
یوں تو نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہر شخص کے ساتھ اچھا سلوک و روش اور ہر ایک کے حقوق کی پاسداری و ادائیگی کا اہتمام ملتا ہے اور کیوں نہ ہو آخر نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم صدق و راست بازی، امانت و دیانت، فیاضی و کریمی، چشم پوشی و بخشش، مساوات و عدل، ایفائے عہد، جرأت و بہادری، جواں مردی و دستگیری، اُخوت و بھائی چارگی، رواداری و بردباری، تواضع و انکساری، طہارت و پاکیزگی، نفاست و نظافت، صبر و استقامت، وسطیت و میانہ روی، شرم و حیاء، اور عزم مصمم و جواں حوصلگی جیسی صفات کمالیہ کا جامع اور حسن و جمال، قرب و نوال، تعلق و اتصال، جاذبیت و دل کشی، خوب صورتی و خوب روئی، اور رعنائی و زیبائی جیسے اوصافِ جمالیہ کے مظہر اتم تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ، ان کے ذہنی تأثرات و جذبات کی پاسداری اور ان کی پر داخت و تادیب میں بھی سارے عالم کے لیے بہترین نمو نہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ شفیق و مہربان تھے، ان کا بوسہ لیا کرتے، مزاح فرماتے، معانقہ کرتے، مصافحہ فرماتے اور جب بھی بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے، تا کہ ان کے دلوں میں سلام کی اہمیت پید ا ہوجائے، اسی طریقے سے جب انس بن مالکؓ (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خادم تھے) بچوں کے پاس سے گزرتے تو سلام کرتے اور کہا کرتے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (۱)
بچے معصوم ہوتے ہیں، وہ اس گلستانِ رنگ و بو میں پھولوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں، انہی کی تابانی سے رونقِ جہاں قائم و دائم ہے، ان کی ایک ایک ادا اور ناز و نخرے ماں باپ کے لیے آبِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ہی کی عیش و عشرت اور راحت و آرام کے لیے ماں باپ رات دن ایک کرتے ہیں ۔ اسلامی تعلیمات نے بڑوں، بوڑھوں اور بزرگوں کی عزت اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنے کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں سے بھی شفقت و اُلفت، مہر بانی و عنایت، رکھ رکھاؤ، اچھا سلوک و برتاؤ اور ان کے احساسات و جذبات کی پاسداری کرنے کی بارہا تاکید کی، جس کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تربیت سب سے بہترین اور منفرد تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ ہر شخص کے لیے رہنما و رہبر کی حیثیت رکھتا ہے، بسا اوقات حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں کے ساتھ مشفقا نہ برتاؤ اور ان کے ساتھ مزاح و خوش مزاجی کو دیکھ کر تعجب بھی ہوتا تھاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر بڑی شخصیت، پیغمبر اور رسالت کے مقام پر فائز ہو کر بھی بچوں کے ساتھ اس قدر رحمت و شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف بڑوں اور بوڑھو ں سے ہی نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم بچوں سے بھی اکثر و بیشتر خوش مزاجی سے پیش آتے تھے اور کبھی کبھی ان سے مزاح بھی فرما لیا کرتے تھے، کثیر تعداد میں ایسی احادیث نبویؐ موجود ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے پر بہار خوش مزاجی کو عیاں کرتی ہیں، چناں چہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا۔‘‘ (۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’اُمِ سلمہؓ کی لڑکی زینب سے کھیلتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اے چھوٹی سی زینب! اے چھوٹی سی زینب! ۔‘‘ (۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی ’’ابو عمیر‘‘ نے نغیر (جو ایک پرندہ کا نام ہے) پالا تھا، وہ اس کے ساتھ کھیلتے تھے، جب وہ پرندہ مر گیا تو باوجود جاننے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (مزاحاً) فرمایا: ’’یا أبا عمير! ما فعل النغير؟‘‘ ، ترجمہ: ’’اے ابو عمیر! تمہارا نغیر کہاں گیا؟‘‘ (۴)
حضرت یعلی بن مرہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمیں کھانے کے لیے بلایا گیا تو راستہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کھیلتے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے لوگوں سے آگے بڑھے اور اپنا ہاتھ پھیلا دیا (پکڑنے کے لیے) وہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسا رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ لیا، آپ نے ایک ہاتھ ٹھوڑی پر اور دوسرا سر پر رکھا، پھر معانقہ فرمایا اور کہا: ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، خدا اُس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے، یہ میری اولاد ہے۔‘‘ (۵)
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر - جو کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان تھے- کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ: ’’جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا۔‘‘ چنانچہ یہ سب دوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آ کر گرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے۔ (۶)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسنؓ کا بوسہ لیا تو اقرع بن حابسؓ مجلس میں موجود تھے، انہوں نے کہا: میرے تو اس قدر لڑکے ہیں، میں کسی کا بوسہ نہیں لیتا ہوں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (۷)
سیدنا براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اُٹھا رکھا تھا، اور فرما رہے تھے: ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما۔‘‘ (۸)
عمرو بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا، (آپ کے فرزند) حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے، آپ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں دھواں ہوتا، کیونکہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا رضاعی والد لوہار تھا۔ آپ بچے کو لیتے، اسے پیار کرتے اور پھر لوٹ آتے۔ (۹)
بچوں کے حقوق ادا کرنا، ان کے احساسا ت کی رعایت کرنا اور ان کی جائز بات کو پورا کرنا بچوں کے دماغوں میں مثبت فکر پید اکرتا ہے اور وہ اس سے سمجھتے ہیں کہ زندگی لین دین کا نام ہے اور اس سے بچے حق بات کو قبول کرنے کے عادی بنیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں جب کوئی چیز پیش کی جاتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بچوں کو پلاتے، اسی طریقے سے جب نماز کے دوران کسی بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر فرمادیتے، تا کہ اس کی ماں بے چین نہ ہو، اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں:
* سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پینے کی چیز پیش کی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ نو ش فرمایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں جانب بزرگ حضرات بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے سے فرمایا کہ:’’ کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ان بزرگوں کو برتن دے دوں ؟‘‘ اس لڑکے نے کہا کہ: نہیں، یا رسول اللہ ! میں آپ سے بچے ہوئے اپنے حصہ پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، (یہ سن کر) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (برتن) اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔‘‘ (۱۰)
* امِ خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ‘ میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ’’سنہ سنہ‘‘ عبداللہ نے کہا: یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہرِ نبوت کے ساتھ (جو آپ کے پشت پر تھی) کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’اسے مت ڈانٹو‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امِ خالد کو (درازیِ عمر کی) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ‘ پھر پہن اور پرانی کر ‘ اور پھر پہن اور پرانی کر ‘ عبداللہ نے کہا کہ :چنانچہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آ گیا۔ (۱۱)
* حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو حضرات حسنین رضی اللہ عنہما (جو اس وقت چھوٹے بچے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے تو ایسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رعایتاً) سجدہ لمبا فرمادیتے۔ (۱۲)
بچے نماز میں کھیل رہے ہوتے تھے، چونکہ یہ ان کی فطرت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعایت کرتے، اظہارِ اُلفت فرماتے، برداشت کرلیتے مگر غصہ نہ ہو ا کرتے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے شفیق و مہربان انسان کا تجربہ تاریخ انسانی آج تک نہیں کرسکی، چاہے وہ بڑوں، بوڑھوں کے ساتھ ہو یا معصوم بچوں کے ساتھ، اسی شفقت و رحمت کا تقاضا تھا کہ شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو برکت کی، عمر درازی کی اور دیگر دعائیں دیا کرتے:
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:’’ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچے لائے جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے۔‘‘ (۱۳)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہا ) نے کہا: یا رسول اللہ! انس ؓ آپ کا خادم ہے، اس کے لیے دعا فرما دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ: ’’اے اللہ! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔‘‘ (۱۴)
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میرے گھر ایک لڑکا تولُّد ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجورسے اس کی تحنیک فرمائی، اور اس بچے کے لیے برکت کی دعافرمائی۔ (۱۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حق میں دعا فرمائی: ’’اے اللہ ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور تاویل (تفسیر) کا علم سکھا ۔‘‘ (۱۶)
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور حسنؓ و حسینؓ کھیلتے کھیلتے آپ کی پیٹھ پر بیٹھ گئے، صحابہؓ نے انہیں دور کرنے کی کوشش کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں، ان کو چھوڑ دو، جو مجھ سے محبت کرتا ہے، وہ ان سے بھی محبت کرے۔‘‘(۱۷)
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ساری انسانیت کے لیے معلم بنا کر مبعوث فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’إنَّمَا بُعِثتُ مُعَلِّماً‘‘، ترجمہ: ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (۱۸) چناںچہ جو تعلیمات حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ؓ کو سکھاتے اور ان صحابہؓ(شاگردوں) میں بچے بھی ہو ا کرتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اپنے وقت کے بڑے بڑے فقہاء اور ائمہ کہلائے :
* معلمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی درس گاہ میں سیرتِ طیبہ کے علوم کو جمع کر کے دنیا کے ہر خطے میں پہنچانے کی ذمہ داری ا کابر صحابہؓ کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں نے بھی بچپن ہی سے ذہن نشین کر لی تھی جس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے: ’’حضرت محمود بن لبیدانصاری رضی اللہ عنہ (۱۹)عہد رسالت میں پیدا ہوئے اور مدینہ ہی میں رہے (علم بھی وہیں سے حاصل کیا) اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے علمِ حدیث حاصل کر کے دوسروں تک پہنچایا۔‘‘ (۲۰)
* اہلِ خانہ کو سلام کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے، چناں چہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’اے انس! جب تو اپنے گھر والوں کے پاس جائے تو سلام کر، اس سے تجھ پر اور تیرے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ ‘‘ (۲۱)
* حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ انہی شاگردوں میں سے ایک نمایاں شاگرد رہے ہیں اور تو اور وہ اور اُن کی والدہ قرآن مجید کی ایک آیت (۲۲) کے مصداق بھی ٹھہرے۔۸ ھ میں مدینہ منورہ آئے، اکثر و بیشتر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آجایا کرتے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرمارہے تھے اور مسورؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر کھڑے تھے، اتفاقاً پشت سے چادر ہٹ گئی اور خاتمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نظر آنے لگی، ایک یہودی ادھر سے گزرا، اس نے سیدنا مسورؓ سے کہا: ’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیٹھ سے چادر ہٹا دو ! ’’مسورؓ بچے تھے، ہٹانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ پر پانی کاچھینٹامارا۔‘‘ (۲۳)
یہ واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ اور اطوارِ زاہدانہ کی ایک جھلک ہیں، جس کی روشنی سے ہم اپنی زندگی کے ہر ہر گوشے کو تابندہ کر سکتے ہیں ۔ان تمام تر روایا ت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں کے ساتھ سلوک و برتاؤ، ان کی خیر اندیشی و دل جوئی اور ان کی نہایت شفیقانہ انداز میں تربیت و تعلیم کا نمونہ ملتا ہے۔ سیرتِ نبوی ؐ کے ان واقعات کے مطالعہ کے بعد اپنے بچوں یا عام بچوں کے ساتھ اپنے برتاؤ اور سلوک کو دیکھ لیں کہ ہمارا بچوں کے سا تھ سلوک و برتاؤ کیسا ہے؟ کیا ہم ان کے ساتھ محبت و شفقت کرتے ہیں؟ ان کی دل جوئی اور کھیل کو د کا سامان کرتے ہیں؟ اور ہمارا رویہ بچوں کو کسی چیز کے ٹوکنے کے وقت وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا یا ہم بچوں کو سوائے سرزنش، لعنت و ملامت کے کسی اور زبان سے سمجھا ہی نہیں سکتے؟ بچوں سے برتاؤ اور سلوک بھی سیرتِ نبویؐ کا ا ہم اور روشن پہلو ہے ۔
دیکھیے! رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کتنے خوش مزاج تھے، ہمیشہ محبت و شفقت فرماتے، بوسہ لیتے، معانقہ و مصافحہ کرتے، رخسار اور سر پر محبوبانہ انداز میں ہاتھ پھیرتے اور کھیل فرماتے۔ بچے پیٹ مبارک پر سو جاتے، سینے مبارک پر کھیلتے، یہاں تک کہ ایک بار کسی بچہ نے پیشاب کردیا، لیکن ہمیشہ غضب و غصہ پر رحمت، شفقت اور شانِ جمال غالب رہتی ۔ تاہم بسا اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تربیتی غرض سے تنبیہ بھی فرمادیتے، کان پکڑلیتے، مگر یہ سب از راہِ اُلفت و محبت ہوتا۔
محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں سے شفقت و اُلفت کے جو مختلف و متفر ق خوب صورت انداز بتلائے اور سکھائے ہیں وہ ہر ایک انسان کے لیے باعثِ تقلید ہیں، مثلاً: پیدائش سے پہلے کے حقوق: نام، تحنیک، عقیقہ، رضاعت، تربیت و کفالت، جذبات کی رعایت، ماں کے پیار سے محروم نہ کرنا، حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، نماز اور دیگر بنیادی چیزوں کی تعلیم و تلقین وغیرہ۔ان سب پر عمل پیرا ہونا دونوں جہانوں کی فلاح و کامیابی ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ بچوں پر اپنا رعب و وقار نہ جھاڑیں، ہر وقت گرج برس، ڈانٹ ڈپٹ بھی نہ کریں، جیسے کہ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے، یہ طرزِ عمل حسنِ اخلاق اور سیرتِ طیبہ کے خلاف ہے۔
غور کیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ اپنی اولاد سے خود محبت فرمائی، بلکہ امت کو بھی اس کی تعلیم دی، اور رحیمانہ سلوک کے ترک پرتحدید فرمائی کہ وہ شخص عند اللہ بھی قابلِ رحم نہیں۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے جس سے بچوں کی دل جوئی کے ساتھ ساتھ تربیت کا سامان بھی ہوتاتھا، چناںچہ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ آپؓ کا ہاتھ پلیٹ میں کبھی اِدھر پڑتا،کبھی اُدھر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے سمجھایا کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ غلطی پر ٹوکا جارہا ہے یا آداب سکھائے جارہے ہیں،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’يَا غُلاَمُ، سَمِّ اللہَ، وَکُلْ بِيَمِيْنِکَ، وَکُلْ مِمَّا يَلِيْکَ‘‘(۲۴)
ترجمہ : ’’اے بچے!جب کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو،اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔‘‘
تربیت کرنے والوں کے لیے اس فرمان میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے کہ ابتداء ً ٹوکنے کے بجائے کچھ آداب بیان کرنے کی وجہ سے انداز بھی مثبت رہا اور مقصود بھی حاصل ہوگیا، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر و بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے کھانے کا انداز ویسا ہی رہا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایاتھا۔سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو اپنے قریب رکھا، حتیٰ کہ بچوں کے کھیل کا بھی لحاظ کیا، اگر کسی موقع پر وہ نماز میں پیٹھ مبارک پر سوار ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دل بستگی کا بھر پور خیال فرمایا۔
سیدنا شداد بن ہاد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہریا عصر میں سے کسی نماز کے لیے باہر تشریف لائے تو سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اُٹھائے ہوئے تھے، آگے بڑھ کر انہیں ایک طرف بٹھادیا اور نماز کے لیے تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دی، سجدے میں گئے تو اسے خوب طویل کیا، میں نے درمیان میں سر اُٹھا کر دیکھاتوبچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے، میں یہ دیکھ کر دوبارہ سجدے میں چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج تو آپ نے اس نماز میں بہت لمبا سجدہ کیا، ہم تو سمجھے کہ شاید کوئی حادثہ پیش آگیا ہے یا آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا، البتہ میرا یہ بیٹا میرے اوپر سوار ہو گیا تھا، میں نے اسے اپنی خواہش کی تکمیل سے پہلے جلدی میں مبتلا کرنا اچھا نہ سمجھا (یعنی بچہ کے اُترنے سے پہلے خود اٹھنا)۔ (۲۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ بچوں سے خود شفقت فرمائی، بلکہ امت کو بھی اس کی تعلیم دی، اور بچوں سے مشفقانہ سلوک نہ کر نے والے کے سلسلے میں فرمایا:
’’لَيْسَ مِنَّامَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيْرَنَا وَلَم يُوَقِّرْ کَبِيْرَنَا‘‘(۲۶)
ترجمہ: ’’جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
اللہ رب العزت قدم قدم پر اتباعِ سنت سے سرشار فرمائے ۔(آمین)
۱- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ : اَنَّہُ مَرَّ عَلٰی صِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْہِمْ وَقَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُہُ . (رواہ البخاري: ۶۲۴۷، کتاب الاستئذان، باب التَّسْلِيمِ عَلَی الصِّبْيَانِ)
۲-عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: ’’ مَا رَاَيْتُ اَحَدًا کَانَ اَرْحَمَ بِالْعِيَالِ، مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ۔ (رواہ مسلم: ۶۰۲۶، کتاب الفضائل، باب رحمتہ صلی اللہ عليہ وسلم الصبيان والعيال وتواضعہ وفضل ذلک)
۳- کنز العمال، ج:۷، ص:۱۴۰، رقم : ۱۸۴۰۳
۴- سنن الترمذي: ۱۹۸۹ (کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، باب مَا جَاءَ فِي المزاحِ)
۵- الأدب المفرد، باب معانقۃ الصبي، رقم: ۳۶۴
۶- مسند أحمد: ۱۸۳۶
۷- الأدب المفرد، باب قبلۃ الصبيان، رقم: ۹۱
۸- الأدب المفرد، باب حمل الصبي علی العاتق، رقم:۸۶
۹- رواہ مسلم: ۲۳۱۶، کتاب الفضائل، باب رحمتہٖ صلی اللہ عليہ وسلم الصبيان والعيال وتواضعہ وفضل ذٰلک
۱۰- صحيح مسلم، کتاب الأشربۃ، حدیث: ۵۲۹۲
۱۱-صحيح البخاري، کتاب الجہاد والسير، حدیث: ۳۰۷۱
۱۲- عن أنس رضي اللہ عنہ قال : کان رسول اللہ ﷺ يسجد فيجيء الحسن أو الحسين فيرکب علی ظہرہ فيطيل السجود. فيقال : يا نبي اللہ! أطلت السجود، فيقول : ارتحلني ابني فکرہت أن أعجلہ. (أبو يعلیٰ، المسند، ۶: ۱۵۰، رقم : ۳۴۲۸ )
۱۳- عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا، قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يُؤتَی بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُو لَہُمْ بِالْبَرَکَۃِ ۔ (سنن أبي داود: ۵۱۰۶)
۱۴- صحيح البخاري، کتاب الدعوات، حدیث: ۶۳۴۴
۱۵- صحيح البخاري، کتاب العقيقۃ، حدیث: ۵۴۶۷
۱۶-عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَۃَ، فَوَضَعْتُ لَہُ وَضُوْءًا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَتْ مَيْمُوْنَۃُ : يَا رَسُولَ اللہِ! وَضَعَ لَکَ ہٰذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : ’’ اللّٰہُمَّ فَقِّہْہُ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْہُ التَّأوِيلَ ۔‘‘ (مسند أحمد، الرقم:۳۰۳۲)
۱۷- سلسلۃ أحاديث صحيحۃ، الأذان و الصلاۃ، حدیث: ۷۸۹
۱۸- سنن ابن ماجۃ، الرقم:۲۲۹
۱۹- فتح الباري لابن حجر: ۲/۴۸۴، تحت الحدیث: ۴۵۰- الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب، ۳/۴۳۵
۲۰- أسد الغابۃ: ۵/۱۲۲
۲۱- شعب الإیمان، الرقم: ۸۷۱
۲۲- النساء:۹۷
۲۳- دلائل النبوۃ، باب صفۃ خاتم النبوۃ
۲۴- صحیح البخاري، الرقم: ۵۳۷۶
۲۵- مسند أحمد، الرقم : ۱۶۰۳۳
۲۶- الأدب المفرد، رقم : ۳۵۸