بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

حج ۲۰۲۶ء کی قانونی پابندیوں کی وجہ سے  رمی، قربانی اور حلق یا قصر میں ترتیب

حج ۲۰۲۶ء کی قانونی پابندیوں کی وجہ سے 

رمی، قربانی اور حلق یا قصر میں ترتیب کا حکم

سوال

سعودی حکومت کی جانب سے سال ۲۰۲۶ء کے حج ٹور آپریٹرز کو اس بات پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حجاج کی قربانی حکومت کے منتخب عاملین کے ذریعہ سے کروائیں گے اور اس قربانی کی تمام تر رقم NUSUK MASAR کے ذریعہ پیشگی ادا کی جائے گی۔ اب تک کی ہدایات کے مطابق منتخب عاملین کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے قربانی کرنا سخت منع اور موجبِ جرمانہ و گرفتاری ہوگا۔ سعودی حکومت کے زیرِ اہتمام یہ قربانی ایامِ نحر کے تمام دنوں میں ہوگی۔ رقم کی ادائیگی کے بعد حج ٹور آپریٹرز کو وقت متعین کرکے بتادیا جائے گا کہ آپ کے حجاج کی قربانی فلاں دن فلاں وقت تک ہو جائے گی، لہٰذا اس کے بعد حلق کروالیں۔ اس طریقۂ کار پر عمل کرنے میں بعض پیچیدگیاں اور شرعی قباحت کے پیدا ہونے کا امکان ہے، مثلاً:
1- اگر چہ اب تک کی اطلاع ہے کہ قربان گاہ میں ٹور آپریٹرز کا نمائندہ موجود ہوگا،مگر سابقہ تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکل امر ہوگا، لہٰذا اگر قربان گاہ میں کوئی نمائندہ موجود نہ ہوا تو قربانی کی تصدیق مشکل ہوگی کہ آیا قربانی کی بھی گئی ہے یا نہیں؟
2- دیے گئے وقت تک رمی نہ ہو اور اس سے قبل قربانی کر دی گئی تو ترتیب ٹوٹنے پر دم لازم آئے گا۔
3- رمی تو اول وقت میں کر لی، لیکن قربانی کا وقت شام، رات یا دوسرے دن کا کوئی وقت دیا گیا ہو تو حاجی کے لیے احرام کی پابندیوں کے ساتھ انتظار کرنا ایک مشکل امر ہو گا ۔ ان تمام ممکنہ صورتوں سے نکلنے کے لیے آپ کی شرعی راہ نمائی درکار ہے کہ ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ تمام مناسک بحسن وخوبی سر انجام پائیں اور کسی بھی قسم کے شرعی قواعد کی خلاف ورزی کے موجب نہ ٹھہریں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں حجِ قران اور تمتع کرنے والے کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان رمی، حج کی قربانی اور حلق یا قصر کے درمیان ترتیب کی رعایت رکھے، اس کے لیے وہ متعلقہ ذمہ داران سے رابطہ میں رہے، جب وہ حاجی کو یہ بتادیں کہ آپ کی قربانی ہوگئی تو وہ حلق یا قصر کروالے۔
اور اگر متعلقہ ذمہ داروں کو مذبح خانوں تک رسائی نہ دی جائے اور کسی بھی ذریعہ سے انہیں یہ معلوم نہ ہوسکے کہ قربانی دیے گئے وقت پر ہوچکی ہے یا نہیں؟ تو حکومتی اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے مقررہ وقت کے بعد حلق یا قصر کروانا جائز ہے۔
لیکن اگر قانونی پابندیوں کی وجہ سے ترتیب برقرار نہ رہ سکے، یا ترتیب کی رعایت رکھنے میں شدید حرج ہو اور اس وجہ سے ترتیب کی رعایت نہیں رکھی گئی تو دم لازم نہیں ہوگا، اس صورت میں قانونی پابندیوں کی وجہ سے صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کی رائے کو اختیار کیا گیا ہے، جو کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک قول ہے، جسے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الحجۃ علی أھل المدينۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے، تاہم اگر کوئی حاجی اس صورت میں احتیاطًا دم دینا چاہے تو دےسکتاہے۔ ’’الحجۃ علٰی اھل المدینۃ‘‘ میں ہے:
’’أخبرنا محمد عن أبي حنيفۃ في الرجل يجہل وہو حاج فيحلق رأسہ قبل أن يرمي الجمرۃ أنہ لا شيء عليہ، وقال أہل المدينۃ: إذا جہل الرجل فحلق رأسہٗ قبل أن يرمي الجمرۃ افتدی۔ وقال محمد الحديث عن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم في ذٰلک مشہور بين أنہ سئل يوم النحر عمن حلق رأسہ قبل أن يرمي، قال: ارم ولا حرج، فما سئل رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم عن شيء يومئذ قدم و لا أخر إلا قال: افعل ولا حرج۔‘‘  (الحجۃ علی أہل المدينۃ لمحمد بن الحسن الشيباني: ۲/ ۳۷۲، ط: عالم الکتب، بيروت)
’’فتح القدیر‘‘ میں ہے:
’’(ومن أخر الحلق حتی مضت أيام النحر فعليہ دم عند أبي حنيفۃ، وکذا إذا أخر طواف الزيارۃ) حتی مضت أيام التشريق (فعليہ دم عندہٗ وقالا: لاشيء عليہ في الوجہين) وکذا الخلاف في تأخير الرمي وفي تقديم نسک علی نسک کالحلق قبل الرمي ونحر القارن قبل الرمي والحلق قبل الذبح، لہما أن ما فات مستدرک بالقضاء ولا يجب مع القضاء شيء آخر، ولہٗ حديث ابن مسعود - رضي اللہ عنہ - أنہ قال: ’’ من قدم نسکا علی نسک فعليہ دم ‘‘ ولأن التأخير عن المکان يوجب الدم فيما ہو موقّت بالمکان کالإحرام، فکذا التأخير عن الزمان فيما ہو موقّت بالزمان۔
و في الفتح: (قولہ لہما أن ما فات مستدرک بالقضاء إلخ) ولہما أيضا من المنقول ما في الصحيحين ’’ أنہ - عليہ الصلاۃ والسلام - وقف في حجۃ الوداع، فقال رجل: يا رسول اللہ! لم أشعر، فحلقت قبل أن أذبح، قال: اذبح ولا حرج، وقال آخر: يا رسول اللہ! لم أشعر، فنحرت قبل أن أرمي، قال: ارم ولا حرج، فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال: افعل ولا حرج.’’ والجواب أن نفي الحرج يتحقق بنفي الإثم والفساد، فيحمل عليہ دون نفي الجزاء، فإن في قول القائل لم أشعر ففعلت ما يفيد أنہ ظہر لہ بعد فعلہ أنہ ممنوع من ذٰلک، فلذا قدم اعتذارہٗ علی سؤالہ وإلا لم يسأل أو لم يعتذر۔
لکن قد يقال: يحتمل أن الذي ظہر لہ مخالفۃ ترتيبہ لترتيب رسول اللہ -صلی اللہ عليہ وسلم - فظن أن ذٰلک الترتيب متعين فقدم ذلک الاعتذار وسأل عما يلزمہ بہ، فبين -عليہ الصلاۃ والسلام- في الجواب عدم تعينہ عليہ بنفي الحرج، وأن ذٰلک الترتيب مسنون لا واجب. والحق أنہ يحتمل أن يکون کذٰلک، وأن يکون الذي ظہر لہ کان ہو الواقع إلا أنہ - عليہ الصلاۃ والسلام - عذرہم للجہل وأمرہم أن يتعلموا مناسکہم، وإنما عذرہم بالجہل؛ لأن الحال کان إذ ذاک في ابتدائہ، وإذا احتمل کلا منہما فالاحتياط اعتبار التعيين والأخذ بہٖ واجب في مقام الاضطراب، فيتم الوجہ لأبي حنيفۃ، ويؤيدہٗ مانقل عن ابن مسعود - رضي اللہ عنہ - ’’من قدم نسکا علی نسک فعليہ دم‘‘ بل ہو دليل مستقل عندنا۔‘‘ (فتح القدير، کتاب الحج، باب الجنايات: ۳ /۶۳، ط: دار الفکر، لبنان)

’’شرح عقود رسم المفتي‘‘ میں ہے:
’’والحاصل أنہ إذا اتفق أبو حنيفۃ و صاحباہ علی جواب لم يجز العدول عنہ إلا لضرورۃ و کذا إذا وافقہ أحدہما و أما إذا انفرد عنہما بجواب و خالفاہ فيہ، فإن انفرد کل منہما بجواب أيضًا بأن لم يتفقا علی شيءٍ واحدٍ فالظاہر عدم ترجيح قولہٖ أيضًا و أما إذا خالفاہ واتفقا علی جواب واحد حتی صار ہو في جانب وہما في جانب، فقيل: يرجح قولہ أيضًا و ہٰذا قول الإمام عبداللہ بن المبارک، و قيل: يتخير المفتي. وقال في السراجيۃ: والأول أصح إذا لم يکن المفتي مجتہدًا، و ہٰذا يفيد اختيار القول الثاني إن کان المفتي مجتہدًا. ومعنی تخييرہٖ أنہ ينظر في الدليل فيفتي بما يظہر لہ و لايتعين عليہ قول الإمام، و ہٰذا الذي صححہٗ في الحاوي أيضًا بقولہ: والأصح أن العبرۃ لقوۃ الدليل؛ لأن اعتبار قوۃ الدليل شأن المفتي المجتہد، فصار فيما إذا خالفہ صاحباہ ثلاثۃ أقوال: الأول: اتباع قول الإمام بلاتخيير. الثاني: التخيير مطلقًا. الثالث: و ہو الأصح التفصيل بين المجتہد و غيرہ، و بہ جزم القاضي خان کما يأتي، و الظاہر أن ہٰذا توفيق بين القولين بحمل القول باتباع قول الإمام علی المفتي الذي ہو غير مجتہد وحمل القول بالتخيير علی المفتي المجتہد ... وإن خالفہ صاحباہ في ذٰلک، فإن کان اختلافہم اختلاف عصر و زمان کالقضاء بظاہر العدالۃ يأخذ بقول صاحبيہ لتغيير أحوال الناس و في المزارعۃ والمعاملۃ و نحوہا يختار قولہما لإجماع المتأخرين علی ذٰلک، و فيما سوي ذلک يخير المفتي المجتہد و يعمل بما أفضي إليہ رأيہ، و قال عبداللہ بن المبارک: يأخذ بقول أبي حنيفۃ ... لايرجح قول صاحبيہ أو أحدہما علی قولہ إلا لموجب و ہو إما لضعف دليل الإمام و إما لضرورۃ والتعامل، کترجيح قولہما في المزارعۃ والمعاملۃ وإما لأن خلافہما لہٗ بسبب اختلاف العصر والزمان وأنہ لو شاہد ما وقع في عصرہما لوافقہما کعدم القضاء بظاہر العدالۃ۔‘‘  (شرح عقود رسم المفتي، ص:۳۸ إلی ۴۱، ط:مکتبۃ البشری)

فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101883

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین