بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

بینات

 
 

عقیدۂ ختمِ نبوت پر عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا احتساب ِ قادیانیت (۶۰ جلدیں )محاسبۂ قادیانیت (۴۰ جلدیں )

عقیدۂ ختمِ نبوت پر عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا

احتساب ِ قادیانیت (۶۰ جلدیں )محاسبۂ قادیانیت (۴۰ جلدیں )

الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

 

تکوینی طور پر بعض حالات اور واقعات ایسے پیش آجاتے ہیں جو بظاہر بڑے کٹھن اور صبر آزما ہوتے ہیں، لیکن ان میں مستقبل کے اعتبار سے پوری اُمتِ مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کی ہدایت اور راہنمائی کی نوید ہوتی ہے اور وہ اُمت کے لیے بڑے نفع کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں ۔ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں مسیلمہ کذاب کا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے زمامِ اَمر میں شراکت اور خلافت کا مطالبہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کےبعد اُس کا جھوٹا دعویٰ نبوت‘ اُمت کے لیے واقعتًا بڑی سخت آزمائش تھی، حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ نے اُس کے خلاف جہاد کیا، جس میں کم و بیش بارہ سو صحابہؓ اور تابعینؒ نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں سات سو قرآنِ کریم کے حفاظ تھے، یہ معمولی سانحہ نہیں تھا، لیکن ان صبر آزما حالات کو اللہ تعالیٰ نے جمعِ قرآنِ کریم اور حفاظتِ قرآنِ مجید کا پیش خیمہ بنادیا۔ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے دل میں قرآنِ کریم کی حفاظت کی خاطر اضطراب پیدا کیا، انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ اس سے پہلے کہ تمام حفاظ صحابہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہو جائیں اور قرآنِ کریم اُمت کے قلوب سے اُٹھ جائے، آپ اس کو کتابی شکل میں محفوظ کرائیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کو بھی شرح صدر نصیب فرمایا، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں صحابہ کرامؓ کی جماعت کے ذریعے قرآن کریم کو حفاظِ کرام کے قلوب اور متفرق صحیفوں وغیرہ سے جمع کرکے کتابی شکل میں مرتب کیا۔ آج اس محفوظ قرآن کریم کی صورت میں اُمتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کو کتنی بڑی علمی نعمت اور خیرِ کثیر ملی ہوئی ہے!
پھر حضرت عثمان غنی  رضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلام عرب سے نکل کر عجم کے کئی ممالک میں پھیل گیا، اور عرب کی مختلف لغات اور لہجات میں قرآنِ کریم کی تلاوت و کتابت سے اُمت میں اختلاف کا اندیشہ ہوا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے مشورے سے قرآنِ کریم کو ایک لغتِ قریش پر باقی رکھ کر اور بقیہ لغات کو موقوف کرکے اُمت پر کتنا بڑا احسان کیا۔ 
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر دور میں بعض ایسی شخصیات کو کھڑا کیا جنھوں نے علمی اعتبار سے پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے فرضِ کفایہ کا کام کیا ۔ کہیں فقہاءِ کرام کو قرآن و سنت سے مسائل کے استنباط کی وقیع علمی خدمت کے لیے منتخب کیا، کبھی قراءِ کرام سے قرآنِ کریم کی سبعہ عشرہ قراءت کی حفاظت کا کام لیا، کبھی محدثینِ عظام سے احادیثِ نبویہ کی تدوین و جمع کا کام لیا، کبھی نقّاد ائمۂ حدیث سے احادیث کو پرکھنے، جانچنے اور صحیح کو موضوع سے الگ الگ کرنے کا کام لیا، کبھی اولیاء اللہ کو کھڑا کر کے دینِ اسلام کی حفاظت اور اشاعت کا کام لیا، کبھی مجاہدین کو کھڑا کر کے دینِ اسلام کے سامنے موجود رکاوٹوں کو دور کیا۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کی غرض سے دین کی حفاظت، اشاعت اور پھیلاؤ یا دین میں دَر آنے والے فتنوں سے دفاع یا بچاؤ کا معاملہ ہو یا اُمتِ مسلمہ اور انسانیت کی ہدایت و راہنمائی کا معاملہ ہو، ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر اپنے بندوں سے کام لیا اور انھوں نے دین کو تر و تازہ کرکے اُمت کو پیش کیا، جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
۱:’’ إِنَّ اللہَ يَـبْعَثُ لِہٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَہَا دِيْنَہَا ۔‘‘  (أبوداود:۴۲۹۱)
ترجمہ : ’’اللہ اس اُمت کے لیے ہر صدی کی ابتدا میں ایک ایسے شخص کو اُٹھائے گا جو اس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘
۲ : ’’ لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِيْ ظَاہِرِيْنَ عَلَی الْحَقِّ، لَا يَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ حَتّٰی يَأتِيَ اَمْرُ اللہِ وَہُمْ کَذٰلِکَ ۔‘‘  (مسلم : ۱۹۲۰)
ترجمہ : ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر (قائم اور) غالب رہے گا، جو شخص بھی ان کی حمایت سے دست بردار ہو گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا، حتی کہ اللہ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی طرح ہوں گے۔‘‘
۳ : ’’إنہ سیکون في اٰخر ہٰذہ الأمۃ قوم لہم مثل أجر أوّلہم یأمرون بالمعروف و ینہون عن المنکر ویقاتلون أہل الفتن۔‘‘ (رواہ البیہقي في دلائل النبوۃ، بحوالہمشکاۃ المصابیح، ص:۵۸۴، ط:قدیمی)
ترجمہ: ’’ اس اُمت کے آخر میں کچھ لوگ ہوں گے جنہیں امت کے پہلوں کا سا اجر دیا جائے گا۔ یہ لوگ ’’معروف‘‘ کا حکم کریں گے، بُرائیوں سے روکیں گے اور اہلِ فتنہ سے لڑیں گے۔ ‘‘ 
’’احتسابِ قادیانیت و محاسبۂ قادیانیت، ۱۰۰جلدوں پر مشتمل ایک انسائیکلوپیڈیا ‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا سہرا ہمارےممدوح حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم کے سر جاتا ہے، جنھوں نے اُمتِ مسلمہ کے لیے تحفظِ ختمِ نبوت کے عظیم مقصد کے لیے یہ علمی سوغات پیش کی ہے، اس کے علاوہ ۶ ؍جلدوں میں ’’قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کی مصدَّقہ رپورٹ ‘‘، اسی طرح ۱۷ جلدوں میں انبیاء کرام      علیہم الصلاۃ والسلام کی حیات پر ایک علیحدہ انسائیکلو پیڈیا بنام : ’’حیات الانبیاء ‘‘، جو ۱۰۰۰۰ صفحات پر مشتمل اور ۱۰۰ سے زائد مصنفین ومؤلفین کے ۱۲۲ کتب و رسائل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
 احتسابِ قادیانیت و محاسبۂ قادیانیت کی تفصیل سے پہلے یہ واضح ہونا مناسب ہے کہ انسائیکلوپیڈیا کیا ہوتا ہے ؟
انسائیکلوپیڈیا (Encyclopedia) علم و معلومات کا ایک ایسا جامع ذخیرہ ہوتا ہے جس میں مختلف علوم، فنون، شخصیات، مقامات اور دنیا بھر کے موضوعات کو حروفِ تہجی یا موضوعاتی ترتیب سے جامع اور منظم انداز میں بیان کیا جاتا ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری کو کسی بھی موضوع پر مختصر یا مطوّل، مگر مستند معلومات یکجا مل جائیں۔ اسے عربی میں ’’دائرۃ المعارف‘‘ اور انگریزی میں انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے اور اردو میں بھی یہی دونوں الفاظ مستعمل اور مروّج ہیں۔
انسائیکلوپیڈیا کی تاریخ بہت پرانی ہے، قدیم یونان میں ارسطو نے مختلف علوم کو جمع کرنے کی بنیاد رکھی، رومی دور میں اور پھر اٹھارویں صدی میں اس فن کو ترقی ملی، قدیم مخطوطات سے لے کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک اس کی شکل جدید سے جدید تر ہوئی ہے۔ 
انسائیکلوپیڈیا کی چند اہم اقسام درج ذیل ہیں :
1-    عمومی، جس میں ہر موضوع پر معلومات مہیا کی جاتی ہیں۔
2-    مخصوص، جو کسی ایک شعبہ مثلاً: اسلام، سائنس وغیرہ پرمعلومات فراہم کرتی ہے۔ 
3-    آن لائن، جسے جدید دنیا میں ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے ۔
 آن لائن انسائیکلو پیڈیا تک رسائی آسان اور فوری ہوتی ہے، جب کہ کتابی انسائیکلو پیڈیا زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے ، مگر دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: علم کو محفوظ کرنا اور عام کرنا۔
 انسائیکلوپیڈیا کی اہم خصوصیات میں سے یہ ہے کہ یہ معلومات کا جامع ذخیرہ، معتمد و مستند اور تحقیق شدہ موادہوتا ہے جوالف بائی یا موضوعاتی ترتیب مثلاً مختلف شعبہ جات: مذہب، سائنس، تاریخ، ادب، جغرافیہ وغیرہ پر مختصر مگر جامع وضاحت کے ساتھ مدون کیا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے تحقیق کرنے میں مددملتی ہے، طلبہ اور اساتذہ کے لیے بنیادی ذریعہ علم ہے، مستند معلومات تک فوری رسائی حاصل ہوتی ہے، جب کہ عمومی علم اور معلومات ( جنرل نالج)میں بھی اضافہ ہو تا ہے ۔
دنیا کی مختلف زبانوں میں انسائیکلوپیڈیا (دائرۃ المعارف) کی ایک بہت وسیع روایت ہے۔ ہر بڑی زبان میں ایسے علمی خزانے موجود ہیں جو اپنے اپنے معاشرے، تاریخ اور علوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہر زبان کا انسائیکلوپیڈیا صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس قوم کی علمی روایت، سوچ اور تہذیب کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے۔
 برِ صغیر میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ الہندؒ کے جلیل القدر شاگرد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ کو اس فتنہ کے استیصال کے لیے منتخب کیا، آپ نے اپنے شاگردوں کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے آمادہ اور علمی طور پر تیار کیا، جنھوں نے اس فتنہ کی تردید اور تکذیب کے لیے تحریر و تقریر، تدریس و تصنیف اور جرائد و رسائل کا سہارا لیتے ہوئے اُمتِ مسلمہ کی رہبری و راہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کے دین و ایمان کی حفاظت کی، اسی کے تسلسل میں تحریکات کا بھی مرحلہ آیا، اس میں بھی ہمارے اکابرین نے امتِ مسلمہ کی قیادت و سیادت کی، یہ قافلہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کے معتمد سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر علومِ اَنورؒ کے وارث محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ اور حضرت شیخ الہند ؒ کی سیاسی تحریک کے وارث حضرت مولانا مفتی محمودؒ تک چلا، جنھوں نے اُمتِ مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ۱۹۷۴ ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا، ان تمام حضرات کی پوری زندگی کی دینی اور علمی جدو جہد کو اُمتِ مسلمہ کے سامنے لانے کی اشد ضرورت تھی، جسے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’تحریکِ ختمِ نبوت ‘‘ (۱۰ جلدوں) میں لکھ کر یہ امانت ادا کی، گویا ’’ تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت ‘‘ پر انسائیکلوپیڈیا پیش کرنے کی کوشش کی ہے ، اور اب آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے ۱۰۰ جلدوں میں ’’علومِ ختمِ نبوت‘‘ کا جامع ذخیرۂ علم تیار کر دیا ہے ۔
آپ نے ۳۶ سال قبل ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ نامی کتاب سے اس کام کا آغاز کیا، جس میں اس عنوان پر ۱۰۰۰ کتابوں کی فہرست اورتعارف پیش کیا گیا ہے ۔ ردِّ قادیانیت پر اپنے دور کی سب سے مستند شخصیت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ میں ۹۹ کتابوں کی فہرست شائع کی ہے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی تصنیف ’’قائد ِ قادیان‘‘ میں ۱۱۲ کتب کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ جب کہ اس عنوان پر سب سے پہلے حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے ’’حفاظت ِ ایمان کی کتابیں‘‘ کے نام سے ۸۰ کتابوں کا تعارف کرایا تھا، آپؒ ہی کا مشہور مقولہ ہے کہ: ’’تحفظ ختم نبوت اور ردِّقادیانیت پر اس قدر لکھو اور طبع کراؤ کہ ہر مسلمان جب سو کر اٹھے تو اس کے سرہانے اس عنوان پر کتاب رکھی ہو۔‘‘ مولانا اللہ وسایا صاحب کی یہ کاوش ان بزرگوں کی سعی پیہم کے لیے ’’ختامہ مسک‘‘ کا درجہ رکھتی ہے ۔
۳۶؍ سال کے طویل عرصے پر محیط تھکا دینے والے اس کام کو سر انجام دینے کے لیے آپ نے اندرونِ ملک قائم لائبریریوں کا چپہ چپہ چھان مارا، بیرونِ ملک سے بھی جہاں کسی کتاب کی موجودگی کی اطلاع پائی، اس کے حصول کے لیے اس وقت تک جتن کیے جب تک اسے حاصل نہ کر لیا ۔ پھر اس عنوان پر بڑی کتابیں چھوڑ کر رسائل کی شکل میں جس نے بھی کچھ لکھا آپ نے اسے شامل کیا، مسلک و فرقہ، زبان و قوم، ملا و مسٹر کی تفریق نہ کی ۔نادر و نایاب اور کم یاب اردو رسائل کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی کے بھی قیمتی رسائل ترجمہ کرا کے شامل کیے، ضخیم کتابوں کے علاوہ ورقی دو ورقی مضمون ملا تو اسے بھی قرطاس کی دنیا میں زندہ وجاوید کر دیا۔ آپ کی کوشش یہ رہی کہ ردِّقادیانیت پر جس نے بھی لکھا ہو وہ تمام مواد اکٹھا ہو جائے؛ تاکہ آئندہ تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے آسانی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے اس جذبہ و جنون نے آپ سے وہ کام کرادیا کہ گویا آپ موصوف تاریخ ختم نبوت کا ایک مستقل باب بن گئے ہیں ۔
ردِّ قادیانیت پر یہ تمام تر علمی کام دراصل تحفظِ ختمِ نبوت اور دفاعِ ناموسِ رسالت کے حسین سلسلے کی سنہری کڑیاں ہیں، کیونکہ قادیانیت، خاتم النبیین آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کا نام ہے اور اس بغاوت کو کچلنے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش ذاتِ رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے مترادف ہے ۔ جس طرح خلیفۂ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تمام صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے متحد ہو کر مسیلمہ کذاب کے فتنے کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح ایک بار پھر آج اُمتِ مسلمہ کے تمام مکاتب ِفکر نےبیک زبان و قلم ہو کر مسیلمۂ پنجاب مرزا قادیانی کو شکستِ فاش سے دوچار کیا ہے ۔
مرزا غلام قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے ۵۰ جلدوں پر کتاب لکھنے کا اعلان کیا تھا اور عوام سے اس کی پیشگی رقم وصول کی، لیکن صرف ۵ جلدیں بمشکل پوری کر سکا اور بقیہ کے پیسے بھی واپس نہ کیے، نبوت کے جھوٹے دعوے دار قادیانی کذاب کی بد دیانتی کی یہ ایک ادنیٰ جھلک ہے ۔ دوسری جانب تحریک تحفظ ختم نبوت کے ایک سپاہی سے اللہ تعالیٰ نے قادیانیت کے رد میں ۱۰۰ جلدوں پر مشتمل کتاب مرتب کروادی اور اس سے حاصل ہونے والا ایک پیسہ بھی کسی کی ذاتی ملکیت میں نہیں گیا، بلکہ مجلس تحفظ ختم نبوت کےبیت المال کے لیے اسے وقف کر دیا، یہ صادق و امین پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کے معاملات کی صفائی ہے۔ 
مولانا اللہ وسایا صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ’’احتساب قادیانیت‘‘ کی پہلی جلد دسمبر ۱۹۸۹ء میں شائع کی اور ۶۰ ویں جلد دسمبر ۲۰۱۴ ء میں شائع ہوئی، اس کے بعد ’’محاسبۂ قادیانیت‘‘ کی پہلی جلد کی اشاعت اگست ۲۰۱۵ ء میں ہوئی اور ۴۰ ویں جلد فروری ۲۰۲۶ء میں تیار ہوئی اور ۳۶ سال ۳ ماہ کے عرصہ میں ۱۰۰ جلدوں پر مشتمل ردِّ قادیانیت کا انسائیکلوپیڈیا (احتسابِ قادیانیت : ۶۰ جلدیں، محاسبۂ قادیانیت : ۴۰ جلدیں-کل : ۱۰۰ جلدیں) تیار ہوا۔
اگر ان دونوں مجموعوں کا الگ الگ جائزہ لیا جائے تو احتسابِ قادیانیت کی ۶۰ جلدوں میں ۳۶۹ مصنفین و مؤلفین کے ۷۷۶ رسائل و کتب ہیں، جن کے صفحات کی تعداد ۳۴۵۰۰ بنتی ہے ۔ نیز محاسبۂ قادیانیت کی ۴۰ جلدوں میں ۲۴۲ مصنفین و مؤلفین کے ۸۲۷ رسائل و کتب شامل ہیں، جن کے صفحات کی تعداد ۲۱۱۲۰ ہے۔ اس طرح احتساب ِ قادیانیت اورمحاسبۂ قادیانیت کی ۱۰۰ جلدوں میں ۶۱۱ مصنفین و مؤلفین کے ۱۶۰۳ کتب ورسائل ومقالہ جات ہیں، جن کے صفحات کی تعداد ۵۵۶۲۰ ہے ۔
مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسے کتابی صورت کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا سے استفادے میں سہولت اور اس کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے، لیکن یہ مجموعہ ہر لائبریری کی زینت بننا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو پوری امت مسلمہ کی جانب سے اس فرض کفایہ کو ادا کرنے پر اَجرِ جزیل عطا فرمائے، اُمتِ مسلمہ کے لیے اس عظیم سرمایہ کو ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ بنائے اور آخرت میں ہم سب کے لیے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ بنائے، آمین بحرمۃ خاتم النبیین!

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین