بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

حضرت مولانا شیخ محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت

حضرت مولانا شیخ محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت


موت کوئی انوکھی چیز نہیں ہے، بلکہ یہاں کا آنا جانے کی تمہید ہے۔ موت کے قانون سے نہ کوئی نبی مستثنیٰ ہے، نہ کوئی ولی، نہ عالم و جاہل، نہ بادشاہ و گدا۔ 

لو کانت الدنیا تدوم لواحد

لکان رسول اللہؐ فیھا مخلدا

مولانا ادریس صاحبؒ دار العلوم نعمانیہ ترنگزئی چار سدہ میں صحیح بخاری پڑھانے آرہے تھے کہ ظالموں نے شہید کردیا، حدیث میں ہے : ’’تُبْعَثُوْنَ کَمَا تَمُوْتُوْنَ۔‘‘ جس طرح وہ زندگی میں مسلمانوں کے ہر خیر کے معاملہ میں پیش پیش تھے، ایسا ہی موت کے معاملہ میں بہت تیزی سے گئے اور کیا گئے کہ اپنے چاہنے والوں اور طلبہ کرام کو یتیم کرگئے، اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے جانے پر آسمان و زمین نوحہ کرتے ہیں۔
یقین نہیں آتا کہ لاکھوں دلوں پر حکمرانی کرنے والے بے تاج بادشاہ واقعی ہم سے جدا ہوگئے ہیں، لیکن اپنے ہاتھوں تلقین و تدفین نے ثابت کردیا کہ حضرتؒ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگئے اور شہادت کے لیے حضرتؒ کی دعائیں اور تمنائیں پوری اور قبول ہوگئیں اور ان شاء اللہ وہ عرش کے سایہ میں خوش و خرم ہوں گے، لیکن افسوس اس پر ہے کہ جامعہ نعمانیہ کے دار الحدیث اور در ودیوار اُداس ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ کے روحانی فرزند نہ رہے اور مدارس ماتم کناں ہیں کہ ہمارا سرپرست نہ رہا۔ اہلِ حق حیران ہیں کہ ان کی ڈھال ٹوٹ گئی۔ عوام و خواص عالم و جاہل سب ہی اپنی اپنی جگہ رنج و الم میں مبتلا ہیں کہ اپنی پریشانی کی داستاں کسے سنائیں؟ اور ان کے زخمی دلوں کی مرہم پٹی کون کرے؟ 
اللہ جل شانہ نے حضرت کو بہت سے کمالات و صفات سے نوازا تھا، آپ بیک وقت لائق و فائق محقق، بلندیہ پایہ محدث، ادیبِ کامل، بے مثال اور کامیاب مدرس اور مسندِ اصلاح و ارشاد کے شیخ کامل تھے، تقریر و تحریر کے امام تھے۔ اور جب ملاحدہ اور زنادقہ کے خلاف بولتے تو قرونِ اولیٰ کے متکلمین کی یاد تازہ کرتے۔ مسندِ اصلاح وارشاد اور فقہ و فتاویٰ کے میدان میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ تقویٰ و طہارت، زہد و استغناء، قناعت و توکل وغیرہ صفات کے اعتبار سے آپ اس دور کے نہیں بلکہ خیر القرون کے آدمی معلوم ہوتے تھے۔
آپ کے اخلاص وللہیت و بے لوثی اور بے نفسی نے آپ کو عند اللہ و عند الناس مقبول ومحبوب بنادیا تھا۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اتباعِ سنت سے عبارت تھا اور اصلاح و ارشاد اور وعظ و نصیحت آپ کا امتیاز تھا اور درس و تدریس آپ کی مشغولیت اور احقاقِ حق اور تردیدِ باطل آپ کی طبیعتِ ثانیہ تھی۔ آپ کی شہرت کا آفتاب نصف النہار پر تھا، مگر عجب و کبر کبھی پاس سے نہیں گزرا، پاک و ہند اور یورپ امریکہ تک آپ کی علمی اور روحانی شخصیت کا شہرہ تھا، مگر اس سے دنیاوی مفاد حاصل نہ کیا۔ اور آپ کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ جہاں اعداء اسلام کے لیے کانٹا تھے، وہاں وہ رحماء بینھم کے مصداق بھی تھےاور آپ کی دینی خدمات پر جہاں لاکھوں عقیدت مند آپ سے محبت کا اظہار کرتے وہاں دشمنان اسلام آپ کو گالیوں بھرے خطوط بھی بھیج دیتے، عقیدت مندوں کی تعریف سے اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہوتی تو ان خطوط سے صاف ہوجاتی۔ اور آپ کا دوسرا کمال یہ تھا کہ آپ سے ملنے والا ہر شخص یہ سمجھتا کہ حضرت کو سب سے زیادہ مجھ ہی سے تعلق ہے، اس لیے پاکستان بھر کی تمام دینی اور مذہبی جماعتیں اور اکابر اور کارکن سمجھتے کہ حضرت ہمارے سرپرست ہیں۔ 
لوگ آپ کی شہادت سن کر غم و رنج میں ڈوب گئے اور دھاڑیں مار کر رونے لگے اور لوگ اپنے مشفق اور محبوب مربی اور شیخ کےجنازہ میں شرکت کے لیے آنے شروع ہوگئے اور تاحدِ نگاہ ایک جمِ غفیر جنازے میں شریک ہوا اور ایک تہائی لوگ تو رش کی وجہ سے پہنچ ہی نہ سکے۔ اگر اکابرین اور جامعہ نعمانیہ کے اساتذہ عوام کو صبر و سکون کی تلقین نہ کرتے تو مزید بڑے خطرہ کا خدشہ تھا اور عصر کے بعد جنازہ پڑھاکر بالآخر اس علم و فضل کے تاجدار کو عشاق کی نظروں سے اوجھل کردیا گیا۔ حکومت پر فرض ہے کہ اس سازش کو بے نقاب کرے۔ 
اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرماکر شہادت کو قبول فرمائے اورہم سب کو حضرتؒ کےمشن پر چلنےکی توفیق عطا فرمائے۔ قدرتِ الٰہی کا کرشمہ کہ اس بہشتی دولہے کی حنابندی اللہ تعالیٰ نے خود کی کہ داڑھی مبارک کو خون سے رنگین کیا اور اس پینسٹھ سالہ بہشتی کو لہو کا گلوبند پہنایا گیا۔القلب یحزن والعین تدمع وإنا بفراقک لمحزونون یا شیخ إدریس! ولا نقول إلا بما یرضی بہٖ ربنا: إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، اللّٰہم اجُرْني في مصيبتي، وَأخلف لي خيرا منہا، اللّٰھم لا تحرمنا أجرہ ولا تفتنا بعدہ، اللّٰھم اغفرہ وارحمہ واعف عنہ وأکرم نزلہ ووسع مدخلہ، اللّٰھم تقبل جھودہ الحسنۃ واجزہ عنا وعن الأمۃ الإسلامیۃ خیر الجزاء۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین