
1-جوان یا بوڑھی عورت کا قبرستان جانا کیسا ہے؟ اگر جاسکتے ہیں تو دن کے کس حصے میں جانا مناسب رہے گا؟ نیز قبرستان جانے میں کن باتوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے؟
2- اگر کسی کا عزیز فوت ہوجائے تو وہ عورت قبر پر جاکر پرندوں کو دانہ پانی ڈالے، یہ درست ہے؟
1-واضح رہے کہ عموماً عورتیں مردوں کی بنسبت کم ہمت ہوتی ہیں، آہ وبکا، جزع فزع بہت زیادہ کرتی ہیں، اس لیے جَوان عورتوں کا قبرستان جانامکروہ ہے، البتہ اگر کوئی عورت بوڑھی ہو اور عبرت اور تذکرۂ آخرت کے لیے قبرستان جائے تو اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ وہ جزع فزع نہ کرے، اس کے لیے بھی بہتر یہ ہے کہ نہ جائے، گھر ہی سے ایصالِ ثواب کرلیا کرے، اگر کبھی شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے جائے بھی تو دن کے وقت میں جائے۔ ’’البحرالرائق‘‘ میں ہے:
’’( قولہ: وقیل تحرم علی النساء الخ) قال الرملي: أما النساء إذا أردن زیارۃ القبور إن کان ذٰلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت بہ عادتھن فلاتجوز لھن الزیارۃ ، وعلیہ حمل الحدیث: ’’لعن اللہ زائرات القبور۔‘‘ وإن کان للاعتبار والترحم والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین، فلابأس إذا کن عجائز، ویکرہ إذا کن شواب، کحضور الجماعۃ في المساجد ۔ ‘‘ (البحر الرائق شرح کنزالدقائق ومنحۃ الخالق وتکملۃ الطوري، ج:۲، ص:۲۱۰)
2-قبروں پر دانہ پانی ڈالنا کسی حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ قابلِ ترک ہے، لہٰذا اس سے احتراز کیا جائے، قبروں پر دانہ پانی ڈال کر قبر کو پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کی آماجگاہ بنانے کے بجائے یہ رقم غریبوں کو صدقہ و خیرات کرکے اس کا ثواب میت کو بخش دیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ میت کو فائدہ ہو۔ حدیث شریف میں ہے:
’’عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’من أحدث في أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رد۔‘‘ (سنن ابن ماجۃ، باب تعظیم حدیث الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ج:۱، ص:۷، ط: دار إحیاء الکتب العربیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 1441-6008
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن