بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

’’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ‘‘

’’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ‘‘

 

حال ہی میں وفاقی بجٹ منظور ہوا ہے، جس پر سینیٹ میں بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے ہندو سینیٹر دنیش کمار نےکہا کہ قرآن شریف نے سود لینے سے منع کیا ہے ، لیکن کافی سالوں سے پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نذر ہورہا ہے،ہم بجٹ کا ۵۰ فیصد اللہ اور رسول سے جنگ پر خرچ کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے سود سے متعلق سورۃ البقرۃ کی آیات کا ترجمہ پڑھا، نیز حدیث نبوی جس میں سود لینے دینے، کھانے کھلانے، اس پر گواہ بننے والے اور لکھنے والے کو جہنمی قرار دیا گیا ہے ، کا بھی حوالہ دیا ۔ 
افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے اول روز سے سود کی لعنت میں جکڑا ہوا ہے ، علمائے کرام اور دینی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بار بار اس سے چھٹکارا دلانے کی طرف توجہ دلائی گئی، وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تو اس وقت کی حکومت نے اس کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں اپیل دائر کرکے حکمِ امتناعی لے لیا، موجودہ حکومت نے ۲۰۲۸ء تک سود کے خاتمے کا وعدہ کر رکھا ہے، مگر اب تک اس حوالے سے کوئی خاطرخواہ اقدام سامنے نہیں آیا ۔ 
اب نوبت بایں جارسید کہ غیر مسلم لیڈر سود کے خلاف تقریر کر کے مسلمانوں کے ایمانوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں ۔ دنیش کمار کی مذکورہ بالا تقریر کے دوران سینیٹ کے ایک ممبر نے انہیں اسلام قبول کرنے کا مشورہ دے دیا تو سینیٹر صاحب نے جواب دیا کہ جنہوں نے اسلام قبول کیا ہوا ہے اور جو مسلمان ہیں ، ان کے افعال ایسے ہیں تو میں کیسے اسلام قبول کروں ؟ 
گویا ’’عذرِ گناہ بدتر از گناہ‘‘ کے مصداق جب ایک غیر مسلم نے سود کے خلاف بات کی تو اس سے عبرت لینے کی بجائے اُلٹا اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ گویا ہم مسلمانوں کا یہ کردار ہمارے لیے سوالیہ نشان اور المیہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے افعال و اعمال سے کتنے غیرمسلموں کی اسلام سے دوری کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ 
اس سے قبل غیر مسلم اراکینِ اسمبلی کی جانب سے شراب پر مکمل پابندی کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے اور مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ غیر مسلموں کے نام پر شراب پرمٹ مسلمانوں کو جاری کر دیے جاتے ہیں، حالانکہ خود ان کے مذہب میں بھی شراب پینا منع ہے۔ 
بہرحال ! ’’ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ‘‘ کے مصداق ہماری حکومت کو اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے فوری طور پر سود پر پابندی اور شراب کی مکمل ممانعت کی قانون سازی کرنی چاہیے ۔
اسی طرح قومی اسمبلی سے پاس کردہ قوانین کا حال دیکھیے کہ حال ہی میں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے ایک بل پیش کیا گیا جس میں کئی ایسی مبہم چیزیں ہیں جو آئین ، قانون اور حقوقِ ملکیت کے خلاف اور متنازعہ ہیں، انہیں بھی آنکھیں بند کر کے منظور کرلیا گیا اور سینیٹ میں جا کر اس کا عقدہ کھلا۔ یہ ہے ہمارے اراکینِ اسمبلی کی استعداد اور بلوں کو پاس کرنے کی اہلیت ۔ عوام الناس کو چاہیے کہ ایسے لوگ اسمبلیوں میں بھیجیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور قومی مفاد اور عوام الناس کی سہولتوں کو سامنے رکھ کر قوانین بنائیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ 

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین