
موسم کی تبدیلی اور حرارت و برودت اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے۔ سورج، چاند، ہوائیں، بادل اور بارش اللہ تعالیٰ کے حکم سے کام کرتے ہیں۔ جس طرح سردی ایک نعمت اور آزمائش ہے، اسی طرح گرمی بھی ایک آزمائش ہے اور بعض اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ دینِ اسلام جو فطرت کے عین مطابق ہے، اس نے ہمیں موسمی شدتوں سے نمٹنے کے لیے نہ صرف جسمانی تدابیر سکھائی ہیں، بلکہ روحانی رہنمائی بھی عطا کی ہے، تاکہ ہم اپنے جسم اور ایمان دونوں کو محفوظ رکھ سکیں۔
گرمی میں اللہ کی نشانی اور جہنم کی یاد دہانی ہے
قرآن و حدیث میں مختلف جگہوں پر گرمی کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کہیں جہنم کی شدت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ :
’’اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا کہ وہ تمہیں خوشخبری دیتی ہیں اور اور تاکہ تم کو اپنی رحمت کا مزہ چکھادے۔‘‘
یہ ’’رحمت‘‘ کبھی بادل کی صورت میں، کبھی بارش کی صورت میں، اور کبھی ٹھنڈی ہواؤں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جو گرمی میں راحت پہنچاتی ہے۔
حدیث مبارکہ کی روشنی میں گرمی کی حقیقت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی، اس نے کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسیں لینے کی اجازت دی؛ ایک سردی میں اور ایک گرمی میں۔ پس جو شدید گرمی تم محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی سانس ہے، اور جو انتہائی سردی تم پاتے ہو، وہ بھی اسی کی سانس ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۳۷)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں گرمی کی شدت اصل میں جہنم کی ایک جھلک ہے، تاکہ انسان عبرت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی فطرت کو مدِنظر رکھتے ہوئے تعلیمات دیتا ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث عبادات میں آسانیاں فراہم کی گئی ہیں۔
ظہر کی نماز میں تاخیر
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب گرمی کی شدت ہو تو نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی گرمی سے ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۳۶)
یعنی ظہر کی نماز ایسے وقت میں ادا کی جائے جب سورج کچھ جھک چکا ہو، تاکہ نمازیوں کو راحت ہو۔ سفر میں یا سخت گرمی میں اگر روزہ رکھنا دشوار ہو تو شریعت نے اس میں بھی رعایت دی ہے۔
قرآن مجید میں ہے کہ:
’’اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزے پورے کرے ۔‘‘
اسلام نے جسمانی طہارت کو روحانی ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور گرمی کے لیے پانی کا استعمال بھی اس کا اہم پہلو ہے۔ گرمی میں باوضو رہنے سے نہ صرف جسم کو ٹھنڈک ملتی ہے، بلکہ روحانی سکون بھی حاصل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹاتا ہے؟ وہ ہے گرمی میں مکمل وضو کرنا۔‘‘ (مسند احمد)
گرمی کے اوقات میں ظہر سے قبل یا بعد قیلولہ کرنا سنتِ نبوی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیلولہ کیا کرو، کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔‘‘ (طبرانی)
قیلولہ سے انسان کو دن کے باقی حصے میں تازگی اور توانائی حاصل ہوتی ہے، خاص طور پر گرمی میں یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔
گرمیوں میں سادہ لباس اور خوراک سنتِ نبوی کی پیروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سادہ، ہلکا اور کھلا لباس زیب تن فرماتے تھے، جو گرمی کے لیے موزوں ہوتا تھا۔
اسلام میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے، جس کا تعلق نہ صرف روحانیت بلکہ صحت اور موسم سے بھی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ : ’’اور تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے۔‘‘ (سورۃ الاعراف: ۲۶)
گرمی کے موسم میں پانی پلانا اور سایہ دینا بہترین صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ دینِ اسلام میں سب سے بہترین نیکیوں میں سے ایک پیاسے کو پانی پلانا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے کسی کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن پیاسا نہیں رکھے گا۔‘‘ (صحیح ابن حبان)
پانی ایک عظیم نعمت ہے، لہٰذا اس نعمت کا احساس اور اس کا کما حقہ شکر ادا کرتے ہوئے کوشش کریں کہ اس موسم میں بڑے پیمانے پر پانی کے صدقے کا اہتمام کریں، جیسے نہر جاری کروانا، کنواں کھدوانا، فلٹریشن پلانٹ لگوانا، مساجد و مدارس میں کولر نصب کروانا، جیسے مزدوروں، مسافروں، طالب علموں بلکہ چرند پرند اور جانوروں تک کے پانی کا انتظام کرنا، عوامی مقامات اور ٹریفک اشاروں پر پانی کا انتظام کرنا، وغیرہ۔ کیونکہ یہ صدقہ جاریہ شمار ہوگا، اس سے گرمی کی شدت میں بے پناہ کمی واقع ہوتی ہے۔
گرمیوں میں سایہ فراہم کرنا اللہ کی رحمت میں آتا ہے
بلاوجہ گرمی یا دھوپ میں بیٹھنا اچھا عمل نہیں ہے، کیونکہ گرمی جہنم کی تپش سے ہے، لہٰذا بلا وجہ دھوپ میں بیٹھنا اپنے آپ کو زندگی میں ہی جہنم کی تپش چکھانے کے مترادف ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس گرمی کی وجہ سے بعض بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں، چنانچہ اسلام نے انسان کو تکلیف سے دور رکھنے کے لیے خیر خواہی کے طور پر دھوپ اور گرمی میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔
چنانچہ سیدنا قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دھوپ میں بیٹھا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سائے میں آ جاؤ۔‘‘ (مسند احمد)
تربوز انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ گرمیوں کے موسم میں آنے والا یہ پھل نہ صرف ذائقے میں مزیدار ہوتا ہے، بلکہ کئی بیماریوں سے بچاتا ہے، گرمی کے موسم میں سب سے بڑا مسئلہ ڈی ہائیڈریشن ہے، لیکن تربوز اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ پانی سے بھرپور پھل ہے جو اس گرمی کے موسم میں جسم کو پانی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
حدیث مبارکہ میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ہم اس ( کھجور ) کی گرمی کو اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک سے اور اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک کو اس (کھجور) کی گرمی سے توڑتے ہیں۔‘‘ (ابوداؤد شریف)
اسلام ایک جامع دین ہے جو عبادات، اخلاق، معاملات کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات سے بچنے کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ گرمی کی شدت، جہاں اللہ کی قدرت کا مظہر ہے، وہاں ایک آزمائش بھی ہے۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، تو جسمانی آرام، روحانی سکون، اور اُخروی نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ دعا، وضو، سادہ طرزِ زندگی، قیلولہ، عبادات میں نرمی، دوسروں کی مدد، پانی پلانا، سایہ فراہم کرنا، یہ سب گرمی سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا کے بھی ذرائع ہیں۔