہے، اگر شادی شریعت کے مطابق ہوگی تو سوگ والا ماحول ہوگا، تسبیح پڑھنی ہوگی، قرآن خوانی یا آیتِ کریمہ کا ختم کرنا ہوگا اور پھر ایسا لگے گا کہ خوشی کا ماحول ہی نہیں ہے، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، شادی ایک خوشی کا موقع ہے اور اسے خوشی خوشی ہی منانا چاہیے اور خوشی منانے کا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے اس سے منع نہیں کیا جارہا، لیکن چند شرائط بتائی جارہی ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے، مثلاً بےپردگی نہ ہو، ڈول باجے نہ ہوں، ہندوانہ رسم و رواج نہ ہوں، باقی ان شرائط کے ساتھ جیسے چاہو اپنی خوشی منالو، یہاں تک کہ آپ  علیہ السلام  خود اس کی ترغیب دے رہے ہیں کہ نکاح کی تقریب کا بھرے مجمع میں اہتمام کرو، مسجد میں نکاح کرو، ولیمہ کرکے سب کو اپنی خوشی میں شریک کرو، وغیرہ۔ 

آپس کے تعلقات میں اعتدال

اکثر ہمارے آپس کے تعلقات میں بھی افراط و تفریط کی جھلک دکھائی دیتی ہے، کسی سے اگر تعلق بنانا ہے تو ایسا تعلق قائم کریں گے کہ اس پر جان بھی نثار کریں گے، ہر وقت اسی کے ساتھ بیٹھک لگائیں گے، گپ شپ لگی رہے گی، وقت بے وقت یار کو ڈھونڈتے رہیں گے، کہیں آنا جانا ، تقریبات میں شرکت کرنا، یہاں تک کہ لین دین بھی اسی کے ساتھ کرنے کا سوچیں گے، لیکن ایک اختلاف سے یہ گہری دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارہ نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے تعلقات میں پائی جانے والی بڑی عام بے اعتدالی ہے جو ہم کرتے رہتے ہیں۔ اب شریعت یہ نہیں کہتی کہ ہم ہر ایک سے دوستیاں کرتے پھریں اور ہر ایک کو اپنے سر کا تاج بنالیں اور ہر ایک سے لین دین شروع کردیں، بلکہ عام مسلمانوں کے حوالے سے جو روش اپنانی چاہیے، اس کے متعلق فرمایا کہ: ’’ایک مسلمان کے مال، جان، عزت و آبرو کی تم حفاظت کرو، اس کے ساتھ سلام علیک رکھو، ضرورت پڑنے پر اس کی مدد کرو۔‘‘ بس اتنا ہی کافی ہے ۔باقی کسی سے ایسی دوستی کرنا کہ اس کے غلط کو بھی صحیح قرار دینا اور کسی سے ایسی نفرت کرنا کہ اس کی ساری اچھائیاں نظر انداز کرنا، دونوں رویے غلط ہیں۔ اگر ہم کسی سے تعلق رکھتے ہیں تو اس میں خوبی بھی ہو سکتی ہے اور خامی بھی، تو ہم اس کی خوبی پر نظر رکھیں اور اس کی خامی کو نظر انداز کریں۔ 
ضرورت ہے کہ ہم اپنے تعلقات میں بھی اعتدال کا لحاظ رکھیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی ایک اختلاف کی وجہ سے ہم تعلق کو دشمنی میں بدل دیں، یہ بڑے ظلم کی بات ہے، مثلاً: کسی سے پوچھا جائے کہ: ’’آپ کا رابطہ نہیں آج کل فلاں شخص سے خیریت؟‘‘ جواب آئے کہ اس نے مجھ سے ایک مرتبہ ایسی بات کردی تھی کہ میرا بس دل ہی ٹوٹ گیا، اب یہ بھی ختم، یہ بھی ختم اور یہ بھی ختم، یہ غلط طریقہ ہے۔

مزاج کا اعتدال

کوئی اپنے مزاج میں اتنی زیادہ بہادری رکھتا ہے کہ وہ ظالم بن جاتا ہے، تو شریعت اس رویے کی مذمت کرتی ہے اور اگر کوئی اپنے مزاج میں اتنا ڈھیلا پن لاتا ہے کہ بالکل بزدل ہی بن جاتا ہے تو شریعت اس بزدلی کی بھی ممانعت کرتی ہے اور تاکید کرتی ہے کہ تم اپنے اندر شجاعت پیدا کرو، اگر تم بزدل بنے رہو گے تو جہاد کیسے کرو گے؟! صبر آزما حالات کا مقابلہ کیسے کروگے؟! اسی طرح اگر کوئی شخص اس قدر احساسِ کمتری کا شکار ہے کہ وہ نا شکری میں مبتلا ہونے لگتا ہے تو شریعت کہتی ہے کہ یہ ناشکری تمہیں اللہ کی رحمت سے مایوس کرسکتی ہے اور کفر کے کنویں میں دھکیل سکتی ہے اور کوئی بہت زیادہ احساسِ برتری کا شکار ہے، جس سے گھمنڈ اور تکبر میں مبتلا ہو رہا ہے تو شریعت اس رویے کی بھی روک تھام کرتی ہے کہ تم اپنے اندر تواضع اور عاجزی پیدا کرو، خود کو بہت گھٹیا بھی مت سمجھو اور خود کو بہت اعلیٰ بھی مت سمجھو، اپنے اندر عاجزی کی روش پیدا کرکے اعتدال پر قائم رہو۔

عقل اور جذبات میں میانہ روی
 

اسی طریقے سے انسان میں عقل اور جذبات کے بڑے شدید مادے پائے جاتے ہیں جو کہ اکثر اوقات انسان کو اعتدال پر قائم رہنے نہیں دیتے، اسی آیت کی روشنی میں یہ اہم اصول سمجھنے کو ملتا ہے کہ تم امتِ وسط ہو، تم دین کا مزاج اور دین کی جو اصل بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے جذبات اور عقل کو بیچ میں مت لاؤ، چونکہ انسان ایسا ہے کہ کبھی وہ جذبات میں آکر غلط فیصلہ کرتا ہے، اور کبھی اپنی عقل کے خودساختہ پھندے میں پھنس کر ناقص فیصلہ کرسکتا ہے، نفسانی خواہشات کا شکار ہوسکتا ہے، اس لیے اس امت کو سمجھایا کہ تم فیصلے اپنی طبیعت کے مطابق مت کرو، بلکہ جیسے شریعت رہنمائی کرے ویسے فیصلے کرو، چاہے تمہاری عقل میں آئے یا نہ آئے، چاہے تمہارا دل مانے یا نہ مانے، چاہے تمہاری طبیعت کے مطابق ہو یا نہ ہو، عین ممکن ہے کہ تمہاری طبیعت میں افراط وتفریط پائی جاتی ہو یا تمہاری عقل اونچ نیچ کا شکار ہو اور اس طرح تمہاری خواہش کے چکر میں معاملہ بگڑ جائے، لیکن جب تم اپنے آپ کو عقلی اور نفسانی خواہشات سمیت شریعت کے حوالے کروگے تو شریعت تمہیں نہ حد سے زیادہ آگے بڑھنے دے گی، نہ حد سے گرنے دے گی، کیونکہ شریعت میں اعتدال پایا جاتا ہے، بالآخر نتیجہ بھی اعتدال والا سامنے آئے گا۔

خلاصہ

اللہ ربّ العزت نے اُمتِ محمدیہ کی جو خصوصیت اس آیت میں بیان کی کہ: ’’وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا‘‘، ’’اور اسی طریقے سے ایک بہت بڑی نعمت ہم نے تمہیں یہ دی کہ ہم نے تمہیں ایک معتدل اُمت بنا دیا۔‘‘ لہٰذا ہمیں اپنے ہر عمل میں اعتدال پیدا کرنے کی ضرورت ہے، عقیدے میں بھی، عبادت میں بھی، حقوق کی ادائیگی میں بھی، خرچ میں بھی، سیاست میں بھی، نیکیوں میں بھی، آپس کے تعلقات میں بھی اور ہمارے مزاج اور اہم فیصلوں میں بھی اعتدال ہونا چاہیے، تاکہ ہم امتِ مسلمہ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین