بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

ٹریفک قوانین  اوراسلامی نقطۂ نظر

ٹریفک قوانین 

اوراسلامی نقطۂ نظر


اللہ رب العزت نے اپنی اس وسیع وعریض کائنات میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے فضاؤں، جنگلوں اور زمینوں میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے، تنگ اور کشادہ راستے بنائے ہیں، جن راستوں پر چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ بآسانی پہنچا جا سکتا ہے، جیسا کہ ہم اور آپ آئے دن زمینی راستوں پر اُس کا مشاہدہ کرتے ہیں، پھر راستہ اگر ہموار، نشیب و فراز سے محفوظ، صاف ستھرا اور کشادہ ہو، نیز اس پر ٹریفک کے مفید قواعد کے مطابق چلا جائے تو عموماً دور کی منزل بھی قریب ہو جاتی ہے اور فاصلے گھٹ جاتے ہیں، اس کے برخلاف راستہ کتنا ہی ہموار، صاف ستھرا اورکشادہ کیوں نہ ہو، مگر اس پر چلنے کے لیے قواعدنہ ہوں یا اس راستے پر چلنے والے ٹریفک کے مفید قواعد کی خلاف ورزی کریں تو پھر قریب کی منزل بھی دور ہو جاتی ہے اور جو فاصلہ منٹوں میں طے ہونا تھا اس کے لیے گھنٹے لگ جاتے ہیں، نیز یہ بات راستہ چلنے والوں کے لیے یا سوار اور سواری کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوتی ہے، چنانچہ آج کل جو سڑک حادثات پیش آتے ہیں اور اُن میں جانی و مالی نقصان ہوتا ہے، عموماً وہ ٹریفک کے قواعد کی خلاف ورزی کے سبب پیش آتے ہیں۔
 دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً لوگ ٹریفک کے قواعد کی شرعی اہمیت سے ناواقف ہیں، اس لیے اس کی خلاف ورزی محض ملکی قانون کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ دینی اور شرعی اعتبار سے بھی ممنوع ہے اور کئی گناہوں کا مجموعہ ہے۔ 
بہترنظم ونسق‘ شریعتِ مطہرہ میں مطلوب و محمود ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا‘‘ (الصٰفٰت:۱) ’’قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی۔‘‘
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی قسم ذکر کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں، اور بعض مفسرین کے بقول اس آیتِ کریمہ میں اُن نمازیوں کی قسم ہے جو نماز میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور بعض حضرات نے اُن پرندوں کو مراد لیا ہے جو اپنی پوری جماعت کے ساتھ ایک قطار بنا کر ہوا میں اُڑتے ہیں اور تمام علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن پاک میں جب کسی چیز کی قسم ذکر کی جائے تو وہ اس کے عظیم الشان ہونے کی دلیل ہوتی ہے، اُس کا مہتم بالشان ہونا معلوم ہوتا ہے، لہٰذا اس آیتِ کریمہ سے نظم ونسق کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں، نمازیوں یا پرندوں کی اُس حالت کا ذکر ہے جب وہ صف بستہ ہوں، قطار در قطار ہوں۔ 
نا واقفیت کی وجہ سے ہمارے بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ نظم ونسق کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ تو عصری تعلیم یافتہ لوگوں کا شعار ہے، حالانکہ نظم ونسق سب سے پہلے دین کا حصہ ہے، جن لوگوں نے بہتر نظم و نسق اس دنیا میں سیکھا ہے، وہ دین اسلام ہی سے سیکھا ہے، البتہ ہمیں یہ مغالطہ اس وجہ سے ہو جاتا ہے کہ غیر مسلم تو اسے سیکھ کر اپنی زندگی کا ایسا جز ولا ینفک بناتے ہیں کہ اُن کی پہچان ہی بہترین نظم ونسق  سے ہوتی ہے، جب کہ ہم اس کی اہمیت سے یکسر غافل رہتے ہیں۔ 
حکومت کی جانب سے ٹریفک کے مفید مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے میں کسی نہ کسی کے نقصان کا غالب گمان ہوتا ہے، اور بسا اوقات تو اسی بنا پر حادثات پیش آتے ہیں، جن میں کبھی کبھی کسی بےگناہ کی جان تک چلی جاتی ہے یا پھر کوئی اور جسمانی نقصان پہنچتا ہے یا کم از کم ذہنی اذیت تو ضرور ہوتی ہے اور قرآن پاک کے حکم کے مطابق کسی کو بلا وجہ جان بوجھ کر نقصان پہنچانا بالخصوص کسی مسلمان کو یہ بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: 
’’وہ لوگ جو بے قصور مؤمن مرد اور مؤمنہ عورتوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں تو وہ اپنے سر بہت بڑے گناہ کا بوجھ لے رہے ہیں۔‘‘(سورۃ الاحزاب: ۵۸) 
اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ‘‘ سچے، پکے اور کامل الایمان مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے مسلمان کو کسی طرح کا کوئی ادنیٰ نقصان بھی جان بوجھ کرنہ پہنچے، یہاں مسلمانوں کاذکراس لیے ہے کہ اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کا واسطہ اکثر مسلمان ہی کے ساتھ پڑتا ہے، اس لیے خصوصیت کے ساتھ مسلمان کا ذکر کیا گیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر مسلم کو ایذا پہنچانا جائز ہے، لہٰذاشرعاً کسی بھی انسان خصوصاً مسلمان کو بلاوجۂ شرعی جان بوجھ کر جانی، مالی اور ذہنی نقصان پہنچانا حرام ہے اور ٹریفک کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے میں ایذا رسانی یعنی دوسروں کو نقصان پہنچانے کا گناہ بھی پایا جاتا ہے۔ 
شریعتِ مطہرہ میں راستے کے حقوق، سوار اور سواری کے آداب و احکام وغیرہ کی بھی رہنمائی موجود ہے، جن پر عمل پیرا ہونے سے بہت سے جھگڑے، تنازع اور حق تلفی وغیرہ سے انسان بچ سکتا ہے۔ اسی طرح حدیث پاک میں بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ‘‘، ’’لوگوں میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔‘‘ یعنی لوگوں کو راحت پہنچانے والا ہو اور اپنی جانب سے کوئی نقصان لوگوں کو نہ پہنچے، اس کا خیال رکھنے والا ہو۔ 
مذکورہ آیت اور احادیث‘ حقوق العباد میں اصل اور بنیاد ہیں، جن کا حاصل یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں حقوق العباد کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان کسی کی بھی ایذا رسانی سے باز رہیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ تمام لوگوں کے لیے نفع رسانی کا سبب بنیں۔ ٹریفک، ڈرائیونگ اور گزرگاہ کے اُصول بھی حقوق العباد کا حصہ ہیں۔
اگر ٹریفک کے قواعد کی خلاف ورزی میں کسی کو بظاہر کوئی نقصان نہ پہنچے، جب بھی اس میں حق تلفی یعنی ایک مشترکہ سڑک کے ناجائز استعمال کرنے کا گناہ تو ضرور پایا جاتا ہے، اسلامی فقہ کی کتابوں میں یہ اُصول لکھا ہے کہ جو راستہ پرائیویٹ اور ذاتی نہ ہو، بلکہ عام اور مشترک ہو اس پر چلنا اور گاڑی چلانا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ دوسروں کو کسی طرح کی اذیت و تکلیف نہ دی جائے اور ان کی حق تلفی بھی نہ کی جائے، اس احتیاط کے بغیر عام اور مشترک سڑک کا استعمال جائز نہیں، اگر بے احتیاطی سے سڑک کا استعمال کرنے کے نتیجے میں کوئی حادثہ پیش آگیا تو مشتر کہ سڑک کے ناجائز استعمال کے گناہ کے علاوہ اُس حادثے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تاوان بھی شرعی نقطۂ نظر سے اس شخص کے ذمّے عائد ہوتا ہے جس نے بے احتیاطی کے ساتھ سڑک کا استعمال کیا۔ 
اس طرح غلط جانب چلنے کے نتیجے میں آنے والی گاڑیوں کا راستہ بھی رُک جاتا ہے، پھر گھنٹوں تک ٹریفک رُکی رہتی ہے۔اس قسم کی بے اُصولی سے سینکڑوں انسانوں کو کرب و عذاب میں مبتلا کرنے کا گناہ اس شخص پر ہے جس نے غلط سمت میں گاڑی لے جا کر اس صورت حال سے لوگوں کو دو چار کیا۔ 
