
پانی میں اگر بال گر جائے یا مکھی، چیونٹی، مچھر یا اس طرح کے اور کیڑے مکوڑے گر کر مر جائیں تو کیا اس پانی سے وضو یا غسل کر سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں پانی میں بال گر نے سے یا مکھی، چیو نٹی، مچھر یا اس طرح کے کیڑے مکو ڑے گر کر مرجانے سے پا نی ناپا ک نہیں ہوتا، وجہ یہ ہے کہ ان میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا، چنانچہ اس پانی سے آپ وضو اور غسل کر سکتے ہیں۔ ’’المحیط البرھاني‘‘ میں ہے :
’’وليس بول الخفاش وخرؤہ بشيء؛ لأنہٗ لا يستطاع الامتناع عنہ، وليس دم البق والبراغيث بشيء وإن کثر لأنہٗ ليس بدم مسفوح، وأما دم الحلم والأقراد فنجس؛ لأنہٗ دم مسفوح والاحتراز عنہ ممکن، وإذا أصاب الثوب أکثر من قدر الدرہم يمنع جواز الصلوۃ. وقال أیضا: وسئل ہو عن سرقين جاف أو التراب النجس إذا ہبت بہ الريح وأدخلتہ في الثوب لا ينجسہ ما لم ير أثرہٗ۔‘‘ (کتاب الطھارۃ، باب النجاسۃ، ج:۱، ص:۱۸۹، ط:دار الکتب العلمیۃ)
’’شرح مختصر الکرخي‘‘ میں ہے:
’’ولا ينجس من غير الإنسان والخنزير الشعر، والصوف، والوبر، والريش، والقرن، والعظم، والعصب، والخف، والظِلْف ۔۔۔ إلٰی أن قال رح:وأما شَعْر الإنسان فطاہر۔‘‘ (کتاب الطھارۃ، فصل صوف المیتۃ، ج:۱، ص:۱۸۱، ط:دار الأسفار، الکویت)
فقط اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101808
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن