بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

علم کی گمشدہ کڑیاں مغرب کی تقلید اور روشنی کے وارث

علم کی گمشدہ کڑیاں

مغرب کی تقلید اور روشنی کے وارث


آج کے ترقی یافتہ دور میں اگر کسی اسکول، کالج اوریونیورسٹی کے طالب علم سے یہ سوال پوچھا جائے کہ ’’جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا بانی کون ہے؟‘‘ تو اس کا جواب بغیر کسی تاخیر کے نیوٹن، گلیلیو، آئن سٹائن یا ایڈیسن ہوگا۔ 
ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں یہ فکری خاکہ اس قدر گہرا کر دیا گیا ہے کہ علم، تحقیق اورسائنس محض مغرب کی جاگیر ہیں۔ ہمیں دانستہ یا نادانستہ طور پر یہ باور کروایا گیاہے کہ مسلمان صرف ماضی کے قصے کہانیوں اور فتوحات کے رسیا تھےاور سائنسی و عقلی ترقی سے ان کا دور دور کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ 
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مروجہ تاریخ سو فیصد سچ ہے؟ یا پھر یہ ایک منظم فکری سازش اور تاریخی حقائق کو چھپانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے؟
اگر ہم تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کریں اور تعصب کی عینک اُتار کر دیکھنا شروع کریں تو سچائی اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس سائنسی انقلاب پر آج مغرب فخر کرتا ہے، اس کی بنیادیں اندلس کی مسلم یونیورسٹیوں اور بغداد کے ’’بیت الحکمت‘‘ میں رکھی گئی تھیں۔ یہ ایک ایسی دستاویزاتی اور سچی تاریخ ہے جسے صدیوں سے چھپایا جا تا رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہماری تین تین نسلیں شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے اپنے ہی اسلاف کے علمی ورثے کو پرائی امانت سمجھنا شروع کردیا۔
مغرب کی علمی اجارہ داری کا طلسم اس وقت ٹوٹتا ہے جب ہم حقائق کی کھوج کرتے ہیں۔ مغرب دعویٰ کرتا ہے کہ سائنس فرانسس بیکن کی مرہونِ منت ہے۔ لیکن مسلم دنیا کے مایہ ناز عباقرہ، جیسے ابن الہیثم نے بیکن سے صدیوں پہلے علمِ بصریات (Optics) میں دنیا کا پہلا حقیقی سائنسی تجربہ کیا۔ 
ابن الہیثم نے صرف تھیوریاں پیش نہیں کیں، بلکہ اندھیرے کمرے میں روشنی کے انعطاف (Refraction) کا عملی مظاہرہ کر کے اس ’’کیمرہ ابسکورا‘‘ کی بنیاد رکھی جس کے بغیر آج کا ڈیجیٹل میڈیا اور سائنسی مانیٹرنگ ادھوری ہے۔ 
اسی طرح محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے جب ’’الجبرا‘‘ کی بنیاد رکھی اور صفر (Zero) کے تصور کو ریاضی کا حصہ بنایا، تو انہوں نے لاشعوری طور پر اس بائنری سسٹم کا مڈل ویئر تیار کر دیا تھا جس پر آج دنیا کے تمام کمپیوٹرز، الگورتھمز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے یا کسی کی باریک واردات کہ مسلم تہذیب کے عروج کے وقت یورپ کی حالتِ زار کیا تھی اور کیا بنا کر پیش کی جاتی ہے ۔ ایک ایسا دور بھی تھا جب قرطبہ اور غرناطہ کی سڑکیں رات کو روشنیوں سے جگمگا رہی ہوتی تھیں اور وہاں کے کتب خانے لاکھوں کتابوں سے بھرے پڑے تھے، جبکہ دوسری طرف پورا یورپ جہالت اور تاریکی کے دورسے گزر رہا تھا۔ 
اس دور میں مسلم طرزِ زندگی اس قدر طاقتور اور پرکشش تھا کہ یورپی اشرافیہ اور وہاں کے بادشاہ مسلم ریاستوں کے قانون، لباس، رہن سہن، حتیٰ کہ سرکاری زبان کی نقل کرنا اپنے لیے سب سے بڑا سٹیٹس سمبل سمجھتے تھے۔ اندلس اور صقلیہ کے شاہی درباروں میں مسلم طرزِ حکومت کی یہ تقلید اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ دنیا کی قیادت کس کے ہاتھ میں تھی۔ یورپی مؤرخین نے اس دور کو مسلم بالادستی کا دور تسلیم کیا ہے، لیکن جدید تاریخ میں یہ چیزیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پا رہیں۔
ہمارے ساتھ ایک اور باریک واردات یہ ڈالی گئی کہ مسلم خواتین کے کارنامے ،ان کی انسانیت کے لیے دی گئی خدمات ،ان کی ریاضتیں اور لازوال جدوجہد کو نا صرف بالکل فراموش کردیا گیا، بلکہ مسلم خواتین کے متعلق مسلم معاشرے کے کردار کو بھی مشکوک کردیا گیا۔ 
مروجہ مغربی تاریخ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ سائنس اور تنظیمی ڈھانچے صرف مردوں کی ایجاد ہیں، حالانکہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے خواتین کو علم و تحقیق کا وہ بلند مقام دیا جس کی مثال کسی دوسری تہذیب میں نہیں ملتی۔ فاطمہ الفہری جیسی خاتون نے نویں صدی میں مراکش کے شہر فاس میں دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی ’’جامعۃ القرویین‘‘ کی بنیاد رکھی، جو آج بھی دنیا کی قدیم ترین فعال یونیورسٹی تسلیم کی جاتی ہے۔ اسی طرح مریم الاسطرلابی نے اسٹرونومی (علمِ نجوم و فلکیات) کے میدان میں وہ پیچیدہ اسطرلاب (Astrolabe) تیار کیے جو اس دور کا جی پی ایس (GPS) کہلا سکتے ہیں۔ ان خواتین کا ذکر نہ کرنا علم کی تاریخ کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
بہت سے لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ : ’’یہ سب تو ماضی کے قصے ہیں، آج کے مسلمان کی کیا کاوشیں ہیں ؟‘‘ یہ آرٹیکل اس مغالطے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ مسلمانوں کا سائنسی عروج صرف ماضی کا کوئی قصۂ پارینہ نہیں ہے، بلکہ یہ سفر ۲۱ویں صدی میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ 
آج دنیا کے جدید ترین سائنسی میدانوں، جیسے نانو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، جینیٹکس اور روبوٹک سرجری کے پردے کے پیچھے ایسے مایہ ناز مسلم دماغ موجود ہیں جو خاموشی سے عالمی سطح پر انسانیت کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے تحقیقی مقالےدنیا کے بڑے بڑے سائنسی جرائد کی زینت بنتے ہیں، جو اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ہماری علمی اور سائنسی صلاحیتیں کبھی ختم نہیں ہوئیں اور میرا ماننا ہے کہ اگر قرطبہ و غرناطہ کی مسلم یونیورسٹیز کو تاراج نا کیا جاتا اور بغداد جیسا علم کا شہر تاتاریوں کی نظر نہ ہوتا تو دنیا ترقی کی جن منازل کو آج طے کررہی ہے، اس سے کہیں ایک دو صدیاں آگے بھی ہونا تھیں اور مضبوط اور منظم ہاتھوں میں بھی ہونا تھیں ۔
تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مسلم امہ کو احساسِ کمتری کی ان زنجیروں کو توڑنا ہوگا اور ہمیں اپنی اگلی نسلوں، اساتذہ، اور ریسرچ اسکالرز کو ایک ایسا فکری ہتھیار دینا ہوگا جو نہ صرف ان کا سر فخر سے بلند کرے، بلکہ ان کے اندر دوبارہ سے سائنسی تحقیق کا وہی جذبہ بیدار کرے جو ہمارے اسلاف کا طرۂ امتیاز تھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو غیروں کی عینک سے دیکھنا بند کریں اور روشنی کے حقیقی وارث بن کر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین