
اہلِ علم اور اہل اللہ کی زندگیاں اُمت کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی سادگی، قناعت اور اخلاص ایسے اوصاف ہیں جو انسان کو دنیا کی حقیقت اور آخرت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ایسی ہی درویش صفت اور باعمل شخصیات میں حضرت مولانا نورالدین بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نمایاں ہے۔ آپ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد انور بدخشانی قدس اللہ سرہٗ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ آپ کی پوری زندگی سادگی، اخلاص، قناعت اور قرآنِ کریم سے والہانہ محبت کا ایک حسین نمونہ تھی۔
جامع مسجد بنوری ٹاؤن کے ایک بزرگ معتکف جناب سید موسیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ سن ۲۰۰۲ء میں حضرت مولانا نورالدین بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ کے مقتدیوں میں چند مخلص اور صاحبِ حیثیت افراد جو حضرت مولانا کی سادگی، تقویٰ اور اخلاص سے بے حد متاثر تھے، انہوں نے باہمی مشورے سے یہ ارادہ کیا کہ حضرت کی رہائش کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو نا چاہیے، چنانچہ گلشنِ اقبال کے قریب ایک علاقے میں تقریباً پچاس لاکھ روپے مالیت کا ایک بنگلہ خرید لیا گیا اور طے کیا گیا کہ اسے بطور ہدیہ حضرت کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ جب یہ حضرات خوشی کے اظہار کے طور پر مٹھائی لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا: ’’حضرت! ہم نے آپ کے لیے ایک بنگلہ خریدا ہے، یہ اس خوشی کی مٹھائی ہے۔‘‘یہ سن کر حضرت مولانا نورالدین بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ نے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک سبق آموز واقعہ بیان فرمایا۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر ہونے والے قاتلانہ حملہ کا تفصیلی تذکرہ کیا اور فرمایا کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے آخری ایام میں شدید زخمی حالت میں تھے‘ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا: ’’یا امیرالمؤمنین! کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ کے اہل و عیال کے لیے بیت المال سے کوئی وظیفہ مقرر کر دیا جائے؟‘‘یہ ایک خیرخواہانہ تجویز تھی، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے دوران اپنی ذات کے لیے بیت المال سے فائدہ نہیں اُٹھایا تھا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہایت عاجزی اور خوفِ خدا کے ساتھ منع کردیا۔
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت مولانا نورالدین بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت انکسار کے ساتھ فرمایا: میری ہڈیاں بھی کمزور ہیں، میں بھی اپنے آپ کو اس آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ آپ نے بنگلے کا تحفہ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور مٹھائی واپس کرتے ہوئے فرمایا:یہ مٹھائی آپ لوگ خود کھائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں آپ کے اس تحفے کو قبول کرنے سے معذرت چاہتا ہوں۔یہ واقعہ حضرت کی بے نیازی، زہد اور دنیاوی آسائشوں سے بے رغبتی کا واضح مظہر ہے۔
حضرت کے قریبی عزیز برادر مکرم مولانا محمد عمرانور بدخشانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولانا نورالدین بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر جب پچاس سال سے زیادہ تھی اور آپ ذیابیطس کے شدید مریض بھی تھے، اس کے باوجود آپ کے دل میں قرآن کریم سے غیر معمولی محبت اور شوق موجزن تھا، چنانچہ ایک رمضان المبارک میں آپ نے قرآن کریم حفظ کرنے کا ارادہ کیا اور غیر معمولی محنت اور استقامت کے ساتھ صرف ستائیس دن میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیا اور اسی رمضان میں تراویح میں سنا دیا۔
حضرت مولانا نورالدین بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے یہ واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ:
٭ دنیا کی آسائشیں اللہ والوں کے ہاں مقصد نہیں ہوتیں۔
٭ قناعت اور سادگی انسان کو حقیقی عزت عطا کرتی ہے۔
٭ قرآن کریم سے محبت انسان کو غیر معمولی قوت اور استقامت عطا کرتی ہے۔
٭ اخلاص کے ساتھ کیا گیا ارادہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کو متوجہ کرتا ہے۔
یقیناً ایسے نفوسِ قدسیہ اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہوتے ہیں۔
’’خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را‘‘