
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
۲۶؍ اپریل ۱۹۴۵ء
بگرامی خدمت حضرت الاستاذ أطال اللہ بقاءہٗ وأدام علینا برکاتہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
والانامہ موصول ہوا، احوالِ مکتوبہ سے واقف ہوا۔ مولانا عبد الرحمٰن صاحب مدظلہ کی بتائی ہوئی چیز نہ ملنے کا افسوس ہوا، خیر جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا ہے وہی کافی اور شافی ہے، آپ کا ممنون اور متشکّر ہوں۔
طبیعت آپ حضرات کی دعاء خیر اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے رُو بصحت ہے، ایک پیٹنٹ پاؤڈر سے بہت فائدہ ہوا، اس کا استعمال اب تک جاری ہے، اُمید ہے کہ حضرت والا شفاء کلی کے لیے دعا فرمائیں گے۔ گرمی اور بارش کا زمانہ ختم ہو رہا ہے، سردی آہستہ آہستہ آرہی ہے، اِمسال بارش کے وقت پر نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار میں کچھ کمی ہے، مگر پھر بھی خدا کا شکر ہے کہ یہ ملک بنسبت اور ممالک کے آسودہ حال ہے۔
مولوی قاسم طیب صاحب کے خط سے مولانا احمد رضا صاحب مدظلہ کی اہلیہ کے انتقال کی دردناک خبر معلوم ہوئی، خدائے تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے، اور مولانا کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین!
یورپ کی لڑائی قریبُ الختم ہے، کل سے سان فرانسسکو کانفرنس(۲)بھی شروع ہوگئی ہے، دیکھیے! کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟ چرچل(۳) کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ امسال پیسیفک کی جنگ بھی ختم ہوجائے گی۔
’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ سے حکومتِ نصاریٰ کا قیام قربِ قیامت تک معلوم ہوتا ہے، ’’اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ کے قرینہ سے فوقیتِ دنیوی ہی مراد ہے، کیا بادشاہت کے علاوہ اور بھی فوقیت دنیویہ کی ہوسکتی ہے؟ ’’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘‘ میں مسلمان بھی یقیناً شامل ہیں، اس لیے کہ حقیقی معنی میں متبعین یہی ہیں، پھر یہ ذلت وخواری کیوں ہے؟ خصوصاً جبکہ ’’اِلٰی الخ‘‘ کے لفظ سے دوامِ فوقیت ثابت ہو رہا ہے۔ اُمید ہے کہ حضرت والا جواب سے مطمئن فرمائیں گے۔ بوقتِ تلاوت اس آیت پر غور کرنے سے یہ شبہات پیدا ہوئے، اس لیے حضرت والا سے درخواست ہے کہ جواب سے نوازش فرمائیں گے۔(۴)
اس وقت ایک ضرورت پیش آئی ہے، وہ یہ ہے کہ ’’نوجوت‘‘ (جو مجوسیوں کی کوئی رسم ہے) کی حقیقت معلوم کی جائے کہ یہ کیا ہے؟ اور ’’رسمِ نوجوت‘‘(۵) میں شرکتِ مسلمین جائز ہے یا نہیں؟(۶)
دوسرا مسئلہ بلیک مارکیٹ کا ہے، اس سے آپ خوب واقف ہوں گے، اس لیے کہ یہ ہندوستان میں بھی رائج ہے، کیا یہ شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہے؟ اُمید ہے کہ حضرت والا تکلیف معاف فرماکر ان کے جوابات سے بندہ کو تشفی بخشیں گے۔(۷)
مولانا حبیب اللہ صاحب کا نہایت تہہ دل سے متشکّر ہوں کہ انہوں نے میرے شکستہ اشعار کی اصلاح فرمادی، جزاھم اللہ خیرا۔
مولوی میاں صاحب(۸) کا ہاسٹل ترقی پر ہے، انہوں نے ’’لورنسو مارکس‘‘ میں ایک فارم ایک سو چالیس ہزار پونڈ میں خریدا تھا، پہلے ہی سال اس کی پیداوار ایک سو چالیس ہزار پونڈ کی ہوئی، یہ تمام پیسے بلکہ اس فارم کی جمیع آمدنی ہاسٹل میں صرف کی جائے گی۔ ان کا ارادہ ہے کہ عمارتِ موجودہ کی مثل تین اور عالی شان عمارتیں بنائی جائیں، اور تعلیمِ بنات المسلمین کے لیے خصوصی انتظام کیا جائے۔ گو تعلیمِ نسواں کا انتظام فی الحال بھی ہے، مگر چھوٹے پیمانے پر۔ مولوی میاں صاحب لا وارث، یتیم اور نادار لڑکیوں کی تمام ذمہ داریاں خود برداشت کرتے ہیں، لڑکی کے جوان ہونے کے بعد مناسب مکان میں اس کا عقد بھی کرا دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ رفتہ رفتہ یہ مدرسہ بہت ترقی کرے گا، عربی تعلیم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک بچے اس درجہ کو پہنچے نہیں ہیں، اس لیے کہ مولوی میاں صاحب چھوٹے بچوں ہی کو اپنے مدرسہ میں داخل کرتے ہیں، تاکہ وہ ایک مدت تک وہاں رہ کر اس ماحول کے اثرات کو قبول کریں، صرف اتنا افسوس ہے کہ وہ اساتذہ نہیں ہیں جو ان بچوں میں وہ رنگ چڑھا دیں جو مدارسِ اسلامیہ میں اساتذہ کرام اپنے شاگردوں میں چڑھادیتے ہیں۔ خدا کرے کہ علماء کی ایک ایسی جماعت کا یہاں ایک مجمع ہوجائے، (شاید مشکل ہے)۔
تمام واقفین کو سلام عرض ہے، خصوصاً مہتمم صاحب، ان کے صاحب زادے، حاجی ابراہیم میاں صاحب، مولوی حبیب اللہ صاحب، مولوی عبد الشافی صاحب، بھائی پٹیل صاحب، بایزید، مولوی احمد نانا صاحب، مولوی قاسم طیب صاحب، مولوی قاسم بھیات ودیگر اساتذہ کرام۔ فقط والسلام
آپ کا شاگرد قاسم محمد سِیْما
۱- مولانا قاسم محمد سیما رحمۃ اللہ علیہ (نیوکاسل، جنوبی افریقہ) کے باسی، جامعہ تعلیم الدین (ڈابھیل) کے فاضل اور والد ماجد حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے تھے، ’’مجلسِ علمی‘‘ (ڈابھیل) سے بحیثیت محقق متعلق رہے، اور حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کے زیرِ اِشراف علامہ نیموی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’آثار السنن‘‘ پر علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے حواشی ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ کے ایک جزء پر کام کیا۔ ۱۹۴۴ء میں اپنے جنوبی افریقہ چلے گئے، ۱۹۴۷ء میں دار العلوم نیو کاسل کی بنیاد ڈالی، اس کے علاوہ بھی مساجد ومدارس میں ان کا کردار رہا۔ زندگی بھر مختلف علمی، اصلاحی، تبلیغی اور سماجی کاموں میں مشغول رہے۔ ۹؍ جون ۲۰۰۷ء کو راہیِ سفرِ آخرت ہوئے۔
۲-سان فرانسسکو (San Francisco) امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا (California) کا شہر ہے، اور تجارتی وثقافتی لحاظ سے شمالی کیلی فورنیا کا اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ کے نام سے ایک بین الاقوامی تنظیم قائم کی گئی، اور اقوام متحدہ کا چارٹر مرتب کرنے کے لیے ۲۵؍ اپریل ۱۹۴۵ء کو سان فرانسسکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی، اور اس کانفرنس کے دوران بحث کے بعد چارٹر کا مسودہ تیار کیا گیا، بعد ازاں اس چارٹر کے ہر حصہ کی دو تہائی منظوری کے بعد، حتمی متن کو مندوبین نے متفقہ طور پر منظور کیا اور ۲۶؍جون ۱۹۴۵ء کو دستخط کے لیے پیش کردیا گیا، اور اس پر ۵۱ ؍رکن ممالک میں سے ۵۰؍ ملکوں کے نمائندوں نے سان فرانسسکو میں دستخط کیے تھے۔
۳-ونسٹن چرچل، ایک معروف برطانوی سیاست دان۔
۴- حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی ہے:
’’چوتھا وعدہ: ’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ میں ہے کہ آپ کے متبعین کو آپ کے منکروں پر قیامت تک غالب رکھا جائے گا، یہ وعدہ اس طرح پورا ہوا کہ یہاں ’’اتباع‘‘ سے خاص اتباع مراد ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا اعتقاد اور اقرار مراد ہے، ان کے سب احکام پر ایمان و اعتقاد کی شرط نہیں، تو اس طرح نصاریٰ اور اہلِ اسلام دونوں اس میں داخل ہو گئے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ور سالت کے معتقد ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ صرف اتنا اعتقاد نجاتِ آخرت کے لیے کافی نہیں، بلکہ نجاتِ آخرت اس پر موقوف ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے تمام احکام پر اعتقادو ایمان رکھے، اور عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی اور ضروری احکام میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کے بعد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پربھی ایمان لائیں، نصاریٰ نے اس پر اعتقاد و ایمان اختیار نہ کیا، اس لیے نجاتِ آخرت سے محروم رہے، مسلمانوں نے اس پر بھی عمل کیا، اس لیے نجاتِ آخرت کے مستحق ہو گئے، اور ’’منکرین‘‘ سے مراد یہود ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے منکر تھے، پس حاصل آیت کا یہ ہوا کہ امتِ محمدیہ اور نصاریٰ ہمیشہ یہود پر حاکم اور غالب رہیں گے، چنانچہ جلدی یہ وعدہ پورا ہوا، یہود ذلیل وخوار ہوئے اور ان کی سلطنت برباد ہوئی ، غرض دنیا میں یہودیوں پر غالب رہنے کا وعدہ صرف عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر موقوف تھا۔ وہ دنیا کا غلبہ نصاریٰ اور مسلمانوں کو بمقابلہ یہود ہمیشہ حاصل رہا اور یقیناً قیامت تک رہے گا ۔
جب سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا اس وقت سے آج تک ہمیشہ مشاہدہ یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ یہود کے مقابلہ میں ہمیشہ نصاریٰ اور مسلمان غالب رہے، انہیں کی حکومتیں دنیا میں قائم ہوئیں اور رہیں۔آج تک جہاں کہیں یہود ہیں یا تو نصاریٰ کی رعایا ہیں یا اہلِ اسلام کی اور قیامت کے قریب تک ایسے ہی رہے گا، صرف چالیس دن کے لیے دجال کا جو کہ یہود کا سرگروہ ہے ایک گونہ شرو فساد پھیلے گا، لیکن اول تو وہ فوراً مٹ جائے گا، پھر کوئی باضابطہ امن واطمینان سے حکومت نہ ہوگی، اور محض ایسی عارضی شورش کو سلطنت نہیں کہہ سکتے، اسی طرح بعض نے جو مؤرخ مسعودی سے بعض عباسیوں کے زمانہ میں یہود کی کچھ چھوٹی چھوٹی حکومتیں نقل کی ہیں وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی سلطنتوں کے مقابلہ میں اس قابل نہیں کہ اس کو ان دونوں کے برابر یا ان پر غلبہ کہا جاسکے، بلکہ اس حالت میں بھی ان دونوں کو غالب اور یہود کو مغلوب ہی کہا جائے گا جس کا اس آیت میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ‘‘ (آسان بیان القرآن ، تسہیل و ترتیب: از مولانا عمر انور بدخشانی، ص:۱۶۸-۱۶۹)
مذکورہ آیت کے تناظر میں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہود کی موجودہ حکومت سے اس آیت میں درج وعدہ پر اشکال‘ علمی اعتبار سے درست نہ ہوگا؛ کیونکہ ان کی یہ غاصبانہ ریاست دیگر عالمی قوتوں کے سہارے کھڑی ہے، اور ان کی تائید اور مدد کے بغیر ایک دن کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر اس کو ان کی اپنی حکومت مان بھی لیا جائے تب بھی نصاریٰ اور اہلِ اسلام کے مجموعہ کے مقابلہ میں ان کے مغلوب ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نیز قربِ قیامت میں یہود کے چند روزہ غلبہ کا ذکر تو روایات میں بھی ملتا ہے، لیکن حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ایسی چند روزہ ریاست کو شورش تو کہا جا سکتا ہے، حکومت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ واللہ اعلم
۵- نوجوت (Na رحمۃ اللہ علیہ jote) زرتشت (مجوسی یا پارسی) مذہب کی ایک اہم ترین مذہبی رسم ہے، جو بچے یا بچی کے مذہبِ زرتشت میں باضابطہ داخلے یا بلوغت کی علامت ہوتی ہے۔
۶-چونکہ نوجوت، مجوسیوں کی ایک مذہبی اور غیر شرعی رسم ہے، مسلمانوں کے لیے اس میں شرکت جائز نہیں۔
۷- بلیک مارکیٹ یعنی غیر قانونی خرید وفروخت کے متعلق اصولی طور پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ :
’’حکومت کے ایسے قوانین جو ملک کے جائز انتظامی قوانین کا حصہ ہیں جو عوام کی فلاح وبہبود پر مبنی ہیں، اور امورِ مباحہ میں سے ہیں تو ایسے قوانین میں رعایا کو شریعت نے تاکید کے ساتھ پابندی کا حکم دیاہے، اس لیے کہ کسی بھی ریاست میں رہنے والا شخص اس ریاست میں رائج قوانین پر عمل درآمد کا (خاموش) معاہدہ کرتاہے، اور جائز امور میں معاہدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا چاہیے؛ اس طرح کے جائز امور سے متعلق قانون کی خلاف ورزی گویا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے شریعت نے منع کیا ہے۔ نیز قانون شکنی کی صورت میں مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو ذلت کے مواقع سے بچانا شرعاً ضروری ہے۔‘‘ (دیکھیے: دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے جاری شدہ فتویٰ نمبر:۱۴۴۱۰۴۲۰۰۶۲۵)
۸- بظاہر مولانا محمد بن موسیٰ میاں رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں، جو علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگرد تھے اور والد ماجد حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی خاص تعلق رکھتے تھے، مجلسِ علمی (ڈابھیل، افریقہ، کراچی) کے سرکردہ حضرات میں سے تھے۔ حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کے نام ان کے مکاتیب ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں قسط وار شائع ہوچکے ہیں۔