
معروف عالم دین اور دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک و دار العلوم نعمانیہ ترنگزئی چار سدہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس المعروف شیخ ادریس رحمۃ اللہ علیہ ۱۷؍ ذو القعدۃ ۱۴۴۷ھ مطابق ۵؍ مئی ۲۰۲۶ء بروز منگل دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے میں شہید کر دیے گئے ، إنا للہ و إنا إلیہ راجعون! إن للہ ما أخذ ولہ ما أعطیٰ وکل شیئ عندہٗ بأجل مسمّٰی!
آپؒ مولانا مولوی عبد الحق ؒ المعروف مناظرِ اسلام کے فرزند تھے، آپ کے دادا شیخ التفسیر مفتی شہزادہؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور پر دادا مولانا شیخ محمد اسماعیل ؒعلامہ شمس الحق افغانیؒ کے اساتذہ میں سے تھے ۔ آپ عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین حضرت مولانا محمد حسن جان مدنی شہید ؒکے داماد تھے۔
۲۲؍مارچ ۱۹۶۱ء مطابق ۵؍ شوال المکرم ۱۳۸۰ھ کو ضلع چار سدہ ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ ناظرہ قرآن کریم اور ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ اور جدِامجد مولانا مفتی شہزادہ صاحبؒ سے حاصل کی ، درس نظامی کی اکثر کتب والد محترم اور جدِ امجد کے علاوہ دار العلوم نعمانیہ اَتمانزئی میں پڑھیں، مولانامحمد ادریس دیوبندیؒ سے ادبِ عربی اور حضرت مولانا رسول سید صاحبؒ (سوات) اور حضرت مولانا عبد الحلیم کوہستانی ؒ سے کتبِ معقولات پڑھیں۔ اس کے بعد دورہ حدیث شریف کے لیے دار العلوم حقانیہ اَکوڑہ خٹک تشریف لے گئے اور ۱۹۸۳ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ ایم اے (عربی اسلامیات) پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی۔ آپ کے اہم اساتذہ میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحق ؒ(اکوڑہ خٹک)، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد فریدؒ، مولانا عبدالحلیم زروبویؒ اور مولانا فضل الٰہی شاہ منصوریؒ شامل تھے۔
۱۹۸۳ء سے جامعہ نعمانیہ اَتمانزئی میں تدریس کا آغازکیا، بعد میں دار العلوم اسلامیہ تنگی میں شیخ الحدیث کے طور پر ۹؍سال تک دورۂ حدیث شریف پڑھایا۔اپنے گاؤں میں ۶ ؍سال تک صحیح بخاری، جامع ترمذی اور مؤطا پڑھائی۔ ۲۰۱۳ء سے دار العلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے عہدے پر فائز تھے۔ حیاتِ مستعار کے آخری سالوں میں دار العلوم حقانیہ میں بھی ترمذی اور بخاری کے دروس دیتے رہے۔
آپ کے حلقۂ درس میں ہزاروں طلبہ مستفید ہوتے تھے ۔ایک سال میں لگ بھگ ۲۵۰۰ طلبہ بخاری و ترمذی پڑھتے تھے۔ آپ کو درسِ حدیث کا خاص ملکہ حاصل تھا۔
جمعیت علمائے اسلام چار سدہ کے ضلعی امیر رہے۔ صوبائی سرپرستِ اعلیٰ اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن (۲۰۰۲ء-۲۰۰۷ء) رہے۔ ۲۰۰۲ء کے الیکشن میں آپ تنگی ضلع چارسدہ PK-20 سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور بحیثیت صوبائی ممبر کارہائے نمایاں سرانجام دیے اور ساتھ ہی نفاذِ شریعت کونسل کے ممبر بھی تھے، جس میں شریعت بل اور حسبہ ایکٹ بنانے میںآپ کا اہم کردار شامل تھا۔ موصوف نے صوبائی اسمبلی سے شریعت بل اور حسبہ ایکٹ پاس کروانے کا اعزاز حاصل کیا۔
دا رالعلوم حقانیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ ؒ وفات پاگئے تو مولا نا سمیع الحق شہیدؒ نے آپ کو اُن کی جگہ تدریس کے لیے بلایا ، آپ نے کئی مرتبہ جگہ کی دوری کی بنا پر معذرت کی، لیکن مولانا نہیں مانے اور آپ کو مجبور کیا، پھرآپؒ نے استخارہ کیا جس میں خواب دیکھا کہ امام بخاریؒ دارالعلوم حقانیہ تشریف لا رہے ہیں۔ اساتذہ کرام میں حضرت مولانا عبد الحق ؒ اور دیگر اکابر موجود ہیں، جب امام بخاریؒ دارالعلوم پہنچے تو ان کے ہاتھوں میں بخاری شریف کا نسخہ تھا، آپ نے وہ نسخہ شیخ ادریس شہیدؒ کو دیا، جس سے آپ کو دلی اطمینان ہوا اور دار العلوم حقانیہ کی مسندِ حدیث پر جلوہ افروز ہوئے۔
شیخ ادریس شہیدؒ نے اپنے جدِ امجد حضرت مولانا شہزادہ صاحبؒ کے ہاتھ پرسلسلہ قادریہ میں بیعت کی تھی اور انھوں نے آپ کو خلافت سے نوازا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد سلوک کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد فرید صاحب نور اللہ مرقدہٗ سے سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت کی اور حضرتؒ نے نقشبندیہ اور قادریہ دونوں سلسلوں میں خلافت سے نوازا۔ ولیِ کامل مولانا عبد السلام (المعروف پیر سباق بابا جی صاحب) نے بھی اعزازی طور پر سلاسلِ اربعہ میں خلافت عطا کی ۔
حالیہ عالمی و ملکی حالات میں پاکستان کے امن پسند کردار کو سراہتے تھے اور شریعت کے نام پر مسلح جدوجہد کو غلط سمجھتے تھے۔ شہادت سے کچھ ہی دن قبل ایک بیان میں پاکستانی قیادت کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا تو ملک دشمن عناصر آپؒ کی کردار کشی پر اُتر آئے اور سوشل میڈیا پر آپؒ پر گند اُچھالتے رہے، لیکن آپؒ ہر سطح پر بلاخوف لومۃ لائم کلمۂ حق بلند کرتے رہے، جس کی پاداش میں شہادت کے دن صبح سویرے حدیث شریف پڑھانے کے لیے گھر سے مدرسے کی طرف تشریف لے جاتے ہوئے دہشت گردوں نے آپؒ کو شہید کر دیا۔ آپؒ نے اپنے سسر حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ کے راستے پر چلتے ہوئے شہادت پائی ، کیونکہ وہ بھی ملک دشمن عناصر کے خلاف اپنے وقت کی مضبوط آواز تھے اور اسی پاداش میں شہید کیے گئے ۔
اسی دن نمازِ عصر کے بعد چار سدہ میں آپؒ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ، جس میں خلقِ کثیر شریک ہوئی، تا حدِّ نظر انسان ہی انسان تھے ۔ نمازِ جنازہ کے بعد آپؒ کے آبائی قبرستان میں آپؒ کی تدفین عمل میں لائی گئی۔
جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، نائب رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر سید احمد یوسف بنوری، ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ یوسف زئی اور تمام اساتذہ وطلبہ حضرتؒ کے پسماندگان سے تعزیت کے ساتھ ساتھ اس سانحہ کو اپنا سانحہ اور غم اور خود اپنے کو تعزیت کا مستحق سمجھتے ہیں ، اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرتؒ کی جمیع حسنات کو قبول فرمائے اور آپؒ کو جنت الفردوس کا مکین بنائے ، آپؒ کے قاتلوں کو دنیا و آخرت میں عبرت کا نشان بنائے، ہمارے ملک پاکستان کوامن کا گہوارہ بنائے، علمائے کرام اور عوام الناس کی حفاظت فرمائے ، آپ کےپسماندگان، متعلقین ، منتسبین ، اعزہ و اقارب ، آپ کے تلامذہ ، خصوصاً آپؒ کے صاحبزادگان مولانا انیس احمد (عالم دین اور مدرس) اور ڈاکٹر محمد سلمان (MBBS) کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اپنے والد کا صحیح جانشین بنائے ، آمین بحرمۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین!
ادارہ بینات تمام قارئین سے حضرتؒ کے لیے اور تمام اہلِ حق شہداء کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست کرتا ہے ۔