
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
والد ماجد علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے ڈابھیل کے زمانۂ قیام میں مجلسِ علمی (ڈابھیل) کی جانب سے مصر وحجاز کا سفر (۱۳۵۶ھ - ۱۳۵۷ھ) طے ہوا، اس سفر کے رفیق مولانا احمد رضا بجنوری رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے۔ والد ماجدؒ کا مزاج تھا کہ ہر اہم معاملہ میں استشارہ واستخارہ ضرور فرماتے تھے، چنانچہ اس سفر کے بارے میں مشاورت کے لیے اپنے والد اور ہمارے جد امجد مولانا سید محمد زکریا بنوری رحمۃ اللہ علیہ کو خط لکھا، جو اس زمانہ میں تجارتی سلسلہ میں کابل (افغانستان) میں مقیم تھے، اور وہیں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے رازدار ومعتمد شاگرد اور جہاں دیدہ شخصیت مولانا محمد منصور میاں غازی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ان کی رسم وراہ بڑھی، اور دیرینہ تعلق پیدا ہوا۔ جد امجد نے اس اہم معاملہ میں ان سے مشاورت مناسب سمجھی، انہوں نے اپنی رائے تحریری صورت میں قلم بند فرمائی، اور جدامجد نے بھی اس سے موافقت فرمائی۔
برادرم گرامی قدر جناب مولوی سید محمد یوسف صاحب زادت فیوضہٗ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
آپ کا راحت نامہ جناب محترم صاحب زادہ صاحب (۲)نے دکھایا، نہایت خوشی حاصل ہوئی۔ جناب موصوف نے فرمایا کہ مشورہ طلب اُمور کا جواب آپ کو میں لکھوں۔
آپ نے حج کے متعلق اور سفرِ مصر کے بارے میں رائے طلب کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ انسان، سفر اور سیاحت کے ذریعہ سے انسان بنتا ہے، علی الخصوص جبکہ مملکتِ سفر، علم وعلماء اور ہوش مندوں کی مملکت ہو تو وہ سفر بالکل کیمیا اثر ہوتا ہے، اور اس سے طلائی منافع اور آبِ زر سے لکھنے کے قابل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ موقعِ سفر اور وہ بھی مصر جیسی بلند مملکت کی طرف آپ کو میسر ہوتا ہے، یہ محض خدائے کریم کے خاص انعامات میں سے ہے، جو آپ کے لیے عطا ہوا ہے، اس انعامِ الٰہی پر ہم بھی شکرِ خدائے کریم ادا کرتے ہیں، آپ بھی اس پر شکر ادا کریں، مگر عملی!
سفرِ حج چونکہ اس سفرِ کیمیا اثر کا ضمیمہ ہے، اس لیے وہ بھی قابلِ قبول ہے، اس سفر کو ضرور اختیار کریں، اور اس کو اپنے نقصانات کے پورا کرنے کا کامیاب وسیلہ بنائیں۔
اگرچہ ضرورت نہیں، مگر تطوّعاً لکھتا ہوں کہ اس سفر میں امورِ ذیل پیشِ نظر رہیں:
اول: آپ کو علومِ عقلیہ ونقلیہ کافی حد تک حاصل ہیں، مگر وہ بطرزِ قدیم ہیں، اور قدیم علومِ نقلی کے لیے آپ کو محققینِ تازہ کی صحبت ڈھونڈنا چاہیے، اور علومِ عقلی قدیم کے بجائے علومِ عقلی تازہ میں سے ایک دو علم کو منتخب کرکے زمانۂ قیام میں انہیں حاصل کرنا چاہیے۔ علومِ عصریہ میں میرے نزدیک نظری فنون کی بنسبت عملی فنون لازمی ہیں، بالخاصہ فنونِ تنظیمی ودولتی۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ اس سفر میں فنونِ دولتی کے متعلق کافی مہارت حاصل کریں گے، اور وہ بھی قانون سے تنظیم اور اصولِ ادارہ کے متعلق؛ کیونکہ مسلمان آج ضعیف ترین قوم ہے، اور ان کا یہ ضعف صرف ضعفِ تنظیم اور ضعفِ ادارہ کی راہ سے آیا ہے، اس لیے ترقیِ عالمِ اسلام کے لیے صرف اسی حصہ کی تکمیل ضروری ہے۔
آپ کو چاہیے کہ مولوی حامد صاحب (۳) سے میری تالیفات (انواع الاول، حکومتِ الٰہی، تفسیر مجمل فاتحہ) منگا کر مطالعہ کریں، ان سے آپ کو ابتدائی معلومات حاصل ہوں گی، آپ مصر میں اس فن کی تکمیل کریں۔
اس کے علاوہ تفسیر کے متعلق جو اسلوب اس آوارہ کو عطا ہوا ہے، وہ دنیا کو غالباً اب تک نہیں ملا، وہ یہ کہ قرآنِ حکیم سے دستورِ حکومتِ الٰہی کو استنباط کرکے اس کی فضیلت، اصولِ دولی عصری کے ذریعہ سے تمام دولی اصولِ غیر الٰہی پر ثابت کرنا۔ یہ علوم حضرت شاہ ولی اللہ (دہلوی) وحضرت قاسم الخیرات (مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہما اللہ) کا نتیجہ وعطر ہے۔ اگر آپ اس اسلوب کو وہاں کے محققین کے ہاں نہ دیکھیں تو سعی کرکے اس نظر کو ان میں پیدا کریں، یہ آپ کا اور آپ کے اساتذہ کا فیض ہوگا جو اہلِ مصر کو آپ کے ذریعہ پہنچے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ!
باقی رہا جناب محترم صاحب زادہ صاحب کا معاملہ؛ اس کے متعلق سمجھنے کی سعی آپ کرنا چاہتے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ معاملہ ایک دریا بن گیا ہے، جس کی نہ تہہ معلوم ہے اور نہ اس کی روانگی کی بندش کی ابھی تک کوئی تدبیر معلوم ہوسکی ہے، کوششِ بشری پوری جاری اور تازہ بہ تازہ ضروریات کے مطابق نو بہ نو اقدامات کیے جارہے ہیں، مگر انسان کیا اور اس کی سعیِ ضعیف کیا! ہنوز روزِ اول ہے، اور یہ بھی نہیں ہوتا کہ کامیابی سے مایوسی ہوجائے، اس لیے اس کو چھوڑا بھی نہیں جاسکتا: ’’نہ پائے رفتن و نہ جائے ماندن‘‘ والا معاملہ ہے، تدابیرِ ظاہری جاری ہے اور تدابیرِ دعائی کی اس کے لیے سخت ضرورت! امید ہے کہ انفاسِ طیبہ سے اس کے متعلق دعا زیادہ سے زیادہ طلب کریں گے، خدا تعالیٰ بفضل وقوتِ خود ہم کو اس آزمائش سے رستگاری بخشے، آمین ثم آمین!
حمید میاں (۴)، جلال آباد میں بخیر ہیں، اور زمین کی آبادی (کی) جدوجہد میں وہ تقریباً ناکام! آج تک ایک پیسہ کی آمدنی نہیں ہوئی، وہ آمدنی سے زیادہ اس پر صرف کرتے ہیں، مجھ پر اس راہ سے چار ہزار افغانی کا قرض ہوچکا ہے، خدا ہی اپنے کرم سے اس قرض سے نجات عطا فرمائے، آمین ثم آمین!
باقی عافیت ہے، بخدمت حضرت مولانا عبد الرحمٰن صاحب(۵)، قبلہ حضرت بابا مولانا سراج(۶)، مولانا احمد بزرگ (۷)، اور جملہ اساتذہ کرام (سے) سلامِ مسنون عرض ہے اور طلبِ دعا۔
فقط والسلام
منصور انصاری عفا عنہ (کابل)
۱- مولانا محمد منصور میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ ، دار العلوم دیوبند کے فاضل، جید عالم دین، سیاسی رہنما اور تحریک آزادیِ ہند کے عظیم مجاہد گزرے ہیں، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریکِ ریشمی رومال کے صفِ اول کے قائد، بلکہ اس تحریک کی منصوبہ سازی میں شیخ الہندؒ کے دست راست اور ان کے قابلِ اعتماد شاگرد تھے۔ اسی تحریک کے سلسلہ میں سرزمینِ حجاز گئے، پھر ہجرت کا عزم کرکے افغانستان میں مقیم ہوگئے تھے۔ ان کی کئی کتابیں ہیں، مثلاً: تفسیرِ مجملی سورۃ الفاتحہ، مراقبہ نماز، انواع الدول و حریت الملل، حکومتِ الٰہی، ضرورتِ ترجمۂ قرآن (فارسی) وغیرہ۔ انہوں نے شیخ الہندؒ کے ترجمہ قرآن اور تفسیری فوائد کا فارسی میں ترجمہ کروا کر ’’تفسیرِ کابلی‘‘ کے عنوان سے کابل سے شائع کروایا۔ ۸ ؍صفر ۱۳۶۵ھ مطابق ۱۱؍ جنوری ۱۹۴۶ء کو کابل (افغانستان) میں وفات پائی، اور تدفین جلال آباد کے ایک معروف قبرستان میں ہوئی۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’مرج البحرین‘‘ سوانح شیخ الاسلام مولانا عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ ، از مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مدظلہم، ص:۲۲۵-۲۲۶، اقرأ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (شکاگو امریکہ، وممبئی انڈیا)۔ نیز ’’سدا مہاجر‘‘ سوانح مولانا منصور غازی رحمۃ اللہ علیہ ، از ڈاکٹر عبید اقبال عاصم، اقرأ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (شکاگو امریکہ، وممبئی انڈیا)۔
۲- جد امجد مولانا سید محمد زکریا بنوری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں۔
۳- مولانا محمد منصور میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے، مولانا حامد میاں انصاری، جو مولانا حامد الانصاری غازی کے نام سے معروف ہوئے، عظیم مفکر اور صحافی تھے، متعدد اخبارات وجرائد میں ادارتی سرگرمیاں انجام دیتے رہے، اور مفید کتابیں تالیف کیں، مثلاً: اسلام کا نظامِ حکومت (ندوۃ المصنفین، دہلی)، اور سیرتِ طیبہ پر ایک رسالہ ’’خلقِ عظیم‘‘۔ ان کی حیات وخدمات پر اقرأ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (شکاگو امریکہ، وممبئی انڈیا) سے چار کتابیں شائع ہوچکی ہیں: ذکرِ غازی، فکرِ غازی، خطباتِ غازی اور نویدِ فردا (شعری انتخاب)۔ دیکھیے:’’مرج البحرین‘‘ از مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مدظلہم، ص: ۲۲۶۔
۴- قاری حمید میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد منصور میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے، مولانا انصاری کی خدمت کی غرض سے جلال آباد میں رہے۔ اگست ۱۹۸۹ء میں پشاور میں انتقال ہوا۔
دیکھیے: ’’مرج البحرین‘‘ از مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مدظلہم، ص:۲۳۲۔
۵- بظاہر مولانا عبد الرحمٰن امروہی رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں، جو اس زمانہ میں جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ تقریباً سنہ ۱۲۷۷ھ میں ممبئی میں ولادت ہوئی، ابتدائی تعلیم مکہ مکرمہ میں پائی، مولانا احمد حسن امروہی سے استفادہ کیا، آخر میں دیوبند آکر مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ سے تفسیر وحدیث کے کچھ اسباق پڑھے اور ان کے آخری شاگردوں میں شمار ہوئے۔ مدرسہ شاہی مراد آباد، جامعہ اسلامیہ امروہہ اور جامعہ اسلامیہ ڈابھیل جیسے اداروں میں ساٹھ برس تک تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ دار العلوم دیوبند میں بھی تدریس کی۔ ۲۲؍ جمادی الثانیہ سنہ ۱۳۶۷ھ کو نوے برس کی عمر میں وفات پائی۔
دیکھیے: تاریخ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، از مولانا فضل الرحمٰن اعظمی، ص:۳۴۴ و۳۴۵، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان۔
۶- مولانا سید سراج احمد رشیدی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ ، سنہ ۱۲۸۴ء مطابق سن۱۸۶۷ء میں میرٹھ میں پیدا ہوئے، میرٹھ کے ایک دینی ادارے ’’مدرسہ اسلامیہ اندرکوٹ‘‘ میں تعلیم حاصل کی۔ تدریسی خدمات دار العلوم دیوبند اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین (ڈابھیل، گجرات، انڈیا) وغیرہ میں انجام دیں۔ ۱۰؍ ذوالحجہ سنہ ۱۳۵۶ھ کو ڈابھیل میں وفات پائی۔
دیکھیے: مجموعہ مقالات ومضامین، صد سالہ اجلاس جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل، ۱/۳۷۵ تا ۴۴۰۔
۷- مولانا احمد بزرگ (اول) سملکی رحمۃ اللہ علیہ ، دار العلوم دیوبند کے فاضل اور جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے مہتممِ اول تھے۔ غالباً ۱۲۹۸ھ میں ولادت ہوئی اور ۱۳۷۱ھ میں وفات پائی۔
دیکھیے: تاریخ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، از مولانا فضل الرحمٰن اعظمی، ص: ۳۱۵ تا ۳۲۱، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان۔
عزیز القدر سید محمد یوسف جان!
بنسبت سفرِ مصر وحج بیت اللہ جناب مولانا (محمد منصور میاں انصاری) صاحب سے مشورہ کیا، جناب موصوف نے اپنے نظریۂ مبارکہ کو بقیدِ تحریر لاکر بندہ کو ممنون فرمایا ہے، اور بندہ کی بھی یہی رائے ہے، بہ نسبت اس کے کہ ایامِ تعطیل میں پشاور جانا اس سال پسند نہیں کرتے ہو، بالکل درست ہے، مگر اُن کے خرچ کے لیے ضرور فکر رکھنا چاہیے، اور اگر آپ سفر پر گئے تو اس وقت گھر والوں کے خرچ کے لیے آپ نے کیا تدبیر سوچی ہے؟ اس سے مجھے مطلع کریں کہ خاطر جمع ہوں۔ میری حالت اس قابل اب تک نہیں ہے کہ گھر والوں کی کچھ امداد کرسکوں، میں یہاں نہایت جگر خونی سے اپنی گزر اوقات کر رہا ہوں، دربارہ معاملہ معلومہ جناب مولانا صاحب نے حقیقت الحال بھی تحریر فرمائی ہے، میرے دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ خدا آپ کو سرفراز وکامیاب فرماویں۔ دیگر کیا عرض کروں؟ آپ کا خط میں نے ۲۱؍ رجب کو مطالعہ کیا؛ کیونکہ چھ سات دن کے لیے میں جلال آباد گیا تھا، اور ۲۱؍رجب کو واپس کابل میں آیا، آپ کا خط ملا۔ اغلباً یہ خط آپ کو حیدر آباد میں ملے گا، اور اس سے پہلے بھی ایک خط آپ کو لکھا تھا، شاید آپ کو ملا ہوگا۔
فقط سید محمد زکریا از کابل
پس نوشت: کتابیں اب تک آغا گل کو نہیں ملی ہیں۔