بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کا آئینی فیصلہ چند غلط فہمیوں کا اِزالہ

قادیانیوں کو غیرمسلم قراردینے کا آئینی فیصلہ

چند غلط فہمیوں کا اِزالہ

 

الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

برِصغیر پاک و ہند میں ایک جھوٹے شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیلمہ کذاب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور اپنے دامِ تزویر میں سادہ لوح مسلمانوں کو پھنسانے لگا۔ تب علمائے کرام نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت اصحابِ رسول کی پیروی میں اس فتنہ کا مقابلہ کیا اور تمام قادیانی شبہات کے جوابات سے پوری طرح اُمت کو مطمئن کر دیا، چنانچہ اس ضمن میں جتنا لٹریچر لکھا گیا اور جس قدر علمی دلائل احاطۂ تحریر میں لائے گئے ، میری معلومات کے مطابق پوری اسلامی تاریخ میں کسی فتنہ کے رد میں اتنا کچھ نہیں لکھا گیا ہوگا۔ اس کی جھلک گزشتہ شمارے کے بصائر و عبر میں قارئین ملاحظہ کر چکے ہیں ، جس میں قادیانی فتنے کے خلاف جمع کیے گئے ۱۰۰ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم انسائیکلو پیڈیا کا تعارف کرایا گیا ہے ۔ 
غلط فہمی :1- بدقسمتی سے اس فتنے کی سنگینی اور حساسیت سے ناواقف لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کا قرآن کریم پر ایمان ہے اور صرف چند آیات کی تشریح میں ان کا مسلمانوں سے اختلاف ہے، حالانکہ یہ لا علمی ہے اور اس خطرناک فتنے سے متعلق یہ غفلت سنگین تر ہے، اس لیے آج کی صحبت میں ان شبہات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ذیل میں جھوٹے مدعیِ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی عبارات پیش کی جاتی ہیں :  
۱ : ’’ انا انزلناہ قريباً من القاديان۔‘‘ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ’’انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقي عند المنارۃ البیضاء۔ ‘‘کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔ ‘‘ (تذکرہ ، مجموعہ وحی و الہامات ، ص: ۵۹ ، طبع چہارم)
۲ :’’ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادرپیر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ’’انا انزلناہ قريبا من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے: مکہ اور مدینہ اور قادیان۔‘‘ (ازالہ اوہام ، ص: ۴۰، روحانی خزائن ، ج :۳ ،ص: ۱۴)
 ۳:’’ ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے، اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ (مرزا قادیانی) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔‘‘                      (کلمۃ الفصل ، ۱۷۳، از : مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) 
۴:’’ خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو (سپارے) سے کم نہیں ہوگا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی ، ص: ۴۰۷ ۔ روحانی خزائن ، ج: ۲۲ ،ص: ۴۰۷)
ان حوالہ جات کی روشنی میں واضح ہے کہ مرزا قادیانی قرآن کریم میں بدترین تحریف کا مرتکب ہوا، اس کے مذکورہ بالا تمام دعوے سفید جھوٹ ہیں ، اور قادیانی جماعت مرزا غلام قادیانی پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مسلمانوں کے موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتی، بلکہ اس کا ایمان مرزا کی ان تحریفات پر ہے ، اس لیے یہ کہنا کہ قادیانیوں کا قرآن کریم پر ایمان ہے ، یہ بالکل باطل بات ہے ۔ 
نیز قرآن کریم کی کم و بیش ۱۰۰ آیاتِ کریمہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر دلالت کرتی ہیں ، حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ  کے ایما پر حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ  نے ان تمام آیات کو جمع فرمایا اور ان کی تشریح و توضیح کی۔ اس کے علاوہ ۲۰۰ سے زائد احادیثِ نبویہ اور امت مسلمہ کا پہلا اجماع بھی عقیدۂ ختم نبوت پر قطعی نصوص ہیں، اس لیے یہ سمجھنا کہ قادیانیوں کا مسلمانوں سے صرف چند آیات کی تفسیر میں اختلاف ہے ، بہت بڑا فریب اور دھوکا ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غلط فہمی :2- کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ قادیانی مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں اور ہماری طرح نماز،روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ درج ذیل حوالہ جات سے ثابت ہوگا کہ یہ شبہ کس قدر لغو ہے، کیونکہ خود مرزا قادیانی کے بقول اس کا مسلمانوں سے ایک ایک چیز میں اختلاف ہے : 
۱ :’’محمد رسول اللہ والذين معہ اشداء علی الکفار رحماء بينہم‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اوررسول بھی ۔‘‘    (ایک غلطی کا ازالہ ، ص: ۴، روحانی خزائن ،ج: ۱۸ ،ص: ۲۰۷ )
۲ :’’ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفاتِ مسیح یا اور چند مسائل میں ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ،غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے ۔ ‘‘   (مرزا بشیر الدین ، الفضل قادیان ، ج: ۱۹ نمبر: ۱۳، مورخہ: ۳۰ جولائی ۱۹۳۱)
۳ :’’اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی ،کیونکہ مسیح موعود(یعنی : مرزا قادیانی۔ ناقل) نبی کریم ؑ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے ۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘ (کلمۃ الفصل ، ص: ۱۵۸ از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
یعنی قادیا نی، مسلمانوں والا کلمہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس میں محمد رسول اللہ سے وہ مرزا قادیانی کو مراد لیتے ہیں، یہ اعتراف خود مرزا قادیانی اور اس کے بیٹے کا ہے۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کا کلمہ ایک ہی ہے ، لچر بات ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غلط فہمی :3- ڈاکٹر جاوید احمد غامدی صاحب نے حال ہی میں کہا ہے کہ قادیانی امام کے پیچھے مسلمان نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ العیاذ باللہ ! مگر وہ خود قادیانیوں ہی سے پوچھ لیتے کہ خود مرزا قادیانی کے نزدیک مسلمانوں کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے ؟ ملاحظہ ہو : 
 ۱ :’’خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفراور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘ (تذکرہ ، مجموعہ وحی و الہامات ، ص: ۳۱۸ ، طبع چہارم ) 
 ۲ : ’’ صبرکرو اور اپنی جماعت کے غیر (مسلمانوں) کے پیچھے نماز مت پڑھو۔‘‘ (ملفوظات ،ج: ۱ ، ص: ۵۲۵ ، طبع جدید )
۳ :’’ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔‘‘ (انوارِ خلافت ، ص : ۹۰ ، از : مرز امحمود بن مرزا غلام قادیانی)
یعنی مرزا قادیانی اور اس کی ذریت تو مسلمانوں کو مسلمان تک نہیں سمجھ رہی اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست کہہ رہی ہے ، لیکن غامدی صاحب قادیا نیوں کو نماز کا امام بنانے پر مصر ہیں ۔ 
چودھری ظفر اللہ خان سابق وزیر خارجہ پاکستان نے قا ئدا عظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ جب اس سے اس کی وجہ پوچھی گئی کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں ادا نہیں کی؟ تو اس نے کہا:آپ مجھے کا فر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔        (زمیندار، لاہور ،۸ فروری ۱۹۵۰ء)
اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے مرزا فضل احمد کی نمازِ جنازہ اس لیے نہیں پڑھی ، کیونکہ وہ اسے نبی نہیں مانتا تھا ۔  (انوارِخلافت،ص : ۹۱، مرزا محمود ابن مرزا قادیانی )
قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ جو قادیانی بانیِ پاکستان کا جنازہ پڑھنے کے روادار نہیں اور جنھوں نے اپنی سگی اولاد تک کا جنازہ نہ پڑھا ، غامدی صاحب ان قادیانیوں کو مسلمانوں کی نماز کا امام مقرر کر کے جانےکون سا حقِ نمک ادا کرنا چاہ رہے ہیں ! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غلط فہمی :4- ایک شبہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ قادیانیوں کو صرف پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جب کہ باقی دنیا میں انھیں مسلمان ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے ، کیونکہ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ ء کو پاکستانی پارلیمان کے فیصلے سے قبل ۱۹؍نومبر ۱۹۲۰ء کو سپریم کورٹ آف ماریشس کے غیر مسلم جج نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ۔
۲-قیامِ پاکستان سے قبل ریاست بہاول پور کی عدالت نے ۷  ؍فروری ۱۹۳۵ ء کو قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ سنایا۔
۳- ۱۳۹۳ ھ میں علمائے حرمین شریفین نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے پر دستخط کیے۔ 
۴- ۲۹ ؍اپریل ۱۹۷۳ ء کو پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی پاکستان سے بھی قبل قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے چکی تھی ۔  
۵ - اپریل ۱۹۷۴ ء میں رابطہ عالمِ اسلامی کے تحت ۱۴۴ مسلم ممالک نے قادیانیوں کے کفر پر متفقہ قرارداد منظور کی ۔
۶ - ۲۲ تا۲۸ ؍دسمبر ۱۹۸۵ ء کو مجمع الفقہ الاسلامی نے جدہ ، سعودی عرب میں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرار داد منظور کی ۔ 
۷- ۱۹۸۷ ء میں جنوبی افریقا کی عدالت کے غیر مسلم ججوں نے پاکستان کے مسلمان علماء کے دلائل سن کر قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ کیا ۔ 
۸ -عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرِ مرکزیہ اور ۱۹۷۴ ء کی تحریک ختمِ نبوت کے قائد محدث العصر حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوریؒ نے ۷ ؍ستمبر ۱۹۷۴ءکے فیصلے کے بعد جنوبی افریقا کے ان ممالک کا دورہ کیا تھا جہاں قادیانی لٹیرے غریب مسلمانوں کے ایمان کا شکار کرتے تھے ، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ  نے ان ممالک میں باقاعدہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی شاخیں قائم فرما کے انہیں کام کا طریق سمجھایا ، جنوری ۲۰۱۵ء میں انہی ممالک میں سے ایک ملک گیمبیا میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے ۔    
یہ واقعات شاہدِ عدل ہیں کہ قادیانیوں کو پوری دنیا کے مسلمان تو غیر مسلم مانتے ہی ہیں ، نیزغیر مسلموں یہود و نصاریٰ کے سامنے بھی جب قادیانیت کی حقیقت آئی تو انھیں بھی ان کو مسلمانوں سے الگ سمجھنے میں کوئی جھجھک نہ ہوئی ۔ 
قادیانیوں کے کفر پر پوری دنیا کے مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بھی یہ سمجھنا کہ صرف پاکستان میں قادیانی غیر مسلم قرار دیے گئے ہیں ، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ۔ 
ہم علمائے کرام سے درخواست کریں گے کہ قادیانی فتنے سے عوام الناس کو خبردار رکھنے کے لیے اپنے بیانات میں اس مسئلے کی سنگینی کو ضرور اُجاگر کیا کریں ، تاکہ سادہ مسلمان اس فتنے سے متعلق غلط فہمیوں کا شکار ہو کر انھیں مسلمانوں کے مختلف مسالک کے باہمی اختلافات پر محمول نہ کربیٹھیں ۔ اللہ تعالیٰ پوری امتِ مسلمہ کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے اور ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے دامے دِرمے قدَمے سُخَنے کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ! 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین