
ہم بحیثیت مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دینِ اسلام کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ قرآن و سنت کے بغیر دین کا کوئی تصور نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی کہ وہ دین میں کسی قسم کا اضافہ یا کمی نہ کرے۔اسی سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مشہور ہے:
’’من کذب عليّ متعمدًا فليتبوأ مقعدہٗ من النار‘‘(صحیح بخاری:۱۲۹۱، صحیح مسلم:۳ )
’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ غیر معتبر اور من گھڑت روایات کی اشاعت دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے، اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
غیر معتبر یا موضوع (من گھڑت) روایات وہ ہیں جو جھوٹے راویوں نے گھڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیں، یا جو سند و متن کے اصول پر پوری نہیں اُترتیں۔ یہ روایات بظاہر دین کا لبادہ اوڑھ کر آتی ہیں، لیکن حقیقت میں دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔
قرآنِ پاک میں واضح الفاظ میں جھوٹ سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے:
۱- ’’وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ‘‘ (الحج: ۳۰)
’’اور جھوٹی بات سے کنارہ کش رہو۔‘‘
۲-’’وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلَالٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ‘‘ (النحل: ۱۱۶)
’’اور جن چیزوں کے بارے میں تمہارا محض جھوٹا زبانی دعویٰ ہے ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگادیں گے۔‘‘
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کفٰی بالمرء کذبًا أن يُّحدّث بکلّ ما سمع۔‘‘
’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۵)
یہ نصوص واضح کرتی ہیں کہ بغیر تحقیق روایت کو پھیلانا جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ جھوٹ انتہائی سنگین گناہ بن جاتا ہے جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے منسوب کردیا جائے۔
عوام الناس میں ایک عمومی مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی بات دل کو لگتی ہے یا موقع کی مناسبت سے متاثر کن لگتی ہے تو وہ اس کی تحقیق نہیں کرتے۔ ہر سنی سنائی بات پر یقین کر لیتے ہیں، اور صرف یہی نہیں، بلکہ اس کی تشہیر بھی شروع کر دیتے ہیں۔
جذباتی پن بھی ایک مرض ہے، اور جب یہ مرض شدت اختیار کر لے تو انسان بغیر تحقیق کے محض نیکی کی نیت سے بھی من گھڑت باتوں کو قبول کر لیتا ہے اور انہیں پھیلاتا بھی ہے۔
سوشل میڈیا جدید دور کا ایک عظیم فتنہ ہے۔ آج کے زمانے میں سب سے زیادہ من گھڑت اقوال اسی کے ذریعے وائرل ہوتے ہیں۔ ایک کلک سے ایک جھوٹی بات ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
یہ بھی ایک بڑا المیہ ہے کہ چرب زبانی سے متاثر ہو کر لوگ ہر بات کو سچ سمجھ لیتے ہیں۔ قصہ گو واعظین اثر انگیزی کے لیے ضعیف یا موضوع روایات پیش کرتے ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فضائل و ترغیب کے لیے کچھ بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔
بعض اقوال عام طور پر حدیث سمجھ کر بیان کیے جاتے ہیں، حالانکہ وہ حدیث نہیں، جیسے:
’’حب الوطن من الإيمان‘‘ (المقاصد الحسنۃ، الباب الأول، حرف الحاء ، ص:۲۹۷، رقم:۳۸۶، ط: دار الکتاب العربي-بيروت)
’’وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔‘‘
’’الصلاۃ معراج المؤمن‘‘ (الیواقیت الغالیۃ ،ج:۲، ص: ۶۲،۶۶)
’’نماز مومن کی معراج ہے۔ ‘‘
اسی طرح مخصوص دنوں یا اوقات میں کچھ وظائف اور اذکار کی تفصیلات من گھڑت طور پر بیان کی جاتی ہیں۔
اصل سنت پس پشت چلی جاتی ہے اور گھڑی ہوئی باتیں دین کا حصہ بن جاتی ہیں اور اس پہ لوگ من وعن یقین کرنا شروع کردیتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے لیے رہبر و رہنما بنا کر بھیجے گئے، اس لیے ان کے اقوال، افعال اور اعمال کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہم تک سینہ بسینہ بہت احتیاط سے پہنچایا، اب اس احتیاط میں بے احتیاطی کرکے جو طبقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے کوئی غلط بات منسوب کرتا ہے، گویا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اُمت کے ہر صادق طبقہ کو جھٹلایا اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔
لوگ ضعیف یا من گھڑت اعمال کو لازم پکڑ لیتے ہیں اور اصل سنت سے غافل ہو جاتے ہیں۔
جب روایت تحقیق کے بعد غلط ثابت ہوتی ہے تو عوام میں دین پر اعتماد کم ہو سکتا ہے۔ یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب یہ فتنہ عام ہوا تو کیا اس کا سدِباب نہیں ہوا؟ بالکل ہوا، الحمدللہ، ہر دور میں محدثینِ کرام نے اس فتنے کے رد میں اپنی زندگیاں صرف کر دیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے صحیح و ضعیف روایات کو الگ کیا، علمِ رجال اور جرح و تعدیل کے اصول مرتب کیے، اور اُمت کو ایسا عظیم علمی ذخیرہ دیا جس سے دین خالص اور محفوظ رہا۔ (کتاب ’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘ سے اقتباس)
اکابر محدثین جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ، امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ ، امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ ، امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ کرامؒ نے اپنی عمریں احادیث کی چھان بین، رواۃ کے حالات اور سند و متن کی تحقیق میں صرف کیں۔
موضوعات (من گھڑت روایات) کو الگ کرنے کے لیے ان کی خدمات عظیم علمی سرمایہ ہیں۔
اس موضوع پر لکھنے کا مقصد یہ پیغام ہے کہ اس موضوع کے حوالہ سے بہت گمراہی پھیل رہی ہے اور اس پر آگاہی لینا اور دینا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں اس موضوع پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، تاکہ ہم کسی حدیث کے بیان کرنے میں غلطی اور گمراہی سے بچ سکیں۔