
۱۳؍ رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ مطابق ۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء بروز منگل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی شاخ مدرسہ عربیہ اسلامیہ ملیر کے نگران وا ستاذِ حدیث اور محدث العصر حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد حضرت مولانا سالک ربانی صاحب نور اللہ مرقدہٗ انتقال فرماگئے، إنا للہ و إنا إلیہ راجعون، إن للہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی و کل شیئ عندہٗ بأجل مسمّٰی ۔
مولانامحمد سالک ربانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۲۹ ؍ربیع الاول ۱۳۷۲ ہجری مطابق ۱۶؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو ضلع ساہیوال کے مضافات میں گاؤں ملکہ ہانس کے قریب ساٹھ چک میں حضرت مولانا الحاج نور حسین رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کا آبائی گاؤں منگ تحصیل بالاکوٹ ضلع مانسہرہ تھا۔ آپ کے والد مولانا نور حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۴۸ء میں پنجاب کا رخ کیا، ملکہ ہانس پاکپتن کی جامع مسجد میں امامت و خطابت کرتے رہے، ۱۹۶۰ء میں وہیں مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن کی بنیاد بھی رکھی۔ ۱۹۸۰ء میں آپ اپنی اولاد کی وجہ سے کراچی منتقل ہوگئے۔مولانا سالک ربانی صاحبؒ کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں، آپ ان میں سب سے بڑے تھے۔ آپ کے دو بھائی بھی جامعہ بنوری ٹاؤن کے فاضل ہیں، مولانا عطاء الرحمٰن صاحب نے ۱۹۸۴ء ، اور مولانا عبید اللہ صاحب نے ۱۹۹۵ء میں سند فراغت حاصل کی، ایک بھائی قاری حبیب الرحمٰن صاحب حافظ قرآن ہیں۔
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم حفظ و ناظرہ اپنے والد کے قائم کردہ ادارے مدرسہ تعلیم القرآن ملکہ ہانس میں حاصل کی، بعد ازاں اپنے علاقہ میں ہی میٹرک مکمل کرنے کے بعد ابتدائی فنون صرف و نحو کی تعلیم اوکاڑہ میں حاصل کی، اس کے بعد صرف و نحو میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لیے قلعہ دیدار سنگھ گوجرا نوالہ تشریف لے گئے ، جہاں مولانا رسول خان صاحب کے تلمیذ خاص مولانا ابراہیم بالاکوٹی صاحب سے صرف و نحو اور منطق و بلاغت کی بنیادی کتب پڑھیںاور سالانہ امتحان میں سو فیصد نمبرات حاصل کر کے اول پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں فنون کی تکمیل کے لیے آپ علی پور چٹھہ مولانا عنایت اللہ شاہ صاحب کے پاس تشریف لے گئے، تاکہ فنون پر کامل دسترس اور رسوخ حاصل ہو سکے ،جو آج کے طلبہ میں تقریباً ناپید ہوچکا ہے۔
اس کے بعد دورۂ تفسیر کے لیے آپ نے شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب ؒکے ادارے تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کا انتخاب فرمایا، اورحضرت شیخ القرآن رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں تین سالہ دورہ تفسیر مکمل کرنے کے بعد شیخ القرآن ؒ ہی کے مشورہ سے رحیم یار خان میں مولانا عبد الغنی جاجرویؒ کے ہاں حاضر ہوئے، تاکہ رموزِ اسرارِ قرآنی کے مزید بکھرے موتی سمیٹ سکیں۔
۱۹۷۴ء میں آپ منتہی درجات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کراچی آگئے، اور ۱۹۷۶ء میں درجہ سابعہ میں حضرت بنوریؒ کے ادارے جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لے لیا، ۱۹۷۷ء میں دورہ حدیث کی تکمیل کے بعد حضرت مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ نے جامعہ میں ہی بطور مدرس آپ کا تقرر فرمادیا۔ حضرت مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں ۱۹۸۶ء میں جب جامعہ کی شاخ مدرسہ عربیہ اسلامیہ ملیرکا قیام ہوا، تو حضرت مفتی صاحب ؒنے آپ کو ملیر شاخ کا نگران مقرر فرمایا۔ آپؒ اپنے وصال تک تقریباً ۴۰ چالیس سال اس منصب پر فائز رہے۔ آپ جامعہ بنوری ٹاؤن کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔
حضرت مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کی سربراہی میں بننے والی تنظیم سوادِ اعظم میں ایک فعال رکن کے طور پر آپؒ نے بھر پور کام کیا، آپ سوادِ اعظم صوبہ سندھ کے امیر بھی مقرر ہوئے ،اور ایک طویل زمانہ اس عہدہ پر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔۱۴ ؍ نومبر ۱۹۸۰ء کو جب مولانا سلیم اللہ خان صاحب ؒ کی سربراہی میں پاکستان سنی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تو آپؒ کو خازن مقرر کیا گیا، ۶؍ فروری ۱۹۸۱ء میں ضلع ملیر کے امیر کے طور پر آپؒ کا انتخاب ہوا۔ بعض دینی تحریکات میں اکتوبر ۱۹۸۷ء تا جنوری ۱۹۸۸ء تقریباً ۸۵ دن مفتی احمد الرحمٰن ؒ ، مولانا سید مصباح اللہ شاہ ؒ ، مولانا اسفند یار ؒ، مولانا فضل محمد مدظلہ،وغیرہم اکابر کے ساتھ جیل میں گزارے۔
۱۹۷۶ء میں درجہ سابعہ کے سال مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ نے آپؒ کو جامع مسجد حنفیہ F ساؤتھ میں امامت اور خطابت کے لیے منتخب فرمایا، آپؒ نے یہاں درسِ قرآن کا سلسلہ شروع فرمایا، جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے، آپؒ کے اس درسِ قرآن کی برکت سے علاقہ سے شرک و بدعات کا خاتمہ ہوا، اور جو علاقہ اہلِ شرک اور بدعت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں توحید و سنت کی روشنیاں پھیل گئیں، اور پورا علاقہ اہلِ حق کا مرکز بن گیا۔ نیز آپ جمعیت علماء اسلام سمیت کئی جماعتوں میں خدمات سر انجام دینے کے ساتھ کئی ایک جماعتوں کی سرپرستی بھی فرماتے رہے ،جبکہ اس دوران متحدہ علماء کمیٹی ملیر کی سربراہی بھی آپ کے سپرد تھی، آپ کی وفات تک بیسیوں مساجد و مدارس آپ کی زیرِسرپرستی خدمت دین میں مصروف عمل تھے، جن میں سے ۱۱ ؍مدارس خود قائم کرنے کے بعد ان کا انتظام و انصرام آپ نے اپنے معتمدین کے حوالے کر رکھا تھا۔
آپ ؒ نے حصول علم کے لیے اندرون ملک سمیت بیرون ملک بھی بہت سے اسفار فرمائے، جہاں کئی محقق علماء و شیوخ سے آپ کو استفادہ کا موقع میسر آیا،چنانچہ تکمیل دورہ حدیث کے بعد علماء کے ایک مؤقر وفد کے ساتھ آپ جامعہ ازہر تشریف لے گئے، ۱۸ ؍مارچ ۱۹۸۰ء کو مولانا سلیم اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں آپ کو دارالعلوم دیوبند جانے کا موقع میسر آیا۔
۲۶؍ مارچ ۱۹۸۸ء کو مفتی احمد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء کی معیت میں آپ بنگلہ دیش تشریف لے گئے۔ آپ ؒنے افغانستان و سعودیہ کے شیوخ سے استفادہ کے لیے وہاں کے اسفار بھی فرمائے۔
آپ ؒ کو سن ۱۹۸۰ء سے مسلسل حجِ بیت اللہ وعمرہ کی ادائیگی کی سعادت حاصل ہوتی رہی ،آپ نے ۳۸ حج اور سو سے زائد عمرے ادا فرمائے۔ ان مبارک اسفار میں بعض مرتبہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ ، مفتی سعید احمد جلال پوری شہید ؒ ، مفتی جمیل احمدخان شہید ؒ ، مفتی نظام الدین شہید ؒ، مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ، جیسے جلیل القدر حضرات کی معیت بھی حاصل رہی۔ عرفات کے میدان میں آپ کی رقت آمیز دعاؤں،اور منیٰ و مزدلفہ وغیرہ میں آپ کے بیانات میں کثیرتعداد شریک ہوتی، جس میں آپ انتہائی سہل انداز میں لوگوں کو فریضۂ حج کی ادائیگی کا طریقہ بتلاتے اور نصائح فرماتے۔
آپؒ مجموعۂ اوصاف و کمالات تھے، جرأت و بہادری اور حق گوئی میں آپ ’’لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ‘‘ کی تصویر تھے۔ آپؒ انتہائی ذکی اور معاملہ فہم تھے، مشکل سے مشکل مسائل کو چٹکیوں میں سلجھانا جانتے تھے۔ آپ باکمال مدرس اور لاجواب خطیب تھے، آپؒ کا درس انتہائی پر مغز سادہ اور دلنشیں ہوتا ، جسے غبی سے غبی طالبعلم بھی باآسانی سمجھ جاتا تھا۔ طلبہ سے آپ کی محبت اور شفقت مثالی تھی ، آپ کو ہر طالب علم اپنی اولاد کی طرح عزیز تھا، اس لیے کسی طالب علم کو تکلیف میں دیکھتے تو اس کے لیے فکر مند ہوتے اور اس کی ہر قسم کی معاونت کو اپنا فرضِ منصبی سمجھتے تھے۔
آپؒ نے جن شیوخ اور اساتذہ سے استفادے کا شرف حاصل کیا، ان میں سر فہرست آپ کے ہر دل عزیز استاذ حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں،جن سے آپ نے بخاری شریف پڑھی ، مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ سے ترمذی، مولاناادریس میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ سے مسلم اول، مولانا بدیع الزمان رحمۃ اللہ علیہ سے مسلم ثانی، مولانا مصباح اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے طحاوی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
نیز شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عبد الغنی جاجروی رحمۃ اللہ علیہ سے تفسیر قرآن کریم پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ، اس کے علاوہ مولانا عبد الحنان صدیقی اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا ابراہیم بالاکوٹی رحمۃ اللہ علیہ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ سے صرف و نحو پڑھنے کا موقع ملا، جبکہ حفظ قرآن کریم قاری عبد اللطیف ملتانی رحمۃ اللہ علیہ اور قاری امین رحمۃ اللہ علیہ سے کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نیز ۴ ؍ستمبر ۱۹۸۱ کو آپؒ نے حرمِ کعبہ میں میزابِ رحمت کے بالمقابل مولانا بدیع الزمان رحمۃ اللہ علیہ سے أبوداؤد ، إرشاد الساري، کتاب أدعیۃ الحج والعمرۃ پڑھنا شروع کی۔
آپؒ ابتدا ہی سے مالی اعتبار سے مستحکم تھے، ملکہ ہانس کے بڑے زمینداروں میں آپؒ کا شمار ہوتا تھا، کراچی شہر میں بھی ابتداء ً کپڑے کا کام کیا، لیکن تحریک سوادِ اعظم میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ کام کسی عزیز کے ذمہ لگانا پڑا، اس کے بعد مختلف کاروبار کرتے رہے۔ البتہ درس و تدریس میں مشغول ہونے کے باعث خود مکمل کام کبھی نہ کیا۔
آپؒ تقریباً ایک سال تک گردے کے عارضے میں مبتلا رہے اور آخری چند ماہ میں دل کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا تھا۔ ۱۳؍ رمضان المبارک ۱۴۴۷ ھ مطابق ۳ ؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز منگل فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد نماز کے بعد کی تسبیحات ادا کرتے ہوئے داعیِ اجل کو لبیک کہا،إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ اسی دن نمازِ عصر سے پہلے تقریباً چار بجے کے قریب آپ کی نمازِ جنازہ جامعہ عربیہ اسلامیہ ملیر شاخ جامعہ بنوری ٹاؤن میں ادا کی گئی اور تدفین بلدیہ ٹاؤن سیکٹر نائن جامعہ احیاء العلوم یاسین مسجد میں اپنے والدین کے پہلو میں ہوئی۔
آپ ؒکے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ، دونوں بیٹے حافظ و عالم ہیں،اور اس وقت جامعہ خاتم النبیین میں تدریس سے وابستہ ہیں ، بڑے بیٹے مولانا انس سالک ہیں جو جامعہ بنوری ٹاؤن سے ۲۰۱۶ ء میں سند فراغت حاصل کر چکے ہیں، جنہوں نے اس مضمون کی تیاری میں تعاون کیا اور معلومات فراہم کیں، فجزاہ اللہ خیرا واحسن الجزاء، جبکہ چھوٹے بیٹے مولانا حذیفہ سالک بھی جامعہ سے ۲۰۱۷ ء میں فراغت حاصل کرچکے ہیں، اسی طرح آپؒ کی چاروں صاحبزادیاں بھی حافظہ و عالمہ ہیں، نیز آپؒ کے بھانجے بھانجیوں اور بھتیجے بھتیجیوں میں بھی کثیر تعداد میں حفاظ و علماء موجود ہیں، جو مختلف شعبوں میں دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ حضرتؒ کی تمام دینی خدمات کو قبول فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔ صاحبزادگان اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطافرمائے، آمین ثم آمین