بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

مزدور کے حقوق قرآن وسنت کی روشنی میں

مزدور کے حقوق

قرآن وسنت کی روشنی میں


اسلام میں مزدوروں کے بہت سے حقوق ہیں، جن کو اسلام نے انتہائی اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مزدور ہی اس قوم کا اثاثہ ہے جو روزانہ تازہ کماکر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، کسی بھی ملک، قوم اور معاشرے کی ترقی میں مزدوروں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، مگر سب سے زیادہ حق تلفی بھی انہی کی کی جاتی ہے۔ سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے مزدور کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور مزدور اسے اپنا مقدر سمجھ کر صبر کرلیتے ہیں۔ ہمارے سماج میں مزدوروں کا وجود ہے، جسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔ مزدوری ہر کوئی کرتا ہے، مگر سب کے درجات الگ ہوتے ہیں۔ ہر مزدور اپنے میدان میں اپنی بساط بھر مزدوری کرتا ہے اور اُجرت حاصل کرکے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتا ہے۔ اسلام نے محنت کو بڑا مقام عطا کیا ہے اور محنتی شخص کی بڑی حوصلہ افزائی کی ہے۔نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’خود کمانے والا اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے۔‘‘ (طبرانی) 
یہ فرما کر محنت کی قدرو قیمت اُجاگر فرما دی۔ نیز آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : 
’’کسی نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا۔‘‘ (صحیح البخاری) 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماتحت طبقات جن میں مزدور بھی داخل ہیں کے حقوق کا اس حد تک پاس تھا کہ وصال سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے لیے جو آخری وصیت فرمائی، وہ یہ تھی کہ : 
’’نماز کا خیال رکھو اور ان لوگوں کا بھی جو تمہارے زیرِدست ہیں۔‘‘ (مسنداحمد، ابوداؤد) 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: 
’’تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوںگا، ان میں سے ایک وہ ہو گا جس نے کسی سے کام کروایا، کام تو اس سے پورا لیا، مگر اسے مزدوری پوری ادا نہ کی۔‘‘  (صحیح البخاری) 
مزید ارشاد فرمایا: 
’’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کی مزدوری ادا کردو۔‘‘             (ابن ماجہ) 
’’جو کوئی غیر آباد زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کی ہے (گویا اس کی محنت نے اس کو مالکانہ حقوق عطا کردیے)۔‘‘ (احمد، ترمذی، ابو داؤد) 
اُجرت مزدور کا حق ہے، قرآن حکیم میں آتا ہے: 
’’جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لیے ختم نہ ہونے والا (دائمی) اجر ہے۔‘‘ 
معاہدۂ ملازمت (چاہے معاہدات واضح ہوں یا مضمر)کے جدید تصورات کی پیش گوئی کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدور کو کام کی اُجرت مقرر کیے بغیر بھرتی کرنے اور کام کروانے سے منع کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور پہننا دستور کے مطابق بچے کے باپ پر لازم ہے۔‘‘
 محنت و مزدوری اللہ کے نبیوں کی سنت ہے۔ کم و بیش تمام انبیائے کرامo نے محنت مزدوری کو اپنا معاش بنایا۔ حضرت آدم علیہ السلام  نے زمین کاشت کرکے غلہ حاصل کیا۔ حضرت نوح  علیہ السلام  سے بڑھئی کا کام کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت دائود  علیہ السلام   زِرہ ساز تھے اور اپنے ہاتھ کے ہنر سے گزر بسر کرتے۔ حضرت ادریس  علیہ السلام  کپڑے سیتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے ۱۰؍سال تک حضرت شعیب  علیہ السلام  کی بکریاں چرائیں۔ پیارے نبی اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بکریاں چرائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ: 
’’اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔‘‘ -صحابہؓ کے استفسار پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- ’’میں بھی مکے والوں کی بکریاں چند قیراط پر چرایا کرتا تھا۔‘‘           (صحیح بخاری) 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابی ؓ حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مزدوری کرنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ میں گٹھے پڑے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے فرمایا: ’’یہ وہ ہاتھ ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارے ہیں۔‘‘ 

محنت کش اللہ کے دوست ہیں

محنت و مزدوری کی عظمت و اہمیت کی دلیل یہ ہے کہ خود ربِ کائنات، مالک ارض و سماء، محنت کش، مزدور کو اپنا دوست قرار دے رہا ہے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’بیشک اللہ روزی کمانے والے کو دوست رکھتا ہے۔‘‘                             (طبرانی) 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: 
’’ایک ملازم کم از کم درمیانے درجہ کے عمدہ کھانے اور کپڑوں کا حقدار ہے۔‘‘ اور ’’کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دی جائے۔‘‘ اور یہ کہ مقرر کردہ اُجرت ان (مزدوروں) کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ ایک اور موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’تمہارے ہاں کام کرنے والے ملازمین تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے، سو جس کا بھی کوئی بھائی اس کے ماتحت ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے۔‘‘
تاریخی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوجی جوانوں کے لیے اُجرت مقرر فرمائی تھی، اس اُجرت پر دورانِ ملازمت مختلف معیارات جیسا کہ مدتِ ملازمت، بہترین کارکردگی اور علمی قابلیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے نظر ثانی کی جاتی۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آئے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اس شخص کا قرض ادا کر دوں جس سے چھوٹا اونٹ لیا تھا۔ میں نے کہا: میں تو اونٹوں میں چھ سال کے بہترین اونٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں پاتا تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسی میں سے اسے دے دو، کیونکہ لوگوں میں بہترین وہ انسان ہیں جو قرض ادا کرنے میں سب سے اچھے ہیں۔‘‘ (موطا امام مالک ؒ روایۃ ابن القاسم: ۵۲۴۔ جامع ترمذی: ۱۳۱۸) 
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ :
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فئے آتا، آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار ؓ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دیے گئے، کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ  بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا۔                             (مسند احمد: ۲۲۹۰۵) 
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں، حضرت دائود  علیہ السلام  اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کماتے تھے۔ حضرت موسیٰ  علیہ السلام نے اپنے نفس کو اپنی پاک دامنی کی حفاظت اور اپنے پیٹ کی غذا پر‘ آٹھ یا دس سال اُجرت پر دیا۔‘‘ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد مبارک ہے: 
’’اللہ نے جتنے اَنبیاء علیہم السلام بھیجے اُن سب نے بکر یوں کی نگہبانی کی ہے۔‘‘ (مشکاۃ،  باب الإجارۃ) 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ جل شانہُ فرماتا ہے:
’’میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مدِمقابل ہوں گا، ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ کرکے عہد شکنی کرے‘ دوسرے وہ شخص جو آزاد کو بیچے، پھر اس کی قیمت کھائے، تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام لے اوراس کی مزدوری نہ دے۔‘‘
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ اُجرت دونوں کے بارے میں رہنمائی موجود ہے، اس میں کم سے کم اُجرت کی تو وضاحت کر دی گئی ہے، تاکہ مزدور کی بنیادی ضروریات کماحقہ پوری ہوسکیں۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں جس طرح ’’انصاف پسند اور مناسب معاوضہ‘‘ کی بات کی گئی ہے، اسی طرح اسلام کا موقف ہے کہ ملازمین کو اتنی تنخواہ ملنی چاہیے کہ اس سے بتقاضائے بشری اس کی او راس کے خاندان کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کے مطابق مزدوروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین