بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

بینات

 
 

جشنِ آزادی  ۔۔۔۔۔  مگر کیسے؟

جشنِ آزادی  ۔۔۔۔۔  مگر کیسے؟

۱۴ ؍ اگست ؍ ۱۹۴۷ ء کو پاکستان کا قیام اپنے اس مبینہ مقصد کے تحت ہوا تھا کہ ہم کفار کے تسلط سے آزاد ہوکر ایک آزاد اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے، جہاں حضور اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی تعلیمات خطۂ ارضی پر اُسوۂ حسنہ بن کر اُبھریں گی، الحمد للہ! کچھ حد تک اس پر عمل درآمد بھی ہوا، جیسا کہ قراردادِ مقاصد اور ۱۹۷۳ء کا آئین ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ۱۴؍ اگست کو تجدیدِ عہدِ وفا کریں اور اسلام کے نفاذ کے لیے اقدامات کو عملی طور پر آگے بڑھائیں اور جو بھی رکاوٹیں درپیش ہیں، ان کو حکمت، تدبر اور فہم وفراست سے دور کرنے کی کوششیں کریں، اس کے ساتھ ساتھ آزاد اسلامی وطن میں آزادی کی سانسیں لیتے ہوئے ہمیں بارگاہِ خداوندی میں سجدہ ریز ہونا چاہیے، گناہوں سے توبہ و شرمندگی کے احساس کو بیدار کرکے آئندہ کی زندگی کا سفر معصیت اور لہو و لعب سے پاک شروع کرنا چاہیے، اور جس مقصد کے تحت پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا، اس کے لیے ہمیں عملی جدوجہد کرنی چاہیے، اس لیے کہ غلامی سے بڑھ کر کوئی ذلت و خجالت اور آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت و انعام نہیں۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ m کی زبانی بھی اور براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار بنی اسرائیل کو یہ انعام یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں فرعون کے طوقِ غلامی سے نجات دلائی ۔ فرعون نے جو مظالم بنی اسرائیل پر ڈھائے تھے، انگریز نے ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں پر اس سے کم نہیں ڈھائے، اس لیے مسلمانوں کا انگریز کی غلامی سے نجات پانا بنی اسرائیل کی آزادی کی نعمت سے کم نہیں تھا۔
 ہونا یہ چاہیے تھا کہ آزادی کی نعمت پر خوشی کا اظہار بھی جواز کے دائرے میں ہو،لیکن اس سال تو بعض مؤقر جرائد کے توسط سے یہ خبر سامنے آئی کہ جشنِ آزادی منانے کے نام پر لاہور کی ایک تقریب میں ایسی ایسی خرافات اور مخربِ اخلاق افعال وحرکات کی گئیں کہ جن سے شریف انسان اور باشعور و باحیا آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا اس طرح کے اعمال کرنے والے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہیں دے رہے؟! کیا ان لوگوں نے ایسی بےہودہ تقریبات کے لیے حکومت سے اجازت لی تھی؟ اگر اجازت لی تھی تو کن شرائط پر؟اور اگر صاحبانِ اختیار کو ان تمام خرافات کا علم تھا تو ان کو اجازت کیوں دی؟ یا علم نہیں تھا تو علم میں آجانے کے بعد ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ 
کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ کالی بھیڑیں ہمارے پیارے ملک کا چہرہ مسخ کرنے کے لیے ملک دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہی ہوں؟! بہرحال کچھ بھی ہو‘ ہماری حکومت ، ریاست اور انتظامیہ کو چاہیے کہ اس بے حیائی کو فروغ دینے میں جو لوگ بھی ملوث ہوں، ان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی خرافات کرنے کی جرأت نہ ہو۔ 
اس سال ۱۴؍ اگست کا دن حکومت اور عوام نے اس لیے بھی زیادہ خوشی کے طور پر منایا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت سے ہماری افواج نے اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک ہندوستان کو شکست دی اور معرکۂ حق جیتا ہے۔ الحمدللہ! پاکستان کا ہندوستان کے خلاف فتح حاصل کرنا یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم، ہماری افواج کی ہمت و جرأت اور قوم کے اتحاد و اتفاق کی برکت سے ممکن ہوسکا ہے، اس پر ہمیں خوش ہونا چاہیے، لیکن اس خوشی کے لمحے میں بجائے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کے کچھ نام نہاد روشن خیال لوگ ہماری ان خوشی کے لمحات کو اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کو دعوت دینے کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ان کے خلاف سخت ایکشن لے، کیونکہ قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان اور اسلامی حکومت کا شعار یہ بتایا ہے کہ: 
’’الَّذِیْنَ إِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِیْ الْاَرْضِ اَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکَاۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ‘‘  (سورۃ الحج : ۴۱)
’’وہ لوگ کہ اگر ہم اُن کو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں بُرائی سے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام کا۔‘‘
یہ بات ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ قومی و اجتماعی جرائم کا مداوا محض انفردی اعمال اور دعاؤں سے نہیں ہوتا۔ قوم کی ترجمان اور نمائندہ ہر ملک کی حکومت ہوا کرتی ہے۔ اگر حکام نیک ہوں، جو نیک باتوں کو رواج دیں اور بری باتوں سے منع کریں، اجتماعی اور انفرادی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات کو رواج دیں تو اگر وہاں کے کچھ افراد میں کمی، کوتاہی اور کمزوریاں بھی ہوں تو پوری قوم اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا نشانہ نہیں بنتی، ورنہ پوری قوم اللہ تعالیٰ کے غضب اور غصہ کا مورِد بن جاتی ہے، چاہے وہاں کے لوگ نیک فطرت اور اولیاء اللہ ہی کیوں نہ ہوں !

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین