
علمِ اصول فقہ کےبارےمیں ایک اشکال ایسا ہے جو آج کل ہی نہیں، بلکہ پرانے اور کافی پُرانے زمانے سے دہرایاجاتاہے، امام ذہبیؒ اور علامہ ابن القیمؒ جیسے فضلاء روزگار نےبھی ایک خاص پس منظر میں یہ اعتراض واشکال اپنی اپنی تحریروں میں پیش کیاہے۔ وہ اشکال یہ ہے کہ ایک طرف اس علم میں اجتہاد واستنباط کےاصول وقواعد بتائے اور سکھائے جاتے ہیں، دوسری طرف چاروں مذاہب کےفقہائے کرام نئے اجتہاد واستنباط کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرتے ہیں، بلکہ اس بات کی بھی صراحت کرتے ہیں کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اجتہاد کا دروازہ بند ہے اور اس کو بند ہی رکھنا ہے تو پھر اس علم کو پھیلانے، پڑھنے پڑھانے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ تو خالص ضیاعِ وقت ہی ہے کہ جو دروازہ بند ہے اوراس نے بند ہی رہنا ہے، اس کی طرف جانےاور کھولنے کی کوشش کی جائے!
سرسری طورپردیکھاجائےتو یہ بات بہت بھلی اور وقیع سی معلوم ہوتی ہے، ایک تو سرسری پن کی وجہ سے اس بات کی کچھ وقعت پیدا ہوجاتی ہے اور ساتھ دوسری بات جس کی وجہ سے اس بات میں کچھ وزن پیدا ہوتا محسوس ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ جن حضرات نے اس سوال کےجواب دینے کی کوشش کی ہے، ان میں سےبیشتر افراد کاجواب یا اس کا اسلوب وانداز ایساہےجس سے اصل اشکال کا تصفیہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کی مزید اہمیت ووقعت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات کمزور جواب کی وجہ سے اشکال واعتراض کی مزید قوت واہمیت اُجاگر ہوجاتی ہے۔
بہرحال! ہماری رائے یہ ہے کہ یہ اصل سوال ہی غلط فہمی یا مغالطہ پر مبنی ہے، اس لیے سوال یا اس میں پیش کردہ نکات کو درست تسلیم کرکےجواب دینےکی ضرورت ہی نہیں۔
ہمارےاس دعوی کی تفصیل یہ ہے کہ اصل سوال درج ذیل دو مقدمات پر مبنی ہے:
1:علم اصولِ فقہ میں صرف اجتہاد واستنباط کےاصول وقواعد ہی بتائےاورسکھلائےجاتےہیں۔
2:موجودہ دور میں یا علم اصول فقہ کی تدوین کےدور میں اجتہاد واستنباط کا دروازہ ایسا مسدود ہوچکاہے کہ جزوی یاکلی طورپر کبھی نہ کھلے گا۔
ان دو باتوں پر سوال کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہی مقدمات غلط ہیں۔
پہلے مقدمے کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں اجتہادواستنباط کے قواعد وضوابط کے علاوہ بھی متعدد اہم امور بتائے اور سمجھائے جاتے ہیں، مثال کے طور پر:
1-دلالات ِ نصوص کی بحث۔ یہ بحث ہماری حنفی اصول فقہ کی کتابوں کاخاصا حصہ گھیرلیتی ہے، چار تقسیمات اوربیس اقسام کے ضمن میں اس کو ذکر کیاجاتاہے،ساتھ مختلف مبادی وقواعد وغیرہ بھی ذکر کیے جاتے ہیں، لیکن یہ مباحث کتاب وسنت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ فقہی کتابوں کی عبارات میں بلکہ کلام عرب میں جاری ہوتے ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر سچی بات تویہ ہے کہ یہ اقسام ومباحث عربی کےساتھ بھی مخصوص نہیں ہیں، بلکہ ہر کلام میں یہ بحث جاری ہوتی ہے اور اپنا متعلقہ فائدہ دیتی ہے۔
2-استدلال کا طریقہ، اس کےدرست مناہج اور سقیم طریقےواسالیب۔ یہ ایک بہت کار آمد اور مفید بحث ہے جو اصولی کتابوں میں منتشر طورپر ذکر ہوتی ہے، لیکن اجتہاد اور اہلِ اجتہاد کےساتھ مخصوص نہیں ہے۔
3-شرعی احکام وخطابات کےمتوجہ ہونے کی اہلیت کا معیار کیاہے؟ اور اس میں خلل ڈالنے والے امور وعناصر کیا کیا ہیں؟ اور کس حد تک ان امور کی وجہ سے مخاطب کی اہلیت مفقود شمار ہوگی؟ یہ فقہی لحاظ سے اور فتوی کےنقطہ نظرسے ایک مفید بحث ہے، لیکن اس کی تفصیل اصولِ فقہ کی کتابوں ہی میں ذکر ہوتی ہے، فقہائےحنفیہ کو اس بحث میں گویا ’’ابتکار‘‘ و ’’واِبداع‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، ہماری کتابوں میں یہ بحث’’امورِ معترضہ علی الاہلیہ‘‘ یا اس کے ہم معنی عنوان سےذکر ہوتی ہے۔
4- نقدِ کلام کے علمی اصول جس کو ’’علم مناظرۃ‘‘ سےبھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ علمی اور نظری قسم کے مسائل ومباحث میں حق بات تک رسائی کےلیے اس فن کی غیر معمولی اہمیت میں شبہ نہیں ہے، یہ بحث بھی اصالۃً اصولِ فقہ کی رہینِ منت ہے، گو بعد میں اس پر مستقل طور پر متعدد کتابیں لکھی گئیں اور ہوتے ہوتے اس کو ایک باقاعدہ فن کی شکل حاصل ہوئی۔ ہمارے فقہائےاحناف کی کتابوں میں قیاس کے باب کےآخر میں ’’دفع القیاس‘‘ کے عنوان سے یہ پوری بحث ذکر کی جاتی ہے۔
جہاں تک دوسرا مقدمہ ہے یعنی’’ موجودہ دور میں یا علمِ اصولِ فقہ کی تدوین کےدور میں اجتہاد واستنباط کا دروازہ کلی طور پر ایسا مسدود ہوچکا ہے کہ جزوی یا کلی طور پر کبھی نہ کھلےگا۔‘‘ تو یہ مقدمہ بھی غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد واستنباط کا دروازہ یکسر مسدود نہیں ہے، بلکہ اس کے مختلف اطراف وجوانب ہیں، ان میں سے کچھ جانب توایسے ہیں جن کا دروازہ واقعۃً مسدود ہے، مسدود ہونے کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو، لیکن کچھ اطراف ایسے بھی ہیں کہ ان کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہے، بلکہ اس کو بند کیابھی نہیں جاسکتا۔
بات یہ ہے کہ انفرادی طور پر قرآن کریم، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اجماعِ امت اور شرعی قیاس سے براہِ راست شرعی احکام کے استنباط و اجتہاد کا دروازہ تو (عام طور پر) بند ہے، لیکن اس کے علاوہ کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو اجتہاد کے تحت آسکتی/آجاتی ہیں، لیکن ان کا دروازہ بند نہیں ہوا، مثال کے طور پر:
۱:مجتہدین کرام کی مستنبط کردہ علل کی تطبیق۔
۲: نئےپیش آمدہ مسائل کا ان ضوابط کےمطابق تخریج کرنا جو اہلِ اجتہاد متعین کرچکے ہیں۔
علامہ شاطبی رحمہ اللہ وغیرہ کے بقول جس طرح علت کااستنباط وتخریج اجتہاد کہلاتا ہے، یوں ہی اس کی تطبیق اوراس کی بنیاد پر کسی نئے حادثےمیں حکم کا اثبات بھی کارِ اجتہاد ہی کاحصہ اور اسی کا ایک پہلو ہے، اور یہ دوسری خدمت ختم نہیں ہوئی، بلکہ قیامت تک برقرار رہےگی۔
خیر! یہاں تک کی بات کاحاصل یہ ہواکہ یہ جواعتراض کیاجاتاہے کہ: ’’علمِ اصولِ فقہ کا مقلد کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘ یہ بالکل بے جا اور بے معنی سا اعتراض ہے، جن دو مقدمات پر یہ اعتراض مبنی ہوسکتا ہے، وہ دونوں ہی مقدمات غلط اور خلافِ واقع ہیں،اس لیے اس فن پر یہ اعتراض بھی کھوکھلا ہے، حقیقتِ واقعہ یہی ہے کہ یہ علم مقلد کے لیے مفید اور بہت ہی کار آمد ہے۔
گزشتہ سطور میں جو کچھ ذکر کیاگیاہے،اس کےعلاوہ کچھ فوائد اور بھی ہیں جو اس علم سےحاصل ہوجاتے ہیں،ان فوائد کو یہاں کسی خاص ترتیب کے بغیر ذکر کیا جاتا ہے۔
اس سے مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے مجتہدینِ کرام نےکسی بےضابطگی سے کام لیا اور نہ ہی وہ کسی بےراہ روی کے شکار ہوئے تھے، انہوں نے شرعی دلائل ہی کی روشنی میں متعلقہ سارے احکام کا استنباط فرمایا ہے، یعنی خلف کو سلف کے کام سے روشناس کرایا ہے۔ بعض لوگ اس کو طنزکےطورپرذکر کرتے ہیں کہ محض اتنی سی بات کے لیے فن مدون کرنےکی کیا ضرورت ہے؟
اس کا جواب یہی ہے کہ اس فن کا صرف یہی ایک فائدہ نہیں ہے، بلکہ دیگر غیر معمولی فوائد وثمرات بھی ہیں جن کو اس مقالہ میں اختصار کےساتھ ذکر کیاجارہاہے، لہٰذا ایک تو اس کو ’’محض اتنی سی بات‘‘ سے تعبیر کرنا کہاں کا انصاف ہے! دوسری بات یہ ہے کہ اس نوعیت کا تاریخی فائدہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے، ماضی سے قطع نظر دورِحاضر میں ہم اس نوعیت کےتاریخی فوائد کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں، ملکی تاریخی اور آثارِ قدیمہ کی حفاظت کے لیے کس قدر مال، وقت اور صلاحیتیں صرف کی جاتی ہیں! اصل بات یہ ہے کہ دین کی قدر نہیں ہے اور آخرت سنوارنے کا کوئی ایسا خاطرخواہ رجحان نہیں ہے، جس طرح دنیا کے کمانے اور سنوارنے کا ہے۔
اصولِ فقہ کے ضمن میں اصولِ ترجیح بھی پائے جاتے ہیں، جن سے اختلافی امور میں راجح پہلو کا پائیدار طریقے سے تعین کیا جاسکتا ہے، قیاس واستحسان کے مباحث کی طرف مراجعت کی جائے تو آسانی کے ساتھ یہ فائدہ ہاتھ آسکتا ہے۔
علمِ اصولِ فقہ کا ایک بڑا، اہم اور عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے امت کے افراد اور اجتماعیت دونوں کو علمی فتنوں اور نظریاتی حملوں سے محفوظ رکھاجاسکتاہے، یہ فائدہ جس قدر اہم ہے،اُسی قدر اس سے غفلت بھی عام ہے،ا س لیے اس کی تھوڑی بہت وضاحت کی جاتی ہے۔
سوال یہ ہوتاہے کہ علمِ اصولِ فقہ سےعلمی فتنوں کا مقابلہ کیونکر کیا جائے؟ اصولِ فقہ کا علمی فتنوں یا نظریاتی واردات کےساتھ کیا تعلق ہے جس سے حفاظت کو خواہ مخواہ اس علم کے فوائد میں سےگنوایاجارہاہے؟
جواب یہ ہے کہ علمی فتنہ بنتا کہاں سے ہے؟ جب کوئی شخص اصولی تقاضوں کے بَرخلاف قرآن وسنت سے اخذ واستنباط کرتا ہے تو اس سے علمی فتنہ جنم لیتا ہے، اب اگر عملی طور پر اس علم کو رواج دیا جائے اور اس کی پابندی ضروری قرار دی جائے، لوگوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ بہرحال اس علم کے قالب میں رہ کر ہی دین اورعلمِ دین کی خدمت انجام دےدیں، تو بہت بڑے فتنوں کا اپنے آپ سدّباب ہوسکتا ہے اور پوری اُمت مختلف نوعیت کے فتنوں سے اچھی طرح محفوظ رہ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ضوابط لاگو کردیے جائیں اور ان کے مطابق عمل درآمد کو ضروری قرار دیا جائے کہ:
1-سلفِ صالحین کے اتفاق وتعامل کےخلاف کوئی موقف اپنانا ممنوع ہے۔
2-اگر کوئی شخص دین کے کسی مسئلہ میں قرآن وسنت کو پیشِ نظر رکھ کر ایسا موقف اختیار کرنا چاہتا ہے جو نیا ہو اور پہلے کسی مجتہد کے ہاں وہ موجود نہ ہو تو خواہ اس کو کوئی بھی نام دیا جائے، مآل کار یہ اجتہاد ہی ہے، لہٰذا اس اجتہاد کے لیے درکار صلاحیت واستعداد ضروری ہے، اس کے بغیر کسی کو ایسے اقدام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
3-اجتہاد کا راستہ اختیار کرنے کےلیے علم وعمل کےلحاظ سے وہ معیار ضروری ہے جو اصولی کتابوں میں مذکور ہے، اگر کوئی شخص اس معیار پر پورا اُترتا ہے تو اس کو اجتہاد کرنے کی بھی گنجائش ہے، ورنہ تو تقلید کرنا ضروری ہے اور تقلید بھی ان چار متبوعہ مذاہب میں سےہی کسی ایک مذہب کی ضروری ہے۔
4-اجتہاد کا اختیار بھی صرف ان مسائل میں ہے جو اُصولی نقطۂ نظر سے ’’محلِ اجتہاد‘‘ ہوں، جو مسائلِ منصوص یا اتفاقی نوعیت کے حامل ہیں، وہاں کسی کو اجتہاد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
5-قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس ہو، یا دینی موضوعات پر تالیف وتصنیف، اس کے مختلف درجات مقرر کیے جائیں اور ہر درجہ کے لیے مناسب علمی وعملی استعداد لازم کردیا جائے۔
یہ اور ان جیسے چند اصول کو اگر لاگو کردیا جائے تو ایک تو اس اقدام کی وجہ سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہوجائے گا، کیونکہ امت میں افتراق عموماً اسی سے پیدا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی مسئلہ میں کوئی نیا موقف اختیار کرکے اس کی تبلیغ وتلقین شروع کرتا ہے، حالانکہ وہ نیا موقف اصولی نقطہ نظر سے درست نہیں ہوتا، اس لیے لوگ اختلاف کرنا شروع کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ بات جماعت بندی اور پھر جتھہ سازی تک پہنچ جاتی ہے، اسی طرح ان جیسے اصول کو عملی طور پر لاگو کرنے کے بعد اُمت علمی فتنوں سے اچھی طرح محفوظ ومامون رہ سکتی ہے۔
یہ تو ایک مختصر سی فہرست ہے، اگر کوئی جماعت سنجیدگی کےساتھ اس راستہ پر چلنا چاہے اور اُمت کے سنوارنے کو اپنے ضروری مقاصد میں سے شامل کرلے تو اس موضوع پر مزید بھی غور کیا جاسکتا ہے اور اس میں مزید بہتری بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