حکومت کی جانب سے بنائے ہوئے ٹریفک کے مفید قواعد کی خلاف ورزی کرنے میں وعدہ خلافی کا گناہ بھی پایا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ جب کوئی شخص سڑک پر گاڑی چلانے کا لائسنس لیتا ہے تو وہ متعلقہ حاکم اور افسر کے سامنے فارم پر دستخط کر کے گویا تحریری اور زبانی بلکہ عملی طور پر بھی وعدہ کرتا ہے کہ وہ سڑک پر گاڑی چلاتے وقت تمام مقررہ قواعد کی پابندی کرے گا، اگر لائسنس کی درخواست دیتے وقت ہی وہ متعلقہ حکام کو یہ بتا دے کہ وہ ٹریفک کے اصول وقواعد کی رعایت نہیں رکھ سکے گا، تو ظاہر ہے کہ اُسے کبھی بھی لائسنس نہیں مل سکتا، جس کسی کو بھی لائسنس دیا جاتا ہے وہ اسی وعدے کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، چنانچہ اس کے بعد اگر کوئی شخص ٹریفک کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس میں وعدہ خلافی کا گناہ بھی ہوگا۔ قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان کو ہر طرح کے مباح عہد و پیمان کو نبھانے کا حکم فرمایا ہے: 
’’یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ‘‘ (المائدۃ:۱
’’اے ایمان والو! (اپنے) عہد پورے کرو۔‘‘
یاد رکھنا چاہیے کہ مؤمن بندہ ہر اس وعدے کا پابند ہوتا ہے جو خلافِ شرع نہ ہو، خواہ وہ وعدہ کسی سے بھی کیا ہو، وعدہ نبھانا ایمانی تقاضا ہے، اور وعدہ خلافی کرنا گناہِ کبیرہ ہے، وعدوں کے متعلق بھی قیامت میں سوال کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا: 
’’وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِ اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا‘‘ (الاسراء: ۳۴) 
’’عہد و پیمان کو مکمل طور پر نبھاؤ، بلاشبہ عہد و پیمان کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ 
الغرض ٹریفک کے مفید قواعد کی خلاف ورزی سے قبل اس بات کو نہ بھولیں کہ اس میں نقضِ عہد کا گناہ بھی پایا جاتا ہے۔ 
یہ سب انتظامی نوعیت کے وہ قوانین ہیں جن کا مقصد ہماری جان اور سواری کی حفاظت ہے، اور ظاہر ہے کہ جان و مال کی حفاظت ایک شرعی فریضہ ہے، لہٰذا حکومت حفاظتی نقطۂ نظر سے جو قوانین بنائے (بشرطیکہ وہ خلافِ شرع نہ ہوں) شرعاً اُن کی پابندی ضروری ہے اور خلاف ورزی کرنا گناہ ہے، اس لیے کہ حکومت کے بنائے ہوئے قانون کی حیثیت حکمِ حاکم کی ہے اورقرآن کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
’’یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ‘‘    (النساء: ۵۹) 
’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور تم میں سے اصحابِ اختیار ہیں اُن کی بھی اطاعت کرو۔‘‘
اہلِ ایمان کو رب العالمین نے اپنی اور اپنے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ اصحابِ اختیارکی اطاعت کا بھی حکم فرمایا۔ اس اطاعت سے مراد یہی ہے کہ حکام عمومی مصلحتوں کی بنیاد پر جو قواعد مقرر کریں (بشرطیکہ وہ شریعت کے خلاف نہ ہوں) ان کی پابندی کی جائے گی، ایسے قواعد کی پابندی بھی شرعاً ضروری ہے۔
الغرض حکومت نے ٹریفک کے جو اصول وقواعد مقرر کیے ہیں وہ بھی اسی نوعیت کے ہیں جن کو اصولِ فقہ کی اصطلاح میں’’مصالحِ مرسلہ‘‘ کہا جاتا ہے، اس لیے حکمِ حاکم کی وجہ سے ملک کے تمام باشندوں پر اُن کی پابندی شرعی نقطۂ نظر سے ضروری ہوگی اور ان کی خلاف ورزی میں حکمِ حاکم کی نافرمانی اور قانون شکنی کا گناہ پایا جاتا ہے۔ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین