بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

حج: اسلام کا بنیادی رکن

حج: اسلام کا بنیادی رکن


حج اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے پانچواں رکن، دین اسلام کا بنیادی ستون اور مقدس فریضہ ہے ، جس کی فرضیت سن ۹ھ میں ہوئی ، اسی سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کو حاجیوں کا امیر بنا کر حج کے لیے روانہ فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سن ۱۰ھ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکمِ حج کی تعمیل میں حج کے لیے تشریف لیے گئے ، فرضیت حج کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پہلا حج کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج بھی ثابت ہوا، حضور قدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :
 ’’بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ شَہَادَۃِ اَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ، وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاۃِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ۔‘‘ (بخاری شریف) 
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: تو حید ، رسالت کی گواہی دینا ، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا، اور بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عبادت کے مختلف طریقے رکھے ہیں اور ان میں سے ہر ایک طریقہ ایک الگ شان رکھتا ہے ، نماز کی شان الگ، روزے کی شان الگ، زکوٰۃ کی شان الگ ہے ، حج کی شان الگ ہے۔

حج کیا ہے؟

حج حقیقی معنوں میں اسلامی مساوات اور عالمگیریت کو برنگِ عبادت عملی صورت دینے کے لیے مقرر کیا گیا، تا کہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی تمام قومیں بیت اللہ کے گرد یکساں انداز میں جمع ہوں اور مقررہ ایام میں اپنے وطن ، اہل و عیال، اموال اور تجارت کو چھوڑ کر اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار میں دیوانہ وار عشاقِ خداوندی بن کر حاضر ہو کر حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کی سنت کے مطابق حج کے ہر ایک رکن کو ادا کریں۔ الغرض اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش سے اپنے آپ کو مکمل تر کر دینے کو حج کہتے ہیں، اس لیے اہلِ دل جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے خاص قرب ہوتا ہے، موسمِ حج کے انتظار میں شب و روز گزارتے ہیں، اور جب یہ موسمِ عشق و محبت آجاتا ہے قلبِ تپاں اور جگرِ سوزاں لے کر ’’لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ‘‘ کی صد ابلند کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضری دیتے ہیں، بزرگوں کے بے شمار واقعات اس پر گواہ ہیں۔
چنانچہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں کہ :
’’اللہ جل شانہ نے یوں تو ہر عبادت کے لیے قدم قدم پر رحمت و عنایت اور اجر و ثواب کے وعدے فرمائے ہیں، نماز، زکوٰۃ، اور روزہ واعتکاف وغیرہ سب پر جنت اور جنت کی پیش بہا نعمتوں کے وعدے ہیں، لیکن تمام عبادات میں حج بیت اللہ کی شان سب سے نرالی ہے، گویا کہ دبستانِ عبدیت کا آخری نصاب ہے، جس کی تکمیل پر بارگاہِ عالی سے رضا و خوشنودی کی آخری سند عطا کی جاتی ہے، کتنے عجیب انداز سے فرمایا گیا ہے: حج مبرور کا بدلہ تو بس جنت ہی ہے ۔‘‘

حج کی فرضیت

حج کی فرضیت کے حوالے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ :
’’وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْہِ سَبِيْلًا‘‘
ترجمہ: ’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۹۷، ترجمہ : بیان القرآن)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر بیت اللہ کا حج کرنا لازم و واجب قرار دیا ہے، بشرطیکہ وہ بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ ضرورت سے زائد اتنا مال ہو جس سے وہ بیت اللہ تک آنے جانے کا خرچہ اور وہاں قیام کا خرچہ برداشت کر سکے ، اور اپنے اہل و عیال کا واجبی خرچہ پورا کر سکتا ہو تو ایسے شخص پر حج فرض ہے۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’أيہا الناس! قد فرض عليکم الحج فحجوا .... الخ‘‘ یعنی ’’اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔‘‘
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے شدید وعید بیان فرمائی، حدیث پاک کا مفہوم ہے : 
’’جو شخص سامانِ سفر اور اپنی سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا دے پھر اس کے باوجو د حج نہ کرے تو اس کے یہودی یا نصرانی ہو کر مر جانے میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح) 
علماء یہ فرماتے ہیں کہ: اگر اس نے قدرت اور استطاعت کے باوجو د حج اس لیے نہیں کیا کہ وہ اس کی فرضیت ہی کا منکر ہو، پھر یہودی اور نصرانی کی مشابہت کا تعلق کفر سے ہو گا، جس طرح یہودی اور نصرانی کفر پر مرتے ہیں، اسی طرح وہ بھی کفر کی ہی حالت میں مرے گا، اور اگر فرضیت کا منکر ہوئے بغیر حج نہ کرے تو اس مشابہت کا تعلق گناہ سے ہو گا کہ یہودی و نصرانی جتنے سخت گناہ کی حالت میں مرتے ہیں وہ اتنے ہی شدید گناہ کا بار لیے ہوئے موت کی نذر ہو گا، لہٰذا جس شخص پر حج فرض ہو جائے اس پر لازم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو حج ادا کر لے۔ حدیث شریف میں ہے: 
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص حج کا ارادہ کرے تو حج کی ادائیگی میں جلدی کرے۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح) 
کسی کو کیا خبر کہ بعد میں کوئی مرض یا کوئی اور ضرورت لاحق ہو جائے۔ تاہم اگر زندگی میں ادا کر لیا تو ادا ہو جائے گا اور تاخیر کا گناہ بھی نہ رہے گا، اور اگر زندگی میں ادانہ کر سکا تو گناہ گار ہو گا۔

حج کی فضیلت

ابن شماسہؒ   فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص  رضی اللہ عنہ  کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب کہ وہ قریب المرگ تھے ، وہ کافی دیر تک روئے، پھر انھوں نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا، اس پر ان کے صاحب زادے نے چند سوالات کیے، انھوں نے فرمایا کہ: جب اللہ نے میرے دل کو نورِ ایمان سے منور کرنا چاہا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ پھیلائیں؛ تا کہ میں بیعت کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیلا یا، پھر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : عمرو تجھے کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ: میری ایک شرط ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تمہاری کیا شرط ہے ؟ میں نے کہا: میری مغفرت کر دی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْإِسْلَامَ يَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ؟ وَاَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا؟ وَاَنَّ الْحَجَّ يَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ؟‘‘  (مسلم)
’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام قبول کرنا پہلے کے تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے؟ ہجرت گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج‘ پہلے کے کیے ہوئے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں، میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: 
’’مَنْ حَجَّ لِلہِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ کَيَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ ۔‘‘ (بخاری)
 ’’جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس نے (اس دوران) فحش کلامی یا جماع اور گناہ نہیں کیا تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹا جیسا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔‘‘
حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں :
’’قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللہِ ! اَلَا نَغْزُوْ وَ نُجَاہِدُ مَعَکُمْ؟ فَقَالَ: لٰکِنَّ اَحْسَنَ الْجِہَادِ وَاَجْمَلَہُ الْحَجُّ، حَجٌّ مَبْرُوْرٌ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: فَلَا اَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ ہٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ۔‘‘
’’ میں نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد اور غزوہ میں شریک نہ ہوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر اور اچھا جہاد حج مبرور ہے۔ حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں: جب سے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے تو اس کے بعد میں حج نہیں چھوڑتی ہوں۔‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حرمین کی بار بازیارت نصیب فرمائے، فریضۂ حج کو سمجھنے اور ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین