بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

بینات

 
 

ملکی صورتِ حال اور اس کا علاج !

ملکی صورتِ حال اور اس کا علاج !


الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

ہر باشعور پاکستانی جانتا ہے کہ ہمارے ملک کی اَساس اور بنیاد کلمہ طیبہ اور نفاذِ اسلام کے برپا کرنے کے نعرے پر رکھی گئی تھی۔ قیامِ پاکستان کو ۷۸ سال ہو گئے، یہاں بہت سی حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن عملی طور پر پاکستان کے نظریاتی خاکے میں اسلامی رنگ بھرنے کے لیے تمام حکومتوں کی کارکردگی نہ صرف یہ کہ صفر رہی، بلکہ مسلسل ایسے حالات پیدا کیے جاتے رہے کہ عملی طور پر اسلام کے نفاذ میں زیادہ سے زیادہ رکاوٹیں پیدا ہوتی جائیں اور اس ملک میں اسلام کے نفاذ کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ 
علمائے کرام کی جدّوجہد اور کوششوں سے قراردادِ مقاصد ملک کو ملی، اسی طرح ۱۹۷۳ء میں پاکستان کو متفقہ آئین ملا، جس میں قرار دیا گیا کہ اسلام ملک کا مملکتی مذہب ہوگا، قرآن و سنت سپریم لا ہوگا اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، تمام ملکی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بنائی گئی۔ ان تمام اسلامی بنیادوں کی موجودگی اور فراہمی کے باوجود ایک طبقہ ہمیشہ ایسا رہا جو اسلامی نظام کے نفاذ میں نہ صرف یہ کہ رکاوٹ بنا رہا، بلکہ ہمیشہ غیر اسلامی قوانین کو پاس کرانے میں ہرَاوَل دستے کا کردار ادا کرتا رہا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، حال ہی میں تازہ مثال موجود ہے کہ ہماری موجودہ قومی اسمبلی نے ایک قانون پاس کیا ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے کسی لڑکی اور لڑکے کا نکاح نہیں کیا جا سکتا، اگر کسی نے ایسا کیا تو دلہا، دلہن،لڑکی کے والدین، نکاح خواں، ان سب کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور سب کو جیل جانا ہوگا، جب کہ دینِ اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: 
 ’’من وُلد لہٗ ولدٌ فلیحسن اسمہٗ وأدبہٗ، فإذا بلغ فلیزوّجہ، فإن بلغ ولم یزوّجہ فأصاب إثماً فإنّما إثمہٗ علیٰ أبیہ۔ ‘‘   ( مشکوٰۃ، ص : ۲۷۱)
 ’’ جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو ادب سکھائے،( یعنی آداب و احکام شریعت و معیشت کے ایسے اسباب کی تعلیم دلائے جو دنیا و آخرت میں مفید ہوں)، پھر جب وہ بالغ ہو جائے تو وہ اس کا نکاح کر دے۔ پھر اگر لڑکا بالغ ہوا ( یعنی وہ فقیر و محتاج تھا) اس کا نکاح اس کے والد نے نہ کیا، (حالانکہ وہ اس کا نکاح کر سکتا تھا،) پھر لڑکے سے کوئی گناہ (یعنی زنا وغیرہ) صادر ہوا، (یا زنا کے مقدمات پیش آئے) تو اس کا گناہ اس لڑکے کے والد پر ہوگا۔‘‘
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ  اور حضرت انس رضی اللہ عنہ  حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرتے ہیں کہ  :
’’قال: في التّوراۃ مکتوبٌ : من بلغتْ ابنتہٗ اثنتی عشرۃ سنۃ ولم یزوّجھا فأصابت إثماً، فإثم ذٰلک علیہ۔‘‘  ( مشکوٰۃ، ص : ۲۷۱)
’’ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ: تورات میں لکھا ہے کہ جس شخص کی بیٹی بارہ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ (کفو پانے کے باوجود) نکاح نہ کرے، پھر وہ لڑکی کسی گناہ کا ارتکاب کرلے، (یعنی زنا وغیرہ میں مبتلا ہو جائے) تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہوگا۔ ‘‘ 
حضرت عائشہ ؓ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اپنے نکاح اور شادی کا حال بیان کرتے ہوئے خود روایت کرتی ہیں : 
’’أنّ النّبي صلی اللہ علیہ وسلم تزوّجھا وھي بنت سبع سنین وزفّت إلیہ و ھي بنت تسع سنین ولعبھا معھا ومات عنھا وھي بنت ثماني عشرۃ‘‘ ( مشکوٰۃ، ص : ۲۷۰)
’’جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے نکاح کیا، جبکہ وہ سات برس کی تھیں، اور وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر ۹ برس کی عمر میں بھیجی گئیں، جبکہ کھیلنے کے کھلونے ان کے ساتھ تھے، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ ‘‘ 
ان احادیث میں نہ صرف نکاح کو جلدی کرنے کی ترغیب دی گئی، نکاح کے لیے بلوغت کو شرط قرار دیا گیا، بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ بلوغت کے بعد اگر لڑکا یا لڑکی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا تو اس کا گناہ اس کے والدین پر ہوگا اور یہ حکم صرف شریعت اسلامی ہی کا نہیں، بلکہ تورات میں بھی یہی بات فرمائی گئی ہے، اسی لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’ یا معشر الشّباب ! من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوّج، فإنّہٗ أغضّ للبصر و أحصن للفرج، ومن لّم یستطع فعلیہ بالصّوم، فإنّہٗ لہٗ وجآءٌ‘‘ ( مشکوٰۃ،ص: ۲۶۷)
’’ اے نوجوانوں کے گروہ ! جو شخص تم میں سے جماع کے لوازم (یعنی مہر اور نان نفقہ) کی طاقت رکھتا ہو، پس اس کو نکاح کرنا چاہیے، کیونکہ یہ نکاح نظر کو نیچا رکھنے والا ہے اور شرم گاہ کو محفوظ کرنے والا ہے،اور جو شخص استطاعت نہ رکھتا ہو، اس کو روزہ رکھنا چاہیے۔ پس روزہ اس کے لیے خصی کرنے (یعنی شہوت کے جوش کو کم کرنے ) کا فائدہ دے گا۔‘‘
گویا نکاح کی غرض عفت اور پاک دامنی ہے جو کہ نکاح کے جلدی کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ نکاح میں تاخیر کی بنا پر معاشرہ میں بہت بڑا فتنہ اور طویل و عریض فساد برپا ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے، لہٰذا یہ اسلامی تعلیمات ہیں، جن کی پیروی کرنا ہر مسلم مرد، ہر عورت، حاکم ہو یا رعایا، عوام ہوں یا خواص، سب کے لیے لازمی اور ضروری ہے۔ اگر ان تعلیمات پر عمل نہ کیا گیا تو جیسا بتایا گیا کہ پھر زمین میںایسا فتنہ اور فساد پھیلے گا جس کا سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ 
ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ چونکہ ہمارا ملک اسلامی ہے، یہاں کا مملکتی مذہب اسلام ہے اور یہاں کی ۹۵ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے، لہٰذا حکومت بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کی بجائے قرآن و سنت، اپنے دین و ایمان، شریعتِ اسلام اور اپنے ملکی آئین و دستور کے مطابق قانون سازی کرے۔ وجہ یہ ہے کہ ملکی قوانین ہمیشہ قوموں کے اقدار، تہذیب اور مزاج و روایات کے ہم آہنگ اور مطابق ہوتے ہیں، خصوصاً اسلامی ممالک میں تو اس کی پابندی اور ضروری ہو جاتی ہے، ورنہ وہی ہوتا رہے گا جو ہمارے ملک میں غیرت اور کاروکاری کے نام پر جرم بالائے جرم کے طور پر ہم سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں، جبکہ اسلام کسی فرد، جتھے، قوم اور برادری کو قطعاً یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ ازخود سزائیں جاری اور نافذ کریں، بلکہ یہ حکومت اور عدالت کا کام ہے، لیکن اگر اسلامی قوانین نافذ ہوتے اور شریعت نے شادی شدہ زانی مرد اور شادی شدہ زانیہ عورت کی جو سزا سنگسار کرنا مقرر کی ہے، اس پر حکومت اور عدالت عمل پیرا ہوتی تو ان لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی کبھی ضرورت اور جرأت نہ ہوتی، فاعتبروا یا أولی الأبصار! 

.........................................................

اسی طرح ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے کچھ مخلص، باہمت اورباکردار لوگوں کی محنت، کوشش اور جرأت و بہادری سے ایک قانون ہمارے ملک میں بنایا گیا، اسلام دشمنوں کو اول روز سے اس سے چڑ ہوگئی۔ انہوں نے اس قانون کو غیر مؤثر بنانے کے لیے کئی غیر مسلم کرداروں کو اس کے خلاف اُکسایا، جنھوں نے نعوذباللہ ! اہانت کا ارتکاب کیا۔ ہماری حکومتوں نے ہر بار اُن کو ہیرو بنا کر بیرونِ ملک بھجوانے کا انتظام کیا، دین دشمنوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا، اس کی دیکھا دیکھی ملک میں دھڑا دھڑ توہینِ رسالت کے واقعات ہونے لگے، اُدھر سوشل میڈیا کا رواج حدسے زیادہ ہوا تو اس پر بھی دین دشمنوں نے کارروائیاں کرنا شروع کردیں، یہاں تک کہ اس بلاس فیمی (Blasphemy) کو عام کیا گیا کہ کئی مسلم نوجوان بھی لالچ، حرص، طمع کی بنا پر اس کا شکار ہونے لگے، ہمارے حفاظتی ادارے اور سراغ رساں ایجنسیاں بھی متحرک ہوئیں، ان ملزمان کے خلاف کیس بنے،پھر اس پر رپورٹیں بننے لگیں، ان رپورٹوں کو عدالتوں تک لے جایا گیا، ان پر کمیشن بننے کا اعلان، پھر دوسری عدالت سے اس کمیشن کا تعطل،یہ سب کچھ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔ باشعور طبقہ، مسلم عوام اور پاکستانی قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ سب کچھ اس قانون توہینِ رسالت کو بدنام کرنے، اس کو غیرمؤثر بنانے کی لاحاصل مشق کی جا رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کمیشن کی رپورٹ آتے ہی اس بات کی توثیق اور تائید ہوجانا تھی کہ اس قانون کا غلط استعمال (Misuse) کیا جا رہا ہے، لہٰذا اس کو روکنے کے لیے اس قانون میں ترامیم کی جائیں۔ اچھا ہوا کہ اس کے عواقب اور انجام پر نظر رکھتے ہوئے حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اپنی دور اندیشی،تدبر اور خداداد صلاحیت کی بنا پر سیاسی اور عدالتی محاذ پر حساسیت کا ادراک اور ملّی یکجہتی کونسل میں موجود تمام شرکا ءکرام کو بھی اپنے اعتماد میں لیا، ورنہ نامعلوم اس ناپاک مہم کے کیا کیا نتائج نکلتے ! 

.........................................................
 

بطور خیرخواہی ایک اور بات بھی عرض کرنا ضروری ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تصویر بنانے اور بنوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دیں گے، اس لیے اس سے خود بھی بچیں اور اولاد، خاندان، دوست احباب کو بھی اس سے ہمیشہ بچنے کا کہیں۔ آج ہمارے ہاں غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی سیلفیاں لینے کا رواج بہت زیادہ ہوگیا ہے، حتّٰی کہ دینی لوگوں میں بھی اس کی لَت اور بُری عادت بہت زیادہ سرایت کرچکی ہے، اس لیے عوام نے بھی اس کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیا اور وہ بھی یہی کچھ کرنے لگے، اسی کا شاخسانہ ہے کہ سوات میں ایک پوری فیملی اس سیلفی کی حسرتِ بد کی بنا پر دریا برد ہوگئی، اگرچہ ہمیں اس پر افسوس ہے، ہم ان کے خاندان، ورثاء اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صبرِ جمیل سے نوازیں اور ان پانی کی موجوں میں بہنے والوں کی مغفرت فرمائیں، لیکن ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہمارا خاتمہ کبھی برائی کی بجائے اچھائی پر ہونا کتنا ضروری ہے۔ 
بہرحال! موسمیاتی تبدیلیوں کے شکارخطے میں طوفانی بارشوں میں فصلیں، مال مویشی،گھر اور کاروبار تباہ ہو گئے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ حکومتوں کی نااہلی اور ناکامی نے عوامی مشکلات میںبہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت متأثرہ خاندانوں اور علاقوں کی بروقت امداداور بحالی کے لیے کام کرے۔ ادارۂ بینات سیلاب اور بارشوں میں جاں بحق ہونے والے خاندانوںسے تعزیت، ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ 

.........................................................

دوسری طرف اہلِ غزہ پر امریکی ایما پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت و نسل کشی، بستیوں کی مسماری، جہاں اسکول اور ہسپتال تباہ کر دیے گئے، بھوک اور قحط مسلط کر کے نسل کشی کی آخری انتہا پر معاملہ پہنچادیا گیا ہے۔ تمام دنیا جانتی اور مانتی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، دو ریاستی حل یا ابراہیمی معاہدہ مسلط کرنا ظلم اور ناانصافی ہے، اسرائیل کا وجود ناجائز ہے۔ اس کا خاتمہ اور فلسطینیوں کے حقِ آزادی کو تسلیم کرنے ہی سے عالمی امن قائم ہوگا۔ پاکستان کے عوام‘ ابراہیمی معاہدہ اور اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے کسی قسم کی کوئی کوشش کی تو عوام کی طرف سے ان کو بھر پور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیںکہ غزہ میں غذائی امداد پہنچانے کے لیے عالمی سطح پر بھر پور کوشش کریں، تاکہ اہلِ غزہ کی پریشانیوں کا مداوا ہوسکے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو شرعی احکامات کی رعایت کرنے اور غیرشرعی قوانین کے اجراء سے باز رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اہلِ غزہ کی مدد ونصرت فرمائے، اہلِ اسلام کو غیرت وحمیتِ دینی عطا فرمائے، آمین، إن أرید إلّا الإصلاح ما استطعت، وما توفیقي إلا باللہ، علیہ توکّلت وإلیہ أنیب ! 

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین !
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین