
صفر ہجری سال کے بارہ مہینوں میں سے دوسرا مہینہ ہے، جو کہ محرم الحرام کے بعد آتا ہے، اس کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ماہ میں عرب کے لوگ مختلف مقامات سے اناج اکٹھا کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے گھر خالی ہوجاتے تھے، اس لیے اس مہینے کو ’’صفر‘‘ کہتے تھے۔‘‘
اہلِ عرب ’’أشھر حرم‘‘ (حرمت والے مہینے) کا احترام کرتے تھے، ان میں لوٹ مار، قتل وغارت کو حرام سمجھتے تھے، جب محرم کا مہینہ ختم ہوجاتا تھا، تو اہلِ عرب صفر کا مہینہ شروع ہوتے ہی جنگ کے لیے چلے جاتے، اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے تھے، اس مناسبت سے بھی اس مہینے کو ’’صفر‘‘ کہا گیا ہے۔ (لسان العرب، از ابن منظور)
بعض لوگ صفر کے مہینے کے ساتھ ’’المظفر‘‘ یا ’’الخیر‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’مظفر‘‘ کے معنی کامیابی، اور ’’خیر‘‘ کے معنی نیکی، سلامتی اور برکت کے ہیں، چونکہ زمانۂ جاہلیت میں عرب کے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس اور بُرا سمجھتے تھے اور اس مہینے کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے کہ اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہوتی ہیں، اور آج بھی بعض لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ’’صفر المظفر‘‘ یا ’’صفر الخیر‘‘ کہتے ہیں، تاکہ اسے نحوست والا مہینہ نہ سمجھا جائے، بلکہ کامیابی اور خیر کا مہینہ سمجھا جائے۔
واضح رہے کہ اس مہینے کے ساتھ ’’المظفر‘‘ یا ’’الخیر‘‘ کا اضافہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
عام طور پر لوگ صفر کو ’’صفر الخیر‘‘ کہتے ہیں، بظاہر اس نام سے ان لوگوں کے غلط عقیدہ کی تردید مقصود ہوتی ہے، جو اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں، یا پھر وہ لوگ صفر کو منحوس سمجھتے ہوئے، اس کے شر کو کم کرنے کے لیے نیک فال کے طور پر ’’صفر الخیر‘‘ کہہ دیتے ہیں، لہٰذا صفر کے ساتھ ’’الخیر‘‘ یا ’’المظفر‘‘ کا لاحقہ لگانے کو اس مہینہ کے نام کا لازمی حصہ نہیں سمجھنا چاہیے، تاہم لازمی حصہ یا احادیث سے ثابت شدہ سمجھے بغیر ’’صفر المظفر‘‘ یا ’’صفر الخیر‘‘ کہنے کی گنجائش ہے۔ (معجم المناہي اللفظيۃ وفوائد)
تاریخ اسلام میں اس مہینے کو ممتاز حیثیت حاصل ہے، اس مہینے کی ستائیس تاریخ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی جو غلبۂ اسلام اور اسلامی ریاست کے قیام کا باعث بنی اور پوری دنیا میں جو اسلام پھیلا اس کا آغاز بھی مدینہ منورہ سے ہوا، گویا پوری دنیا میں جو ظلمت چھائی ہوئی تھی اور ہرطرف خزاں تھی اس کا خاتمہ اسلام کی روشنی اور بہار کے ذریعے مدینہ منورہ سے ہوا۔
پھر اسی ماہ صفر میں دو ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تھا، جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل چلی جو قیامت تک رہے گی۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: جاہل عورتیں ذی قعدہ کو خالی کا چاند کہتی ہیں اور اس میں شادی کرنے کو منحوس سمجھتی ہیں، یہ اعتقاد بھی گناہ ہے، اس سے توبہ کرنی چاہیے، اسی طرح بعض جگہ تیرہ تاریخ صفر کے مہینے کو نامبارک سمجھتی ہیں۔ یہ سارے اعتقاد شرع کے خلاف اور گناہ ہیں، ان سے بھی توبہ کرنی چاہیے۔ ( اسلامی شادی)
واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔
آج کل مسلمانوں میں بھی اسلامی تعلیمات کی کمی کی وجہ سے یہ تمام خرافات ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ چھوت چھات (بیماری کا دوسرے سے لگنے کا وہم) اور اُلو (کو منحوس سمجھنے) اور صفر (کے مہینہ کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔‘‘ (بخاری شریف)
اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے واضح انداز میں تو ہم پرستی، چھوت چھات اور صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی نفی فرمائی ہے، لہٰذا کسی وقت اور زمانے میں کوئی نحوست اور برائی نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ:
’’لا عدوی ولاصفر ولا غول۔‘‘ (مسلم شریف )
ترجمہ:’’مرض کے متعدی ہونے،صفر اور غول کی کوئی حقیقت نہیں۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔‘‘ (بخاری شریف)
لہٰذا معلوم ہوا کہ نحوست کی اصل وجہ زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے اور نہ کوئی مہینہ، بلکہ نحوست کی اصل وجہ انسان کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے، وہ تمہارے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔‘‘ (الشوریٰ: ۳۰)
اور اسی طرح اس ماہِ صفر المظفر کے اختتام پر آپس میں خوش خبریاں سناتے پھرتے ہیں، گویا کوئی بہت بڑی مصیبت ٹل گئی ہو اور خوشی کی انتہا کہ پھولے نہیں سماتے۔ ان لوگوں کا یہ حال ان کے غلط عقیدے کی وجہ سے ہے،ان کا عقیدہ ہے کہ اس ماہ میں سخت مصائب کا سامنا ہوتا ہے،پریشانیوں اور دکھوں کا نزول اور آزمائش و آفات کا وقوع ہوتا ہے، اسی طرح کی اور بھی بہت سی بے بنیاد باتیں ہیں، یہ سراسر باطل عقیدہ ہے اور جاہلیت کی باقیات میں سے ہے۔