بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

بینات

 
 

حسنِ معاشرت!

حسنِ معاشرت!


انسان جہاں رہتا ہے اس کے ساتھ اس کے گھر، محلے، گاؤں اور شہر میں مختلف لوگ رہتے ہیں، یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اور دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں ، لوگوں کے اس طرح مل جل کر رہنے کو معاشرہ کہا جاتا ہے۔
معاشرت کے آداب اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے، آپس میں رہنے اور باہمی برتاؤ کے طریقے اسلام نے سکھائے ہیں، جن پر عمل پیرا ہونا حسنِ معاشرت کہلائے گا۔ اولاد کا ررویّہ ماں باپ کے ساتھ کیسا ہو اور ماں باپ کا برتاؤ اولاد کے ساتھ کس طرح کا ہو، ایک بھائی دوسرے بھائی کے ساتھ کس طرح پیش آئے، بہنوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جائے، میاں بیوی باہم کس طرح زندگی گزاریں ، چھوٹے اپنے بڑوں کے سامنے کس طرح رہیں اور بڑے چھوٹوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں، پڑوسیوں کے ساتھ ہمارا معاملہ کیا ہو، امیر لوگ غریبوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کریں اور غریب امیروں کے ساتھ کیسا رویہ رکھیں، آقا کا برتاؤ ملازم کے ساتھ اور ملازم کا تعلق آقا کے ساتھ کیسا ہو! الغرض اس دنیوی زندگی میں مختلف طبقوں کے جن چھوٹے بڑے لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ برتاؤ اور رہن سہن کے بارے میں اسلام نے ہمیں نہایت مکمل اور روشن ہدایات دی ہیں۔ اسلام کا یہ معاشرتی نظام اپنے حسن و خوبی اور کمال کی بنا پر تمام نظاموں سے افضل اور ممتاز ہے۔

والدین

اسلام نے اللہ کے بعد سب سے بڑا حق ماں باپ ہی کا بتلایا ہے، قرآن میں ارشاد ہے:
’’وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْآ اِلَّا اِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا‘‘ (بنی اسرائیل:۲۳)
ترجمہ: ’’ اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔‘‘
شریعت کی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے والدین کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان کی مرضی اور مزاج کے خلاف کبھی کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جو اُن کو ناگوار گزرے، خصوصاً بڑھاپے میں ان کی ہر بات خوشی خوشی برداشت کی جائے، اور ان کی کسی بات سے اُکتا کر جواب میں کوئی ایسا کلمہ ہرگز نہ کہا جائے جس سے اُن کو تکلیف پہنچے۔قرآن کریم میں حکمِ خداوندی ہے:
’’اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَـمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا‘‘ (بنی اسرائیل:۲۳-۲۴)
ترجمہ: ’’اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں سو ان کو کبھی (ہاں) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب کے ساتھ بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے، جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالاپرورش کیا۔‘‘ 
احادیثِ مبارکہ میں ماں باپ کی خدمت اور اطاعت کی بڑی تاکید فرمائی گئی ہے اور ان کی نافرمانی اور ایذارسانی کو سخت گناہ بتلایا گیا ہے:
’’ حضرت ابو اُمامہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟ ارشاد فرمایا: اولاد کی جنت اور دوزخ ماں باپ ہیں (یعنی ان کی خدمت سے جنت مل سکتی ہے اور ان کی نافرمانی اور بدسلوکی دوزخ میں لے جانے والی ہے)۔‘‘
 ایک اور حدیث میں ہے کہ : 
’’باپ کی رضامندی میں اللہ کی رضا مندی ہے اور اس کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔‘‘ (سنن الترمذي، أبواب البر والصلۃ)

اولاد

اسلام نے جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں، اسی طرح والدین پر بھی اولاد کے حقوق رکھے ہیں، جیسا کہ ان کو کھلانے پلانے اور پہنانے کا انتظام والدین کرتے ہیں، اسی طرح اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت بھی والدین کی ذمہ داری ہے ، اللہ تعالیٰ نے والدین کو حکم دیا ہے کہ اپنی اولاد اور اہل و عیال کی تربیت و نگرانی اس طرح کریں کہ مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم نہ بنے بلکہ جنت بنے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’يٰاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِيْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ‘‘ (التحریم:۶)
ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤجس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں۔‘‘
اولاد کی اچھی تربیت کی فضیلت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے:
’’باپ کی طرف سے اولاد کے لیے اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں کہ وہ ان کی اچھی تربیت کرے۔‘‘ (سنن الترمذي، أبواب البر والصلۃ)
بچوں کے سامنے ہمیشہ اچھا عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے، بڑوں اور خصوصاً والدین کی زندگی بچوں لیے ایک خاموش معلم کی حیثیت رکھتی ہے ، چنانچہ بچوں کے سامنے جو کیا جائے اور کہا جائے وہ اس کی نقل کریں گے۔ اسی سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اور نصیحت ملاحظہ کیجئے:
’’حضر ت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ  فر ماتے ہیں کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا کہ یہاں آ جاؤ! میں تمہیں کچھ (چیز) دوں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر پو چھا: تم بچے کو کیا دینا چاہتی ہو؟ والدہ بولی: کھجور، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم دینے کا بہانہ کرکے بلاتیں اور کچھ نہ دیتیں تو تمہارے نامۂ اعمال میں یہ جھوٹ لکھ دیا جاتا۔‘‘(سنن أبي داود، رقم: ۴۳۳۹)
 بچوں کے عقائد، اعمال اور اخلاق وکردار کی درستی کی فکر والدین کے ذمے ہے، اس سلسلے میں حضرت لقمان  علیہ السلام  کی وہ نصیحتیں جوانہوں نے اپنے بیٹے کو فرمائیں، رہنما اصول ہیں، جن کی تفصیل سورۂ لقمان آیت ۱۲ تا آیت ۱۹ میں مذکور ہے۔
بعض لوگوں کو اپنی اولاد میں لڑکیوں کی بہ نسبت لڑکوں سے زیادہ محبت اور شفقت ہوتی ہے اور بعض لڑکیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی تعلیم و تربیت میں کوتا ہی کرتے ہیں۔ اسلام میں لڑکیوں کی اچھی تربیت کی فضیلت کو خصوصیت کے ساتھ اس لیے بیان کیا گیا ہے، تاکہ ان کے حقوق میں کوتاہی نہ کی جائے اور بیٹوں کی طرح ان کا بھی خوب خیال رکھا جائے۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ: 
’’جس شخص کی بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، ان کی اچھی تربیت کرے، (مناسب جگہ) ان کی شادی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت دے گا۔‘‘  (سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب في فضل من عال یتامٰی)
اس لیے بچیوں کی تربیت و پرورش انتہائی خوش دلی اور دینی احساس کے ساتھ کرنی چاہیے۔
بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی عملی تربیت اور کردار سازی انتہائی اہم اور ضروری ہے، جس کے اہتمام کا والدین کو تاکیدی حکم فرمادیا گیا ہے۔

دوست

وہ شخص انتہائی خوش نصیب ہے جس سے دوست محبت کریں اور وہ دوستوں کو عزیز رکھے اوروہ شخص انتہائی محروم ہے جس سے لوگ بیزار رہتے ہوں اور وہ ان سے بھاگتا پھرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’مومن سراپا اُلفت و محبت ہے اور اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے محبت کرے اور نہ دوسرے اس سے محبت کریں ۔‘‘     (مسند أحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃؓ، رقم: ۹۱۹۸)
ہمیشہ نیک و صالح لوگوں سے دوستی کریں ، بروں کی دوستی کا برا اَثر ہوگا:

صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک دوست کو مشک بیچنے والے کے ساتھ تشبیہ دی ہے، جس سے کم ازکم خوشبو کا فائدہ تو حاصل ہوگا اور برے دوست کو بھٹی والے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس کے پاس بیٹھنے والا آگ سے بچ بھی جائے تو اس کے دھویں سے نہیں بچ سکے گا۔
دوستوں سے محبت صرف اللہ ہی کے لیے ہو ، یہی دوستی پائیدار ہوتی ہے، خود غرضی والی دوستی کا دھاگا نہایت جلدی ٹوٹ جاتا ہے:

خدا کے واسطے جو ہو محبت

اسے ہر حال میں بے شک بقا ہے
سوا اس کے جو ہے اُلفت جہاں میں

وہ خود غرضی کے شعلوں سے فنا ہے

خدا کے محبوب بندے وہی ہیں جو اس کے دین کی بنیاد پر جڑتے ہیں، مسلم شریف کی حدیث ہے:
’’قیامت کے دن اللہ فرمائے گا: وہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میرے لیے لوگوں سے محبت کرتے تھے! آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔‘‘    (صحیح مسلم، رقم:۲۵۶۶)
دوستوں سے وفاداری، ان کی خیر خواہی، خبر گیری، راز داری ، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور اُن کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے ، ان کو اپنے ساتھ مخلصانہ دعاؤں میں شریک کرنا بھی ان کا حق ہے، جس کے لیے اس قرآنی دعا کا اہتمام نہایت مناسب ہے:
’’رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ‘‘ 

ترجمہ: ’’ اے ہمارے پروردگار! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو (بھی) جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ہمارے میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجیے۔ اے ہمارے رب! آپ بڑے شفیق رحیم ہیں۔‘‘ (بیان القرآن)

میاں ، بیوی

پاکیزہ معاشرے یا عمارت کی بنیاد خاندانی نظام کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور کامیاب بنانے پر قائم ہوتی ہے، جس کا آغاز میاں بیوی کے پاکیز ہ ازدواجی تعلق سے ہوتا ہے ، اس تعلق کی استواری اور خوشگواری اس وقت ممکن ہے جب شوہر اور بیوی اسلامی ہدایات و تعلیمات کے مطابق اپنے فرائض ، اور ایک دوسرے کے حقوق سے بخوبی واقف ہوں اور ان کو بجالانے کے لیے خلوص کے ساتھ سرگرمِ عمل بھی ہوں، یہ فرائض وحقوق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ملاحظہ ہوں :
’’جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں جائے گی۔‘‘ (ترمذی)
’’قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! کوئی عورت اللہ کا حق اس وقت تک ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔‘‘ (سنن ابن ماجۃ، کتاب النکاح)
’’کسی انسان کے لیے دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز نہیں، اگر جائز ہوتا تو بیوی کو حکم دیا جاتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔‘‘ (مسند احمد)
’’تم میں اچھے وہ ہیں جو اپنے گھر والوں ( بیوی ) کے حق میں اچھے ہوں۔‘‘  (سنن الترمذي، رقم:۳۸۹۵)
’’مسلمانوں میں زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور جن کا برتاؤ اپنے گھر والوں کے ساتھ لطف و رغبت کا ہو۔‘‘  (ترمذی)
’’میں تم کو عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی خاص طور پر وصیت کرتا ہوں، تم میری اس وصیت کو یاد رکھنا، دیکھو! وہ تمہاری ماتحت اور دست نگر ہیں۔‘‘  (سنن الترمذي، کتاب الرضاع، باب ماجاء في حق المرءۃ علٰی زوجھا، رقم:۱۱۶۳)

رشتہ دار

آدمی کا ایک خاص تعلق اپنے عام رشتہ داروں سے بھی ہوتا ہے، اسلام نے اس تعلق کا بھی بہت لحاظ رکھا ہے اور اس کے اعتبار سے باہمی حقوق مقرر کیے ہیں ، رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کو صلہ رحمی اور نہ ادا کرنے کو قطع رحمی کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم میں جابجا ذوی القربیٰ (رشتہ داروں) کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید فرمائی گئی ہے، اسلام نے صلہ رحمی پر بڑا زور دیا ہے اور اس شخص کو بڑا مجرم بتایا گیا ہے جو رشتہ داروں کے حقوق پامال کرے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’قرابت کے حق کو پامال کرنے والا اور اپنے برتاؤ میں رشتہ داری کا لحاظ نہ رکھنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الأدب، رقم:۵۹۸۴)
بخاری شریف کی حدیث کا مفہوم ہے کہ: صلہ رحمی وہ نہیں جو بدلے میں ہو، بلکہ صلہ رحمی اس کے ساتھ بھی کی جائے جو صلہ رحمی نہ کرے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ إِلٰی مَنْ اَسَاءَ إِلَيْکَ۔‘‘  (مسند أحمد بن حنبل، رقم:۱۷۴۵۲)
ترجمہ: ’’ جو تجھ سے (تعلق) توڑے تم اس سے جوڑو، جو تجھ پر ظلم کرے تم اسے معاف کردو اور جو تم سے برائی سے پیش آئے تم اس کے ساتھ اچھائی کرو۔‘‘

پڑوسی

انسان کا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مستقل واسطہ پڑتا ہے، اسلام نے اس تعلق کو بھی بڑی اہمیت دی ہے اور اس بارے میں مفصل ہدایات دی ہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں شرک جیسے عظیم گناہ سے منع فرمایا، وہاں والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی ذکر کیا، وہیں پر اللہ نے پڑوسی کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: 
’’وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ‘‘   (النساء:۳۶)
ترجمہ: ’’ اور پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی (اچھا معاملہ کرو) اور دور والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور ہم مجلس کے ساتھ بھی اور راہگیر کے ساتھ بھی۔‘‘
اس آیت میں پڑوسی کےحقوق ادا کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں:
ایک :وہ جو پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو ، دوسرا :وہ جس سے رشتہ داری نہ ہو صرف پڑوس کا تعلق ہو، تیسرا :وہ جو نہ رشتہ دار ہو اور نہ مستقل پڑوسی بلکہ کچھ وقت کے لیے ساتھ رہتا ہو جیسے ہم سفر، اسکول و مدرسہ کا ساتھی ، دکان پر ساتھ بیٹھنے والا اور کام کاج میں شریک، وغیرہ۔
احادیث مبارکہ میں بھی پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: 
’’مجھے جبرئیل امین  علیہ السلام  پڑوسی کے حقوق سے متعلق تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ اس کو میراث میں حصہ دار بنادیں گے۔‘‘ (صحیح البخاري، رقم:۱۶۱۴)
اسی طرح ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابوذرغفاری  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : 
’’جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا بڑھا دو اور پڑوسیوں کا لحاظ رکھو۔‘‘  (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، رقم:۲۶۲۵)
پڑسیوں سے حسنِ سلوک ایمان کا تقاضا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسی کے حقوق ادا نہ کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ:
’’ بخدا وہ مومن نہیں، بخدا وہ مومن نہیں، بخدا وہ مومن نہیں، عرض کیا گیا کہ: کون مومن نہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ مؤمن نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔‘‘  (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، رقم:۲۶۲۵)
اسلام میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ پڑوسیوں کو تکلیف نہ دی جائے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، مگر آج لوگ ان احکام سے غافل ہیں، معمولی معمولی باتوں پر پڑوسیوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور بعض لوگ تو پڑوسیوں کو جانتے تک نہیں، حالانکہ مسلمان ہونے کے ناطے اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے کی خاطر ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آئیں اور ان کو ہماری طرف سے کوئی ایذا نہ پہنچے، ورنہ تو پھر قیامت کے دن ہم ان وعیدوں اور رسوائیوں کے مستحق ہوںگے جو احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہیں ۔
واضح رہے کہ پڑوسی خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اسلام نے سب کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔

مہمان

شریعت نے مہمان کی مہمان نوازی کو اس کا حق ٹھہرایا ہے اور اس کے اکرام کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشادہے:
’’مَنْ کَانَ يُوْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُکْرِمُ ضَيْفَہُ .‘‘ (صحیح البخاري، رقم: ۶۱۳۸)
ترجمہ: ’’ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘

خادم و ما تحت

معاشرہ میں بسنے والے افراد اپنی صلاحیتوں ، مال ودولت اور ضرورتوں کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے ، کسی کو اللہ تعالیٰ نے کام کرنے کی جسمانی صلاحیت دی تو کسی کو مال دیا ہے، جس طرح مالک اور اس کا مال مزدور کی ضرورت ہے ، اسی طرح مزدور و خادم اور اس کی محنت و خدمت مالک کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خادموں اور ماتحتوں کے ساتھ بھلائی کی یوں تاکید فرمائی کہ : 
’’وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر رکھا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ جس کے بھائی کو اس کا ماتحت بنادے اس کا فرض ہے کہ جو خود کھائے اس کو بھی وہی کھلائے اور جو خود پہنے اس کو بھی وہی پہنائے اور اس کے ذمہ ایسا کام نہ لگائے جو وہ نہ کر سکے۔‘‘  (صحیح البخاري، کتاب الإیمان وکتاب العتق، رقم:۲۵۴۵)

فقیر و محتاج 

یقیناً معاشرہ میں ایک ایسا طبقہ بھی ہوتا ہے جسے مال یا تندرستی میسر نہیں ہوتی اور ان دونوں نعمتوں سے محروم ہوتا ہے، تا ہم وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے، اس کی ضروریات بھی دوسروں کی ضروریات کی طرح قابلِ توجہ ہیں ، اس طبقہ میں فقراء ومساکین، اپاہج و محتاج ، بیوائیں اور یتیم بچے بچیاں سب شامل ہیں، قرآن وحدیث میں ان کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ ہمدردی و تعاون کی خوب تاکید کی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بیواؤں اور مساکین کی مددکرنے والا ( ثواب کے اعتبار سے) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے، اللہ کے حضور نماز میں کھڑے ہونے والے اور مسلسل روزے رکھنے والے کی طرح ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق، باب الإحسان إلی الأرملۃ والمسکین والیتیم، رقم:۲۹۸۲)

رشتۂ اسلام 

مسلمان ہونے کے ناطے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر متعدد حقوق ہیں، جن کی نشاندہی قرآن وحدیث میں جگہ جگہ کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو : ’’کُوْنُوْا عِبَا دَ اللہِ اِخْوَانًا ‘‘ (صحیح مسلم، رقم:۶۵۳۰) کا حکم بھائی چارگی کے رشتہ میں جوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
 ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر نہ ظلم کرے اور نہ اس سے کنا رہ کش ہو اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کی تکمیل کے لیے کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے اور جو کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت سے نجات دے گا اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘            (صحیح البخاري، رقم:۲۴۴۲)

رشتۂ انسانیت 

اسلام نے عام انسانی برادری کے ساتھ بھی رحم وکرم اور رواداری کی تعلیم دی ہے اور رحمت وشفقت کا دائرہ پورے عالم انسانیت تک وسیع کر دیا ہے ، ساری مخلوق کو اللہ کا کنبہ کہا ہے اور ان کے ساتھ نیکی، بھلائی کا حکم دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ : 
’’ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ شخص وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔‘‘    (مشکاۃ المصابیح، رواہ البیہقي في شعب الإیمان، کتاب الآداب
نیز فرمایا: ’’تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘  (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، رقم: ۱۹۲۴)

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر 
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر

اسلام کی ہر موقع پر یہ تعلیم ہے کہ انسانوں میں باہمی اُخوت و محبت اور تعاون و ہمدردی کا جذ بہ کار فرما ہو، تاکہ صلح و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں اور حسن معاشرت کی اعلیٰ مثال قائم کرسکیں۔

(ماخوذ از تعلیم و تربیت کورس، حصہ سینئر)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین