بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

بینات

 
 

کیا چار فقہی مذاہب‘ اسلام کا متبادل اورمولویوں کا بنایا ہوا دین ہے؟

کیا چار فقہی مذاہب‘ اسلام کا متبادل 

اور مولویوں کا بنایا ہوا دین ہے؟


مذاہبِ اربعہ کی شرعی حیثیت

واضح رہے کہ مذاہبِ اربعہ (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) دینِ اسلام کے مستند چار فقہی مکاتب ہیں، جن کی اصل اَساس اور بنیاد‘ قرآن، حدیث، اجماعِ اُمّت اور قیاس ہیں، اور یہی وحی کے براہِ راست مصادر ہیں، جن سے ائمہ کرام کے اجتہادات ماخوذ ہیں، نہ کہ خود ساختہ اُصولوں سے۔ اور اسلامی شریعت کے فہم اور عملی نفاذ کے لیے مذاہبِ اربعہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مذاہبِ اربعہ ایسے جلیل القدر ائمہ کرامؒ کی اجتہادی کاوشوں کا نتیجہ ہیں جنہوں نے انہی مصادرِ اصلیہ (قرآن و سنت وغیرہ) کی روشنی میں اُمتِ مسلمہ کے لیے تاقیامت آنے والی نوازل (پیش آمدہ مسائل) کے احکام کو مستنبط کرنے کے لیے فقہی اُصول مرتب کیے۔ تاہم بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ: ’’مذاہبِ اربعہ مولویوں کا خود ساختہ دین ہیں۔‘‘ اور یہ کہ اسلام صرف قرآن و حدیث پر مبنی ہونا چاہیے، ان مذاہب میں سے کسی مذہب، فقہ یا امام کی پیروی کی ضرورت نہیں، جبکہ یہ اعتراض شریعت اور حقیقت دونوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے، بلکہ بذاتِ خود قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کی تصریحات کے متصادم اور خلاف ہے، چنانچہ خود قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ:
’’فَسْـَٔلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘  (النَّحل :۴۳)
ترجمہ: ’’تم اہلِ ذکر (اہلِ علم) سے پوچھواگر تم نہیں جانتے۔‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر حکم دیا کہ جو لوگ دین کا علم نہیں رکھتے، وہ اہلِ علم (علماء) سے سوال کریں، یہی تقلیدِ ائمہ کی بنیاد ہے، کیونکہ ہر مسلمان براہِ راست قرآن و احادیث سے احکام اخذ نہیں کرسکتا، اور نہ ہی اُن کے عِلل و حِکم تک اُس کی رسائی ممکن ہے، جس کی عام فہم مثال یوں سمجھیے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو ایسی عقل عطا فرمائی ہےکہ دنیا میں جو بھی نئی نئی ضرورتیں پیدا ہوں‘ وہ ان کے حل کے لیے ان کی ایجادات کرتا ہے، اسی طرح دین کے معاملے میں جو مسائل پیش آئیں اُن کے لیے یہ اجتہاد کرتا ہے، لیکن جیسے سارے انسان ایجاد نہیں کرتے، ایک نےایجاد کرلیا، باقی انسان اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، اسی طرح دین میں بھی سارے انسان اجتہاد نہیں کرتے (اور نہ کرسکتے ہیں)ان ائمہ مجتہدین نے اجتہاد کرلیا اور باقی اُن کے اجتہاد سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ اب اگر کوئی تیسرا شخص نکل آئے کہ نہ تو ایجاد کرسکے اور نہ ہی کسی کی ایجاد سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہو تو اس کے متعلق لوگ سوائے اس کے کیا کہیں گے کہ اسے بےوقوفی اور کم فہمی کی علامت قرار دیا جائے۔
تو جس طرح کسی چیز کے ایجاد کرنے سے کوئی خالق نہیں بنتا، بلکہ موجد ہی ہوتا ہے، اسی طرح اجتہاد کرنے سے بھی کوئی شارع نہیں بنتا بلکہ مجتہد ہی ہوتا ہے، لہٰذا اجتہاد بھی دینِ اسلام میں مولویوں کی کوئی نت نئی ایجاد نہیں کہ جس کو شریعت کا مخالف گردانا جائے اور اس کا انکار کیا جائے۔ نیز اگر غور کیا جائے تو معترضین کا مذکورہ اعتراض در حقیقت تقلید سے بیزاری کی علامت ہے، جو نصوصِ شرعیہ کا کھلم کھلا انکار اور خلاف ورزی ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی  رحمۃ اللہ علیہ  مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
’’مجتہدین کی تقلید غیر مجتہد پر واجب ہے
آیت مذکورہ کا یہ جملہ ’’فَسْـَٔلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘ (النحل:۴۳ ) اس جگہ اگرچہ ایک خاص مضمون کے بارے میں آیا ہے، مگر الفاظ عام ہیں جو تمام معاملات کو شامل ہیں، اس لیے قرآنی اسلوب کے اعتبار سے درحقیقت یہ اہم ضابطہ ہے جو عقلی بھی ہے نقلی بھی کہ جو لوگ احکام کو نہیں جانتے وہ جاننے والوں سے پوچھ کر عمل کریں، اور نہ جاننے والوں پر فرض ہے کہ جاننے والوں کے بتلانے پر عمل کریں، اسی کا نام تقلید ہے۔ یہ قرآن کا واضح حکم بھی ہےاور عقلاً بھی اس کے سوا عمل کو عام کرنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ اُمت میں عہدِ صحابہؓ سے لے کر آج تک بلا اختلاف اس ضابطے پر عمل ہوتا آیا ہے۔ جو تقلید کے منکر ہیں وہ بھی اس تقلید کا انکار نہیں کرتے کہ جو لوگ عالم نہیں وہ علماء سے فتویٰ لے کر عمل کریں اور یہ ظاہر ہے کہ ناواقف عوام کو علماء اگر قرآن و حدیث کے دلائل بتلا بھی دیں تو وہ ان دلائل کو بھی انہی علماء کے اعتماد پر قبول کریں گے، ان میں خود دلائل کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت تو ہے نہیں اور تقلید اسی کا نام ہے کہ نہ جاننے والا کسی جاننے والے کے اعتماد پر کسی حکم کو شریعت کا حکم قرار دے کر عمل کرے۔ یہ تقلید وہ ہے جس کے جواز بلکہ وجوب میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں۔ البتہ وہ علماء جو خود قرآن و حدیث کو اور مواقعِ اجماع کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو ایسے احکام میں جو قرآن و حدیث میں صریح اور واضح طور پر مذکور ہیں، اور علماء صحابہؓ و تابعینؒ کے درمیان ان مسائل میں کوئی اختلاف بھی نہیں، ان احکام میں وہ علماء براہِ راست قرآن و حدیث اور اِجماع پر عمل کریں، ان میں علماء کو کسی مجتہد کی تقلید کی ضرورت نہیں، لیکن وہ احکام و مسائل جو قرآن و سنت میں صراحۃً مذکور نہیں یا جن میں آیاتِ قرآن اور روایاتِ حدیث میں بظاہر کوئی تعارض نظر آتا ہے یا جن میں صحابہؓ و تابعینؒ کے درمیان قرآن و سنت کے معنی متعین کرنے میں اختلاف پیش آیا ہے‘ یہ مسائل و احکام محلِ اجتہاد ہوتے ہیں، ان کو اصطلاح میں ’’مجتہد فیہ‘‘ مسائل کہا جاتا ہے، ان کا حکم یہ ہے کہ جس عالم کو درجۂ اجتہاد حاصل نہیں، اس کو بھی ان مسائل میں کسی امام مجتہد کی تقلید ضروری ہے، محض اپنی ذاتی رائے کے بھروسہ پر ایک آیت یا روایت کو ترجیح دے کر اختیار کرنا اور دوسری آیت یا روایت کو مرجوح قرار دے کر چھوڑ دینا اس کے لیے جائز نہیں۔
 اسی طرح جو احکام قرآن و سنت میں صراحۃً مذکور نہیں‘ اُن کو قرآن و سنت کے بیان کردہ اصول سے نکالنا اور ان کا حکمِ شرعی متعین کرنا یہ بھی انہی مجتہدینِ امّت کا کام ہے جن کو عربی زبان، عربی لغت اور محاورات اور طرقِ استعمال کا، نیز قرآن و سنت سے متعلقہ تمام علوم کا معیاری علم اور تقویٰ کا اونچا مقام حاصل ہو، جیسے امام اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  یا امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ ، فقیہ ابو اللیث رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ، جن میں حق تعالیٰ نے قربِ زمانۂ نبوت اور صحبتِ صحابہؓ و تابعینؒ کی برکت سے شریعت کے اصول و مقاصد سمجھنے کا خاص ذوق اور منصوص احکام سے غیر منصوص کو قیاس کرکےحکم نکالنے کا خاص سلیقہ عطا فرمایا تھا، ایسے مجتہد فیہ مسائل میں عام علماء کو بھی ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید لازم ہے، ائمہ مجتہدین کے خلاف کوئی نئی رائے اختیار کرنا خطا ہے۔
 یہی وجہ ہے کہ اُمّت کے اکابر علماء، محدثین و فقہاء، امام غزالیؒ، امام رازیؒ، امام ترمذیؒ، امام طحاویؒ، امام مزنیؒ، امام ابن ہمامؒ، امام ابن قدامہؒ اور اسی معیار کے لاکھوں علماء سلف وخلف باوجود علومِ عربیت وعلومِ شریعت کی اعلیٰ مہارت حاصل ہونے کے ایسے اجتہادی مسائل میں ہمیشہ ائمہ مجتہدین کی تقلیدہی کے پابند رہے ہیں، سب نے مجتہدین کے خلاف اپنی رائے سے کوئی فتویٰ دینا جائز نہیں سمجھا، البتہ ان حضرات کو علم و تقویٰ کا وہ معیاری درجہ حاصل تھا کہ مجتہدین کے اقوال و آراء کو قرآن و سنت کے دلائل سے جانچتے اور پرکھتے تھے، پھر ائمہ مجتہدین میں جس امام کے قول کو وہ کتاب و سنت کے ساتھ اقرب پاتے اس کو اختیار کر لیتے تھے، مگر ائمہ مجتہدین کے مسلک سے خروج اور ان سب کے خلاف کوئی رائے قائم کرنا ہرگز جائز نہ جانتے تھے، تقلید کی اصل حقیقت اتنی ہی ہے۔
اس کے بعد روز بروز علم کا معیار گھٹتا گیا اور تقویٰ و خداترسی کے بجائے اغراضِ نفسانی غالب آنے لگیں، ایسی حالت میں اگر یہ آزادی دی جائے کہ جس مسئلہ میں چاہے کسی ایک امام کا قول اختیار کرلیں اور جس میں چاہیں کسی دوسرے امام کا قول لے لیں تو اس کا لازمی اثر یہ ہونا تھا کہ لوگ اتباعِ شریعت کا نام لے کر اتباعِ ہویٰ میں مبتلا ہوجائیں کہ جس امام کے قول میں اپنی غرضِ نفسانی پوری ہوتی نظر آئے‘ اس کو اختیار کرلیں، اور یہ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا کوئی دین اور شریعت کا اتباع نہیں ہوگا، بلکہ اپنی اغراض و اہواء کا اتباع ہوگا جو باجماعِ اُمّت حرام ہے۔ علامہ شاطبی  رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’موافقات‘‘ میں اس پر بڑی تفصیل سے کلام کیا ہے اور ابن تیمیہؒ نے بھی عام تقلید کی مخالفت کے باوجود اس طرح کے اتباع کو اپنے فتاویٰ میں باجماعِ امت حرام کہا ہے، اس لیے متأخرین فقہاء نے یہ ضروری سمجھا کہ عمل کرنے والوں کو کسی ایک ہی امامِ مجتہد کی تقلید کا پابند کرنا چاہیے، یہیں سے تقلیدِ شخصی کا آغاز ہوا جو درحقیقت ایک انتظامی حکم ہے، جس سے دین کا انتظام قائم رہے اور لوگ دین کی آڑ میں اتباعِ ہویٰ کا شکار نہ ہوجائیں، اس کی مثال بعینہٖ وہ ہے جو حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  نے باجماعِ صحابہؓ قرآن کے سبع احرف (یعنی سات لغات) میں سے صرف ایک لغت کو مخصوص کر دینے میں کیا کہ اگرچہ ساتوں لغات قرآن ہی کی لغات تھیں، جبرائیل امین کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خواہش کے مطابق نازل ہوئیں، مگر جب قرآن کریم عجم میں پھیلا اور مختلف لغات میں پڑھنے سے اختلاف اور لڑائی جھگڑے کا خطرہ محسوس کیا گیا تو باجماعِ صحابہؓ مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ صرف ایک ہی لغت میں قرآن کریم لکھا اور پڑھا جائے۔ حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ  نے اسی ایک لغت کے مطابق تمام مصاحف لکھواکر اطرافِ عالم میں بھجوائے اور آج تک پوری امت اسی کی پابند ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسری لغات حق نہیں تھیں، بلکہ انتظامِ دین اور حفاظتِ قرآن کی بنا پر صرف ایک لغت اختیار کرلی گئی۔ اسی طرح ائمہ مجتہدین سب حق ہیں، ان میں سے کسی ایک کو تقلید کے لیے معین کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس امام معین کی تقلید کسی نے اختیار کی ہے، اس کے نزدیک دوسرے ائمہ قابلِ تقلید نہیں، بلکہ اپنی صواب دید اور اپنی سہولت جس امام کی تقلید میں دیکھی اس کو اختیار کر لیا اور دوسرے ائمہ کو بھی اسی طرح واجب الاحترام سمجھا۔
اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بیمار آدمی کو شہر کے حکیم اور ڈاکٹروں میں سے کسی ایک ہی کو اپنے علاج کے لیے متعین کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بیمار اپنی رائے سے کبھی کسی ڈاکٹر سے پوچھ کر دوا استعمال کرے، کبھی کسی دوسرے سے پوچھ کر، یہ اس کی ہلاکت کا سبب ہوتا ہے، وہ جب کسی ڈاکٹر کا انتخاب اپنے علاج کے لیے کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ دوسرے ڈاکٹر ماہر نہیں یا ان میں علاج کی صلاحیت نہیں۔
 حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کی جو تقسیم اُمّت میں قائم ہوئی، اس کی حقیقت اس سے زائد کچھ نہ تھی، اس میں فرقہ بندی اور گروہ بندی کا رنگ اور باہمی جدال و شقاق کی گرم بازاری نہ کوئی دین کا کام ہے، نہ کبھی اہلِ بصیرت علماء نے اسے اچھا سمجھا ہے۔ بعض علماء کے کلام میں علمی بحث و تحقیق نے مناظرانہ رنگ اختیار کر لیا اور بعد میں طعن و طنز تک نوبت آگئی، پھر جاہلانہ جنگ وجدال نے وہ نوبت پہنچا دی جو آج عموماً دین داری اور مذہب پسندی کا نشان بن گیا، فإلي اللہ المشتکيٰ ولاحول ولا قوّۃ إلا باللہ العليّ العظيم۔‘‘ (معارف القرآن،ج:۵، ص:۳۹۰، ادارۃ المعارف، کراچی)
اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ  کو یمن بھیجتے وقت مکالمہ اور آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا اُن کی مجتہدانہ شان پر اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کرنا‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اجتہاد شریعت میں کوئی مذموم چیز نہیں ۔ (جامع الترمذي، أبواب الأحکام، باب ماجاء في القاضي کیف یقضي، ج:۲، ص: ۶۴۷، ط: البشری)
 جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن اور احادیث میں کسی مسئلے کا واضح حل نہ ملے تو اجتہاد کرناجائز ہے، اور یہی مذاہبِ اربعہ کی بنیادی اَساس ہے۔
اس کے علاوہ شریعتِ مطہرہ میں اجتہاد کی بڑی اہمیت ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
’’جب کوئی حاکم (مجتہد) اجتہاد کرےاور صحیح فیصلہ کرےتو اسے دو اجر ملتے ہیں، اور اگر غلطی کرے تو ایک اجر ملتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الاعتصام، باب أجر الحاکم إذا اجتہد فأصاب أو أخطأ: ۴/۳۲۵۱، ط:البشریٰ
اس حدیث سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اجتہاد دینِ اسلام میں ایک جائز امرہے، حتیٰ کہ اگر کسی مجتہد سے اس اجتہاد میں غلطی بھی واقع ہوجائے، تب بھی اس کو ایک اجر ملے گا، چنانچہ یہی طریقۂ کار ائمہ اربعہ کا بھی رہا کہ انہی اصولوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے مضبوط بنیادوں پر فقہ کو استوار کرکے اُمّت کے لیے آسانی پیدا کی، اور درحقیقت مجتہدین کا یہی اختلاف امّت کے لیے رحمت اور باعثِ سہولت ہے، اور امّتِ مسلمہ نے ہمیشہ ان ائمہ کی پیروی کی ہےاور ان کی مجتہدات اور تقلید و اتباع کو تسلیم کیا ہے، اور ان سے خروج کو باعثِ ابتلاء ،مشقت و فتنہ قرار دیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ:
1:یہ تمام مذاہب قرآن و حدیث پر مبنی ہیں، اور ان کے اصولِ اجتہاد شریعت کے مطابق ہیں۔
2:ان ائمہ اربعہ نےفقہی مکاتب کو مرتب و مدوّن کر کے اُمت کے لیے صرف آسانی پیدا کی ہے، کوئی نئی شریعت از خود نہیں گھڑی۔
3: ان مکاتبِ اربعہ سے ہٹ کر اگر ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق شریعت کا شارح و مفسّر بننے لگے تو اس سے فتنہ و انتشار پیدا ہوگا۔
4: اُمت نے ہمیشہ ان مکاتب کو تسلیم کیا ہے، اور ان کی پیروی اُمت کے اجماع سے ثابت ہے۔
5:ان مذاہبِ اربعہ کا اختلاف دین میں کوئی تفرقہ نہیں، بلکہ اُمت کے لیے رحمت ہے، اور اُمت کے اجماع کے مطابق مذاہبِ اربعہ کی پیروی کرنا عینِ شریعت ہے۔
6:ان میں سے کسی بھی مذہب کو’’مولویوں کا خود ساختہ دین‘‘کہنا علمی جہالت اور حقیقت سے انحراف ہے۔
لہٰذا جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذاہبِ اربعہ مولویوں کا خود ساختہ بنایا ہوا دین ہے، وہ دین کے بنیادی اصولوں سے ناواقف ہیں، اور جمہور اُمت کے موقف سے روگردانی اور انحراف کے مرتکب ہیں جو گمراہی اور موجب ِضلالت ہے۔(أعاذنا اللہ من ذٰلک)
اللہ رب العزت ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور پوری زندگی کامل و اکمل طریقہ سے دینِ اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثمّ آمین بجاہ سیّد الرسل وخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ أجمعین ۔

حوالہ جات

کما في عقد الجيد في أحکام الاجتہاد والتقليد (ص:۴۳)، ط:دار الکتب بشاور:
اعلم أن في الأخذ بھٰذہ المذاھب الأربعۃ مصلحۃ عظیمۃ، و في الإعراض عنھا کلھا مفسدۃ کبیرۃ. و نحن نبیّن ذٰلک بوجوہ:
أحدھا: أن الأمۃ اجتمعت علی أن یعتمدوا علی السلف في معرفۃ الشریعۃ، فالتابعون اعتمدوا في ذلک علی الصحابۃؓ، و تبع التابعین اعتمدوا علی التابعین، و ھکذا في کل طبقۃ اعتمد العلماء علی من قبلہم، والعقل یدل علی حسن ذلک؛ لأن الشریعۃ لاتعرف إلا بالنقل والإستنباط، والنقل لایستقیم إلا بأن تأخذ کل طبقۃ عمن قبلھا بالاتصال، ولا بد في الاستنباط من أن یعرف مذاھب المتقدمین؛ لئلا یخرج من اقوالھم، فیخرق الإجماع ... الخ. 
و في التقلید في الأمور الفقھیۃ (للشیخ محمد بن سعید أحمد) ص: ۵۹، ط:مکتبۃ الحرمین:
یقول إبن نجیم: ’’و ما خالف الأئمۃ الأربعۃ فھو مخالف للإجماع‘‘، و یقول الشیخ السرخسي المالکی: ’’أما في ما بعد ذٰلک کما قال ابن الصلاح، فلایجوز تقلید غیر الأئمۃ الأربعۃ: مالک و أبي حنیفۃ والشافعي وأحمد رحمھم اللہ، لأن ھؤلاء عرفت قواعد مذاھبھم، واستقرت أحکامھا، وخدمھا تابعوھم، وحرروھا فرعًا فرعًا، و حکمًا حکمًا.‘‘
ویقول ابن حجر المکي: ’’أما في زماننا فقال أئمتنا: لایجوز تقلید غیر الأئمۃ الأربعۃ، مالک و أبي حنیفۃ والشافعي و أحمد رحمھم اللہ.‘‘ ویقول الشیخ أحمد المعروف بملا جیون: ’’والإنصاف أن انحصار المذاھب في الأئمۃ الأربعۃ، واتباعھم فضل إلٰھي، وقبول من عند اللہ لا مجال فیہ للتوجیھات والأدلۃ.‘‘
وفي حجۃ اللہ البالغۃ: ۱/ ۵۰۶، ط:المکتبۃ الوحیدیۃ پشاور:
أن ھٰذہ المذاھب الأربعۃ المدوّنۃ المحررۃ قد اجتمعت الأمۃ، أو من یعتد بہ منھا، علیٰ جوازتقلیدھا إلٰی یومناھذا، و في ذٰلک من المصالح ما لایخفی، لا سیّما في ھذہ الأیام التي قصرت فیھا الھمم جدّا، وأشربت النفوس الھوی، وأعجب کل ذي رأي برأیہ۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین