بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

زکاۃ میں سلے ہوئے کپڑے دینا

زکاۃ میں سلے ہوئے کپڑے دینا


سوال

کیا زکاۃ کی مد میں وہ کپڑے دیے جاسکتے ہیں جو سلے ہوئے تو ہوںمگر پہنے نا ہوں ؟ اگر ہاں تو اس کا طریقہ کار؟ اس کی کیا قیمت لگائیں گے؟
 

الجواب حامدًا و مصلیًا

زکاۃ کی مد میں سلے ہوئے کپڑے دینا درست ہے، البتہ مارکیٹ میں یہ کپڑے جتنی قیمت میں فروخت ہوں گے، اسی حساب سے زکاۃ کی ادائیگی کی جائے گی۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
’’ ویقومھا المالک في البلد الذي فیہ المال حتی لو بعث عبدا للتجارۃ إلٰی بلد اٰخر، فحال الحول تعتبر قیمتہٗ في ذٰلک البلد۔‘‘       (ج:۱، ص:۱۸۰، دارالفکر، بیروت)
’’الدرالمختار‘‘
میں ہے:
’’ویقوم في البلد الذي المال فیہ ولو في مفازۃ، ففي أقرب الأمصار إلیہ فتح۔‘‘ (ج:۲، ص: ۲۸۶، دارالفکر، بیروت)
 

فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 1441-7177 

دارالافتاء : جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین