بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

غیر مسلم کی دعوت میں شرکت

غیر مسلم کی دعوت میں شرکت


سوال

میں قطر میں رہتا ہوں، کیا ہم کسی غیر مسلم کے گھر جا سکتے ہیں اور وہاں کھا بھی سکتے ہیں؟ اسی طرح ان کو اپنے گھر بھی بلا سکتے ہیں؟ میرے آفس میں ایک ہندو لڑکا ہے ، اس نے ہمیں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں دعوت دی، جس میں سب کی فیملیز بھی شامل تھیں، مردوں اور عورتوں میں پارٹیشن تھا، کیا ایسی دعوت میں جانا جائز ہے جو کہ ایک ہندو نے دی؟ اور وہ ہندو لڑکا نہ میرا باس ہے اور نہ میں اس کا باس ہوں۔

جواب

اسلامی اخلاق و رواداری اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی غرض سے ان کے گھر جانے یا انہیں اپنے گھر بلانےکی اجازت ہے، اسی طرح ان کی دعوت میں شرکت کرنے کی بھی اجازت ہے، بشرطیکہ دعوت کسی مذہبی تہوار کی مناسبت سے نہ ہو، یا دعوت میں حرام اشیاء (شراب ، خنزیر یا حرام ذبیحہ وغیرہ) نہ ہوں، تاہم کفار کے ساتھ دوستانہ تعلقات یعنی دلی محبت یا ان کی طرف میلان رکھنا جائز نہیں ہے۔
’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے:
’’الْاَکْل مَعَ الْمَجُوسِيِّ وَمَعَ غَيْرِہٖ مِنْ أہْلِ الشِّرْکِ أنَّہُ ہَلْ يَحِلُّ أمْ لَا؟ وَحُکِيَ عَنْ الْحَاکِمِ الْإِمَامِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْکَاتِبِ أنَّہٗ إنِ اُبْتُلِيَ بِہِ الْمُسْلِمُ مَرَّۃً أوْ مَرَّتَيْنِ فَلَا بَأسَ بِہِ، وَأمَّا الدَّوَامُ عَلَيْہِ فَيُکْرَہُ، کَذَا فِي الْمُحِيطِ۔
وَذَکَرَ الْقَاضِي الْإِمَامُ رُکْنُ الْإِسْلَامِ عَلِيٌّ السُّغْدِيُّ أنَّ الْمَجُوْسِيَّ إذَا کَانَ لَايُزَمْزِمُ فَلَا بَأسَ بِالْأکْلِ مَعَہٗ وَإِنْ کَانَ يُزَمْزِمُ فَلَا يَأکُلُ مَعَہٗ؛ لِأنَّہٗ يُظْہِرُ الْکُفْرَ وَالشِّرْکَ، وَلَايَأکُلُ مَعَہٗ حَالَ مَا يُظْہِرُ الْکُفْرَ وَالشِّرْکَ، وَلَا بَأسَ بِضِيَافَۃِ الذِّمِّيِّ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ بَيْنَہُمَا إلَّا مَعْرِفَۃٌ، کَذَا فِي الْـمُلْتَقَطِ. وَفِي التَّفَارِيْقِ: لَا بَأسَ بِأنْ يُضِيْفَ کَافِرًا لِقَرَابَۃٍ أوْ لِحَاجَۃٍ، کَذَا فِي التُّمُرْتَاشِيِّ۔ 
وَلَا بَأسَ بِالذَّہَابِ إلٰی ضِيَافَۃِ أہْلِ الذِّمَّۃِ، ہٰکَذَا ذَکَرَ مُحَمَّدٌ - رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی - وَفِي اُضْحِيَّۃِ النَّوَازِلِ: الْمَجُوسِيُّ أوْ النَّصْرَانِيُّ إذَا دَعَا رَجُلًا إلٰی طَعَامِہٖ تُکْرَہُ الْإِجَابَۃُ، وَإِنْ قَالَ: اشْتَرَيْتُ اللَّحْمَ مِنْ السُّوقِ فَإِنْ کَانَ الدَّاعِيْ نَصْرَانِيًّا فَلَا بَأسَ بِہٖ۔
‘‘ (الْبَابُ الرَّابِع عَشَر فِي أہْلِ الذِّمَّۃِ وَالْأحْکَامِ الَّتِي تَعُودُ إلَيْہِمْ، ۵ / ۳۴۷)  
                                                           فقط اللہ اعلم
فتویٰ نمبر :144105201018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین