
اسلام کا معاشی نظام صرف دولت کی گردش تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور سماجی انصاف کا ایک حسین امتزاج ہے جو ہر فرد کے معاشی حقوق کا ضامن ہے۔ ایک فلاحی ریاست کی بقا اس بات میں پنہاں ہے کہ وہ تاجروں اور عوام کے درمیان توازن برقرار رکھے، جس کے لیے درآمدات و برآمدات کے شفاف قوانین اور مارکیٹ کی سخت نگرانی ناگزیر ہے۔ ذخیرہ اندوزی (احتکار) اور ناجائز منافع خوری جیسے جرائم نہ صرف معاشی بہاؤ کو روکتے ہیں، بلکہ معاشرے میں مصنوعی قلت پیدا کر کے غریب اور سفید پوش طبقے کو بنیادی ضرورتِ زندگی سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ اسلام نے ایسے عناصر کی سخت مذمت کی ہے، کیونکہ یہ عمل براہِ راست خدا کی مخلوق پر ظلم اور معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ جب تک ریاستی سطح پر قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہو گی اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی، تب تک مارکیٹ میں قیمتوں کا اعتدال ممکن نہیں ہوسکتا۔ حقیقی معاشی استحکام تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب سرمایہ چند ہاتھوں میں گردش کرنے کے بجائے زکوٰۃ، صدقات اور منصفانہ تجارت کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ ترین طبقے تک پہنچے۔ ریاست کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ ایک ایسا جامع مانیٹرنگ سسٹم وضع کرے جو ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اشیاء خورد و نوش کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔ آخرکار ایک مستحکم معاشی نظام کی تعمیر کے لیے ہمیں مادہ پرستی کے چنگل سے نکل کر اسلامی تعلیمات کے مطابق عدل، ایثار اور دیانت داری کو اپنی معاشی سرگرمیوں کا محور بنانا ہو گا۔
جب تاجر یا مافیا (جیسے ادویات یا شوگر مافیا) مال کو گردش سے روک کر عوام کے لیے تنگی پیدا کرتے ہیں اور اسے محض اپنے سرمائے میں اضافے کا ذریعہ بناتے ہیں، تو قرآنِ کریم ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ سورۂ توبہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور جو لوگ سونا اور چاندی (اور ہر قسم کا سرمایہ و مال) جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں (یعنی مخلوقِ خدا کی فلاح کے لیے) خرچ نہیں کرتے، تو آپ انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔‘‘ (سورۃ التوبہ، آیت: ۳۴)
اسی طرح سورۂ ہمزہ میں فرمانِ الٰہی ہے:
’’تباہی ہے ہر ایسے شخص کے لیے جو (پیٹھ پیچھے) عیب ٹٹولنے والا اور (منہ پر) طعنہ دینے والا ہو، جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر (ذخیرہ بناکر) رکھا، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔‘‘ (سورہ ہمزہ، آیت: ۱-۳)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں سرمائے یا اجناسِ زندگی کو گردش سے روک کر گوداموں اور تجوریوں میں بند کرنا سنگین ترین الٰہی و معاشی جرم ہے۔ یہ قرآنی احکامات ثابت کرتے ہیں کہ مافیاز کا محض ذاتی منافع اور دولت کی ہوس میں اشیاء کو چھپا کر رکھنا دنیا میں معاشی تباہی اور آخرت میں درد ناک عذاب کا باعث ہے۔ قرآن کریم کا اصل مقصد دولت کے ارتکاز کو توڑنا اور معاشی نظام کو مخلوقِ خدا کی فلاح اور باہمی ہمدردی کے اصولوں پر استوار کرنا ہے، لہٰذا دورِ فاروقی کا نظامِ حسبہ در حقیقت اسی قرآنی فکر کا عملی نفاذ تھا، تاکہ کوئی بھی سرمایہ دار مصنوعی قلت کے ذریعے عوام کا معاشی استحصال نہ کر سکے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی احتکار پر سخت وعیدیں آئی ہیں؛ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بازار میں سودا لانے والے کو رزق ملتا ہے اور ذخیرہ اندوز ملعون ہے۔‘‘ (أبو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ، سنن ابن ماجۃ، کتاب التجارات، باب الحکرۃ)
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت معاشی عدل اور مثالی نظم و ضبط کا عہدِ زریں ہے، جس میں آپ نے مارکیٹ میں اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے ’’ذخیرہ اندوزوں‘‘ کے خلاف سخت انتظامی و تعزیری اقدامات اٹھائے۔ (أبو الفرج عبد الرحمٰن بن علي ابن جوزي، مناقب أمیر المؤمنین عمر بن خطاب، بیروت: دار الکتب العلمیۃ، ۱۹۸۷ء، ص: ۱۱۲)
عربی زبان میں ذخیرہ اندوزی کے لیے ’’احتکار‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جو مادہ ’’ح ک ر‘‘ سے مشتق ہے۔ امام ابن منظور افریقی ؒ کے مطابق لغت میں ’’الاحْتِکَار‘‘ کے معنی ظلم، بدسلوکی اور کسی چیز کو روک لینے کے ہیں۔ جب کوئی تاجر غلہ روک لیتا ہے، تاکہ اسے مہنگا بیچے تو اسے ’’محتکر‘‘ کہا جاتا ہے۔ (محمد بن مکرم ابن منظور، لسان العرب، ص: ۲۰۸،ج:۴، دار صادر، بیروت، ۱۹۹۴ء)
مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب ہے: ’’مستقبل میں زیادہ نفع کمانے کی غرض سے اشیائے ضرورت کو جمع کرنا اور بازار میں اس کی قلت پیدا کرنا۔‘‘ فقہاء اور محدثین کے نزدیک احتکار کی تعریف میں بنیادی نکتہ ’’عوام کو نقصان پہنچانا‘‘ ہے۔ فقہ حنفی کی روشنی میں امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ کے نزدیک احتکار کی تعریف یہ ہے کہ شہر یا اس کے مضافات سے غلہ خرید کر اسے روک لینا، اس شرط کے ساتھ کہ اس عمل سے شہر کے لوگوں کو (قلت کی وجہ سے) نقصان اور تنگی پہنچے۔ جبکہ فقہِ مالکی، شافعی اور حنبلی (جمہور علماء) کے نزدیک احتکار ہر اس چیز میں ممنوع ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو (یہ محض غلے تک محدود نہیں)؛ ان کے نزدیک تعریف یہ ہے کہ: ’’کسی بھی ایسی چیز کو روک لینا جس کی لوگوں کو ضرورت ہو، تاکہ اسے قیمت بڑھنے پر بیچا جائے۔‘‘ (یحییٰ بن شرف نووي، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، بیروت: دار إحیاء التراث العربي، ۱۳۹۲ھ، جلد: ۱۱، ص: ۴۲)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں ایک ایسا مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جو آج کے دور کے ’’پرائس کنٹرول مجسٹریٹ‘‘ سے کہیں زیادہ فعال تھا۔ آپ نے اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے:
علامہ بلاذریؒ کے مطابق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مارکیٹ کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نظامِ حسبہ کو باقاعدہ تنظیمی شکل دی اور منڈیوں میں معائنہ کار مقرر فرمائے۔ ان نگرانوں کی بنیادی ذمہ داری ترازو اور ناپ تول کے پیمانوں کی جانچ پڑتال کرنا، تجارتی ملاوٹ کو روکنا اور اشیاء کی قیمتوں پر نظر رکھنا تھی، تاکہ کوئی تاجر خریداروں کا استحصال نہ کر سکے۔ اس ضمن میں آپ نے خواتین کی انتظامی صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھایا اور سیدہ شفاء بنت عبد اللہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ کے بازار کا معائنہ کار اور نگران مقرر فرمایا۔ سلطنت کے دیگر بڑے تجارتی مراکز میں بھی روزانہ کی بنیاد پر معاشی بدعنوانیوں کا سدِ باب کیا جاتا تھا۔
آپ نے مدینہ منورہ کی مارکیٹ میں اشیاء کی مسلسل رسد برقرار رکھنے اور مقامی تاجروں کی ناجائز اجارہ داری کے خاتمے کے لیے ایک بہترین تجارتی پالیسی وضع فرمائی۔ آپ نے بیرونی تاجروں (نبطی اور دیگر تجارتی قافلوں) کو مدینہ کی منڈی میں مال لانے پر خصوصی مراعات دیں اور ان پر تجارتی ٹیکس (عشور) کی شرح مقامی غیر مسلم تاجروں کے مقابلے میں نصف یعنی صرف پانچ فیصد مقرر کی، جبکہ بعض اوقات غلے اور تیل پر اسے مزید کم کر کے محض پانچواں حصہ کر دیا۔ اس کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں مسابقت کی فضا قائم رکھنا تھا، تاکہ بیرونی مال کی فراوانی کے باعث قیمتیں قابو میں رہیں اور مقامی تاجر گٹھ جوڑ نہ کرسکیں۔ (احمد بن یحییٰ البلاذری، فتوح البلدان)
ابن جریر طبریؒ کے مطابق عہد فاروقی میں قحط یا اشیاء کی قلت کے دوران مارکیٹ میں غلے کی براہِ راست سرکاری فراہمی کے ذریعے مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کا مؤثر خاتمہ کیا گیا۔ عام الرمادہ (قحط کے سال) کے دوران جب مدینہ منورہ میں اناج کی شدید قلت پیدا ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصر، شام اور عراق کے گورنروں کو فوری غلہ بھجوانے کے احکامات جاری کیے اور دارالخلافہ میں سرکاری گودام قائم کر کے رسد کو بحال کیا۔ آپ نے اس غلے کو بلا تاخیر مارکیٹ اور ضرورت مندوں میں تقسیم کروایا، جس کے نتیجے میں مصنوعی قلت کا خاتمہ ہوا اور قیمتیں معمول پر آ گئیں۔ (ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم والملوک: ۴ / ۹۸-۱۰۱ ، ط: دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۹۸۷ء)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ذخیرہ اندوزوں (محتکرین) کے خلاف انتہائی سخت تادیبی اقدامات اُٹھائے اور اسے معاشرتی جرم قرار دیا۔ آپ نے مدینہ منورہ کی منڈی میں یہ واضح اعلان کروا رکھا تھا کہ جو شخص مسلمانوں کے رزق کو روک کر مہنگائی کا سبب بنے گا، اس کا مال بحقِ سرکار ضبط کر کے بازار میں سستے داموں بیچ دیا جائے گا۔ ایسے تاجر جو بار بار اس قبیح فعل کے مرتکب ہوتے اور عوامی تنبیہ کے باوجود باز نہ آتے، آپ سلطنتِ اسلامیہ کے مفاد اور عبرتِ عامہ کے لیے انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن (شہر بدر) کر دیتے تھے۔ (مالک بن انس، الموطا: دار احیاء التراث العربی، قاہرہ، ۱۹۹۰ء، کتاب البيوع، باب الحکرۃ والتربص)
آپ نے اسلامی ریاست کی تجارتی شاہراہوں اور بڑی منڈیوں کی نگرانی کے لیے سرحدی چوکیوں اور تجارتی راستوں پر باقاعدہ انسپکٹرز اور عشور (ٹیکس) وصول کرنے والے افسران کا تعین کیا، جو مالِ تجارت کی جانچ پڑتال کے ذمہ دار تھے۔ آپ نے باقاعدہ منظم قانون سازی کر کے شاہراہوں، گلیوں اور بین الاقوامی شاہراہوں کے طول و عرض کا حکم نامہ جاری کیا، تاکہ ترسیل سہل ہو۔ منڈیوں کو شہر کے ان علاقوں میں منتقل کیا گیا جہاں سے عوام اور تاجر دونوں کو آسانی ہو۔ (ابو عبید قاسم بن سلام، کتاب الاموال، مرتبہ: خلیل محمد ہرّاس: دار الفکر،قاہرہ، ۱۹۸۸ء، ص: ۵۳۲-۵۳۴)
آج کا دور ’’کارپوریٹ کیپیٹل ازم‘‘ کا دور ہے جہاں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا رہی ہیں؛ مصنوعی قلت پیدا کرنا، کارٹل بنانا اور اشیائے ضرورت کو گوداموں میں چھپانا ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ موجودہ دور کے معاشی بحرانوں کی ایک بڑی وجہ یہی ذخیرہ اندوزی ہے۔ عہد فاروقی کے معاشی اور تجارتی اصول موجودہ دور کے ان بحرانوں کا بہترین حل فراہم کرتے ہیں:
اسلامی معیشت میں مارکیٹ کی آزادی کا احترام کیا گیا ہے، لیکن عوام کو معاشی ظلم سے بچانے کے لیے ریاست کو بوقتِ ضرورت مارکیٹ میں مداخلت کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔ جب تاجر گٹھ جوڑ، ذخیرہ اندوزی یا اجارہ داری کے ذریعے قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھا دیں، تو ریاست خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سپلائی چین کو خود بحال کرے، اشیاء کی منصفانہ قیمتیں مقرر کرے اور تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔ عہدِ فاروقی کا یہ ماڈل جدید اقتصادیات کے اس تصور کی تائید کرتا ہے کہ مائیکرو لیول پر مارکیٹ فورسز کو متوازن رکھا جائے، لیکن میکرو اکنامک استحکام اور عوامی فلاح کے لیے ریاست کی سمارٹ ریگولیشن اور نگرانی کا ہونا ناگزیر ہے۔
ان اصولوں کا سب سے اہم اطلاقی پہلو یہ ہے کہ جدید فلاحی ریاستیں مارکیٹ کو مکمل طور پر سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے قیمتوں میں استحکام اور سپلائی چین کی بحالی کے لیے براہِ راست معاشی مداخلت کی پالیسی اپنائیں۔ ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں اور انتظامی کارروائی، دورِ حاضر میں صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بلیک مارکیٹنگ کے خاتمے کی ضمانت بن سکتی ہے۔
اجارہ داری کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تاجروں کو میرٹ پر سہولیات دینا اور منڈیوں کی نگرانی کے لیے خود مختار معائنہ کاروں کا نیٹ ورک قائم کرنا، مارکیٹ میں صحت مند مسابقت اور شفافیت پیدا کرنے کا ناگزیر ذریعہ ہے۔ آج کے دور میں ان فاروقی اصلاحات کا عملی نفاذ کر کے کرپشن سے پاک تجارتی ماحول اور ایک مستحکم معاشی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
عہد فاروقی میں نظامِ حسبہ صرف معاشی معاملات تک محدود نہ تھا، بلکہ مارکیٹ میں تاجروں اور خریداروں کی اخلاقی تربیت اس کا ایک لازمی اور بنیادی حصہ تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واضح فرمان تھا کہ ہماری مارکیٹ میں صرف وہی شخص تجارت کرے جو دین کے احکام اور تجارتی فقہ کا بنیادی علم رکھتا ہو، تاکہ نادانستگی میں بھی حرام یا سود کا شائبہ نہ ہو۔ اخلاقی زوال کو معاشی بگاڑ کی اصل جڑ مانتے ہوئے جدید دور میں بھی ٹیکس اور جرمانوں کے نفاذ کے ساتھ ساتھ تاجروں کے اندر خوفِ خدا اور جواب دہی کا احساس بیدار کرنا بہت ضروری ہے۔
عہدِ فاروقی کا معاشی ماڈل یہ ثابت کرتا ہے کہ انفرادی ملکیت کے حق اور اجتماعی مفاد کے درمیان ایک مثالی اور متوازن حدِ فاصل قائم کی جا سکتی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مارکیٹ فورسز کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بھی بحرانی کیفیت میں ریاستی مداخلت کے ذریعے عوامی استحصال کا سدِ باب کیا۔ مروجہ جدید مادی نظریات جہاں معاشی بحرانوں کو حل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، وہاں فاروقی ماڈل کے انسدادی قوانین کو جدید قانونی ڈھانچے میں نافذ کر کے موجودہ معاشی استحصال کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں غذائی تحفظ اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ نظام معاشی استحکام بھی فراہم کرتا ہے اور پورے معاشی ڈھانچے کو اخلاقی بنیادوں پر اُستوار بھی کرتا ہے۔