
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
اسرائیل جو خود اپنے وجود کے اعتبار سے عالمی استعماری طاقتوں کے سہارے کا محتاج تھا، آج وہی غیرقانونی اور غاصب ریاست اتنی خود سر اور اپنے سرپرستوں پر اتنی حاوی ہو چکی ہے کہ اس کے اشاروں بلکہ خواہشوں پر دنیا بھر میں جنگیں مسلط کی جا رہی ہیں۔ اس کے کہنے پر امریکا نے ایران کی صف اول کی قیادت اور فوجی سربراہان کو چند ہی دنوں میں موت کے گھاٹ اُتار دیا ، سمندر میں موجود ایران کے کئی جہازوں کو عملے سمیت بمباری کر کے سمندر بُرد کر دیا گیا ، بچیوں کے اسکول پر حملہ کر کے ۱۶۳ بچیوں کو مار دیا گیا، تیل کے کنووں، بجلی گھروں اور ریل کی پٹریوں کو اُڑایا گیا، یہاں تک کہ امریکا نےچند گھنٹوں کا الٹی میٹم دے کر پوری ایرانی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کا کہہ دیا ، اور ایران پر ایٹمی حملے کا خطرہ محسوس ہونے لگا ۔ اِدھر ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغنا شروع کردیے، اگر چند میزائل اسرائیل کی طرف جاتے تو بیسیوں کی تعداد میں خلیجی ممالک پر برستے ، داد دینی چاہیے سعودی حکومت کے صبر و تحمل کو کہ اتنے میزائل گرنے کے باوجود انھوں نے جذباتی ردِعمل دے کر جنگ کے شعلے نہیں بھڑکائے۔
ان مشکل اور نازک ترین حالات میں پاکستان اَمن کا پیامبر بن کر سامنے آیا، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہونے کے باوجود سعودیہ اور ایران دونوں کو صبر و تحمل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے اسرائیلی امریکی سازشی منصوبے کو سفارَتی کوششوں کے ذریعے تاحال ناکامی سے دوچار کیا۔ مصر، ترکی، سعودی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو یا روس ، چین اور یورپی ممالک سے سفارَتی سطح پر رابطہ، پاکستان رات دن ایک کرکےاَن تھک کوششوں کے بعد بالآخر دونوں فریقوں کو مذاکرات کے لیےآمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا، جس پر ایران کے وزیر ِ خارجہ نے ’’شکریہ پاکستان! زندہ باد پاکستان ‘‘ کے الفاظ سے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی عوام نے وزیر اعظم پاکستان ، وزیر ِ خارجہ اور فیلڈ مارشل پاکستان کے نام سے ترانے پڑھے، سعودی عرب اور مصر نے بھی معاہدۂ اَمن کی اِن پاکستانی کوششوں پر ترانے بنائے۔
پاکستانی تاریخ میں کئی مواقع ایسے آئے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم اور اپنی خاص عطا سے پاکستانی قوم کو بین الاقوامی طور پر عزت و افتخار اور اعزاز و انعام سے نوازا ہے۔ ۲۸؍ مئی ۱۹۹۸ء کو ایٹمی دھماکے کرکے ایٹمی قوت بننے سے لے کر گزشتہ برس ۱۰؍ مئی ۲۰۲۵ء کو بھارت کے خلاف ’’بنیان مرصوص‘‘ کے عنوان سے معرکۂ حق تک، اللہ تعالیٰ نے پاکستانی قوم اور ملک کو فتح و کامرانی اور عزت و نام وَری کے اعزازات سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ان ہی انعامات کا تسلسل ہے کہ ۱۱؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو پاکستان کا نام پوری دنیا میں اس وقت عزت و احترام سے لیا جانے لگا جب اس کی اَن تھک کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان ۳۸؍ دن سے جاری جنگ نہ صرف دو ہفتوں کے لیے عارضی طور پر موقوف ہوگئی، جو تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہونے جا رہی تھی اور خطے میں جوہری جنگ کے خدشات جنم لینے لگے تھے، بلکہ اس عالمی جنگ کے دونوں فریقوں کو ۴۷؍ سال بعد پہلی مرتبہ مذاکرات کی میز پر بھی لا بٹھایا، جس کی بنا پر دنیا بھر میں پاکستان کا روشن اور مثبت رُخ اُبھر کر سامنے آیا، بلکہ پاکستان کی اَمن پسندی کی صحیح تصویر بھی دنیا نے دیکھ لی، جس کو دشمن اب تک دُھندلاکر، بلکہ مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرتے آ رہے تھے۔ اس کا تمام تر سہرا وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ، نائب وزیر اعظم اور وزیر ِخارجہ محترم جناب محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جناب حافظ سیدعاصم منیر کو جاتا ہے ، جنھوں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا، جس پر انھیں جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے ، کم ہے ۔
اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے، پاکستان کو اَمن کا پیامبر تسلیم کیا جا رہا ہے ، دنیا بھر سے سربراہانِ ریاست فون کر کے پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ بھارت کی انتہاپسند مودی حکومت نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کے لیے جتنا زور لگایا تھا ،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے اثرات زائل ہوچکے ہیں اور خود بھارت کے انصاف پسند حلقے بھی پاکستان کی ثالثی کے کردار کو سراہ رَہے ہیں ۔ پاکستان کو کل تک ایک سیکورٹی رسک ملک کے طور پر دکھایا جا رہا تھا،مگر اس پاکستان نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اپنی بہترین سفارت کاری سے دنیا بھر میں خود کو قابلِ اعتماد میزبان اور بھروسے مند ثالث کے طور پر منوا لیا ہے۔ عالمی جنگ بندی کروا کے اور دہائیوں کے دشمنوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم داخلی و خارجی محاذوں پر مسلط کردہ جنگوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ دنیابھر کے اَمن کی بقا کے بھی ضامن بن چکے ہیں ۔
اسلام آباد امن مذاکرات کا پہلا مرحلہ اگرچہ بظاہر پورے طور پر کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق سوائے چند نکات کے فریقین کا اکثر نکات پر اتفاقِ رائے ہوا ہے، اس طرح کے عالمی تنازعات اور خوفناک جنگ کے فورًا بعد مذاکرات میں اتنا خوشگوار ماحول اور چند باتوں پر سہی جو اتفاق دیکھنے میں آیا ہے، یہ مکمل کامیابی سے کسی طرح کم بھی نہیں ہے، شدید اختلافات کے بعد مذاکرات کا مرحلہ وار ہونا فطری اَمر اور قرینِ مصلحت بھی ہے، اُمید کا دیا ابھی بھی روشن ہے۔ شنید ہے کہ چند دن میں ان شاء اللہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہونے جارہا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی جلد مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی۔
بعض مبصرین کے مطابق ایران کے خلاف مسلط کردہ اس جنگ کے پیچھے عالمِ اسلام کی واحد جوہری طاقت پاکستان کو گھیرنے اور اُسے نشانہ بنانے کے اسرائیلی عزائم اور منصوبے تھے؛ تاکہ اس کے بعد عرب دنیا خصوصاً سعودی عرب پر چڑھائی کر سکے اور اپنی پارلیمان میں لگے نقشے کے مطابق -لا سمح اللہ- مسلمانوں کے قلوب کے مرکز مدینہ طیبہ میں اپنے ناپاک قدم گھسا سکے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے عزائم کو ناکام کیا، اور ان شاء اللہ آئندہ بھی اُسے نامراد ہی رکھے گا، پاکستان نے ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ‘‘ کے فرمانِ خدواندی پر عمل کرتے ہوئے برادر اسلامی ممالک کو اب تک ایک دوسرے کے خلاف جنگ سے روک رکھا ہے، اور دوسری طرف پاک سعودی دفاعی معاہدے کے تحت اپنے جنگی جہاز سعودی ائیربیسز پر اُتار دیے ہیں، الحمدللہ! یہ اعزاز بھی اس پاک دھرتی کے حصے میں آیا کہ ہمارے فوجی جوان حرمین شریفین کی حفاظت کا مقدس فریضہ انجام دیں گے۔ یہ دنیاوی اعزاز کے ساتھ ساتھ اُخروی سرخروئی کا بھی باعث ہوگا، ان شاء اللہ!
سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی صدر نے کئی امریکی صدور کو ایران پر حملے کے لیے اُکسایا تھا ، مگر وہ اس سے گریز کرتے رہے، وہ ان ملاقاتوں میں خود موجود رہی ہیں ، مگر موجودہ امریکی صدر اپنی افتادِ طبع کے باعث اس جھانسے میں آگئے اور وہ غلطی کر بیٹھے ، جس کا خمیازہ اب خود امریکا کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امریکا نے اب تک کئی ملکوں کی حکومتوں کو انصاف اور انسانی حقوق کےنام پر اُجاڑا ہے ۔ آج وقت ہے کہ امریکا کا محاسبہ کیا جائے اور اس سے ان جنگوں کا حساب لیا جائے ، جس میں کئی مظلوموں کو اس نے اپنی ذاتی خواہش کی بھینٹ چڑھادیا، حتیٰ کہ اُمتِ مسلمہ کے لیے رمضان کے مقدس مہینے کا احترام نہ کیا، معصوم بچیوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا ، جنگوں میں بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور عبادت گاہوں کے احترام و حفاظت کاسبق ہر مذہب میں پڑھایا جاتا ہے ، لیکن دہشت گرد امریکا نے وہ ساری حدیں بھی پھلانگ دیں۔ کیا انسانی حقوق کے اداروں اور انصاف کے علم برداروں کو اس کا نوٹس نہیں لینا چاہیے ؟
حالیہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل مسلم اکثریتی ملک لبنان پر وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جیلوں میں مظلوم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی طاقتوں نے سزائے موت کا نیا بل منظور کرلیا ہے، اسرائیلی وزیر دندناتے ہوئے مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کرتا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ فلسطینیوں کے بدن سے بس ان کی روحوں کو الگ کرنا باقی ہے ۔ پاکستان کو چاہیے کہ ایران امریکا جنگ بندی کے ساتھ ساتھ لبنان اور فلسطین پر اسرائیلی مظالم کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرے ، سننے میں تو یہ آیا ہے کہ پاکستان کے اربابِ اختیار نے اس سلسلے میں بھی سفارتی کوشش کی ہے، بہرحال موجودہ حالات میں جہاں پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی اور اعتماد سازی فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھا سکتی ہے ، وہاں دونوں فریقوں میں کچھ اپنی شرائط پر امن معاہدہ بھی ان شاءاللہ! کراسکتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی عزت اور نام وَری میں مزید اضافہ فرمائے ، ہماری سیاسی و عسکری قیادت کی ان کاوشوں کو مزید ثمر آوَر فرمائے اور اس کے مثبت نتائج پوری دنیا میں عام فرمائے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو معاشی استحکام نصیب فرمائے ، داخلی و خارجی فتنوں اور آفات سے ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین !
وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین