بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

مکاتیب بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  از حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر  رحمۃ اللہ علیہ   

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ


مکاتیب بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

از حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر  رحمۃ اللہ علیہ   


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر   رحمۃ اللہ علیہ   بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ   

قاہرہ
بروز منگل
۲۲؍ ربیع الثانی ۱۳۹۱ھ
۱۵ /۶ /۱۹۷۱ء
سيدي ومولاي أدامکم اللہ بالصحۃ والعافيۃ! 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ کا والا نامہ باعثِ شرف ہوا، آنکھوں کی ٹھنڈک اور اطمینانِ قلب کا سبب بنا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مدرسہ (آپ کی مشفقانہ وکریمانہ تعبیر کے مطابق: ہمارا مدرسہ) علمی وروحانی اعتبار سے آگے بڑھ رہا ہے، اور الحمدللہ اہلِ علم واہلِ قلوب کا مرکز بن چکا ہے، یہ اللہ کا فضل اور اس کے مؤسّس حفظہ اللہ کے اخلاص کی برکت ہے۔ مسرت ہوئی کہ عارف باللہ شیخ عبد العزیز (رائے پوری) حفظہ اللہ (۱)مدرسہ میں تشریف لائے اور کئی اساتذہ ان سے بیعت ہوئے، اللہ تعالیٰ ایسے حضرات کو بڑھائے، ان کے اور میرے علم، روحانیت اور اخلاق میں اضافہ فرمائے؛ تاکہ مدرسہ، منبعِ علوم ومعارف بن جائے۔ 
سیدي! ناقص کتابوں کی فہرستیں ’’المجلس الأعلی للشؤون الإسلاميۃ‘‘(۲) کو پیش کردی ہیں؛ تاکہ انہیں اشاعت کے وقت بقیہ اَجزاء ارسال کرنے میں سہولت ہو، اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ جب طباعت ہوگی تو ان شاء اللہ بھیج دیں گے۔ 
آپ نے مجلس (المجلس الأعلٰی) اور دار التصنیف (جامعہ) میں معاہدے کے بارے میں دریافت فرمایا تھا اور کیا مجلس سے مصحف کے متعلق کچھ چھپا ہے یا نہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ (اس موضوع پر) مجلس سے کچھ نہیں چھپا، لیکن آپ دارالتصنیف کو لکھ دیجیے کہ ہم اپنے معاہدے پر قائم ہیں، جب دار التصنیف طباعت کے لیے کوئی کتاب بھیجے گا (خط میں اس کی صراحت ہونی چاہیے) تو ہم وہ کتاب نگران کمیٹی (لجنۃ الإشراف) کو پیش کریں گے اور کمیٹی کی موافقت کے بعد اسے شائع کریں گے، اور دار التصنیف کو بھی (نسخوں کی) مطلوبہ تعداد بھیج دیں گے۔ 
رہا سندوں اور مناہج (نصابات) کے معادلہ کا مسئلہ تو یہ کام آئندہ ماہ مکمل ہوجائے گا، ان شاء اللہ! اسی ماہ پورا ہوجاتا، لیکن جامعہ ازہر میں سالانہ امتحانات شروع ہوگئے، کمیٹی کے ممبران امتحانات کی نگرانی میں مشغول ہوگئے، اور مجلسِ مشاورت‘ امتحانات کے بعد تک مؤخر ہوگئی۔ 
میں نے متعدد موضوعات پر ڈاکٹریٹ کے مقالات کا مطالعہ شروع کردیا ہے، تاکہ اسلوب پہچان لوں، اور موضوع کی خُطہ سازی میں استفادہ کروں۔ نیز ازہر کے مشائخ سے ملاقات کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن یہ حضرات ان دنوں ملکی دستور کے مسئلہ میں مصروف ہیں، خاص طور پر ان کے الفاظ کے مطابق ’’اخلاقیات‘‘ میں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں اس کام کی توفیق بخشے جس میں دنیا وآخرت کی خیر ہو۔ 
پچھلے دنوں قاہرہ میں جو واقعہ پیش آیا، اس کی حقیقت وہی ہے جو (مصر کے) صدر صاحب نے بیان کی اور اخبارات نے شائع کی ہے۔ تخریبی خیالات کے حامل ایک گروہ نے حکومت پر قبضہ کی خفیہ سازش کی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمایا، اور ان کی سازش اور عزائم کی حقیقت قبل از وقت کھول دی، ان لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا، اب کیس دائر ہوچکا ہے، قوم نے بھی سکھ کا سانس لیا، گویا ان کے پاؤں کی بیڑیاں کھل گئیں؛ کیونکہ ان لوگوں نے قوم کی آزادی سلب کر رکھی تھی، ان کے متعلق من مانے اقدامات کرتے تھے، گویا صدر صاحب کے الفاظ میں: ریاست میں ایک دوسری ریاست تھی۔ ان صدر صاحب کو ہم مخلص مومن اور بہی خواہ سمجھتے ہیں، اور ان سے بہت اُمیدیں ہیں، اللہ تعالیٰ سے ان کی توفیق ودرستی کے لیے دعاگو ہیں۔ 
شیخ عبد المنعم (۳) کو آپ کی کتاب ’’نفحۃ العنبر‘‘ پہنچ گئی ہے، وہ آپ کا بہت شکریہ ادا کر رہے تھے، اور شکریہ میں تاخیر پر معذرت خواہ تھے۔ جب سے وہ سفر پر گئے بیمار رہے، کراچی میں بھی علیل تھے، کافی عرصہ بعد ادارے میں تشریف لائے، اب بھی بیمار ہیں۔ انہوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تفسیر میں ’’اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ہَادُوْا الآيۃ‘‘ (البقرۃ: ۶۲) اور دیگر متعدد آیات مثلاً ’’لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ۔۔۔‘‘ (البقرۃ: ۲۸۵) کا تقابلی مطالعہ کیا، لیکن (اس تناظر میں) مولانا آزاد پر آپ کی تنقید سمجھ نہیں پائے۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو شاید آپ نے ایک بار ذکر کیا تھا کہ آپ کے اور مولانا آزاد کے درمیان علمی مسائل میں مراسلت ہوئی تھی، اگر آپ از راہِ کرم اس کا حاصل بتادیں تو یہ بحث زیادہ واضح ہوجائے گی۔(۴)
ڈاکٹر محمد توفیق عویضہ (۵) اور مجلس میں ان کے رفقاء آپ کو انتہائی تعظیم اور قدردانی کے ساتھ دلی سلام پیش کر رہے ہیں، مجھے ان کی جانب سے کامل توجہ اور راحت حاصل ہے، کاش کہ ازہر کی منتظمہ بھی مجلس کی انتظامیہ کی مانند ہوتی۔ 
لندن سے سید عبد المعید کا خط موصول ہوا ہے، وہ نائیجریا سے سفر پر نکل چکے ہیں، اس وقت اندلس (اسپین) سے گزر رہے ہیں، (اندلس میں مسلمانوں کے) ان آثار کے مشاہدے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اقبال کے اشعار دہرا رہے تھے۔ اب وہ بعض یورپی ممالک کی سیاحت کر رہے ہیں، پھر سعودیہ وعراق کے راستے پاکستان لوٹیں گے، اور شاید جدہ جاتے ہوئے قاہرہ سے ان کا گزر ہوگا۔ 
ٹکٹ کی رقم پیش کرنے میں کوتاہی پر معذرت خواہ ہوں، مجھ سے غلطی ہوئی، نہ معلوم کیسے ہوگئی، جبکہ میں آپ کی کریمانہ توجہات میں ڈوبا ہوا ہوں! وجہ یہ ہوئی کہ قاہرہ میں آپ کی بابرکت موجودگی کے دنوں میں کاغذات کو اچھی طرح نہ دیکھا، آپ کی روانگی کے بعد جب دیکھا تو افسوس ہوا اور اپنی کوتاہی پر حتیٰ کہ آپ کا شکریہ بھی ادا نہ کرنے پر شرمندگی ہوئی۔ بہرحال آپ کے کریمانہ اخلاق کی بنا پر درگزر کی اُمید ہے، آپ نے ہمیشہ سے ہمیں بھی اسی رویہ کا عادی بنایا ہے، اور عفو ودرگزر تو شرفاء کا شیوہ ہے،، جزاکم اللہ عني کل خیر۔ وطن میں خاندان اور اہلِ خانہ بھی آپ کے شکرگزار ہیں، دلوں کی گہرائی سے آپ کے لیے دعاگو ہیں، اور انتہائی احترام سے آپ کی خدمت میں سلام کہتے ہیں۔ 
محترم آغا جی (مولانا محمد زکریا بنوری  رحمۃ اللہ علیہ ) کو میرا سلام اور دعاؤں کی درخواست! اساتذہ کرام، بھائی محمد سلّمہ اور مولانا محمد طاسین کو بھی سلام، حاجی داود وحاجی عبد المجید صاحبان کو دلی سلام اور ان کے بچوں کی شادی پر قلبی مبارک باد۔ عارف باللہ شیخ عبد العزیز مدرسہ میں موجود ہوں تو ان کی خدمت میں سلام اور دعاؤں کی درخواست۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ!
                                                 آپ کی دعاؤں کا طلب گار 
                                                        عبد الرزاق
نوٹ: یہ خط عربی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے۔ 

حواشی

۱- حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری  رحمۃ اللہ علیہ  ‘حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے حقیقی نواسے اور خانقاہ رائے پور کے تیسرے مسند نشین تھے، ان کی ولادت ۱۰؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۶؍ جولائی ۱۹۰۵ء بروز جمعہ کو ہوئی۔ مظاہرِ علوم سہارن پور میں تعلیم پائی، ۱۹۲۴ء میں تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے تلامذہ میں سے ہیں۔ اونچی خاندانی نسبت کے باوجود نصف صدی کے لگ بھگ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے خادم کی حیثیت سے خانقاہ کے اُمور انجام دیتے رہے۔ اور حضرت کے وصال (۱۹۶۲ء) کے بعد خانقاہ کا نظم سنبھالا، تیس برس تک مسند نشیں رہے۔ علمی وفکری اعتبار سے اکابرِدیوبند کے منہج پر گامزن تھے۔ والد ماجد حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے ساتھ گہرے مراسم تھے اور اس تعلق کے ناطے جامعہ میں ان کی آمد ورفت اور قیام کا سلسلہ رہا۔ ۳؍ جون ۱۹۹۲ء کو سفرِ آخرت پر روانہ ہوئے، اور رائے پور میں اپنے نانا حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ  کے پہلو میں تدفین عمل میں آئی۔ دیکھیے: بزرگانِ رائے پور از مفتی محمد مسعود عزیزی ندوی، شعبہ نشر واشاعت مدرسہ فیض ہدایت، رائے پور، ضلع سہارن پور، انڈیا۔
۲-مصر کی وزارتِ اوقاف کے تابع ایک علمی وتحقیقی ادارہ۔
۳- جامعہ ازہر کے سابق استاذ اور ’’مرکز الدراسات الإسلاميۃ‘‘ (جامعہ ازہر) کے سابق رئیس، حضرت والد ماجد  رحمۃ اللہ علیہ  سے محبت کا تعلق رکھتے تھے۔ ۱۶؍ اگست ۲۰۱۶ء کو ۸۴ برس کی عمر میں راہیِ سفرِ آخرت ہوئے۔ 
۴- والد ماجد حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب ’’يتيمۃ البيان في شيء من علوم القرآن‘‘ میں مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم کی تفسیر پر علمی نقد کیا گیا ہے، اسی جانب اشارہ ہے، تفصیل کے لیے اصل کتاب ’’يتيمۃ البيان‘‘ (شائع شدہ از مجلس دعوت و تحقیق) یا اس کا اردو ترجمہ ’’اصولِ تفسیر وعلومِ قرآن‘‘ (شائع شدہ از مکتبہ بینات) ملاحظہ فرمائیے۔ 
۵- ’’المجلس الأعلی للشؤون الإسلاميۃ‘‘ (مصر) کے بانی، مصر کے سابق وزیرِ مملکت، اور متعدد اداروں میں مختلف مناصب پر فائز رہے۔ ۳؍ ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ مطابق ۲۳؍ جنوری ۲۰۱۵ء کو وفات پائی۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین