
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہر اعتبار سے انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو کامل اور مکمل نمونہ ہے، چاہے وہ بیداری کی حالت ہو یا خواب کی۔ ہر نبی کی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب بھی حقیقت پر مبنی اور وحی کا حصہ ہوتے تھے۔ یہ خواب عام انسانوں کے خوابوں کی طرح نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی اور حکمت پوشیدہ ہوتی تھی۔ خوابوں کا تعلق اگرچہ غیر مرئی دنیا سے ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خوابوں کو حقیقت کے ساتھ گہرا ربط حاصل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب ہمیشہ سچے ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی اس بات کی وضاحت کرتا ہے:
’’الرؤیا الصالحۃ جزء من ستۃ وأربعين جزءًا من النبوۃ۔‘‘ (سنن الترمذي، کتاب الرؤیا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)
یعنی ’’نیک خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں خوابوں کی بڑی اہمیت رہی ہے، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت فرمائی، بلکہ اُمت کے لیے بھی کئی حقائق واضح کیے۔ ان خوابوں میں غیبی باتوں کی خبر، آنے والے واقعات کی پیشین گوئی اور اُمت کی فلاح و ہدایت کے پیغامات شامل ہیں۔ خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بعض اہم امور کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آشکار فرمایا، جیسے ہجرت کی خبر یا غزوۂ بدر میں دشمن کی تعداد کے بارے میں اطلاع۔
یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوابوں کا مطالعہ نہ صرف ایمان کو جِلا بخشتا ہے، بلکہ سیرت النبیؐ کے دیگر گوشوں کی طرح اس پہلو پر غور و فکر کرنے سے ہمیں بے شمار سبق اور رہنمائی میسر آتی ہے۔ ذیل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چندخوابوں کا ذکرکیاجاتاہے،جن میں مسلمانوں کے لیے رہنمائی ،اور ہدایت کا سامان موجود ہے۔
1-حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے خواب میں خودکو دیکھا کہ میں ایک مسواک سے دانت صاف کررہا ہوں، اس و قت دو آدمیوں نے (مسواک حاصل کرنے کےلیے) میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، ان میں ایک دوسرے سے بڑا تھا، میں نے وہ مسواک چھوٹے کو دے دی، پھر مجھ سے کہا گیا: بڑے کو دیں تو میں نے وہ بڑے کو دی۔‘‘ (صحیح مسلم، باب رؤیا النبي صلی اللہ علیہ وسلم)
اس سے مسواک کی اہمیت کا علم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک سے کتنی محبت تھی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری اُمت پر بہت مشقت پڑ جائے گی تو میں اُن کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حتمی امر کرتا۔‘‘ (بخاری)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کے دیتے وقت لوگوں کے مقام و مرتبہ اور حیثیت کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
2- ’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں، تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگواری ہوئی، پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اُڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔‘‘ (بخاري، کتاب التعبیر، باب إذا طار الشيء في المنام)
کنگن آزمائش یا فتنہ کی علامت تھے، اور ان کو پھونک مار کر اُڑانا ان فتنوں کے ختم ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے، لیکن دونوں کا خاتمہ اسلام کے مجاہدین کے ہاتھوں ہوا۔ یہ خواب اُمت کو جھوٹے دعویداروں کے فتنے سے خبردار کرنے اور ان کے خاتمے کی بشارت دینے کا ذریعہ تھا۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ فتنوں کے خلاف بیداری اور جدوجہد لازم ہے۔
3-’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر کا۔ پھر مجھے اُن کی غیرت و حمیت یاد آئی اور میں وہیں سے لوٹ آیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر بھی غیرت کروں گا؟‘‘ (بخاري، کتاب فضائل الصحابۃؓ، باب مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص القرشي العدوي رضي اللہ عنہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا محل خواب میں دیکھا، جو اُن کے بلند درجات کی نشانی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر جانے کا ارادہ کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت یاد آئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاطاً محل میں داخل ہونے سے گریز کیا۔ یہ خواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت اور ان کے جنتی مقام کی تصدیق کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جواب‘ اُن کی عاجزی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا عکاس ہے۔ یہ واقعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاقیات کی واضح دلیل ہے۔
4- ’’سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ رضی اللہ عنہم سے اکثر کیا کرتے تھے، ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ راوی کابیان ہے کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اُٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو، میں اُن کے ساتھ چل دیا، پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے، جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اُٹھالاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا، جیسا کہ پہلے تھا، کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نے ان دونوں سے پوچھا: سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہیں؟ فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو، آگے بڑھو۔ فرمایا کہ: پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا۔ (عوف نے) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء (راویِ حدیث) نے ’’فيشق‘‘ کہا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا، ادھر بھی اسی طرح چیرتا، جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی، پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ (اس طرح برابر ہو رہا ہے) فرمایا کہ میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ: آگے چلو، (ابھی کچھ نہ پوچھو) چنانچہ ہم آگے چلے، پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے، راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی۔ کہا کہ: پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی، جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ: چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ: ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے، میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا، جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا، جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا، وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ فرمایا کہ: میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرمایا کہ: انہوں نے کہا کہ: چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ: پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے، جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت، اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ: یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ: انہوں نے مجھ سے کہا: چلو آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے، اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ: میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ یہ بچے کون ہیں؟ فرمایا کہ: انہوں نے مجھ سے کہا کہ: چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا، ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھیے، ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا، وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ: دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی، اس کا پانی انتہائی سفید تھا، وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ: ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: میری نظر اوپر کی طرف اُٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا، فرمایا کہ: انہوں نے مجھ سے کہا کہ: یہ آپ کی منزل ہے۔ فرمایا کہ: میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، مجھے اس میں داخل ہونے دو۔ انہوں نے کہا کہ: اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے، لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے۔
فرمایا کہ: میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں، یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں؟ فرمایاکہ: انہوں نے مجھ سے کہا: ہم آپ کو بتائیں گے۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا، یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی، یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا، جو دنیا میں پھیل جاتی۔ اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں۔ وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا، وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہےاور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے، وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو (بچپن ہی میں) فطرت پر مر گئے ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہاں! مشرکین کے بچے بھی (ان میں داخل ہیں)۔ اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کیے، اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔‘‘ (بخاري، کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح)
اس خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف لوگوں کو مختلف بداعمالیوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا دیکھا، خاص طور پر نماز میں سستی کرنے والے، جھوٹ بولنے والے، زناکار مردوعورت، سود کھانے والے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائے۔