
برادرِ محترم جناب ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی صاحبؒ کی رحلت سے اہل پاکستان عموماً اور اہلِ کراچی خصوصاً ایک عظیم باپ کے عظیم بیٹے، عظیم اسکالر، باذوق محقق، محترف مصنف، عظیم استاذ اور ایک عظیم اداری رہنما و شخصیت سے محروم ہوگئے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، إن للہ ما أخذ ولہٗ ما أعطی وکل شيء عندہٗ بأجل مسمی!
اگرچہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی ـ رحمۃ اللہ علیہ ـ ہم سے عمر میں زیادہ بڑے نہیں تھے، مگر اپنے والد بزرگوار ہمارے شیخ علامہ مولانا عبد الرشید نعمانی (برد اللہ مضجعہٗ ونور اللہ مرقدہٗ) اور ذاتی علمی تعلق کی وجہ سے ہم ایسوں سے بہت بڑے لگتے تھے!
سن ۱۹۸۰/۸۱ میں جب بندہ بنوری ٹاؤن کے درجہ تخصص فی الفقہ الاسلامی کے دوسرے سال مقالہ لکھنے کے مرحلہ میں پہنچا تو حضرت مولانا عبد الرشید نعمانی رحمۃ اللہ علیہ ـ جن سے ہم دورہ حدیث شریف کے سال موطأین اور ابن ماجہ وغیرہ پڑھ چکے تھے اور اسی نسبت سے تخصص شروع ہوتے ہی حضرت کی خدمت میں دعوت وتحقیق اسلامی کے دفتر ومکتبہ میں -جو اس وقت بھی بنوری ٹاؤن کی جامع مسجد کے غربی جانب سڑک کے اس پار تھا، جس طرف آج کل مدرسین کی رہائش گاہیں بنی ہوئی ہیں- ـ حاضری دے کر مستفید ہوتے رہتے تھے ۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ ہی کے مشورے اور تعاون سے فقیہِ سندھ مشہور محدث وسیرت نگار امام محمد ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ (کشف الرین عن مسئلۃ رفع الیدین) ایڈٹ کرنے کے لیے اختیار کیا تو اس کے لیے حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے خود فرمایا کہ: دو نسخے تو ہم آپ کو فراہم کرتے ہیں، ایک وہ جو انڈیا میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ـ صاحب بذل المجہود ـ رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے اردو ترجمے کے ساتھ چودھویں صدی ہجری شروع ہونے سے قبل چھپا تھا، اور دوسرا میرے بیٹے عبد الشہید نے ٹنڈو سائیں داد کے ایک کتب خانے میں موجود ایک قلمی نسخے سے اپنے قلم سے نقل کیا ہے۔
ان دونوں نسخوں کے حصول کے لیے حضرت نے کراچی یونیورسٹی کی چار دیواری کے اندر برادرم عبدالشہید صاحب کے گھر بلایا، جہاں حضرت بھی ان کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ ہم حضرت شیخ کے حکم پر وہاں پہنچے، اور یہ شاید حضرت کے صاحبزادے سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ جوانی میں ہی باعلم، باعمل، باادب، باذوق اور نفیس انسان معلوم ہوئے ۔ نسخوں کی تلاش میں خوب تعاون فرمایا اور اپنے قلم سے نسخ کیا ہوا نسخہ بھی عنایت فرمایا۔ ما شاء اللہ بہت عمدہ اور واضح خط تھا جس کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حضرت شیخ نے اپنے صاحبزادے کی کس نوعیت کی تربیت فرمائی ہے !
اس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اندرون سندھ کے قدیمی کتب خانوں کی زیارت کے وقت شیخ اپنے صاحبزادے کو بھی ساتھ رکھتے تھے اور جہاں کہیں ضرورت پڑگئی ان سے مخطوط بھی نقل کرا لیا۔ اس کے بعد سے ہمارا تعارف آگے بڑھا ۔ سال گزرتے گئے، بھائی عبد الشہید بھی (Ph.D) ڈگری حاصل کرکے یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں مختلف مناصب پر فائز ہوتے رہے۔ حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے انتقال پر ملال کے موقع پر اتفاق سے یہ خاکساربھی کراچی ہی میں تھا، جنازے میں شرکت بھی نصیب ہوئی اور بھائی نعمانی صاحب سے تعزیت کے لیے مختصر ملاقات بھی ہوئی ۔ اس کے چند سال بعد ایک دفعہ مکہ مکرمہ عمرے پر تشریف لائے، مدرسہ صولتیہ کے قریب کسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے، بندہ کو پاکستان سے کسی دوست نے اطلاع دی، مگر افسوس کہ بندہ اس وقت گرمی کی چھٹیوں کی وجہ سے پاکستان آیا ہوا تھا، اس لیے شرفِ ملاقات حاصل نہ ہوسکا ۔
جب سے ٹچ موبائل اور واٹس ایپ سسٹم شروع ہوا تو ہلکا پھلکا کانٹیکٹ رہا۔ کبھی کبھار (Ph.D) کنڈیڈیٹس کے اپنے شاگردوں کی لکھی ہوئی تھیسس بھی ایوالیشن رپورٹ کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ۔
سن ۲۰۱۸ میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد ادریس سومرو حفظہ اللہ اور چند احباب کے ہمراہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی نور اللہ مرقدہٗ سے شرفِ ملاقات اور شرفِ تلمذ واجازتِ حدیث کی غرض سے جامعۃ الرشید کے احاطے میں حضرتؒ کی قیام گاہ پر حاضری ہوئی تو بھائی عبد الشہید صاحب بھی وہاں موجود تھے، جو اَب عمر رسیدہ ہوچکے تھے اور بڑھاپے کی علامات ان پر عیاں تھیں۔حضرت چشتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سند کے ایک کونے پر انہوں نے بھی اپنی اجازت سے نوازتے ہوئے دستخط فرما دیے۔
اس علمی مجلس کے برخواست ہوتے ہی قریب ہوئے اور فرمایا کہ میرا غریب خانہ بھی یہاں سے قریب ہے، چائے کی ایک نشست میرے گھر میں ہوگی۔ حضرت اپنے گھر لے گئے اور کافی دیر علمی مذاکرہ اور حضرت والد صاحب نور اللہ مرقدہٗ کی یادیں تازہ فرماتے رہے۔
یہ جے پوری راجپوتی خاندان گرچہ راجستھان انڈیا سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہوا ، جہاں ان کا باقی خاندان اب بھی رہائش پذیر ہے۔ جے پور راجستھان کے حضرت مولانا مفتی احمدحسن خان ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید حضرت مولانا مفتی محمد ذاکر نعمانی صاحب زید مجدہٗ سے اب بھی حضرت شیخ نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سےہمارا رابطہ رہتا ہے، مگر اس خاندان کے علمی اعمال سے علماء سندھ کے ساتھ محبت، قدردانی اور لگن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے!
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ اپنی زندگی میں سندھ کے قدیم کتب خانوں کی زیارت کرتے رہتے اور وہاں سے علمی جواہرات کا چناؤ کرتے رہتے، چونکہ ان کے شروعاتی دور میں فوٹو اسٹیٹ کاپی کی سہولت نہ تھی تو ہلکے پھلکے رسائل خود یا اپنے صاحبزادے عبد الشہید میاں سے نسخ کرواتے رہتے اور کتاب بڑی ہو تو اہم نکات اپنے نوٹ بک یا خاص ڈائری میں لکھتے رہتے۔
اس نوعیت کے نوٹس حضرت نے خود بندہ کو بھی کشف الرین کی تحقیق کے دوران دکھائے تھے۔
ان کتب خانوں کی خالی زیارت ہی نہیں، بلکہ وہاں بیٹھ کر وقت لگا کر بطور علمی خدمت ان کی فہارس بھی بناتے رہے، حتیٰ کہ ایک دفعہ حضرتؒ نے فرمایا کہ مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی کے کتب خانے کی قلمی کتب کی فہرست بھی حافظ محمد اسماعیل میمن مرحوم کے دور میں ہم نے خود بنائی تھی!
نیز حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ بذات خود چھٹی صدی ہجری کے فقیہ امام مسعود بن شیبہ سندھیؒ (ت، ق۷ھ) کی کتاب التعلیم، مخدوم محمد معین ٹھٹھوی سندھیؒ (ت:۱۱۶۱ھ) کی معرکۃ الآراء کتاب ’’دراسات اللبیب في الأسوۃ الحسنۃ بالحبیب‘‘، اور اس پر امام محمد ہاشم ٹھٹھویؒ کے صاحبزادے علامہ مخدوم عبد اللطیف ٹھٹھوی سندھیؒ (ت:۱۱۸۷ھ) کا علمی محکم رد ’’ذب ذبابات الدراسات عن المذاہب الأربعۃ المتناسبات‘‘ جیسی مؤلفات کو ایڈٹ کرتے رہے، جن کو سندھی ادبی بورڈ حیدر آباد سندھ سے مختلف سالوں میں چھپوایا گیا ۔
نیز اس تربیت کا اثر یہ بھی تھا کہ بھائی ڈاکٹر عبد الشہید مرحوم نے امام ابو جعفر دیبلی سندھیؒ (ت:۳۲۲ھ) کی کتاب ’’مکتوبات النبي صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا اردو ترجمہ کیا جس کو بعد میں بندہ کے بیٹے محمد طاہر مرحوم کے ساتھی مولوی سلیم اللہ چوہان سلمہ نے سندھی لبادہ اوڑھایا۔
نیز حضرت شیخ کے برادرِ محترم حضرت مولانا ابو العلا محمد عبد العلیم ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھویؒ (ت:۱۱۷۴ ھ) کی تین کتابوں: ’’تنقیح الکلام في النھي عن قراءۃ الفاتحۃ خلف الإمام‘‘، ’’کشف الرين عن مسئلۃ رفع اليدين‘‘، اور ’’فرائض الإسلام‘‘ کا اردو ترجمہ کیا جو سب جامعہ مدینۃ العلوم بھینڈو حیدر آباد کی طرف سے شائع ہوئے۔
حضرتؒ کے بھتیجے جناب مولانا ڈاکٹر محمد عبد المقیت شاکر علیمی رحمۃ اللہ علیہ نے علامہ محمد معین ٹھٹھویؒ کے تصوف میں لکھے ہوئے فارسی ’’رسالہ اویسیہ‘‘ کا اردو ترجمہ اور تعلیقات کرکے زیب ادبی مرکز حیدر آباد سندھ سے سن ۲۰۰۲ع میں چھپوایا، جس کا ایک نسخہ انہوں نے خود مکہ مکرمہ میں بندہ کو بھی عنایت فرمایا تھا ۔
علماء سندھ سے متعلق یہ سارے اعمال اس خاندان کے پلے پڑے جن سے ان کے علمی ذوق اور علماء سندھ سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے!
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی علماء سندھ سے محبت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے امام ابو الحسن کبیر سندھیؒ کی سوانح حیات پر ایک بہت بڑا اردو مضمون لکھا تھا جو غالباً بینات میں متعدد قسطوں میں چھپا تھا، جو بندہ کی (Ph.D) تھیسس کی بنیاد بنا۔
حضرتؒ فرمایا کرتے تھے کہ: مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ میرے نزدیک شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پائے کے عالم ہیں، بس دونوں میں فرق یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا علم لدنی ہے اور حضرت ٹھٹھویؒ کا کسبی ۔
ابھی چند دن پہلے میرے شیخ زادے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی صاحبؒ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی تو دلی صدمہ ہوا اور تقریباً آدھی صدی ہجری کی تاریخ دل، دماغ اور آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔
ان کی وفات حسرت آیات سے علمی میدان میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ۔ وہ محقق، مدرس، مصنف اور کامیاب اداری رہبر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے والد بزرگوار کی سنت اسناد حدیث کو زندہ کرتے ہوئے کئی مجالس سماعِ حدیث میں بھی شرکت کرتے رہتے تھے اور سیکڑوں عرب وعجم کے شائقین حدیث کی علمی تشنگی دور کرتے ہوئے انہیں اپنی اجازتِ حدیث سے نوازتے رہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے تمام علمی اعمال کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ان کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین۔